“آزمائشیں اور حالات کے تقاضے”

تحریر : حفیظ حسن آبادی
423315_312730408827717_1898660731_n
چند دن قبل ایک پاکستانی پارلیمانی سیاست کے حامی بلوچ نژاد سیاستدان نے بلوچ آزادی پسندوں اور انکے حامیوں کےلیے ایسی زبان میںبات کہ کہ اسے کم از کم دشمنانہ کہا جاسکتا ہے جو ہمارے لیے کسی طرح بھی نئی بات نہیں تھی کیونکہ اس سے پہلے بھی اس خیال کے لوگ آزادی کا مانگ کرنے والوں کے لیے کچھ ایسی ہی زبان میں باتین کرتے آئے ہیں۔ میڈیا کے ذریعے سرمچاروں کے ٹرائل کی فرمائش بھی کرچکے ہیں انھیں سر پھرے اور نہ جانے کیا کیا کہہ چکے ہیں لیکن وقت گزرنے کیساتھ اس خیال کو تقویت ملی ہے کہ یہ ناکام و نامراد لوگ اپنی شکست کی خوف سے سرمچاروں یا انکے ہمدردون کے کردار کشی میں لگے ہیں نہیں تو اگر یہ ھقیقت اسلام آباد کے گونگے بہرے حکمران اور طاقت کے نشے میں دھت عسکری قیادت سمجھ چکی ہے کہ بلوچ کسے قدر و منزلت سے دیکھتے ہیں اور کون سیاسی بیان بازی وفوٹو سیشنز کے ذریعے زندہ رہنے کا تاثر دینے کی کوشش کررہی ہے۔ تو ان کو کیسے اس بات کا علم نہیں کہ جنکو وہ ان پڑھ اور نا سمجح کہتے ہیں دراصل یہی وہ باشعور و سمجھ دار لوگ ہین جو پہاڑوں کو اپنا مسکن بنائے ہوئے ہیںں یا شہروں میں قابض کے خلاف سربکف ہر فورم اور میدان میں سیاسی مزاحمت کررہے ہیں یا وطن سےدور یورپ امریکہ ودیگر ممالک میں اپنا وقت ووسائل خرچ کرکے بلوچ قومی مسئلہ بارے آگاہی پھیلانے احتجاجی مظاہرے سیمنیارز، کانفرنسز وغیرہ اکا نعقاد کراتے رہتے ہیں۔ ہماری نظر میں دنیا کا سب سے بڑا تعلیم یافتہ اور باشعور شخص وہی ہے جو آزادی کو اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے نہ کہ سکی کی خوشنودی کی دین۔ آزادی ہے تو انصاف، جمہوریت حقوق وتکریم عزت نفس ہے، آزادی نہیں ہے تو باقی تمام چیزیں پہلے تو نہیں ہیں اگرہیں تو جزووقتی تاکہ آزادی کی تحریک کو روکا جاسکے تا آں کہ غلام قوم آہستہ آہستہ اپنی آزادی سے دستبردار اور غلامی میں اپنی پہچان ڈھونڈنے راضی ہوجائے۔ جس دن کسی قوم سے آزادی مانگنے کی قوت رخصت ہوتی ہے اس دن سے تمام مراعات اس سے چھین لیے جاتے ہیں جنہیں آج وہ اپنی اہیلت کا انعام سمجھتا ہے۔ نا سمجھ کی سوچ محدود ہوتی ہے جبکہ آج کا جہد کار اپنا سب کچھ کا بلیددان چڑھا کر آہندہ کی نسلوں کو آزادی سے جینے اور اپنی پہچان کا مالک بننے کے لیے جہد کررہے ہیں یہ بہت بڑے لوگ ہیں انھیں چھوٹا کہہ کر کوئی بھی انکا قد نہیں گھٹا سکتا تا ہم ایسی باتیں کرکے خود کو نسل درنسل بلوچوں کی نظروں سے ضرور گرائےگا۔ اب اس بیان کے چند مختلف پہلوؤں پر غور کریں گے تاکہ اس کے مقاصد اور اس پر ردعمل کا جائزہ لیا جاسکے بیان کا مقصد گو کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ بیان اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے دیا گیا ہے لیکن دراصل ایسا نہیں ہے کیونکہ اب ان کے حاکموں کو ایسے جان کے لالے پڑے ہیں کہ اس طرح کی چاپلوسیوں سے انکے تسکین کا سامان ممکن نہیں ہے اس لیے وہ ان سے براہ راست وہ کام لیتے یا بیان دلواتے ہیں جس سے انہیں سوفیصد یقین ہو کہ کوئی نہ کوئی ردعمل آئےگا اور وہ اسی ردعمل کے مطابق اپنی پالیسی ترتیب دے سکیں۔ یہاں ایسے بیان سے وہ صرف دو مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے پہلے یہ پتہ چلایا جاسکے کہ بلوچستان میں آئندہ الیکشن بارے مجموعی سوچ کیا ہے دوسرا یہ کیا تمام آزادی پسند اس پر یکساں رد عمل کا اظہار کریں گے یا کہ نہیں؟ جہاں تک بلوچستان میں الیکشن کےلیے سازگار ماحول بارے جانکاری کا تعلق ہے اسکا اُنھیں مایوس کن جواب ملا ہوگا۔ کیونکہ اس بیان پر بھی بلوچ قوم نے سردار اختر مینگل کے سپریم کورٹ میں پیش ہونے کے واقعہ کی طرح سردمہری کا مظاہرہ کیا کیونکہ عام طور پر ایسے بیانات وحرکات بارے ناقابل قبول رجحان پہلے سے موجود ہے سو حسب توقع نتیجہ آنے کے بعد گورنر بلوچستان کی سربراہی میں وزیر اعلٰی، کورکمانڈر بلوچستان، آئی جی ایف سی، چیف سیکریڑی، آئی جی پولیس، ودیگر فوجی و سول اعلٰی بیوروکریٹس کا میٹنگ بلایا گیا جس میں سرمچاروں کو ہتھیار پھینکنے کے عوض معاوضہ ومراعات دینے کے اعلان کیا گیا جو دراصل اخترمینگل کے سیاسی وعدوں کا جواب تھا کہ اگر آپ آکر یہی کچھ کرنا چاہتے ہیں تو یہ ہم آپ کے بغیر بھی کرسکتے ہیں لہذا اگر کچھ الگ کرسکتے ہوتو دکھاؤ نہں تو ہماری باتیں دہرانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس اعلان کے بعد بلوچستان میں لوگوں کو غائب کرنے اور شہید کرنے کے عمل بار پھر تیزی آئی جس سے بہ آسانی یہ نتیجہ اخز کیا جاسکتا ہے کہ ریاست نے جس آمری سیاست کو 2008 سے جاری رکھا تھا وہ نئے منتخب حکومت کو اسی شکل میں پیش کرنے جارہا ہے نہ اسکی سیاست میں فرق آئی ہے اور نہ فرق آنے کا امکانات ہیں جس بارے تمام باشعور بلوچ ابتداء سے حتمی رائے قائم کرکے اسکا اظہار کرچکے ہیں۔
مندرجہ بالاحقائق کی روشنی میںیہ بات یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ آئندہ انتخابات سے قبل بلوچوں کے غائب وشہید کرنے کے عمل میں مزید شدت لانے کے امکانات بہت ہیں کیونکہ اطلاعات ککے مطابق نئے آنے والوں نے ریاست سے راستہ صاف کرنے کی فرمائش کی ہے تاکہ انکے آنے کے بعد کم از کم دو ڈھائی سال تک خاص مزاحمت نہ ہو اور وہ لوگوں کو آزادی پسندوں سے الگ کرکےک دوبارہ پاکستانی سیاست میں دلچسپی لینے آمادہ کرسکیں۔ اس ضمن میں مکران آواران خاران ودیگر کئی علاقوں میں نام نہاد جہادی تنظیمیں سرگرم ہوگئے ہیں جنکو پاکستانی پارلیمانی سیاست کے حامی جماعتوں کی مکمل رضا مندی ومعاونت حاصل ہے۔ اور معض علاقوں میں انکی مشترکہ دورؤں اور وہاں اپنے خاص آدمیوں میں موٹر سائکل ورقم تقسیم کرنے کے رپورٹس بھی منظر عام آچکی ہیں۔
اس بیان کے نتیجے میں ریاست جو دوسری معلومات حاصل کرنا چاہتی ہے وہ ہر لحاظ سے بہت اہم ہے وہ یہ کہ بلوچ آزادی پسندوں کے درمیان ایک جیسے معاملات میں ایک جیسا ردعمل ہے یا نہیں۔ یہ وہ بنیادی بات ہے جس آئند ہ کے الیکشن کی کامیابی اور نئے حکومت کرنے والوں کی کامیابی وناکامی کا راز پنہاں ہے۔ آجکل بلوچ آزادی پسندوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوششیں اور معمولی باتوں کو ہوادے کر انہیں نا قابل اصلاح بنانے کی تگ ودواسی خواش کی تکمیل کا حصہ ہے ۔ بدقسمتی سے ماضی میں اس کا بُری مثال موجود ہے جب ایک جیسے بیانات پر آگر آزادی پسندوں کے ایک حصے کا خون کھول اٹھا ہے تو دوسرے حصے نے بلوچی لحاظ داری کو اپنی خاموشی کا بہانا نا کر چھپ سادح لی ہے۔ تاہم اب کے بار نتیجہ اسکے برعکس نکلا بی آر پی نے دانشمندانہ قدم اٹھاتے ہوئے نہ صرف آئندہ الیکشن میں کسی بھی بلوچ پارلیمانی جماعت کے حمایت بارے غلط فہمیوں کا ازالہ کیا بلکہ پہلے سے زیادہ واضع موقف اختیار کرتے ہوئے بی این پی مینگل کے ان ہمدردوں کو بھی اپنے موقف میں شفافیت لانے کا کہا جو ابھی تک اشاروں کنایوں میں یہ تاثردیتے آئے تھے کہ آئندہ الیکشن میں یہ جماعت براہمداغ خان بگٹی کی حمایت سے میدان میں اترے گی۔ ان بیانات سے اگر ایک طرف اس بات کا پتہ چل گیا کہ کون کہاں کھڑی ہے تو دوسری طرف تحریک کے خلاف ریاست نے اپنی پرانی صف بندیوں میں نئی شدت لانے کا فیصلہ کیا جس کے دو رخ صاف پر دکھائی دیتے ہیں پہلا آزادی پسندوں کے درمیان دوریاں پیدا کرکے یہ تاثر دیتا کہ یہ آزادی حاصل کرنے سے پہلے اپنی ان کی قید سے رہائی نہ پاچکے ہیں جو یقینا داخلی اور خارجی طور پر اپنے منفی اثرات مرتب کرے گی دوسرا جہاں تک ممکن ہو غیر قبائلی علاقوں کو قبائلی زیر اثر علاقوں سے کاٹ کر اس قومی جنگ کو ایک بار پھر ایک دو قبائل کا ریاست کیساتھ جھگڑا ثابت کرکے اسے داخلی وخارجی حمایت وہمدردی سے محروم کیا جاسکے۔
حرف آخر: ہمیں یہ کہتے ہوئے زرا بھی جھجک محسوس نہیں ہورہی کہ پاکستان اندر سے ریزہ رہزہ ہوچکا ہے جس کے اسٹیٹ بنک کے رپورٹ کے مطابق انکی غیر ملکی کرنسی کی ذپازٹ صرف 8۔7 بلین ڈالر رہ گئے ہیں جو حکومتی واجبات کی ادائیگی کےلیے صرف دس ہفتہ تک کام چلاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس ملک کے داخلی وخارجی بحرانوں کے بارے میں اب بات کرنا اپنا وقت برباد کرنےکے برابر ہے یا دوسرے لفظوں میںیہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ملک اب مصنوعی اکسیجن پر اپنی سانسیں برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اور دنیا اس وقت تک اسے اسی طرح زندہ رکھنے مجبور ہوگی جب تک اسے یہ یقین نہ ہو کہ اس برے ملک کے ختم ہونے کے بعد دوسرے” بہت سے بُرے” ممالک تو وجود میں نہیں آئیں گے۔ جس میں سرفہرست بلوچستان ہے جس کی توازن پوری عالمی دنیا کی خواہش ہے اور اسکی گارنٹی صرف وہ قوتیں دے سکتی ہیں جو اس وقت پاکستانی ریاستی رٹ کو چیلنج کئے ہوئے ہیں۔ جو لوگ بین القوامی سیاست پر نظر رکھے ہوئے ہیں وہ اس بات کو بخوبی ادراک رکھتے ہیں کہ دنیا مسلح قوتوں کے بارے میں نئے زوایے سے سوچنے پر مجبور ہوئی ہیں جزب اللہ اور حماس کیساتھ بات چیت اور انکے نتیجے میں امن کی گارنٹی اس بڑی تبدیلی کی طرف گرین سگنل ہے کہ خالی خوشنما اور جمہوری نعروں سے دنیا کی حمایت حاصل کرنا اب ممکن نہیں رہا ہے کیونکہ دنیا کو اپنی ترقی اور خوشحالی کے لیے امن کی ضمانت کی ضرورت ہوتی ہے جو صرف وہ طاقتیں دے سکتی ہیں جو کچھ بنانے یا بگاڑنے کی پوزیشن میں ہوں۔ ہمارے ریجن میں طالبان کیساتھ ہر قیمت پر بات چیت کی تڑپ کا اظہار اس امریکی وعالمی پالیسی کا مظہر ہے کہ اگر آپ نے یہ ثابت کیا کہ یہاں آپ کے بغیر کچھ کرنا ممکن نہیں تو چلو ہم مان لیتے ہیں اور آپ کے ساتھ معاملات طے کرنے بیٹھ جاتے ہیں کوئی دھشتگرد نہیںکوئی ظالم نہیں سب قابل معافی ہے شرط فقط یہ ہے آپ اگر جیت نہیں سکتے ہو کم از کم ناقابل تسخیر بن کے دکھاؤ۔ بلوچ قومی دفاعی جنگ نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ناقابل تسخیر ہے۔ اس مرحلے میں بلوچ اگر ریاستی بربریت میں کمی لانے کی پوزیشن میں نہیں جو اسکے ہاتھ میں نہیں لیکن آپس کے معاملات طے کرکے ایک ساتھ چلنے کی پوزیشن میں ضرور ہے کیونکہ یہ انکے اپنے ہاتھ میں ہے۔ اور یہ دشمنوں کے اُس پروپگنڈے کا بے مثال جواب ہے جو وہ آزادی پسندوں کو غیر سنجیدہ، انا پرست و نا سمجھ دکھانے کی کوشش میں ہر حد سے گزرنے تیار ہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s