پاکستان کا پہلا بلوچی نیوز چینل۔۔۔!!!

vsh news

تحریر: قمبر بُلیدی

میڈیا کسی بھی معاشرے کا اہم ستوُن تصّور کیا جاتا ہے۔ اگر یہ اپنا رول ایمانداری و مخلصی ، تاریخی و زمینی حقائق اور حالات و واقعات کو مدِّ نظر رکھ کر حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرے تو یہ نہ صرف مظلوم و محکوم عوام میں شعور و آگاہی پھیلانے بلکہ عالمی و علاقائی سطح پر قومی آواز پہنچانے اور مہذّب دنیا کا توجہ حاصل کرنے کا کامیاب زریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن آج بلوچ نوآبادی و غلام سماج میں اغیار کے ساتھ ساتھ مقامی میڈیا کا وہی کردار ہے جو عالم اقوام کے تاریخ میں سامراجی قوتوں کے رحم و کرم پر چلنے والے میڈیا کا زیرِدست معاشروں میں ہوتا رہا ہے۔

آج بلوچ و بلوچیت کے بلند و بانگ دعویدار اور سامراجی میڈیا کے کرتا دھرتاؤں کا وہی کردار ہے جو جاپانی سامراجیت کے دوران کوریا میں تھا جس کے ردِّ عمل میں عظیم کورین انقلابی لیڈر کامریڈ کم ال سنگ نے تمام سامراجی احساسات (تعلیمی و معاشی خودساختہ نظام، کاروباری و انتظامی ڈھانچہ)سمیت سامراج کے زیرِ اثر میڈیا کا بھی بائیکاٹ کیا تھا جس کے بعد تمام تر وقتی استحصالی و نفسیاتی ہتھکنڈے زیادہ دیر تک طبقاتی جہد اور قومی سیاسی قوت کے سامنے ٹِک نہ سکے۔

309489_10151005887364764_1295297488_nان دنوں ہمارے ہاں پرنٹ و الیکٹرانک میڈیاکی یہی حالتِ زار و حیثیت ہے جن میں خود کو فخر سے ’’پاکستان کا پہلا بلوچی چینل‘‘ کا خطاب و لقب سے نوازنے والے اور اس کی پالیسیوں میں خود کو عملی شکل میں ڈھالنے اور کریڈٹ لے جانے کی دوڑ میں لگنے والا ایک اہم جُز’’وش نیوز‘‘ بھی ہے۔ بلوچ و بلوچیت کا لُبادہ اوڑھ کر دشمن پاکستان کے جھنڈے کا مونوگرام اسکرین پر سجا کر پاکستان زندہ باد کا نعرہ بلند کرکے گھنٹوں بے معنی و لا حاصل تکرار و گفتگو، نان ایشوز پر چیخنا چِلّانا اور بے مقصد بحث و مباحثوں میں اُلجھنا اور کلچر و زبان کے نام پر قابض کی پالیسیوں پر چلنے کی ان تمام تر ردِّ انقلابی سرگرمیوں و نفسیاتی ہتھکنڈوں سے کون زی شعور انسان انجان رہے!

بلوچ کلچر ڈے اور جشنِ بلوچ کے نام پر پارلیمانی و گماشتہ خود ساختہ عناصر اور ردِّ انقلابی اجزاء کے پالیسیوں وکردار و عمل کا ترجمان بن کر بلوچ تاریخ، تہذیب، نفسیاتی و سیاسی ارتقائی عمل اور ثقافت و روایات کی دھجیاں اُڑانا کون سی بلوچیت ہے؟

کم از کم آج تک ہم نے یہ نہیں سُنا ہے کہ پارلیمانی بیرکوں تلے لوگوں کو بزورِ طاقت اکھٹاکرکے انہیں موسیقی اور گانوں کی گونج میں کو جھوموانہ ا ور پھر ان بلوچیت سے عاری افعال کو ترقی و دیم روی کا چادر چڑھا کر براہِ راست کوَریج سے دُنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ کیونکہ مذکورہ مناظر کو کوئی باضمیراور غیرت مند آنکھ نہیں دیکھ سکتا تھا۔ کیا بلوچ نُما پی پی پی کے جیالے یہ جلدی بھول گئے جب آج سے چند مہینے قبل کراچی میں پُر امن احتجاج کے دوران ان کی تواضع گیسوں اور ڈنڈوں سے کی گئی تھی؟

ان ظُلمت اور قہر بھری حالات و خوُ نی فضاء میں بلوچ شہداء کے لاشوں اور افسردہ ماں بہنوں کے دِلوں پر جھُومنا بلوچیت کی توہین و تزلیل اور مُردہ ضمیری کے حوالے سے خود ایک موٹا سوالیہ نشان ہے۔ بقول شہید قندیلِ بلوچ کہ بلوچ قوم ان حالات میں جشن منانے کا متحمّل نہیں ہو سکتا۔ کلچر ڈے کو بلوچ شہدا کی یاد اور قومی شعور و بیداری کے پروگراموں کی صورت میں منایا جائے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وش ٹی وی و دیگرمقامی میڈیا نے شہدائے کلچر ڈے (شہید جنید بلوچ اور شہید سکندر بلوچ) کے حوالے سے ایک لفظ بولنا بھی گوارا نہ کیا۔

چونکہ بلوچ نیشنلزم کی جڑیں کسی مذہب و عقیدے کے بجائے برا ہِ را ست بلوچ کلچر میں ہیں اور فقط بلوچ نیشنلزم (قومی آزادی و خوشحالی کے لئے جدوجہد) ہی میں بلوچ کلچر اور وطن کی دفاع، ترقی و خوشحالی اور یکجہتی ممکن ہے جبکہ ان تمام باتوں سے قطع نظر صرف کلچر و زبان کو ڈھال بنا کر اپنی ذاتی وگروہی مفادات و استحصالی سوچ و عمل پر گامزن ہونا اور پاکستان کے اندر رہنے کا نعرہ لگانا جشن کرنا لیکن جہدِ بقاء یکجہتی آزادی و خوشحالی یا نیشنلزم سے منُہ موڑنا کیا قوم دشمنی کے زُمرے میں نہیں آتا؟

کراچی میں دو مارچ کا جشن کلچر ڈے کم وش ڈے اور اقبال ڈے زیادہ لگ رہا تھا۔ جبکہ پورا ماحول پی پی پی کے جلسے کا منظر پیش کر رہا تھا جہاں ہر طرف پی پی پی کے جھنڈے ، گانے اور نعرے و خطاب گونج رہے تھے۔

’’در حقیقت یہ سارا کرتُوت و عمل بلوچ کلچر کے نام پر بلوچ کلچر کا استحصال تھا‘‘

دوسری جانب قومی ہیروز و شہداء فراز کریم بلوچ اور فیصل بشیر کی قابض وپنجابی کا کاسہ لیس پولیس کی جارحیت و دہشتگردی میں شہادت کو پولیس اِنکاؤنٹر و جوابی کاروائی میں ہلاکت جیسے غیر اخلاقی و متُضاد پروپگینڈے اور ابہام کیا معنی رکھتے ہیں؟
قابض کے اشاروں پر چلنے والی کھٹ پُتلی میڈیا کے بارے میں بابائے بلوچ اور بزرگ قومی رہشون نواب خیر بخش مری اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوُ ں فرماتے ہیں ’’مجھے بلوچ میڈیا کہیں نظر نہیں آتا، کہیں پاکستان، کہیں معتبرین، یہ کاروباری میڈیا ہے، یہ نام کے بلوچ ہیں، انکاکردار بلوچوں جیسا نہیں ہے، انہیں وقت سکھائے گا یا لوگ سکھائیں گے، ماسوائے چند ایک کے باقی سب کاروباری ہیں، سرکار سے انہیں پیسہ، مراعات بہت کچھ ملتا ہے، میں انہیں بلوچ میڈیا نہیں سمجھتا، زرائع ابلاغ سے وابستہ وہ لوگ جو خود کو بلوچ میڈیا کے دائرے میں سمجھتے ہیں یا لانا چاہتے ہیں انہیں اپنے قول و فعل کا جائزہ لینا ہوگا، اپنے کردار کا جائزہ لینا ہوگا‘‘

دوسرے پاکستانی نیوز چینلز کی طرح وش نیوزبھی بلوچ قومی دباؤ کے پیش نظر یا روایتی اندازسے حقائق سے مکمل طور پر روگردانی نہیں کرسکتا اور کبھی کبھی حقائق خود طاقتور بن کر کاری ضرب کاری کرتے ہیں۔ اسی لئے حقائق کو چھپانا ممکن نہیں لیکن مجموعی طور پر بلوچ نیشنلزم میں ان کا کوئی کردارنہیں۔ اگر بغور جائزہ لیا جائے تو وش نیوز بلوچ قوم اور ثقافت کا ہمدرد نہیں بلکہ قبضہ گیریت کو برقرار رکھنے اور بلوچ عوام میں بے حِسی پھیلانے کی ہمیشہ تگ و دو میں رہنے والا ایک خود ساختہ پروپگینڈہ ٹوُ ل ہے اور اسکا سربراہ پنجاب کے ناک کا بال! ساتھ میں انکی قومی خدمت کے حوالے سے بڑی بڑی باتوں کے دعویداروں کے بارے میں صرف یہ کہنا کافی ہے کہ جو شخص نالہ کِر اس نہیں کرسکتا وہ چاندپر چھلانگ لگانے کا کس طرح دعویٰ کر رہا ہے؟
اس پروپگینڈہ ٹوُ ل کو اگر دیگر پاکستانی اُردو چینلز کا مترجم بھی کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا، جس کا کام اُردو من گھڑت الفاظ کو بلوچ عوام پر نفسیاتی وار کے تحت ترجمہ کرکے استحصال پالیسیز کے لئے راہ ہموار کرنا مقصود ہے۔ جس طرح خیبر پختونخواہ کے خیبر نیوز اُردو خبروں کو پشتو میں ترجمہ کرتا ہے جس طرح سندھ کےKTN نیوزاُردو خبروں کو سندھی میں ترجمہ کرتا ہے، وہی حیثیت وش نیوز کی بھی ہے۔
اگر میڈیا اپنی عزت و تکریم کو برقرار رکھنا چاہتاہے تو اس کے کرتا دھرتاؤں کو مزکورہ پہلوؤں پر توجہ دینی ہوگی وگرنہ اسکی حالت اُس وقت کے جاپانی زیرِ اثر کورین میڈیا سے مختلف نہیں ہوگی اورپھر بلوچ قومی احتساب سے بچنا مشکل ہوجائے گا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s