ہیرو يا مضبوط ادارے ؟

تحریر: ڈاکٹر مبارک علی

تاریخ نویسی کا ایک مکتبہ فکر، تاریخ کے عمل اور اس کی تشکیل میں عظیم افراد یا شخصیتوں کے کردار کو اہمیت دیتا ہے۔ ان کے نقطہ نظر کے تحت تاریخ بنانے میں عام لوگوں کا کوئی حصہ نہیں ہوتا ہے۔ یہ تاریخ سے محروم لوگ ہتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کا محور حکمران ، فوجی جرنلز ، اور سیاستداں ہوتے ہیں۔ اگرچہ بعد میں انہوں نے اس زمرے میں سائنسدانوں اور مفکروں کو بھی شامل کرلیا ۔ مگر ان کے ہاں فکر اور سوچ سے زیادہ عمل کو اہمیت دی جاتی ہے ۔ لہذا جو افراد متحرک ہوتے ہیں، اپنے عمل سے تبدیلی لاتے ہیں اور حالات کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ تاریخ کے معمار گردانے جاتے ہیں ۔ جب تاریخ کو عظیم افراد کے کارناموں کے تناظر میں لکھا جاتا ہے تو تمام واقعات سمٹ کر ان کے گرد جمع ہوجاتے ہیں اور تاریخ کے دوسرے عوامل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔

اس تاریخ نویسی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں ہیروپرستی کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں ۔ وہ ہیرو کی شخصیت اور اس کے کردار سے اس قدر مرعوب ہوتے ہیں کہ اپنی ذات اور ہستی کو بھی بھولجاتے ہیں اور فوراً جذاب میں وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں اپنے ہیرو کے سپرد کرکے اسے اور عظیم سے عظیم تر بناتے ہیں ۔ اور اس کی ذات میں خود کو گم کردیتے ہیں۔

جرمن فلسفی ہیگل نے تاریخ میں ان عظیم افراد کے کردار کو ایک اور ہی نقطہ نظر سے دیکھا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ جب یہ عظیم افراد مصروف عمل ہوتے ہیں ، تو دراصل انجانے میں فطرت کے منصوبوں کی تکمیل کررہے ہوتے ہیں۔ جب فطرت ان سے اپنے منصوبوں کو پورا کرلیتی ہے ، تو انہیں شکست خوردہ ، اور خستگی کے عالم میں کوڑے کی ٹوکری میں ڈال دیتی ہے ۔ اس سلسلہ میں اس نے نپولین کی مثال دی ہے کہ اگر اس نے اپنی فوجی مہمات کے ذریعہ یورپ کے نقشہ کو بدل کر رکھ دیا۔ اور ایک ایسی سیاسی و سماجی تبدیلی کا آغاز کیا جس نے یورپ کی تاریخ پر گہرے اثرات ڈالے ، لیکن جب فطرت کا یہ مشن مکمل ہوگیا اور اس کی ضرورت نہیں رہی تو اس نے اپنے زندگی کے آخری آیام بے کسی اور بے بسی کے عالم میں سینٹ ہلینا میں گذارے ، جہاں عظیم شخصیت سے گھٹ کر وہ ایک عام انسان ہوگیا۔ اگر اس روشنی میں تاریخ کی دوسری شخصیات کو دیکھا جائے تو اس میں سچائی نظر آتی ہے ۔ مثلاً ہٹلر نے یورپ کو فتح کیا ، دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریاں ہوئیں ، فاتح اور مفتوح طاقتیں دونوں ہی ایک لحاظ سے شکست خوردہ ہوگئیں،ا س کے نتیجہ میں ایشیا اور افریقہ میں کولونیل ازم کا خاتمہ ہوا، مگر جب ہٹلر کی ضرورت نہیں رہی تو حالات نے اسے خودکشی پر مجبور کردیا، اس کی شخصیت ختم ہوگئی ، مگر اس عمل کے نتیجے میں دنیا میں تبدیلیاں آتی رہی ۔ اسی ضمن میں پاکستان کی تاریخ میں ہم ذوالفقار علی بھٹو کی مثال دے سکتے ہیں کہ جن کی شخصیت نے ایک ماحول اور حالات میں لوگوں کو ابھارا، لیکن جب حالات بدل گئے اور ان کی ضرورت نہیں رہی تو ان کے زندگی کے آخری آیام بھی ایک عام انسان کی طرح جیل میں گزرے۔

ٹالسٹائی نے اپنی کتاب ’’جنگ اور امن‘‘ میں تاریخ میں عظیم افراد کے کردار پر روشنی ڈالی ہے ۔ وہ اس کو تسلیم نہیں کرتا کہ عظیم افراد تاریخ ساز ہوتے ہیں ۔ اس کے نزدیک کوئی اگر ایسا سمجھتا ہے تو یہ اس کی خودفریبی ہے ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ عظیم افراد یا جنہیں ہم ہیرو کہتے ہیں ، ان کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے ۔ یہ معمولی اور ناواقف لوگ ہوتے ہیں ، جو یہ دعوی تو ضرور کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہیں کہ تمام ذمہ داریوں کو نبھا سکتے ہیں ، مگر ان میں اتنی سمجھ اور عقل نہیں ہوتی کہ اپنی بے وقعتی کو تسلیم کرلیں اور یہ بھی تسلیم کرلیں کہ بڑا آدمی، فرد یا ہیرو اس جانور کی طرح ہوتے ہے جسے ذبح کرنے یا قربانی کے لیے فربہ کیا جاتا ہے ۔ اس کے گلے میں جو گھنٹی ہوتی ہے اس کے بجنے سے وہ یہ سمجھتا ہے کہ پورا ریوڑ اس کی آواز پر حرکت کررہا ہے اور وہ ان کا راہنما ہے۔ مگر اس کا کردار راہنمائی یا لیڈر کا نہیں ہوتا ہے بلکہ قربانی کا ہوتا ہے ۔ مگر یہ ہیرو اور عظیم افراد اس راز کی تہہ تک نہیں پہنچ پاتے ہیں ۔ آخر میں قربان گاہ تک پہنچ کر وہ خود کو مجبور اور آپاہج پاتے ہیں ۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے کہ جب وقت گذر چکا ہوتا ہے اور کوئی ان کی مدد کو نہیں آتا ہے ۔

جب بھی کسی معاشرے میں ہیروز بنانے کا عمل ہوتا ہے تو اس کے پس منظر میں کئی وجوہات کارفرما ہوتی ہیں ۔ اگر معاشرہ ذہنی ، سیاسی اور معاشی طور پر پسماندہ ہوتو اسے ایک ایسے ہیرو کی ضرورت ہوتی ہے کہ جس کی شخصیت، طرز زندگی، عادات سے وہ مرعوب ہو، اور جو اسے تحفظ کی یقین دہانی کرائے ۔ اس صورت میں غریب اور مفلس لوگ اپنے ہیرو کی دولت، اس کی جائیداد، اس کے اثاثوں اور اس کی شاہانہ زندگی سے متاثر ہوکر اس پر فخر کرنے لگتے ہیں ۔ پاکستان کی تاریخ میں اس کی مثال محمد علی جناح اور ذوالفقار علی بھٹو کی ہے۔

اگر معاشرہ ذہنی طور پر بچھرا ہوا ہو توہیرو ان کے لیے ذہین ترین شخصیت بن جاتا ہے ، اس کی ذہانت لوگوں کی ہوجاتی ہے ، اگر معاشرہ کمزور ہو تو ہیرو کی طاقت ان کے لیے سہارا بن جاتی ہے ۔ اس صورت میں فوجی اور جنگ جو ان کا ہیرو بن جاتا ہے ۔ لہذا ہر صورت میں وہ اپنے ہیرو سے وفاداری کا اظہار کرتے ہوئے اس پر اعتماد کرتے ہیں ۔ وہ اپنے ہیرو کی شخصیت کے سحر میں اس قدر مبتلا ہوجاتے ہیں ، ان کا ہیرو نیکی، پاک بازی ، جرائت ، ذہانت اور بہادری کا پیکر بن جاتا ہے ۔ ان کے لیے اس کا ہر عمل لوگوں کے مفاد کے لیے ہوتا ہے ۔ اگر کسی بھی مرحلہ پر اس کی کمزوریوں کو سامنے لایا جائے ، تو لوگ اس پر یقین کرنے پر تیار نہیں ہوتے ہیں ۔ ان کے ذہن میں ہیرو کا جو امیج بیٹھ جاتا ہے ،اسے تبدیل کرنا مشکل کام ہوتا ہے ۔ اس کے ارد گرد تقدس کا ایک ایسا ہالہ ہوتا ہے کہ جو اس کی اصل شخصیت کو چھپا لیتا ہے ۔ ہیرو کی اس تشکیل کو ہم اس عمل سے تعبیر کرتے ہیں کہ جو نیچے سے ہوتا ہے ۔

ہیرو کی تشکیل کا دوسرا عمل حکمراں طبقوں کی جانب سے ہوتا ہے جو اپنے مقاصد کے حصول اور تکمیل کے لیے ایسے افراد کو منتخب کرتے ہیں کہ جنہیں ہیرو بنا کر پیش کیا جاسکے۔ موجودہ دور میں اس مقصد کے لیے پروپیگنڈے کے تمام طریقوں کو استعمال کیا جاتا ہے ۔ جن میں ریڈیو، ٹی وی، اخبارات ، رسالے اور سب سے بڑھ کر نصابی کتب شامل ہیں۔ان کی مدد سے لوگوں اور نوجوان نسل کے ذہنوں میں ہیروز کی برتری اور عظمت کو بٹھایا جاتا ہے۔ چونکہ یہ عمل اوپر سے شروع ہوتا ہے اس لیے نیچے تک اس کا اثر آہستہ آہستہ آتا ہے ۔

اس سلسلہ میں خاص بات یہ ہے کہ یہ ہیروز جب تک حکمراں طبقوں کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں، انہیں زندہ اور موثر بنا کر رکھا جاتا ہے ۔ لیکن جیسے ہی حالات بدلتے ہیں اور مفادات کی شکل بدلتی ہے اسی تیزی سے یہ ہیروز پس منظر میں چلے جاتے ہیں ۔

لیکن اسے کے برعکس یہ بھی ہوتا ہے کہ ’ہیرو‘ اپنی جگہ برقرار رہتا ہے ، مگر حکمراں طبقے اپنے مفادات کے تحت اس کی شکل و صورت اور شخصیت کو بدلتے رہتے ہیں۔ اس کی مثال پاکستان میں محمد علی جناح کی ہے کہ جو پاکستان کے تاریخ کے اتار چڑھائو کے ساتھ بدل رہے ہیں۔ جیسے جیسے حکمراں طبقوں کو مذہب کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت پڑ رہی ہے اسی طرح ماڈرن اور سیکولر محمد علی جناح مذہبی ہوتے جارہے ہیں ۔ ان کی تقاریر کے وہی حصے پیش کیے جارہے ہیں کہ جو اس مذہبی ضرورت کو پورا کریں ۔ ان کی تصاویر کی بھی اب شیروانی اور جناح کیپ میں ہے ، چونکہ جناح صاحب ایک ایسے ہیرو کی مانند ہیں جنہیں پس منظر میں نہیں ڈالا جاسکتا تو اس صورت میں بہتر طریقہ یہی ہے کہ انہیں بدل دیا جائے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اگر ملک میں سیکولر ازم آجائے تو جناح صاحب مذہبی لبادہ اتار کر انہیں بطور سیکولر پیش کیا جانے لگے گا ۔ اس کا انحصار حکمران طبقات کے مفادات پر ہے ۔ یہ عمل صرف جناح صاحب کے ساتھ نہیں ہوا بلکہ تاریخ کے بہت سی مذہبی اور سیاسی شخصیات کو نئے سانچوں میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ڈھالا جاتا ہے۔

ہیرو بنانے کا ایک عمل یہ بھی ہے کہ اگر زندہ لوگ حالات کے تقاضوں کے تحت اس معیار پر پورے نہ اُترتے ہوں تو اس صورت مین تاریخ سے ان ہیروز کو ڈھونڈ کر لایا جاتا ہے کہ جنہیں زمانہ عرصہ ہوا فراموش کرچکا تھا۔ مثلاً انیس سو بیس کی دہائی مٰں جب ہندوستان میں فرقہ واریت کو ابھارا ہوا تو اس وقت مسلمانوں اور ہندوئوں دونوں نے اپنے اپنے مقاصد کے لیے تاریخ سے ان افراد کو تلاش کیا جو ان کے کام آسکیں ۔ مسلمان کمیونٹی چونکہ اقلیت کے احساس اور پس ماندگی کا شکار تھی ۔ اس لیے اسے نے فاتحین کو تلاش کیا تاکہ ان کے سہارے وہ اپنی کم مائیگی کو دور کرسکیں، لہذا اس عہد میں محمد بن قاسم، محمود غزنوی، اور شہاب الدین غوری کی شخصیات کو بطور ہیرو پیش کیا گیا کہ جنہوں نے ہندوئوں کو شکستیں دیں تھیں اور مسلمانوں کی حکومت کو قائم کیا تھا۔ یہ وہ افراد تھے کہ جو وقت کے ساتھ تاریخ میں گم ہوگئے تھے۔ مغل دور حکومت میں ، ہم ان کے بارے میں کچھ نہیں سنتے تھے، کیونکہ اس وقت ان کی ضرورت نہیں تھی ، لیکن انیس سو بیس کے دہائی میں ان کی فتوحات اور کارنامے مسلمانوں کے لیے شناخت کا باعث بن گئے تو ان کو تاریخ کے صفحات سے باہر نکالا گیا۔ ان کے مقابلہ میں ہندوئوں نے ان افراد کو ہیرو بنایا کہ جنہوں نے مسلمان حکمرانوں سے مقابلہ کیا تھا ،ان میں رانا پرتاب ، شیواجی، اور بندہ بیراگی قابل ذکر ہیں ۔

جب علما نے سیاست میں حصہ لینا شروع کیا تو انہوں نے بھی تاریخ کی مدد سے اپنے ہیروز تلاش کئے۔ ان میں احمد سرہندی مجدد الف ثانی قابل ذکر ہیں کہ جن کے بارے میں مولانا ابوالکلام آزاد نے لکھا کہ انہوں نے اکبر کے الحاد کا تن تنہا مقابلہ کیا اور ہندوستان میں اسلام کا تحفظ کیا۔ شاہ ولی اللہ ہندوستان میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے ہیرو بن کر ابھرے تو سید احمد شہید وہ مجاہد کہ جنہوں نے سکھوں سے مقابلہ کرتے ہوئے جان دیدی۔ جب پاکستان میں دو قومی نظریہ کی تاریخی طور پر تشکیل ہوئی تو اس میں تین علما کو بطور ہیروز شامل کرکے اس کا تاریخی جواز پیش کیا گیا۔

یوں تو ہماری تاریخ میں ہیروز کی کمی نہیں، مگر آزادی کے بعد خصوصیت سے نئے ہیروز کی تشکیل ہوئی۔ سب سے پہلے تو امریکہ کی تقلید میں فائونڈنگ فادرز کے نظریہ کو اختیار کیا گیا۔ امریکہ جب انگلستان سے آزاد ہوا تو اس نے اپنی تاریخ کو نئے سرے سے شروع کیا کہ جب کولونیل ازم کے بطن سے ایک نئی قوم پیدا ہوتی ہے جسے فادرز کی ضرورت ہے ۔ عثمانی خلافت بھی جب ختم اور ٹرکش ریپبلک کی شکل میں مصطفٰے کمال نے ایک نئے ملک اور قوم کی بنیاد ڈالی تو اسے بھی ’’اتاترک‘‘ کا خطاب دیا گیا۔ پاکستان میں اس خطاب کے مستحق محمد علی جناح ٹہرے۔

اس کے ساتھ ہی تحریک آزادی میں حصہ لینے والوں کا نمبر آتا ہے ۔ ان میں ایک تو وہ لوگ ہیں کہ جنہیں مسلم لیگ نے ہیرو بنایا۔ دوسرے وہ لوگ بھی ہیں کہ جنہوں نے خود یہ دعوی کیا کہ انہوں نے تحریک مٰں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ ان سب کا مقصد یہ تھا نئی ریاست میں عہدے ، مراعات اور دوسرے فوائد کو تحریک آزادی میں اپنی شرکت اور قربانیوں کے صلے میں حاصل کیا جائے۔

جب پاکستان میں فوجی حکومتوں کی ابتدا ہوئی تو اس نے سیاستدانوں کو ہیروز کے مرتبہ سے گرانے کی کوشش کی۔ انیس سو پینسٹھ کی جنگ نے ایسے فوجی ہیروز پیدا کیے جن کے ناموں پر شاہراہیں ، تعلیمی ادارے اور اسپتال قائم ہوئے اور نصاب کی کتابوں میں ان کے کارنامے درج ہوئے۔ ہیروز کی ایک اور کیٹگری میں ڈاکٹر عبدالقدیر کو بابائے ایٹم بم کا خطاب دے کر شامل کیا گیا، مگر اس میں نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام کو یہ اعزاز نہیں دیا گیا۔

لیکن جہاں ایک طرف ہیروز بنائے جاتے ہیں ، ان کی عظمت اور تقدس کا پرچار ہوتا ہے ، وہیں دوسر جانب ایسی قوتیں اور عوامل ہوتے ہیں کہ جو ان کی بڑائی سے انکار کرتے ہیں ، اور ان کے ارد گرد بنے ہوئے ہالہ کو توڑ کر ان کی اصل شخصیت کو سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مثلاً نپولین کو ایک جانب فرانس کا عظیم ترین فرد تسلیم کیا جاتا ہے ، مگر دوسری جانب ایسے افراد اور گروہ ہیں کہ جو اسے ایک غاصب اور بدترین آمر کی شکل میں دیکھتے ہیں کہ جس نے فرانس کو تباہ و برباد کردیا تھا۔ ہمارے ہاں جہاں ایک جانب محمد بن قاسم کو بطور فاتح اور ہیرو سمجھا جاتا ہے ، وہیں سندھ کے قوم پرست اسے حملہ آور قرار دے کر اس کی عظیمت سے انکار کرتے ہیں ۔ اب جب کہ حالات بدل گئے ہیں ، اور پاکستان بننے کے بعد فرقہ پرستی کا ماحول ختم ہوگیا ہے تو اس کے ساتھ ہی محمود غزنوی اور شہاب الدین غوری بھی پس پردہ چلے گئے ہیں ، بلکہ تاریخ کا جو نیا شعور پیدا ہورہا ہے اس میں انہیں حملہ آور ہی گردانا جانے لگا ہے ۔ لہذا معاشروں میں ہیروز ابھرتے بھی ہیں اور گم بھی ہوجاتے ہیں ۔ جب ان کی ضرورت نہیں رہتی تو ان کی اہمیت بھی گھٹ جاتی ہے ۔ روس کے زوال کے بعد ہم نے دیکھا کہ وہ تمام ہیروز جو ایک وقت میں چھائے ہوئے تھے ، لوگوں نے ان کے مجسموں کو گرا کر ان کی یادوں کو مٹا دیا۔ ہیرو شکنی کے یہ واقعات ان آمروں اور ڈکٹیٹروں کے لیے باعث عبرت ہیں کہ جو یہ سمجھتے ہیں کہ محض فوجی طاقت و قوت اور سیاسی تسلط سے وہ لوگوں کے ذہنوں پر ہمیشہ چھائے رہے گے۔

ہمارے معاشرے میں بھی جیسے جیسے حالات بدل رہے ہیں ، اسی طرح ہیروز کے بارے میں لوگوں کے خیالات میں تبدیلی آرہی ہے ۔ دو قومی نظریہ ایک خاص ماحول کی پیداوار تھا، اب جب اس کی ضرورت محسوس نہیں کی جارہی تو اس کے ہیروز کہ جن میں احمد سرہندی، شاہ ولی اللہ،اور سید احمد شہید ہیں ، یہ سب آہستہ آہستہ اپنے بلند مرتبہ سے نیچے آرہے ہیں ۔

اب ہم اس پر غور کریں کہ جن معاشروں میں ہیروز دل و دماغ پر چھا جاتے ہیں ، اس کا اثر کیا ہوتا ہے؟ سب سے پہلے تو یہ ہیروز ان کے لیے ’’رول ماڈل‘‘ بن جاتے ہیں اور نوجوان نسل کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ ان کے نقش قدم پر چلیں ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ’’کلوننگ‘‘ کے ذریعہ ایک ہی جیسے افراد کو پیدا کیا جائے ، ان کی تربیت کی جائے اور ایک ہی جیسی سوچ کو مقبول بنایا جائے ۔ اس عمل سے معاشرہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو ختم کرکے انہیں تقلید پر آمادہ کیا جاتا ہے ۔ محمد علی جناح قائد اول تھے تو نواز شریف قائد ثانی کہلائے ۔ جب کہ یہ حقیقت ہے کہ ہر فرد کی اپنی شخصیت ہوتی ہے ، اور حالات و ماحول کے بدلنے کے ساتھ ، اس کے رجحانات بھی بدل جاتے ہیں ۔ تقلید کے ذریعہ، یا ہیرو کے ماڈل میں خود کو ڈھال کر کوئی بھی اصل نہیں ہوسکتاہے۔

دوسری اہم بات یہ ہوتی ہے کہ معاشرہ ، پانے تمام مسائل اور ان کے حال کے لیے ہیروز کی قائدانہ صلاحیتوں کا محتاج ہوتا ہے ۔ جب تمام ذمہ داری کسی ایک فرد کے حوالے کردی جائے تو بقیہ لوگوں میں جدوجہد، مزاحمت اور تبدیلی کی خواہشات ختم ہوجاتی ہیں ۔

اب تبدیلی کی امید اوپر سے کی جاتی ہے ، نیچے سے کسی تبدیلی کے لیے کوئی باعمل نہیں ہوتا ہے ۔ اب اگر کوئی ہیرو نہیں ہے تو یہ امید کی جاتی ہے کہ کوئی ایسی شخصیت آئے گی ، اور انہیں اس بحران سے نجات دلائے گی۔ بعض اوقات اس امید میں کئی نسلیں انتظار کرتے ہوئے خود کو ختم کرلیتی ہیں ۔

تیسری بات یہ ہوتی ہے کہ ایک ہیرو کے مرنے کے بعد یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کی خوبیاں اور صلاحیتیں اس کے خاندان میں منتقل ہوگئی ہیں ، لہذا اس کا خاندان، اس کے نام پر معاشرے سے وہی وفاداری اور تابعداری کی توقع کرتا ہے ۔ ہندوستتان میں اس کی مثال نہرو گاندی خاندان ہے جس کے کے افراد اس نام کی وجہ سے ہندوستانی معاشرے میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں ، اور کانگرس پارٹی اپنے ایجنڈے کی وجہ سنے نہیں بلکہ ان کے ناموں کی وجہ سے انتخابات جیتنا چاہتی ہے ۔

بعض اوقت ہیروز کے یہ خاندان معاشرہ میں اپنی تسلط اور اقتدار اس قدر مضبوط اور مستحکم کرلیتے ہیں کہ ان کے آگے دوسرے افراد کو آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کے مواقع نہیں ملتے۔
چوتھی بات یہ کہ ہیرو پرستی ہمیشہ جمہوری مخالف ذہنیت کو پیدا کرتی ہے ۔ کیونکہ ہیرو کی شخصیت یہ مطالبہ کرتی ہے کہ اس کی ذات پر نہ تو تنقید کیا جائے ، نہ اس پر اعتراض کیا جائے، بلکہ اس کے ہر حکم اور ہر بات کو بلا چون و چرا تسلیم کرلیا جائے۔

ہیروز یا شخصیتوں کا اثر و رسوخ اور ان کی طاقت اس وقت گھٹتی ہے ، جب ان کے مقابلہ مٰن ادارے قائم ہوتے ہیں ۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ ان معاشروں میں کہ جہاں جمہوری روایات اور اداروں کا قیام ہوا، وہاں شخصیتوں کا کرادار بھی کم ہوتا چلا گیا، جیسے جیسے ادارے مضبوط ہوئےاسی کے ساتھ ہیروز کی اہمیت بھی کم ہوتی چلی گئی۔ اگر شخصیتوں اور اداروں کے درمیان تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ ایک خلا چھوڑ جاتی ہے اور معاشرے کو بحران میں مبتلا کردیتی ہےلیکن جب ادارے مضبوط ہوں تو ان کی بناوٹ ، ساخت اور کارکردگی میں پروفیشنل لوگ شامل ہوتے ہیں، جن کی ذاتی حیثیت اتنی اہم نہیں ہوتی ہے، جتنی کہ ادارے کی۔ مزید یہ کہ ادارہ میں ضرورت کے تحت برابر تبدیلی آتی رہتی ہے، تخلیقی صلاحیت کے نوجوان اس کو نئی زندگی دیتے رہتے ہیں ، اس لیے ادارہ کو نیا خون ملتا رہتا ہے ۔ حالات اسی وقت بگڑتے ہیں کہ جب کوئی ایک شخصیت ادارے کو محض اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرے ، اس صورت میں ادارہ بھی زوال پذیر ہوجاتا ہے ۔
اس لیےیہ سوال کہ کیامعاشرہ کو ہیرو کی ضرورت ہوتی ہے ؟ اس کاجواب نفی میں ہے ۔ معاشرہ کا ہر فرد باصلاحیت ہوتا ہے ، اگر تعلیم ، صحت اور مواقعوں کے مطابق اس کی توانائی کو استعمال کیا جائے تو وہ معاشرے کی ترقی میں حصہ لیتا ہے ۔ موجودہ عہد میں معاشرہ اس قدر پیچیدہ ہوگیا ہے کہ اس کے مسائل کا حل اب پروفیشنل لوگوں کے پاس ہے ۔ ایک فرد چاہے وہ کسی قدر با صلاحیت ہو، اب تمام حالات پر نہ تو قابو پاسکتا ہے اور نہ حالات کو سمجھ سکتا ہے اسی وجہ سے اب افراد سے زیادہ اداروں کی ضرورت ہے ۔ شخصی حکومت زیادہ جمہوری حکومت، نظریہ کے تسلط سے زیادہ آزادی رائے اور فکر کی ضرورت ہے جو معاشرے کو آگے کی جانب لے جائے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s