بالاچ مری آزادی کی لہر!

وینگس

یقیناًکوئی بھی غیرت مند قوم غلامی کی زنجیر کو قبول نہیں کر سکتی، جو قومیں غلامی کو قبول کر لیتی ہیں وہ در حقیقت قومیں نہیں بلکہ انسانوں کے روپ میں ’غلام جانور‘ ہوتے ہیں۔
ایک قوم ہونا اپنے آپ میں بڑی بات ہے کیوں کہ قوم صرف گھومتے پھرتے انسانوں کا مجمع نہیں بلکہ قوم وہ ہوتی ہے جس کی جرات اپنی دھرتی میں گڑھی ہو، جس قوم کی رگوں میں وطن کے لیئے پیار دوڑے وہ قوم اپنے وطن کو غیروں کے ہاتھوں لٹنے نہیں دیتی، ہاں! ایک قوم اپنے دیس کو محبوب کی طرح پیار کرتی ہے۔

آپ کبھی بھی اس قوم کو غلام نہیں رکھ سکتے اور نہ اس پہ اپنے حکم نامہ صادر کر سکتے ہیں۔ مجھے یاد ہے میں نے کہیں پڑھا تھا کہ آپ کسی دیس کو غلام اس وقت تک نہیں کہہ سکتے جب تک اس دیس کے دھڑکتے دل (یعنی قوم) کو ختم نہ کر دیں۔

آج تک ہر قوم اپنے حق کی خاطر لڑ رہی ہے، اس قوم میں ایک اور بھی قوم ہے جس کے حصے میں پہاڑ ہیں، لیکن پہاڑ جتنے اس قوم نے مسائل بھی جھیلے ہیں، ہاں! وہ بلوچ جن کی ساری تاریخ ایک طویل جدوجہد میں گذر ی ہے۔ بلوچستان جس نے اپنے قدم جدوجہد کے سفر میں روکے نہیں بلکہ ہمیشہ اس سفر میں چلتے رہے ہیں۔ بلوچستان کی تاریخ میں جہاں تک دیکھا جائے تو ہمیں وہاں پر صرف دھوکا اور ناانصافی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملتا۔ اگر بلوچستان آج جل رہا ہے تو وہ اس وعدہ کی خلاف ورزی اور خون کی ندیاں بلوچستان کی گود میں ڈالی گئی ہیں، یہ سب کس نے ڈالے ہیں؟ مظلوم قوم سے دھوکا کس نے کیا؟ ایک تلخ سوال جس کا جواب کڑوا ہے اور یہ جواب سننے کے لیئے کوئی بھی تیار نہیں، سب کی کوشش ہے کہ وہ سچ کو تبدیل کر ڈالیں جو ممکن نہیں، وہ سب کچھ کر سکتے ہیں۔ ہاں! وہ اپنی بڑی ٹینکوں سے گھروں کو روندھ سکتے ہیں، جو ان کے لیئے آسان ہے، لیکن وہ تاریخ کے محل کو اپنی ٹینکوں کے نیچے نہیں لاسکتے۔ وہ قوم کو غلام نہیں بنا سکتے۔ کیوں کے قومیں کرداروں سے بنتی ہیں اور وہی کردار جن کے اندر آزادی کی جوت جلتی رہتی ہے وہ کردار ہی قوم کو نئی روح دیتے ہیں۔

آج میرے وطن کی گلیوں میں خون بہتا ہے
جن گلیوں میں بچے کھیلتے تھے
آج وہاں لاشیں ملتی ہیں
میرے ہر گھر کے باہر اک جنازہ پڑا ہے
اور تم کہتے ہو
میں اپنا اقرار جرم قبول کروں
تو پھر میں آزاد کیا جا ؤں گا
تم کو کیا معلوم آزادی کیا ہوتی ہے
میں کیسے آزاد ہو سکتا ہوں
جس دیس میں خون بہتا ہوں
جس دیس میں ما ئیں بچوں کی لاشیں وصول کریں
میں کیسے آزاد رہ سکتا ہوں
جب میرا محبوب وطن قید میں ہو
میں اقرارکرتا ہوں
ہاں! میں اقرار کرتا ہوں
کہ میں نے اپنے محبوب وطن کی آزادی کے لےْے
جنگ کی ہے
گر اپنی قوم کا سپاہی ہونا گناہ ہے
تو میں نے یہ گناہ کیا ہے
مجھے منظور نہیں میرے وطن کی گلیوں میں خون بہتا رہے
میرے وطن کی غلامی مجھے منظور نہیں
میرا انکار گرگناہ تو میں اقرار کرتا ہو
کہ
مجھ کو انکار ہے میرے وطن کی غلامی سے!

(ہلینا)

میں جب کبھی بھی کرداروں کے بارے میں سوچتی ہوں تو اس لمحے میرے ذہن پر یہ نظم اتر آتی ہے اور اس نظم کے ساتھ میرا محبوب کردار بالاچ مری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ بالاچ کو جب میں نے، پہلی بار دیکھا تھا تواس وقت میں نے طے کیا کہ میں ان سے انٹرویو ضرور لوں گی۔ اور ان سے یہ سوال کرونگی کہ کیا تم کو تمہاری محبوبہ آزادی ملی جس کی خاطر تم نے پہاڑوں کا رخ کیا ہے؟

مگر میرا یہ سوال اس وقت ادھورا رہ گیا جب مجھ کو میرے بھائی نے فون کرتے ہوئے کہا کہ بالاچ نہیں رہا؟ میں اس وقت اسلام آباد میں تھی، اس پل میں نے انکار کیا اور کہا کہ یہ سب کچھ حکومت کا گیم ہے۔ بالاچ زندہ ہے، “Don’t worry”!

جب کبھی بھی میں خیر بخش مری صاحب کا بیان پڑھتی تھی کہ وہ بالاچ کی شہادت کو تسلیم نہیں کر رہے ہیں۔ اس وقت مجھ کو ایسی خوشی ہوتی ہے جیسے کسی نے میری امید کو اک اور سہارا دیا ہو۔

میں جب خیر بخش مری صاحب سے انٹرویو لینے گئی اس وقت میں بہت خوش تھی کہ مری صاحب اقرار کریں گے کہ وہ (بالاچ) زندہ ہے، مگر ضروری نہیں کہ جو آپ سوچیں سب درست ہو۔ خیر بخش مری صاحب کا اقرار کہ انہوں نے بالاچ کو شہید کردیا۔ اس پل مجھ کو بڑا دھچکا لگا۔۔۔۔۔ اب تک میں اس بات کو تسلیم نہیں کر پائی ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اب بھی زندہ ہے کیوں کہ وہ صرف کسی سردار کا بیٹا ہی نہیں تھا، وہ ایک کردار ہے جو قوموں کو اپنے خون سے زندہ رکھتے ہیں۔

کردار کبھی مرتے نہیں ہیں وہ ہر دور کی رگ میں دوڑتے رہتے ہیں آج بھی گر ہم تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو ہمیں وہ کردار ملتے ہیں جو ناانصافی کے خلاف لڑے ہیں ان کے جسم مٹی سے مل تو سکتے ہیں لیکن وہ اپنے خواب اور مقصد میں زندہ رہتے ہیں۔ باغی کبھی مرتے نہیں ہیں وہ نیا روپ لیکر پھر واپس لوٹتے ہیں۔

وہ کتنے انقلابی باغیوں کو قتل کریں گے جو واپس آئینگے وہی خواب لیکر نئے چہروں میں! اسی طرح بالاچ بھی ایک خواب ہے جس کو مشرف جیسے جنرل ختم نہیں کر سکے، اسٹیبلشمینٹ کو اندازہ ہے کہ وہ ہار چکا ہے، جو خواب اب بلوچستان کے پہاڑوں میں موجود ہے، اب وہ ماضی جیسا وقتی غصہ نہیں جس کو دھوکے سے بلاکر پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جائے۔ بلوچستان کے پہاڑوں میں خواب اور مقصد موجود ہے۔ ہاں! بلوچستان کے پہاڑوں میں بیٹھے نوجوان پاگل ہی تو ہیں، کیوں کہ ناانصافی کی زنجیریں پاگل ہی توڑ سکتے ہیں، اس محبوب سے پیار کی بازی کوئی نہیں جیت سکتا، جس میں چکور کی طرح پاگل پن ہو، آخری سانس تک چاندنی کو حاصل کرتا ہے۔ چکور جس کے حصے میں صدیوں سے موت ہی آئی ہے۔ مگر پھر بھی چکور اپنی موت سے وفا کی تاریخ لکھتا ہے، اور آزادی کی تحریکوں میں سپاہی کے اندر چکور جیسا جنون ہونا چاہئے، جنگ ہمیشہ سپاہی سے جیتی جاتی ہے اور جس سپاہی میں چکور جیسا جنون نہیں وہ دو روپوں کیلئے نوکری کرنے والا چوکیدار ہوتا ہے۔

تحریکیں اس وقت نیا روپ لے کر نہیں اٹھ سکتیں، جب تک اس کے پاس پاگل سپاہی نہیں ہوں، کیوں کہ آزادی ہمیشہ پاگل لوگ ہی حاصل کرتے ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے، کیا غریب قوموں کی تحریکیں قیمتی ہتھیاروں سے کچلی جا سکتی ہیں؟ وہ جو ڈرامہ رچائے ہوئے ہیں کہ ہم بندوقوں کے بغیر ناانصافی سے آزاد ہونگے۔ یہ سب امیروں کی فیشن ایبل سیاسی لالی پاپ ہے، یہ کیسے ممکن ہے جب ایک بندوق اٹھاکر قتل کرتا جائے اور مظلوم ہاتھ باندھ کر ناانصافی روکتا رہے۔ یہ سراسر ناانصافی ہے، تحریکوں کو سپاہی آگے کرتے ہیں، اور وہی تحریکیں کامیابی کی صبح دیکھتی ہیں۔ جو آخری سانس تک ہاتھ سے ہتھیار زمین پر گرنے نہیں دیتے۔ ایسے ہی بالاچ نے بھی اپنا ہتھیار گرنے نہیں دیا۔ وہ جو اب بھی لڑ رہا ہے وہ جو تحریک میں آزادی کی لہر کے روپ میں زندہ ہے۔ آخر وہ یہ کیوں نہیں سمجھ رہے کہ قوموں کو غلام نہیں بنایا جا سکتا، لیکن اس لڑائی سے ہم دنیا میں خون کی ندیاں بہا رہے ہیں خون کی ندیوں پر امن کی مرلی بجاؤ گے یہ کیسے ممکن ہے۔۔۔۔!

2 comments on “بالاچ مری آزادی کی لہر!

  1. Pingback: بالاچ مری آزادی کی لہر! | brckarachi

  2. Pingback: بالاچ مری آزادی کی لہر! | brckarachi

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s