انقلابی رہنما شہید بالاچ مری

رزاق سربازی

بالاچ کی شہادت پر، اواخر نومبر کے اس سرد دن،بہت ساری آنکھیں اشکبار ہوئی تھیں .جن میں میری بھی دو کمزور آنکھیں شامل تھیں.میں نے صحافیانہ سرگرمیوں کے دوران،جہاں تک یاد پڑتا ہے ،ایک بار ان سے فون پر بات چیت کی تھی میرا پہلا تاثر یہ تھا یا وہ مجھے ایک ایسا شخص لگے تھے جو تحمل سے سننے کا حوصلہ رکھتے تھے جو لیڈرٹائپ …قسم کے لوگوں میں ایک نایاب صفت سمجھی جاتی ہے.عام تاثر یہی ہے جو سچ بھی لگتا ہے کہ سیاسی رہنما بولنے کا حق صرف اپنے لئے مخصوص کرچکے ہیں چاہے ان کو کام و مطلب کی کچھ بات کرنا مقصود ہو یا نہ بہر حال تین گھنٹہ بلا تکان بولنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، الامان و الحفیظ.
گمان گزرتا ہے کہ بالاچ بڑبڑاہٹ کے عارضے میں مبتلا فارغ البال یا کارٹون ٹائپ کے سیاسی رہنماؤں کی اس قبیل سے تعلق نہیں رکھتے تھے جو ہر جگہ کثرت سے پائے جاتے ہیں اور جو اخبارات کی دو کالمی سرخیوں میں زندہ ہیں.بالاچ کی باتوں میں جو لفظوں پر ایک زور ہوتا تھا اس سے میں ذرا چونک سا گیا تھا وہ جیسے لفظوں کی کیھلواڑ سے پرانی آشنائی رکھتے تھے ان کو شاید قیاس ہوتا تھا کہ لفظ ہی سیاست میں تولے جاتے ہیں. ان کی احتیاط کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب وہ انگلش کے ایک لفظ پرکتابوں اور ڈکشنریز کے ریفرنس دینے لگے.
بالاچ مری کا میں نے بس نام ہی سن رکھاتھا یا تصویریں دیکھ رکھی تھیں جن میں وہ ایک غیر آرگنائزڈ تاہم سلجھے ہوئے نیم گوریلا لگتے ہیں البتہ ان کو کبھی دیکھنے اور سننے کا اتفاق نہیں ہوا تھا.فون پر بات چیت بھی بس اچانک ہوئی وہ شاید کچھ کہنا چاہتے تھے یا کوئی ایسی بات تھی ان کے پاس جو میرے لئے خبریت رکھتی تھی کہ میں نے ان کو سنے بغیر یکے بعد دیگرے سوال در سوال کردیئے.سوالات بھی ایسے تھے کہ جن کے جوابات عام طور پر بہت سے لیڈروں کے بیانات کی صورت میں روز اخبارات میں چھپتے تھے اور ان کی بات کہیں بیچ میں رہ گئی اور بات ان باتوں پر ہوئی جن کو میں نے سوالات کی شکل میں ان کے سامنے رکھا تھا. وہ یک بیک سوالات کا تحمل سے جواب دیتے گئے.ان کی باتوں کا زور دو باتوں پر تھا.اول اینکہ بلوچ نیشنلزم کی سیاست کو عمومی سیاست کے تناظر میں نہ دیکھا جائے.دوم بلوچستان کے بارے میں ہماری(یعنی بلوچ تحریک کا موقف)فکر کسی تشریح کا محتاج نہیں.ہرچند انہوں نے بہت کچھ کہا میری تسلی نہ ہوئی،شاید گڑبڑ بالاچ کی باتوں میں نہیں تھی،میرے سوالات روایتی تھے. یہ جوابات مختلف الفاظ کے پیرائے میں،میں روز سنتا یا اخبارات میں پڑھتا تھا الغرض ان کے انداز میں جو نیا پن تھا وہ مجھے متاثر کرگیا وہ واقعی ایک پیشرو تھے جن کی تقلید کی جا رہی ہے.
بالاچ مری کو سننے کے بعد جب کافی دن گزر چکے تھے تب میں خبر کی تلاش میں اس کوچہ کی جانب چل نکلا جو خیابان سحر کے نام سے کراچی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کی سوفٹ و ہارڈ کاپی میں درج ہے. اس خیابان کی ایک گلی (نمبر شمار تو مجھے اب یاد نہیں رہا) میں وہ شخص رہتے ہیں جنہیں بلوچ تحریک کا فکر ی منبع خیال کیا جاتا ہے.نواب خیر بخش مری.جو دانشورانہ ذوق کے حامل .سیاسی دور اندیشانہ سا بزرگ سال ہیں.ان کے رہن سہن میں کہیں سے بھی اس قسم کے نوابانہ ذوق کا پتہ نہیں چلتا جیسے ہم کورس کی کتابوں میں،لکھنؤ و دہلی کے نوابین کے بارے میں پڑھتے آئے ہیں.ان میں حیدر آباد دکن کے نواب جیسا حرس و طمع بھی نہ دیکھا،جو ہر اچھی بیش بہا چیز خریدنے سے گریزاں رہتے تھے بلکہ تحفے کی صورت میں وصول کرنے کا اعلی ذوق رکھتے تھے.تاریخ میں ایسے بھی ایک نواب گزرے جو پیسے کو اپنے بچوں سے چھپا کر رکھتے تھے کہ مبادا کم نہ پڑجائیں اور جو چوہوں کی خوراک بنتے تھے بہرحال نواب خیر بخش میں ایسے ذوق کمیاب تھے جن سے کسی کھوجی قسم کے اخبار نویس کو گھن آتی ہو.
ماضی قریب کے نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے ہا ف ٹائم کامریڈز کے علاوہ میں نے جس شخص کو چیئر مین ماؤزے تنگ کے بارے میں تنگ نظری سے بالا بات چیت کرتے ہوئے سنا تو بلاشبہ وہ نواب مری تھے.انہوں نے چیئر مین ماؤ کے بارے میں لکھی ایک مغربی صحافی کی رپورٹ کا تذکرہ کرتے ہوئے اس بات کابروقت اضافہ کرنا ضروری سمجھا کہ ہوسکتا ہے انہوں نے اپنی طرف سے بہت کچھ کا اضافہ کیا ہو لہذا ان رپورٹوں پر آنکھ بند کرکے یقین کرنا مشکل ہے.
نواب مری نے اپنی بات چیت میں جہاں گوادر اور عالمی سطح کے کاروباری معاملات پر گفتگو کی وہیں انہوں نے ایک گوریلا کی سیاسی رشتہ داری کو خونی رشتہ داری پر فوقیت دی.انہوں نے ایک مثال پیش کی کہ آپ اس لئے تو کسی کی سیاسی و مسلح تربیت نہیں کرتے کہ وہ جاکر اپنی قبائلی دشمنیاں نمٹاتا رہے،آپ اس کی اس لئے تربیت کرتے ہیں کہ اس فرد کو اپنی قومی ذمہ داریاں نمٹانے کا موقع دیا جائے اورلوگ جب آتے ہیں تو ان کی شاید اپنی خواہش نہ ہوکہ وہ خونی رشتہ کی الجھنوں میں پڑیں لیکن ایسی مثالیں سامنے آئی ہیں جن سے کچھ سبق ملتا ہے.جنگ ویتنام سے ایک گوریلا کی مثال لاکر انہوں نے بتایا کہ ایک گوریلا کیمپ میں اس وقت پریشانی پیدا ہوجاتی ہے جب انہیں اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ ان کا ایک گوریلا ساتھی گزشتہ کئی دنوں سے لاپتہ ہے اس کی سرگرمی سے تلاش کی جاتی ہے تاہم کہیں سے اس کا سراغ نہیں ملتا لہذا جنگجو تلاش بسیار کے باوجود اسے نہیں ڈھونڈ پاتے،کئی دن گزر جانے کے بعد تھکا ماندہ گوریلا خود ہی کیمپ واپس لوٹ آتا ہے اور جب اس سے غائب ہونے کی باز پرس کی جاتی ہے تب پتہ چلتا ہے کہ انہیں اپنے قریبی رشتہ داروں کی جانب سے بلاوا آگیا تھا اور جن کی کسی خاندان سے لڑائی چل رہی تھی چنانچہ گوریلا جنگجو نے مناسب سمجھا تھا کہ چلا جائے اس طرح وہ مخالف خاندان پر اپنی جنگویانہ دھاک بٹھانے گیا تھا.
نواب مری کا سیاسی رشتہ داریوں کا فلسفہ مجھے اس وقت ،ان کو سنتے ہوئے،نظریاتی زیادہ اور عملی کم لگ رہا تھا جوروایتی صحافیانہ گمان تھا کیونکہ میرے اندر ان کے فلسفہ کو قبول کرنے کی جگہ ایک اور سوچ نے لے لی تھی البتہ میرے ہمراہ اس فوٹو گرافر کا حال کچھ مختلف تھا. جیسا کہ این جی اوز کے کورسز میں غربت اور خواندگی کم کرنے کی شاندار مگر غیر عملی پلاننگز والے ہوتے ہیں.این جی اوز کی ورکشاپس سے تازہ تازہ ہال سے نکلے فارغ ہونے والے شخص سے اگر بر وقت غربت ،ناخواندگی کے علت و اسباب پوچھے جائیں تو ذرا بھر تامل کئے بغیر جدول،گرافس،آؤٹ لائنز اور گوشواروں سے ثابت کر سکتا ہے کہ خرابی کہاں پائی جاتی ہے.خیابان سحر سے سعودی سفارت خانہ کی طرف جاتے ہوئے وہ تجربہ کار،گھاگ فوٹو گرافر کم اور ایک نوآموز این جی او ورکر زیادہ لگ رہے تھے.اگر اس وقت کوئی ہمیں روک کر انقلاب پر سوالات کرتا تو میرا یقین تھا میرا ہمراہ فوٹو گرافر ان کو خوب کی لکچر پلادیتے.جو بعد میں سموسے،چائے پر ختم ہوجاتا.جو ان کی شام کی ہلکی خوراک تھی لیکن ادائیگی کرناہمیشہ وہ بھول جاتے تھے اور کسی اور کو ادائیگی کرنا پڑتی تھی.
میں روز مرہ کے کار وبار میں بعد ازاں کچھ ایسے الجھا کے نواب مری کے فلسفہ انقلاب اور بالاچ کی باتوں کو بھول بھال گیا تھاتاہم 20 نومبر کے اس دن جب سردی نے ذہن پر اداس کیفیت طاری کردی تھی ایسے میں ایک سندھی صحافی دوست کا ایس ایم ایس موصول ہوا جو اداس کیفیت کو سنگینی میں تبدیل کرگیا.اس مختصر ترین پیغام میں بالاچ مری کی شہادت کی اطلاع دی گئی تھی.بالاچ کی شہادت سے مجھے نواب مری کے سیاسی رشتہ داریوں کے فلسفے پر بے ساختہ اعتبار آگیا وہ بالاچ کو اپنی اولاد بجا لیکن اس سے زیادہ ایک سیاسی رفیق کا درجہ دے چکے تھے اور شایدیہی وجہ ہو کہ خونی رشتوں کی کمزوری ان کو نڈھال نہیں کرگیا.نہ ان کے موقف میں بال برابر فرق آیا ان کی باتوں کی پیچیدگی نے بالاچ کی شہادت سے نقطہ عروج حاصل کرلیا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s