میں بالاچ مری ہوں

پروفیسر نائلہ قادری بلوچ

اس دن میں اپنے بھانجے عزت گچکی کے بال بنوانے پارلر لے گئی نیلی جینز سفید شرٹس پہنےلڑکیاں مہارت سے بچوں کے بال بنا رہی تھیں ایک بلوچ خاتون کمرے میں داخل ہوئیں ساتھ میں چھ یا سات سال کا بیٹا تھا۔ پارلر والی ایک لڑکی نے مستعدی سے آگے بڑھ کربچے کو آئنے کے سامنے بٹھایا۔ نام کیا ہے؟ لڑکی نے ایپرن بچے کے گرد لپیٹتے ہوئے پوچھا
“میرا نام بالاچ مری ہے”
اس کا نام بالاچ ہے لیکن خود کو بالاچ مری سمجھتا ہے ماں نے سادگی سے کہا۔ کون سا سٹائل بنانا ہے لڑکی نے ذرا ناگواری سے پوچھا
“مری کٹ” بچے نے جواب دیا
ایسا کوئی سٹائل نہیں ہوتا
“بس گڑا کان” بچے نے ماں سے چلنے کو کہا۔ ماں پریشان ہورہی تھی سکول سے نوٹس آیا ہے اتنے بڑے بال رکھنے کی اجازت نہیں۔ لیکن بچہ بگڑ کر جانے لگا تو میں نے مداخلت کی “دا دے مری کٹ” میں نے ایک نسبتامناسب سے پوسٹر کی طرف اشارہ کیابچہ رک گیا میں نے کہا “میر بالاچ چنکی ٹی داوڑ انا پٹ تخا کہ” (میر بالاچ بچپن میں ایسے بال رکھتے تھے) بچہ پوسٹر دیکھنے کی بجائے میری طرف مڑا اور پوچھا کیا آپ نے بالاچ مری کو دیکھا تھا؟ جی ہاں وہ میرے بھائی جیسے تھے وہ بہت بہادر تھے۔ ننھے بالاچ کی آنکھوں میں روشنی سی لہرائی وہ مڑا اور آئنے کے سامنے بیٹھ گیا بال بننے شروع ہوئے ماں نے سکون کا سانس لیا۔ بچے کے سیاہ دراز گھنگریالے بال آدھے کٹ چکے تھے تیز قینچی کی چکا چک میں لڑکی نے سوال کیا بڑے ہو کر کیا بنو گے؟
“بن گیا ہوں بالاچ مری”
کام کیا کرو گے؟
“پنجابیوں کو اپنے ملک سے نکال دوں گا”
ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لڑکی نے ایک لمبی سی ہیں۔۔۔۔ کی اور اٹھلا کر کہا میں بھی تو پنجابی ہوں کیا مجھے بھی۔۔۔۔۔۔۔۔ننھےبالاچ کی لات اٹھی اور لڑکی لڑکھڑا گئ۔ صورتحال کو ہم نے کیسے سنبھالا یہ الگ کہانی ہے لیکن ہم میں اکثر کی زندگی میں ایسے مواقع آتے ہیں جب روح اس غم سے درد کرنے لگتی ہے کہ ہم نے میر بالاچ کھو دیا اس وقت ہمیں اس کی بے حد ضرورت تھی لیکن تبھی کوئی نہ کوئی ایسی بات سامنے آ جاتی ہے کہ وطن کی مٹی کی طاقت پر یقین بڑھ جاتا ہے۔ میر بالاچ زندہ ہے کیوںکہ مٹی کی حرارت زندہ ہے میر بالاچ کی صورت میں اور ان تمام قابل صد احترام بلوچ فرزندوں کی صورت میں جو مادروطن سے وفا نبھاتے رہے سنگلاخ پہاڑوں تپتے ریگزاروں دہکتی اذیت گاہوں پر اپنے لہو سے ہمارے لئے درس وفا لکھتے رہے۔ یہی حرارت مییر بالاچ کے لہو میں جل رہی تھی اس سے پہلے ہزاروں سال سے ہمارے بزرگوں کے لہو میں جلتی رہی ہے جنہوں نے بھوک پیاس تکلیفوں اور سختیوں کو سہہ کر اس مٹی سے وفا کی جس کے صلے میں آج ہم اس عظیم کرد و بلوچ وطن کے وارث ہیں۔ یہ مٹی زندہ ماں ہے جو بلوچ سے ہزار ماؤں سے زیادہ محبت کرتی ہے دعا دیتی ہے۔ اس مٹی سے وفا کرنے والے دو جہاں میں کامیاب اور اس ماں کو بازار میں بہا کرنے والے رسوا بدنام ذلیل و خوار۔
اس قابض ریاست کی ہر نشانی سے کراہت آتی ہے ظلم و خونخواری کی بو آتی ہے ہمارے بچوں نے درسی کتابوں کے آخری صفحے پھاڑ کر پھینک دئے ہیں جس پر قابض کا ترانہ لکھا ہوتا ہے اس کے جھنڈے ہزاروں میل ڈھونڈنے سے بھی نظر نہیں آتے لیکن اس ریاست کی دی ہوئی ایک ایسی چیز بھی ہے جسے میں فائلوں سے نکال کر دیکھا کرتی ہوں وہ ایف آئی آر جس میں مجھ پر اور میرے خاندان پر قابض ریاست سے “غداری” کاالزام ہے کس تاریخ کو مجھے میر بالاچ کا فون آیا اور ان کے کہنے پر میں نے اپنے گھر کانک میں رئیسانی قبیلے کی میٹنگ بلائی ہم نے ریاست سے لڑنے کا فیصلہ کیا کاروائیوں کی ذمہ داریاں کس طرح تقسیم کیں اور کہاں کہاں کاروائیاں کیں۔ جس دن ہم اس ریاست کی ہر نشانی جلا دیں گے جھوٹی عدالتیں غیر قانونی کرپٹ اسمبلی جیلیں اذیت گاہیں اپنی بے عزتی بے حرمتی کی ساری نشانیاں جلادیں گے لیکن یہ کاغذ میں تب بھی جلا نہیں پاؤں گی میر بالاچ کا با شہامت نام جلایا نہیں سکتا ۔
درد و اذیت کی اس گھڑی میں جب انیس سالہ آغا نوروز احمد زئی اپنی شادی کی سفید دستار کی بجائے کفن اوڑھ کر شہداء کے قبرستان میں جا سویا اس نو عمر شہید کی مادر محترم نے کہا” نوروز کہتا تھا آپ میری ماں ہیں لیکن بلوچ مٹی ہزار ماؤں سے بڑھ کر میری ماں ہے میرےپاس اس سر کے سوا اور کچھ نہیں یہ سر اپنی مٹی پر قربان کر دوں گا”
بچے یہ باتیں کہاں سے سیکھ رہے ہیں؟
آغا نوروز کی مادر محترم نے کہا

” مٹی خود سکھا رہی ہے انقلاب کی خوشبو پھیل رہی ہے صاف روحیں اس خوشبو سے مہک رہی ہیں اور بد روحیں اس خوشبو سے خوفزدہ ہیں۔ میرا نوروز جب ذرا بیمار پڑ جاتا تو میں ساری رات اس کے سرہانے جاگ کر کاٹتی تھی وہ گھر آنے میں ذرا دیر کرتا تو پریشان ہو جاتی بار بار فون کرتی جلدی گھر آجاؤ آج میرا بیٹا وطن پر قربان ہوگیا ہے کبھی اسے دیکھ نہیں پاؤں گی لیکن میرا دل درد نہیں کر رہا شہید کی ماں کو اللہ درد نہیں دیتا۔ میرے آنسو بہتے ہیں لیکن میں جانتی ہوں وہ حق کی راہ میں گیا ہے بلوچ خواتین کی بے حرمتی اسے برداشت نہیں تھی وطن کی غلامی اسے برداشت نیہں تھی۔ میری یہ بات امانت ہے پروفیسر، تمام بلوچ ماؤں تک پہنچا دیناکہ شہید کی ماں کو اللہ درد نہیں دیتا اپنے بیٹوں کو وطن کی راہ میں روانہ کر دو۔ شہیدوں کے خون کا بدلہ وطن کی آزادی ہے اس سے کم کچھ نہیں
سردار خیر بخش مری آج اپنی فکر اور جدوجہد سے مٹی کے لئے ورنا نوروز و ورنا مجید جان کی طرح لاکھوں اور بالاچ پیدا کر سکتے ہیں لیکن خود ان کے لئے بالاچ کی روشن آنکھیں کہاں سے لائیں۔ جب وہ میر بالاچ کا ذکر کرتے ہیں تو ان کی سنہری دھوپ جیسی آنکھوں کے کنارے سرخ ہونے لگتے ہیں وہ بہت محبت سےاپنے بہادر اور جفاکش بیٹے کا ذکر کرتے ہیں سادہ الفاظ میں آہستہ آہستہ گھنٹوں باالاچ کی باتیں کرتے ہیں ان کے دھیمے لحجے میں لپٹی آنچ اندر جلنے والی آگ کا پتہ دیتی ہے۔ کسی نے کہا تھا بالاچ کلاسیکل بلوچ ہیروز کا نام کہا ہے جس کے معنی ہیں بالائی آگ نیلا شعلہ جس کی تپش نظر آنے والی سرخ آگ سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ میر بالاچ کو بہ ظاہرہم سے چھین لینے والے ہر باغیرت بلوچ کے سینے میں سانس لینے والے بالاچ سے ناواقف ہیں سرخ آ گ سے بچ نکلنے کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو پتہ بھی نہیں چلتا کہاں نیلی نظر نہ آنے والی آگ انہیں جلا کر راکھ کردیتی ہے۔ جس کے سینے میں صدیوں سے آتش فشاں جل رہا ہے لیکن پر سکون سفید برف سے ڈھکے چلتن کی طرح ہمارے رہنما سردار خیر بخش مری بلوچ وطن کی آزندی پر پختہ یقین رکھتے ہیں وہ کہتے ہیں “میں چاہتا ہوں بلوچ اتنا مظبوط ہو جائے کہ کوئی بری نظر ڈالنے کی جرءات نہ کرے اور اگر کوئی دانت گاڑنے کی کوشش کرے تو اس کے دانت ٹوٹ جائیں”
“ہم سارے حساب چکا لیں گے آزادی ہمارا مقدر ہے لیکن بی بی زرینہ کا حساب کیسے چکائیں؟”
“ہم ایک دوسرے کو کامریڈ کہہ سکتے ہیں؟کامریڈ بہت گہرے معنی رکھنے والا لفظ ہے پتہ نہیں میں آپکی دوستی کے قابل ہوں بھی یا نہیں؟” دل میں سوچا چلتن سے دوستی تو ابدی ہے لیکن یہ انکساری قطعا جان لیوا ہے۔ کامریڈ خیر بخش مری ہم جیسے نالائقوں سے بھی رائے پوچھتے ہیں اور ہم علم کے اس سمندر کے سامنے بولتے ہوئے ایسے لگتے ہیں جیسے پہاڑی چشمہ جس میں پانی کم لیکن شور زیادہ ہو۔ وہ مسکراتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے سوال کرتے جاتے ہیں جیسے پہاڑی کے پتھر بپھرے ہوئے گم کردہ راہ پانی کو سمندر کی طرف راہ دکھاتے ہیں۔ ہمارے آزاد وطن کا سماجی معاشی ڈھانچہ کیا ہوگا؟ انقلاب کے ثمرات ہر گاؤں ہر کوچے ہر بلوچ تک کیسے پہنچائے جا سکیں گے؟ سب کی برابری کیسے ممکن بنائی جاسکے گی؟ سیاہ فام بلوچ سفید فام بلوچ میر و سردار بلوچ مرہٹہ نقیب درزادہ بلوچ، مرد بلوچ عورت بلوچ مسلمان بلوچ ہندو بلوچ ذکری بلوچ نمازی بلوچ سب برابر ہیں۔ سیاہ کاری و بلوچ خواتین کو نابرابر قرار دینے والے رسم و رواج و قوانین کا خاتمہ صرف بی این ایف کے پروگرام میں شامل کر دینا کافی ہو گا؟ انہیں بلوچ سماج کی جڑوں سے نکالنا کیسے ممکن ہے؟ اس وقت ایسے لگتا ہے چلتن بول رہا ہے نفسک بول رہا ہے۔ گچین چنیدہ لوگوں کی صورت میں بلوچ مٹی بول رہی ہے ہزاروں سال سے بول رہی ہے تا قیامت بولتی رہے گی مہر گڑھ کی صورت میں دنیا کی پہلی شہری تہذیب دے کر بولتی رہی ہے بلوچ خواتین کے ہنر مند ہاتھوں سے کشیدہ کاری و قالین بافی کی صورت میں مہر گڑھ کی تاریخ کو گیارہ ہزار سال سے زندہ رکھتے ہوئے بول رہی ہے۔ ماد کوچک، زراب شالین، امیر پندران و کک کوہزاد جیسے کرد سورماؤں کی صورت میں بولتی رہےگی۔ بانڑی سیمک بیبو رابعہ خضداری حانی و ماہ ناز کی حق گوئی و اولالعزمی کی صورت میں بولتی رہے گی۔ میر حمل جئیند، نوری نصیر خان، میر محراب خان، نفسک کے غازیوں، سردار دوست محمد بارانزئی، میر رحیم زرد کوہی، جنرل شیر محمد مری، اسد مینگل، احمد شاہ کرد،میر سفر خان، نواب نوروز خان زہری، میر لونگ خان مینگل، حمید بلوچ، نواب اکبر بگٹی، میر بالاچ مری، واجہ غلام محمد، لالہ منیر، واجہ شیر محمد اور ہزاروں شہدا و غازیوں کی انتھک سرفروش جدوجہد کی صورت میں بولتی رہے گی۔ پہاڑوں ریگزاروں اذیت گاہوں میں جان نثار کرنے والے سرمچاروں ، شاہراہوں اور انصاف کے جھوٹے ایوانوں کے سامنے بغاوت کے نعرے بلند کرنے والی بہادر بلوچ خواتین و بچوں کی صورت میں بولتی رہے گی، مٹی تو ہمیشہ بولتی رہے گی لیکن آج ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی ذات کی کمزوریوں اور خود غرضیوں سے لڑیں اتنے صاف ہو جائیں کہ مٹی ہمیں بھی اپنی بات کہنے کے لئے منتخب کر لے ہماری ناتواں آواز میں بھی یہ عظیم مٹی بولنے لگے۔ میر بالاچ کو دشمن نے ہم سے چھین لیا لیکن ان کے لہو میں جلنے والی بغاوت کی آگ ہمارے لہو سے کون چھین سکتا ہے۔ ننھے بالاچ کی طرح کروڑوں بلوچوں کے لہو میں میر بالاچ سانس لے رہے ہیں ان کے خواب سانس لے رہے ہیں ذرا سا وطن کی مٹی کے قریب ہو کر دیکھیں اپنے اندر کی بزدلی مفاد پرستی کو کمزور پڑتا محسوس کریں گے مٹی کی طاقت لہو میں جل اٹھے گی روح کی گہرائیوں میں جب بھی میر بالاچ مری کی جدائی کا درد اٹھے گا تو لہو میں جلتی بغاوت کی آگ ہم کو یقین دلائے گی کہ میر بالاچ زندہ ہیں اور ہم ننھے بالاچ کی طرح کہہ اٹھیں گے “میں بالاچ مری ہوں

9 comments on “میں بالاچ مری ہوں

  1. بہت ہی متاثر کن تحریر ہے۔اِسے پڑھ کر روح کی بے چینی بڑھ جاتی ہے اور اُس راہ کی تلاش میں شعوری کوششوں کی اُمنگیں جاگ جاتی ہیں اورقاری ایک سوال اپنے آپ سے پوچھنے لگتا ہے ’’کہ تم کہاں ہو ایک معصوم اور بڑے بالاچ کے درمیان کٹنے فاصلوں میں تمہارے جد و جہد کی درجہ بندی کیسے ہو؟‘‘

  2. نائیلہ جی آپ نے جس انداز سے شہید بالاچ کی تصویر کشی کی ہے ۔ سد آفرین ، یہ حقیقت ہے کہ شہیدوں کی لہو ھزاروں نوجوانوں کے رگوں میں دوڑنے لگتا ہے ۔ بلوچستان کے آغوش میں ہمارے سرمچاروں کے گرتے ہر خون کے قطرے سے دشمن کے زوال نزدیک سے قریب تر ھوتا رہےگا ۔

  3. baaz baaz vsh nibeshta kuta professor Naila’a ey shaeedani hoon’e badal’e ke marchi mae aajoe’e tehreek enka burz’a sar bita ke mara wati aajoe zaher pedakey o Shaeed Balach’e babat’a amenka likkag bibi mani hayala kmm’ en shaeed’e qurbani sakk baza’n

  4. bohot he achy tahrer ha professor . shahed Nawab zada Balach marri ni dobtay howay kashti ko banwar say nakala ,or apna khon k nazrani da kar baloch qum ko moutahid keya ,or aj baloch apnay watan ki hafaz khod kar rahy han ,or aj hazro BALACH paharo par ha or yahi ha inqlab ,,,

  5. Pingback: میں بالاچ مری ہوں | brckarachi

  6. Pingback: میں بالاچ مری ہوں | brckarachi

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s