پھلیں شہید سمیع مینگل 17 نومبر 2010

گوریلا محاذ پرلڑنے والے جہد کاروں کے ساتھ نظریاتی و فکری سوچ ہوتا ہے وہ بندوق کے ساتھ ساتھ نظریاتی اور قومی سوچ سے لیس ہوتے ہے۔وہ نظریات کو

بندوق کے نہیں بلکہ بندوق کو اپنے نظریات کے تابع بناتے ہے۔ اس لئے انھیں عیش و آرام اور آسائش کی کوئی فکر نہیں ہوتا بلکہ وہ آزادی کو اپنے زندگی کا مقصد

بناتے ہے۔ اس لئے انہیں کوئی بھی طاقت شکست نہیں دے سکتا۔

( پُھلیں شہید میر سمیع جان بلوچ )

تحریر : میران بلوچ

شہید سمیع بلوچ بھی دیگر نوجوانوں کی طرح دھرتی ماں سے بے پناہ محبت رکھتے تھے۔ اور وہ ہمشہ یہ سوچتے کہ میں کب ان عظیم قومی سپاہیوں کی طرح وطن کی پکار پر قربان ھوکر اپنا قومی فریضہ پورا کرونگا۔ان کی سوچ و فکر ہمشہ قومی آزادی سے متعلق ھوتا تھا۔وہ ہمشہ تحریک کے کامیابی کے بارے میں سوچتے رہتے تھے۔ کیونکہ وہ مادروطن کےایک سچے سپاہی تھے۔ اور جو اپنے دھرتی ماں سچی محبت رکھتے ہیں تو انھیں ہمشہ ایک بات بہت س

تاتی ھے کہ ان کی وطن کیوں غلام ہیں۔ کیوں مظالم کی شکار ھے۔ کیوں مادر وطن کی سینے کو فوجی بوٹوں تلے روندا جارہا ھے۔ جب وہ ان ظلم وزیادتیوں کے بارے میں سوچتےھے۔ تو ان کے سامنے صرف ایک راستہ رہ جاتا ھے۔ جو مزاحمت اور بندوق اٹھا کر لڑنے کا راستہ ہیں۔ جب شہید سمیع نے ان مظالم کے بارے رہے تو وہ یہ فیصلہ کرنے میں کامیاب ھوگے کہ بزدلی کے موت مرنےسےبہتر ھے کہ بہادری کی موت مرہا جائے ۔ اُس نے مادر وطن کی چیخ وپکار بےگوروکفن لاشوں اور ماں وبہنوں کی آنسو پوچنے کی ٹھان لی وہ مزاحمتی جہد سے منسلک ھوگے اور وہ ہمشہ اپنے ساتھیوں کو یہ کہہ کر حوصلہ دیتے کہ ہماری جنگ ایک بزدل دشمن سے ھے۔ جو طاقت کی زبان سے بات کرتا ہیں اور طاقت کی زبان ہی کو سمجتھا ھے۔ ہمیں فضول چیزوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنی تمام تر توانائیاں تحریک پر صرف کرنا چائیے آج مادر وطن ہمیں پکار رہی ہیں۔آج دشمن کی چہرے کو لولہان کیا ہیں تو مادر وطن کی غیرت مند فرزند ھونے کے ناطے ھم پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتا ھے کہ ھم اُن دشمنوں کے خلاف منظم جنگ لڑیں وہ جو سوچ کررہے تھے اُس پر عمل بھی کرتے تھے۔ اور مسلح مزاحمت کے ذریعے کاری ضرب لگارے تھے دشمن ان جیسے نوجوانوں کے کامیاب حکمت عملیوں سے پریشان ھوکر اپنے زرخرید ایجنٹوں اور مخبروں کو ایکٹو کیا اور اُن کو ان نوجوانوں کی کھوج لگانے کی ٹاسک دے گئ ۔ اس کام کےلئے اُن مخبروں کےلئے خزانوں کے مُنہ کھول دئیے گئے۔ اُن کو بھاری رقوم۔جدید اسلحہ اور گاڈیاں دی گئ۔ اس کام کےلئے خفیہ اداروں نے اپنے مخبروں اپنے بنائے گئے نام نہاد سیاسی سوداگروں۔ ڈاکووُں۔ منشیات فروشوں۔ اغوا کاروں ۔ سمیت دیگر سماجی برائیوں میں ملوث افراد کو سامنے لایا اور اُن کو یہ چھوٹ دے گئ کہ آپ لوگ چوری کریں۔ ڈکیتی کریں۔ اغوا برائے تاوان کریں۔ لیکن ان کے بدلے بلوچ نوجوانوں کی مخبری کریں۔ یہ ضمیر فروش ریاستی دلال چند مراعات کی خاطر اپنے ہی نوجوانوں کے مخبری کرکےاُن کو ایف سی اور خفیہ اداروں کے ساتھ ملکر اغوا کرنے کا سلسلہ شروع کیا ۔ اور یہ ضمیر فروش ہمسا یہ داری۔ علاقہ داری کا فایدہ اٹھا کر نوجوانوں سے قربت حاصل کرنےمہی کامیا ب ہوگئے اور وہ ریاستی حکمت عملی کے ذریعے اپنے آپ کو ان وطن دوست نوجوانوں کے سامنے آُن سے زیادہ وطن دوست ۔ مزاحمت پسند ثابت کرنے کی کوشش کرکے اُن کے صفہوں میں گھس گئے۔ اور کامیابی سے بلوچ نوجوانوں کے سرگرمیوں کے متعلق اپنے آقاوں کو آگاہ کرتے رہے اور یکم اکتوبر دو ہزار دس کو سمیع بلوچ اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ اپنے گاوں زرعی زمینوں پر گئے تھے واپسی پر انھیں ریاستی آلہ کاروں نے اغوا کرکے لاپتہ کردیا ۱۷ نومبر ۲۰۱۰ کو عیدالضحی کے مقدس دن اُن کو شدید ٹارچر کرنے کے بعد اُن کی لاش کوخضدار سے چند کلومیڑ کے فاصلے پر فیروز آباد کے علاقے میں پھینک دیا گیا تھا۔اور اُن کے جیب میں ایک پرچی تھا جس پر مزاحمتی تنظمیوں اور بلوچ قائدین کے خلاف نازیبا الفاظ کےعلاوہ یہ تحریر کیاگیا تھا کہ یہ بلوچ قوم کو عید کا تحفہ ھے۔ ایسی مظالم شاید گونتاموبے ۔ ابو غریب جیل کے علاوہ فلسطین میں اسرائیل اور عراق میں امریکہ کشمیر میں انڈایا کے افواج نہیں کرتے ہونگے جسطرح کی مظالم بلوچستان میں نام نہاد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے فوج کررہی ھے۔وہ غیر مسلم افواج اپنے دشمنوں سے مہزب اور جینیوا کنویشن کے جنگی اصولوں کے تحت لڑرھے ہیں لکین پاکستان کے بزدل فوج انسانیت ۔مسلمانیت کو اپنے پاوں تلے روند کر بلوچوں کی قتل عام کررہی ہیں۔شہید سمیع بلوچ کو انتہائی دردناک انداز سے شہید کردیا گیا تھا۔ اُن کے جسم کو جلانے کے علاوہ اُن کے کانوں میں ڈانبر ڈال دیا گیا تھا اُن کے ہاتھ اور ٹانگیں توڑ دیا گیا تھا اُسے کے لاش کی بے حرمتی کرکے مسخ شدہ حالت میں پھینک کر پاکستانی فوج اور دلالوں نے ثابت کردیا کہ وہ کتنے خوف ذدہ ہیں۔ سلام عظیم ماں کی عظیم بیٹے پرجس نے بہادری۔دلیری۔سے دشمنوں کے ساتھ مقابلہ کرتھے ہوئے شہید ھوگئے آج ھم شہید سمیع جان سمیت دیگر معلوم نامعلوم عظیم بلوچ شہیداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے یہ عہد کریں کہ ہم ان کے مشن کوپایہ تکمیل تک پہنچا کر اپنے وطن کو ظالموںکی چنگل سےآزاد کریںگے۔ نوجوان خوف کی ماحول سے نکل کر شید سمیع بلو چ و دیگر شیدا کے نقش قدم بر چلتے ہوے بزدل اورمکار دشمن کے خلاف منظم اور فیصلہ کن جنگ کاآغاز کریں ۔ کیونکہ ہر طویل ظلمت کے اند ہیرے راتوں کے پعد ایک سرخ سویرا جنم لیتا ہے جو پلو چوں کی مقدر ہیں انشاءاللہ بلوچ جلد دنیا کے نقشے پر ایک آزاد قوم اور بلوچستا ں ایک آزاد وطن کی حیثیت سے ابھرکر سا منے آہے گا۔

One comment on “پھلیں شہید سمیع مینگل 17 نومبر 2010

  1. Pingback: پھلیں شہید سمیع مینگل 17 نومبر 2010 | brckarachi

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s