آراء اور جنون میں مقابلہ

اسلم بلوچ

جنون کے علمی تعریف کو لیکر مختلف مقامات پر اس کے استعمال سے قطع نظر یہاں اس لئے استعمال کر رہا ہوں کیوں کہ ہماری طرف سے اُٹھائے گئے سوالات کے بدلے جان بوجھ کر ایسی منظر کشی کی جا رہی ہے۔ جس میں جوابات اپنی جگہ کھبی کھبار ہمیں یہ شدت سے گمان ہونے لگتا ہے کہ کہیں ہم احمق تو نہیں۔ جو کچھ ہم کررہے ہیں وہ احمقانہ فعل تو نہیں۔ کیوں کہ جنون کی آوازیں اونچی ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ بلوچوں کا مقدر ۔ وہ جن غیر حقیقی تضادات کے نرغے میں دھنستے جا رہے ہیں بد قسمتی سے ان کے حل ہونے کی کوششیں بھی معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔
ہم چیخ رہے ہیں ہمارے حواس کی گرفت میں آنے والی تضادات کی سطح و نوعیت کا ادراک حاصل کرنا اور ان کے پیچھے چھپے ہوئے جوہر کو سمجھنا انسانی عقل کا وظیفہ ہے۔ ہم انسان ہیں حیوان تو نہیں۔ کیوں کہ حیوان کے پاس سچائی کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔ ہم پیش بینی نہیں کر رہے ہیں۔ جو کچھ سمجھ چکے ہیں اس کے متعلق ہمارے جو بھی آراء یا رائے ہے۔ اس کے اظہار پہ غور کرو، بحث کرو، برے اور بھلے کی تمیز کو سمجھنے میں ہماری مدد کرو، کوئی خامی ہے یا ہمارا ذہنی اختراع۔ اس کو دور کرنے کیلئے دلیل دو ، کچھ تو ثابت کرو۔
جنون چیختا ہے گستاخ _ تم کون ہو، ہم سے پوچھنے والے۔
ہم ذرا مودبانہ انداز میں کہتے ہیں کہ دنیا کے عظیم معلمین کی بصیرت سے ہم آہنگ کوئی آراء سامنے لاؤ تاکہ ہمارے حواس کی گرفت سے شکوک و شبہات دور ہوں۔
جنون پھر چیختا ہے۔ تمھاری اوقات کیا۔ عظیم ہستیوں سے سوال کرنے کی گستاخی ۔تمھاری ایسی قد کاٹ کہاں۔
ہم چیختے ہیں کہ ایک بہتر ، مثالی اور صحت مند سماج کی تخلیق سے متصادم کمزور اور بے وسیلہ قبائلی نظام ، روایتی لین دین ، زند و گزران ، بوسیدہ و کھوکھلے منصب ، رواج و رویے ان سب کی مضمرات بارے الگ الگ پہچان کرو۔ اور مستقبل میں ان سے محفوظ رہنے کیلئے بر وقت غور و فکر ، تحقیق، محنت، غیر جانبداری اور دیانتداری سے رابطہ کرو۔
جنون چیخ اُٹھتا ہے۔ خبردار ، ہوشیار نفاق پیدا کر رہا ہے۔ توڑنے آیا ہے۔ دشمن ہے۔
ہم پھر بھی چیختے ہیں کہ ضرور یکجا رہو۔ مگر خونی ، ذاتی ، قبائلی و علاقائی رشتوں سے ماوراء فکری رشتوں کو مضبوط کرو۔ فکری رشتوں کے بنیاد کو فرد کی محنت ، صلاحیت اور قابلیت کے ساتھ ہی ساتھ خلوص اور ایمانداری کی سطح کے جانچ کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر کرو۔
جنون چیختا ہے۔ خود کو عقل کل سمجھتے ہو۔ ڈکٹیٹر بن کے حکم چلاتے ہو۔ ضدی ہو۔
ہم چیختے رہتے ہیں کہ خدا را صف اول کے شہزادوں روایتی منصب اور خاندانی اثر و رسوخ کے بل بوتے پر حق مت جتاؤ۔ شہداء سے خونی رشتوں کی بنیاد پہ حق مت جتاؤ ۔کھلے میدان میں اپنے کردار ، صلاحیت اور محنت کو لیکر اپنی کار کردگی کا لوہا منواؤ۔
جنون اور زور سے چیختا ہے۔ کہ حیر بیار مری سے لیکر براہمدغ بگٹی تک ،جاوید مینگل ، نورالدین سے لیکر مہران مری تک ، اللہ نذر سے لیکر غوث بخش بزنجو تک سب صحیح ہیں۔ بر حق ہیں۔ کہنے والو تم ہی منشی موھن داس ، عبداللہ بن ابی اور چوہدری ہو۔ اور حضرت رحمتہ اللہ علیہ بنتے پھرتے ہو۔
مجبوراً اس جہد کا حصہ ہیں۔ اوبامہ اور اسامہ کے متعلق تو نہیں سوچیں گے۔ پھر سے چیخ پڑتے ہیں کہ بھائی سب سے پہلے اپنے آپ کو پہچانو، پھر اپنے مقصد کو پہچانو، سمت اور راہ کو پہچانو، وقت و حالات کو پہچانو،پھر ہمراہ و ہمراز کو پہچانو، ان تمام کے بعد آخری دشمن کی پہچان آسان ہے۔
جنون چلانے لگتا ہے۔ آخری دشمن دشمن ہے۔ باقی سب کچھ بکواس ہے۔
ہماری آواز ذرا دھیمی ہوجاتی ہے۔ کہ جتنے بھی دعوے دار ہیں۔ ان تمام کی سابقہ افعال و اعمال کو مد نظر رکھ کر مستقبل کے امکانات بارے منصوبہ بندی اور موثر ضابطہ اخلاق واضح کرو۔
جنون چیختا ہے۔ کہ یہ خوامخواہ کی مستی ہے۔ ہمارا مقصد ایک ہے۔ طریقہ کار میں فرق ہے۔
ہم چیخ کر پوچھتے ہیں۔ کہ کون سا طریقہ کار۔ لڑنے کے طریقہ کار میں فرق ہے۔ سیاسی احتجاج کرنے کے طریقہ کار میں فرق ہے۔ یا پھر نیت میں فرق ہے۔ کیا وضاحت ضروری نہیں۔ وہ کونسا طریقہ کار ہے۔ مقصد کو لیکر سادہ سی حکمت عملی میں لڑنے ، چھپنے ، ظاہر ہونے ، احتجاج سے اخباری بیان تک تو سب کچھ یکساں ہیں۔ ہمیں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ ہاں فرق ہے تو الگ الگ شناخت کو لیکر لیپا پوتی کرنے میں۔
جنون چلانا شروع کر دیتا ہے۔ کہ ہماری قربانیوں سے انکار کر رہے ہو۔ ہم پر شک ہو رہا ہے۔
ہم چیخ رہے ہیں۔ کہ اپنے سماجی اور سیاسی نظام میں انقلابی تبدیلیوں کیلئے بعض نئے آدرشوں اور اقدار کو اس صورت میں فروغ دے سکیں گے۔ جب بعض ذاتی روایتی اور قبائلی اقدار کو رد کرکے ان کے سامنے رکاوٹ بن جائیں ۔
جنون چیخ چیخ کر کہتا ہے۔ ہم ایک جسم دو جان ہیں۔ یہ ہمیں تقسیم کر رہے ہیں۔ قوم کو گمراہ کرنے آئے ہیں۔
ہم کہتے ہیں ۔کہ نکتہ چینی ، تنقید اور اختلاف کی الگ الگ پہچان کرو۔ ان کی ضرورت مقام و گنجائش کو پہچانو۔ کردار کشی اور پروپیگنڈہ میں فرق کو سمجھو۔
جنون کی روایتی چیخ و پکار جاری ہے۔ یہ سب کچھ توہین و کردار کشی ہے۔ صرف اور صرف ایک راستہ ہے۔ روایتی احترام کو لیکر چپ رہو ، ورنہ منشی موھن داس ، عبداللہ بن ابی، نام نہاد ، ڈیلی ویجز وغیرہ وغیرہ
(ایک رہبر اور اس کے پیرو کاروں اور عوام میں ایک اعتماد کا رشتہ ہوتا ہے۔ اسے دشمن اپنے تشدد، ظلم اور ساتھ ہی ساتھ مال و دولت سے نہیں توڑ سکتا۔ وہ ایک دو کالم سے کیسے ٹوٹ سکتا ہے ۔ہاں اگر وہ پہلے سے ہی بد اعتمادی کے نرغے میں ہو ، وہ رشتہ ، جھوٹ اور گمراہ کن احساسات کو لیکر حربوں پر قائم ہو۔ اگر ایسا ہوتو پھر ایک بھی سچ ایٹم بم جیسے طاقت کے ساتھ ان پر گرتا ہے۔ سچ اور حقیقت سے خوف خود بخود ایسے علامات کو ظاہر کرتے ہیں۔)
اگر ہم آراء یا رائے کو لیکر آگے بڑھیں ، تو ہو سکتا ہے عقلی بحث مباحثے میں ہمارے لئے فہم و ادراک کے تحت شعور کے دروازے سے ہوتے ہوئے سوچ (زاویہ نظر) میں ، تربیت میں ، اداروں اور نظام میں ، شخصیت و کارکنان میں حتیٰ کہ عوام تک میں بہتری کیلئے علمی دائرے وسیع ہوتے جائیں۔
اگر ہم جنون پر توجہ دیں۔ اور جنون کو لیکر آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ تو اس کے مطابق آپ سوچیں کہ انجام کیا ہوگا۔ سوچنے کیلئے جو زیادہ اہم ہے۔ وہ ہے غیر جانبداری۔ کسی کی خوشنودی ، خوشامدی، تاریخی منصب بارے روایتی احترام ، ذاتی تعلقات ان سب سے بالا ہونا شرط ہے۔ تضاد کی بنیاد یا روح کو ڈھونڈیں اور کم از کم جس کی نشاندہی ہو رہی ہے۔ اس پر غور کریں۔ ایسا کرنے سے ممکن ہے کہ سوچنے کی سمت درست ہو۔ اور ایک بار سوچنے کی سمت درست ہوا۔ تو مشکلات اور مسائل کا ان کے اصل روح میں پہچان بھی آسان ہوگا۔ کہتے ہیں کہ پہچان ایک زبردست صلاحیت اور حس ہے۔ دیگر مخلوقات کے مقابلے آدم زاد پہچان کی صلاحیت کو لیکر قدرے بد قسمت پیدا ہوا ہے۔ ہم دیکھتے آ رہے ہیں ۔کہ پوری دنیا میں تخریب اور تعمیر کے حوالے سے کاشت کاری سے لیکر صنعتکاری تک اور حتیٰ کہ سائنسی ایجادات تک لاکھوں ناکام تجربات اور نقصانات سے گزرنے کے بعد مثالی کامیابیوں کے باوجود آج بھی اپنی روز مرہ کے استعمال میں کھانے پینے تک اشیاء کی پہچان بارے آدم زاد کو ہمہ وقت دقت کا سامنا ہے۔ وجہ شاید یہ ہے۔ کہ خدا نے نہ تو پہلے سے انسان کی تقدیر مقرر کی ہے ۔اور نہ اس سے کسی خاص قسم کی رعایت برتی ہے۔ (ماسوائے عقل کے) تو ایک مثالی صحت مند سماج کی تعمیر میں حقیقی عوامل ، ان سے جُڑے حقیقی قوت اور غیر حقیقی قوت میں پہچان تو بہت ہی پیچیدہ ہوتا ہے۔ کیوں کہ جب بھی کوئی تضاد سر اُٹھاتا ہے۔ تو اس میں دو سوچ کار فرما ہوتے ہیں۔ اور ان میں لازماً ایک حقیقی اور ایک غیر حقیقی ہوتا ہے ۔تو ان کی پہچان کیلئے ان دونوں سوچ سے جُڑے قوتوں کے اعمال و افعال سمیت کارکردگی پہ غور و تحقیقی صحیح فیصلے کیلئے رہنمائی کر سکتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں مٹی پاؤ ، چپ ہوجاؤ پر سب کے سب کار بند ہیں۔ میری ناقص رائے کے مطابق قوم پرستی ،قبیلہ پرستی اور گروہ پرستی سے ماوراء ہے۔ قوم دوستی کیلئے انسان دوست نظریات کے تحت وسیع دائرے میں راہ ہموار کی جاتی ہے۔ تاکہ مادری ، قومی ، وطنی جذبات و احساسات میں تعصب اور غیر اخلاقی اور غیر انسانی خیالات کی وجہ سے منفی رویے جنم نہیں لے سکے۔ کیوں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ قبیلہ پرستی اور گروہ پرستی صرف اور صرف تعصب کی بنیاد پر قائم رہ سکتا ہے۔ اور اس میں جو شعور پرورش پاتا ہے۔ وہ انسان دوستی کے حوالے سے گمراہ کن احساسات پر مبنی ہوتا ہے۔ ذراذرا سی باتوں پر جذبات کا مشتعل ہونا ۔رائے یا اظہار پر شکوک رکھنا۔ اپنے ذاتی خونی رشتوں اور ذاتی تعلقات کے علاوہ باقی تمام لوگوں کیلئے اجنبیوں جیسا رویہ رکھنا۔ غور کیا جائے۔ تو یہ تمام اولذکر سے متصادم کیسے نہ ہو۔ یہی وہ تصادم ہے ۔جو ہمارے قومی جہد کو آج ایک جذباتی الجھاؤ جیسا پیش کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے اس سے جُڑے حضرات بھی تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ آنے والے وقتوں میں اپنے کردار کی وضاحت کیسے کریں گے۔ مجھے معلوم نہیں۔ مگر یہ طے ہے کہ تاریخ بے رحم ہوتا ہے۔ جو کچھ بھی ان دنوں میں سامنے آیا ہے۔ ان میں سے مجھے حیرت منظور عزت کے خیالات پر ہوا۔ منظور عزت کے تازہ ترین خیالات اس کے سابقہ (اس سادگی پہ مر نہ جاؤں) والے خیالات سے کیسے متضاد ہیں۔ یہ دیکھنے کیلئے دونوں کالم کا سامنے ہونا ضروری ہے۔ بد قسمتی سے ایسے پڑھے لکھے حضرت کی عقل کی داد دینی ہوگی۔ جو اسی (80) کلو میٹر دور سے پانی لانے جیسے خود ساختہ کہانی بیان کرنے سے پہلے ذرا برابر بھی نہیں سوچتا ۔کہ اسی (80) کلو میٹر مسافت پیدل طے کرنے میں کتنا وقت لگتا ہوگا۔ اور کوئی بھی شخص اسی (80) کلو میٹر طے کرتے کرتے کتنے چھاگل پانی پیتا ہوگا۔ اور بندوق ،چھاگل اور گولیوں کا بوجھ اُٹھاتے ہوئے ایک بکرے کو کندھوں پہ رکھ کر ساٹھ (60) کلو میٹر کیسے چلا ہوگا۔ بچوں کی کہانیوں میں تو ٹھیک ہے۔ ایسے قصے بڑوں کو کیسے مشغول رکھ سکتے ہیں۔ یہ سمجھنا ضروری ہوگا۔ جو شخص اس فرق کو نہ سمجھ سکتا ہو۔ وہ تحریک کی باریک بینی اور گزشتہ چھ سالہ جدو جہد میں پوشیدہ پیچیدگیوں کے اسباب بارے اعمال و افعال کو لیکر نصیحت و ہدایت کرتا پھرے۔ یہ بھی بلوچوں کی قسمت۔ اس مرحلے میں میں اکثر سوچتا رہتا ہوں۔ کہ یہ ہمارے جدو جہد کا احمقانہ مرحلہ ہے۔ وہ ایسے کہ اس وقت ہم احمقانہ خیالات سے لڑ رہے ہیں۔ کیوں کہ جن خیالات کی بنیاد اصل موضوع سے ہٹ کر زمینی حقائق ، دلیل ، منطق و ثبوت سے یکسر محروم ہو ں۔ وہ احمقانہ ہی کہلائیں گے۔ اصل موضوع پر علمی بحث مباحثے کی جگہ ’’شغان‘‘ ’’طنزیہ لقب‘‘ ’’بے بنیاد الزامات‘‘ ’’گالی گلوچ‘‘ کو پھر سے دلیل، منطق ، ثبوت اور اصل موضوع کی طرف قائل کرنے کو کوششیں بھی دیکھنے والوں کو احمقانہ فعل لگتے ہیں۔ مگر شاید مجبوری یہ کہ پہچان والی حس و صلاحیت کمزور ہے۔ جس کی وجہ سے بار بار اس احمقانہ تالاب میں غوطے لگانے پڑتے ہیں۔ اب ذرا موضوع سے ہٹ کر میرے لئے یہ وضاحت ضروری ہے۔ پچھلے دنوں پروفیسر نائلہ قادری صاحبہ نے اپنے ایک اخباری بیان میں میرے جیسے ادنی سیاسی کارکن کیلئے لفظ جنرل استعمال کیا۔ تعریف پہ خوش ہونا انسانی فطرت ہے۔ جس سے انکار ممکن نہیں۔ مگر یہاں تو مفت میں اعزاز جنرل سونے پہ سہاگہ ۔
پروفیسر صاحبہ کی جذبات کی قدر اپنی جگہ۔ مگر یہاں حقیقت پسندی کا تقاضا یہ ہے۔ کہ اب تک میں اپنے آپ کو پہچاننے کی کوششیں کر رہا ہوں۔ جنرل کجا۔ میں ایک اچھے سپاہی کی علمی تعریف پر پورا اترنے کے قابل نہیں۔ ساتھیوں نے جن ذمہ داریوں کے قابل سمجھا ۔ان تمام ذمہ داریوں کو بھی ساتھیوں کے کمک و مدد سے نباہتا رہا ہوں۔ میں کیا ہوں۔ یہ فیصلہ میرے ساتھیوں کی مشترکہ بصیرت ہی کرے گا۔ یا پھر تاریخ (اپنے طور میں انسان بننے کی جدو جہد کر رہا ہوں۔) انتظامی تعلق سے در۔ باہر کے دوست بہی خواہ ، ہمدرد تمام سے بصد احترام التجاہ کرتا ہوں۔ کہ وہ کام ہرگز نہ کریں۔ جو آپ کا نہیں۔ میرا جھگڑہ شروع سے یہی رہا ہے۔ کہ ذاتی جذبات و خواہشات پہ یا واقعات و حالات پہ فیصلہ مناسب نہیں۔ تسلسل سے انجام پانے والے واقعات اور ان کے پیچھے کارفرما سوچ اور ان کو انجام دینے والے کار کردگی و کردار اور حکمت عملیاں، پالیسیاں ان سب سے جُڑے مسلسل کامیابیوں بارے اخلاقی کمک اور ناکامیوں بارے حوصلہ شکنی کیلئے کردار نبائیں۔ وقتی جذباتی اعزاز و لقب شاید حقائق کے منافی ہوں۔ اور میرے قبیلے کے حوالے سے پیدا کنفیوژن بارے اظہار شاید مناسب ہو۔ دشمن کی طرف سے پروپیگنڈہ افغان تاجک سے قطع نظر دہوار (تاجک) اور کچھ لوگوں کی طرف سے کرد (تاجک) میں سے میرے پاس تاریخی مستند ثبوت کچھ بھی نہیں۔ تو میرے نزدیک حقیقت دہوار تاجک سے قریب ہے۔ مگر اس وقت سب سے بڑی حقیقت اسلم بلوچ ہے۔ تو اسلم بلوچ ہی بہتر اظہار ہوگا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s