جنگ کیوں ضروری ہے

کسی نے سقراط سے پوچھا جنگ کیا ہے؟ امن کیا ہے؟

سقراط نے جواب دیا “امن” وہ زمانہ ہے جب جوان بوڑھوں کی لاشوں کو کندھوں پر اٹھا کے قبرستان میں دفن کرتے ہیں اور “جنگ” وہ زمانہ ہے جب بوڑھے جوانوں کی لاشوں کو اپنے کمزور اور ضعیف کندھوں پر اٹھا کر قبرستان پہنچاتے ہیں”۔

ماہر عمرانیات کے مطابق امن نام کی کوئی شئے سرے سے ہی موجود نہیں اور جسے ہم امن کہتے ہیں وہ جنگوں کے درمیان وقفے کا نام ہوتا ھے، جس میں اقوام یا آرام کررہے ہوتے ہیں یا دوسری جنگ کی تیاری – ہم نے اکثر یہی سنا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں. جنگ تباہی لاتی ہے. بربادی لاتی ہے، آرزوں اور خوابوں کو قتل کرتی ہے- شہروں کو برباد کرتی ہے، بارود بے حس ہوتا ہے، بے شعور ہوتاہے وہ کسی کی بھی پرواہ نہیں کرتا- اس کا کام تباہی پھیلانا ہے اور موت بانٹنا ہے، جنگ بچوں کو یتیم کرتی ہے- عورتوں کو بیوہ کرتی ہے، انسان کو شرف انسانیت سے محروم کرتی ہے، جنگ بھوک و افلاس معزوری اور دکھ لاتی ہے، خوشیوں سے محروم کرتی ہیں اور امیدوں کو دفن کرتی ہے غرض جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں- اس کے برعکس ھم سب کو پر امن رہنا چاہیے،کہ امن خوشیوں کی نوید ہے، امن خواب خواب ہے اور امن تعبیر بھی امن آرزوں اور امنگوں کا موسم بہار ہے امن ہی شرف انسانیت ہے امن راحت جاں ہے امن چین کی بانسری ہے پرسکون نیند ہے امن، امن انسانیت کی ضرورت ہے امن گیت ہے، امن ہی سنگیت ہے- امن بس امن- اسی لیے دنیا کا شاید ہی کوئی فنکار ہوگا جو جنگ سے نفرت کا اظہار نہ کرتا ہو۔

دنیا کے اہل قلم کی اکثریت نے ھمیشہ جنگ کے خلاف گیت لکھے، قصے تراشے، سماج میں جنگ گریز رجحانات کی ترویج کی۔

جب انہی اھلء قلم کی دھرتی پر ظالموں کا قبضہ ہوا، جبر کا راج ہوا، استحصال کی دیو نے دھرتی کے معصوم انسانوں کی آذادی پر شب خون مارا، زمین کے محکوم انسان پر اس نے اپنے خونی پنجے گاڑے، تو ایسے میں انہی قلم کاروں نے اپنے قلم کو ہتھیار بنا لیے- جنگی ترانے لکھے- جنگوں کی کہانیاں بیان کیں اور اپنے عوام کو جبر کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے اور لڑنے کی ترغیب دی- اگر اہلء قلم جنگ کے خوف سے ظالم کو ظالم کہنا چھوڑ دیں تو سماج کیسا ھوگا؟ ظالم اور مظلوم کی لڑائی میں اہلء قلم اپنے قلم کو مظلوم کے حق میں ہتھیار نہیں بناتا تو وہ قلم کا سب سے بڑا گناہگار ھوگا-جنگ ھمیشہ ظالم اور مظلوم کے درمیان لڑی جاتی ہے- ظالم کی طرف سے جنگ کا اھم مقصد تیز رفتار فتح کے ذریعے مظلوم کو غلام بنانا اور اس کے ساحل وسائل پر قبضہ کرنا ہوتا ہے جبکہ مظلوم کی طرف سے جنگ کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ غلامی کی زنجیر کو توڑنا اور ظالم کے ظلم کا منہ توڑ جواب دینا- ظالم ھمیشہ مظلوم کو اپنے مفادات کے لیے غلام بنا کر طاقتور بننا چاہتا ہے- ظالم طاقت کے ذریعے خوف پیدا کرتا ہے، اگر خوفزدہ انسان بے خوف ہو جائے تو طاقتور کی طاقت کمزور ہونی شروع ہو جاتی ہے- طاقتور دراصل خوف کی حدود میں ہی بادشاہی کرتی ہے- آج ھم دیکھتے ہیں کہ پوری دنیا میں زرپرست امن دشمنوں کا راج ہے جو صرف اپنے مفادات کے غلام ہیں- اور اصل میں طاقتور جسے خوف ذدہ رکھنا چاہتی ہے- خود اسی سے ھمیشہ خائف رہتی ہے- کچھ ایسی صورت حال بلوچستان کی ھے جسے ظالم طاقت کے ذریعے اپنے مفادات کی لیے دبانا چاہتی ہے جہاں ظالم نے ظلم کی آخری حدیں بھی پار کردی ہیں، مگر اس کے برعکس حقیقت یہی ہے کہ ظلم جتنا بڑھتا ہے، مزاحمت اتنی ہی تیز ہوجاتی ہے- ظالم کی طرف سے بلوچ کی آواز کو دبانے کے لیے عوام پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔

قابض کی طرف سے آئے روز بے گناہ لوگوں کو شہید کرنا، لاپتہ کرنا، اپنے زر خرید چند بلوچ ایجنٹوں کے ذریعے بلوچوں میں انتشار پھیلانے کی کوشش کرنا- خواتین اور بچوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانا، ظالم نے صرف اسی پر اکتفا نہ کیا جب تمام ہتھکنڈے ناکام ہوئے تو “بائیولوجیکل وار” کا آغاز کیا گیا- علاج کے نام پر انجکشن کے ذریعے انتہائی موذی امراض پھیلاۓ گئے- پینے کے پانی میں زہر آلود مواد ملائے گئے- یہ ساری کاروائیاں جنیوا کنونشن کے خلاف اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں کے ماتھے پر سوالیہ نشان ہیں- میں کوئی جنگ کا حامی نہیں مگر ان تمام حالات کے پیش نظر اگر بلوچ جہد کار عدم تشدد کا فلسفہ اپناتے تو ایک دن ھم بھی ریڈ انڈین کی طرح گم نامی کی زندگی بسر کر رہے ہوتے، مگر آج تشدد، تشدد کو ختم کرتی ہے کے فلسفے کو اپنا کر جہد کاروں نے دنیا کے سامنے بلوچ قوم کی ایک مستحکم حیثیت نمایاں کی ہے- آج دنیا کے بیشتر ممالک میں بلوچ مسئلے پر بولا اور لکھا جاتا ہے اور تاریخ بھی ھمین یہی بتاتی ہے کہ آذادی کے لیے جنگیں ہمیشہ ضروری رہی ہیں- آج بلوچ تحریک آذادی اپنے شہدا اور جہد کاروں کی بدولت دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں- امن پسند اقوام اگر اس خطے میں امن دیکھنا چاھتے ہے تو اس امن کے لیے بلوچ جنگ آذادی کا ساتھ دے- امن کے لیے جنگ ضروری ہے جیسا کہ دنیا میں بہت سے کام ایسے ہیں جنکو روکنے کے لیے پہلے وہ کام خود کرنے پڑھتے ہیں مثال کبھی کبھار کسی کو خاموش رہنے کے لیے کہتے ہو تو پہلے خود اپنی خاموشی توڑتے ہیں- غرض تاریخ میں ھم دیکھتے ہیں کہ جن قوموں نے بے خوف ہوکر ظاقت کا مقابلہ کیا وہ سرخرو ہو گئے اور جو خوف ذدہ ہوکر خائف رہے وہ صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔

صدا وطن کی ہر اک سرحد پر گونجتی ہے
اٹھو کہ تم کو وطن کی مٹی پکارتی ہے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s