ماں کی فریاد

“ماہ رنگ بلوچ”

میں ایک ماں ہوں، ایک سرمچار کی ماں، ایک شہید کی بیوہ، ایک شہید کی بہن، ایک سرزمین جو اپنی کوکھ سے بیٹوں کو پیدا کرتی ہے اور وہ اپنی ماں کی ننگ وناموس کے تحفظ کے لیے، اپنا سرقربان کرکے(سرمچار) لقب پاتے ہیں، میں کوئی قلم کار اوقار اور مضمون نگار نہیں لیکن جبراور ظلم کی انتہا، اور میرے بے گورکفن بچوں کی سربریدہ لاشوں نے مجھے قلم اُٹھانے پر مجبور کردیا ہے کہ میں ایک ماں کی صورت میں ان بلوچ دشمنوں کو للکار کر کہوں کہ “ظلمت کی کوکھ سے پیدا ہونے والے ظلم کے پجاریوں،!اے شیطان صفت!سن لو! اے قابض میں تم سے مخاطب ہوں تم خود کو خدامت سمجھو، تم نے کہا کہ پاکستانی پرچم جلانے والے بیرونی ایجنٹوں کو سخت سے سخت سزادی جائےگی، اور ایف سی بلوچستان کو پاکستان سے ہرگز علیحدہ ہونے نہیں دے گی، بلوچستان اور پاکستان لازم ملزوم ہیں، میں کہتی ہوں کہ میرے سرمچار بیٹے، میری بہادر، غیرت مند قوم کا ایک ایک غیرت مند فرزند، ان ہاتھوں کو انکے کندھوں سے اکھاڑدینگے جنہوں نے بلوچ چاردیواری کے تقدس کو پامال کیا، اے قاتلو! جن ہاتھوں نے میری بلوچی پوشاک کو تلاشی کے بہانے چھونے کی کوشش کی اور میری بلوچی”گشان” کو اپنے ساتھ لے گئی ہیں میں ان سے کہتی ہوںکہ وقت آگیا کہ میرے شیر بیٹے ان ہاتھوں کی نسوں اور رگوں سے ایک ایک قطرہ خون نچوڑ کر میرے دودھ کا قرض اتاردینگے، اے یزید کے پیروکارو! ہم امام حسینِؑ کی جماعت سے ہیں ہم نبی زادہ ہیں، ہماری ساتھ پُشتوں میں سرکٹانے کی روایت ہے، تم نے کہا ایف سی، بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ نہیں ہونے دیگی، میں کہتی ہوں کہ ایف سی، میں شامل غیرت مند اگر کوئی پشتون، پٹھان موجود ہے وہ اپنی بندوق کو لیکر پاکستان سے اپنی ماں کی بے عزتی، اپنی بہن کے تارتار دوپٹہ کا حساب لے گی، میں کہتی ہوں کہ وہ یہ کبھی نہیں بھول سکتے کہ پشاور، خیبر اور مہمند ایجنسی میں پاکستانی فوج نے امریکی ڈالروں کے لیے پٹھان اور پشتون ماں، بہنوں کے ساتھ کس طرح انسانیت سوز سلوک کیا، اور ان غیرت مند پشتون اور پٹھانوں کی ماؤں اور بہنوں کو دہشت گردی کے نام نہاد جنگ کے نام پر ہیلی کاپٹروں میں بٹھا کر روالپنڈی کے بنگلوں مین فوجی جرنیلوں کی محفلوں میں پوچھ تاچھ اور تفتیش کے بہانے پہنچادیا گیا ہے، ان کے نوجوانوں کو پکڑپکڑ کر جیلوںمیں بند کردیا گیا اور ان کی داڑھی اور بال بڑھا ان کر ان کو ڈالروں کے عوض طالبان کے نام امریکہ کو فروخت کردی گئی ، میں کہتی ہوں کہ آج پشتون، پٹھان پنجابی آقاؤں کی غلامی کے خلاف بلوچوں کی اس جنگ میں اپنی تاریخی رواداری کو سامنے رکھ کر یاتو بغاوت کریگی یا پنجابی کی بندوق پھینک کر لاتعلق رہے گی، وہ مخبر اور خبری بن کر پنجابی کی ظلم کو تقویت نہیں پہچائیں گے اور اگروہ اپنے اوپر پاکستانی عیاش کرپٹ، رشوت خور، بےدین لامذہب امریکی ایجنٹ ان پنجابی جرنیلوں کی غلامی کو فوج اور ایف سی کی غلامی کو 8000 روپے کے لیے قبول کرتی ہے اور بلوچ ماں ، بہنوں، اور ہمارے بیگناہ بچوں کو دہشت گردی کے الزام میں بازاروں، تعلیمی اداروں، یا گھروں سے اغواء کرتی ہے اور سمجھتی ہیں کہ وہ اپنا فرض ادا کررہی ہیں تو ایک ماں ہوکر ان سے کہتی ہوں کہ ہمارے لے پنجابی ،پٹھان اور بلوچ مخبر، غدارسب برابر ہیں، بلوچستان ان سب کے لیے ایک تاریخی قبرستان بن جائے گا تم کہتے ہو کہ تم بلوچستان کو پاکستان سے علحیدہ ہونے نہیں دوگے، میں کہتی ہوں کہ ہم ایسے کفرستان میں یزید، فرعون، ہامان، شداد کے ہاتھوں بیعت نہیں کرسکتیں، ہم ان کو خدا نہیں مان سکتے اور تم کہتی ہو کہ ہم وفاقی ادارہ ہیں میں کہتی ہوں کہ ہم آفاقی ادارہ ہیں تم نے کہا کہ ہمیں صوبائی حکومت کے زیر اثر رکھنے کے لیے تمام قانوں کو تبدیل کرنی ہوگی میں کہتی ہوں کی تم خدا کے اس قانون سے ڈرتی رہا کرو، تم کو فہ والوں کے کردار میں آج فرعون کی طرح کہتی ہوں کہ بلوچوں کے گھر اب لڑکا پیدانہیں ہوگا، اوراگر لڑکا پیدا ہوگیا تو اس کو قتل کروبلوچوں کی نسل کشی کرنے والے پنجابیوں کے کرایہ دار پشتون، پٹھان ایف سی کے سپاہیوں، فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰؑ کا قصہ ضرور پڑھا کرو، پنجابی جاگیرداروں کی غلامی چھوڑدو وگرنہ اس انجام کے لیے تیار ہو ، جو قرآن پاک میں طاقت کے نشے میں چور اپنے وقت خدائی کے دعویدار حاکموں کے مظلوموں کے ہاتھوں ہوا، جو آگ ہمارے دلوں میں پنجاب ریاست کے ظامل اختیارداروں نے لگائی ہے اس آگ میں اب سب کچھ جل کر خاک ہو جائے گی، ہم خود اپنے ہاتھوں سے ظلم کی ہرنشانی کو آگ لگادینگے ، میں بلوچ قوم کے ان خاموشی تماشائی نام نہاد بزدل قوم پرستوں، پارلیمانی لٹیروں سے بھی کہتی ہوں کہ اب وہ بھی دوغلا پن چھوڑ کر اسمبلیوں سےنکل کر اپنی عوامی قوت کے پاس لوٹ آئیں، اور بلوچوں کے قتل عام کے لیے بقول ایف سی میجر جنرل کے صوبائی حکومت کی درخواست پر آنے والے اس کرایہ کے قاتلوں کی سفاکی پر خاموشی اختیا ر کرنے والے وزیروں ، مشیروں ، حیا کرو، وگرنہ نہ کسی دن تمہاری موت مجھ جیسی ایک ماں کے ہاتھوں لکھی ہوگی جس نے تم جیسے بزدل بیٹوں کو پیدا کیا۔ جس کی تم آج عصمت دری پر بھی اپنے خون آلود کرسی سے نیچے نہیں اتررہے ہو ایک مظلوم ایک بیوہ، ماں کی آہ لگے تم پر۔

میں تمام اخبارات سے گزارش کرتی ہوں کی وہ بلوچ قومی آواز اور ہم جیسی ماں ، بہنوں کی آواز کو سامنے لانے کے لیے کسی بھی قسم کی مصلحت سے بالا تر ہوکر سچائی اور حق کا ساتھ دیں کیونکہ بلوچوں کے اخبار یہی مظلوم ، یہی بھوکے ، بے روزگار قوم اپنا پیٹ کاٹ کر چلارہے ہیں، بلوچوں کے ان اخبارات کو پنجاب ، سندھ اور سرحد میں کوئی نہیں پڑھتا، تو بلوچوں کے پیسوں سے چلنے والے ان اخبارات کو یہ زیب نہیں دیتا کہ پیسہ اور مدد بلوچوں سے لیکر شہ سرخی بلوچستان میں بلوچوں پر ہونے والے ظلم کی کسی خبر کے بجائے اس کفر ستان کے ایک چور صدر اور ایک کرپٹ وزیراعظم ، یا وزیر اعلیٰ کے فرمان کو شہ سرخی پر جگہ دے اور بلوچ قو م پر برسنے والی خبر کو ایک کونے میں جگہ دے ، میں سمجھتی کہ یہ بھی ایک ظلم ہے اور اس ظلم کے خلاف بلوچ غیرت مند فرزند اور ماں بہن جلد جاگ جائیں گی اور میں ان تمام نوجوان بیٹوں سے سوال کرتی ہوں کہ تم کتنے بی ایس او بناؤ گے، تم سب ایک ہوجاو، کم ازکم بلوچ فرزندو کےاغواء کے خلاف ریلی جلسوں میں تو شامل رہ کر اپنی نفرت کا اظہار کرو تم کس “پجار” کے لیے لڑرہے ہو میر حلیم ۔۔۔ تم کس مینگل کی پیروی کررہے ہو! محی الدین؟ میرے لال، تم سب اپنی اس بہن کی طرف دیکھو جس کو اشتہاری قراردیا گیا ہے، تم اپنی اس ماں کے آنسووں کی طرف دیکھو جس نے تم کو اس مصیبت کے وقت کے لیے موت سے لڑکر اپنے خون کے ایک ایک قطرہ کو دودح کی شکل میں پلایا، مگر آ ج تم سب الگ الگ ہوکر شخصیتوں کے گرد جمع ہواگرسب بلوچستان کے غیرت مند بیٹے ہو تو میری یہ باتیں پڑھنے کے بعد تم سب دن کی رات اور رات کے دن میں تبدیل ہونے سے پہلے ایک ہونے کا اعلان کرو گے، میں تم سب کی ماں ہوں، کیا تم میری باتیں سن کر بھی میرے دودھ کا قرض ادا نہیں کروگے، افسوس ہے تم پر اور تمہاری سوچ پر کیونکہ سب کچھ تو تمہارے ساتھ اور سامنے ہورہا ہے ، آج فوج ، ایف سی، اور ان کی بنائی ہوئی الشمس ، البدر اور جانے کون کون سے نئے نام، بلوچ نوجوانوںکو چن چن کر قتل کررہے ہیں ، وہ تم سب کو بلوچ کرکے اغواء کررہے ہیں گنا وبے گناہ ، آزادی پسند اور صوبائی خودمختاری اورحق خوداردیت مانگنے والے سب کو ایک ایک کرکے اغواء کرکے قتل کررہے ہیں کہا تم سب اپنی اپنی باری کا انتظار کررہے ہو جو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم بھی اس قتل عام اور ظلم میں برابر کے شریک ہو کیونکہ ظالم کو دیکھ کر خاموش رہنے والے بھی ظلم اور ظالم کے ساتھی اور برابر کے شریک ہے۔

اے بلوچستان کی صوبائی حکومت! میں تم سب سے مخاطب ہوں، اے بلوچوں کے قتل عام میں ملوث ایف سی کے ہمنواؤ! بلوچ وزراء،وزیراعلیٰ بلوچستان میں ایف سی کو جو اختیارات حاصل ہیں یہ اختیارات ایف سی کو بلوچستان کی صوبائی اسمبلی نے دے رکھی ہیں ، میجر جنرل ایف سی باربار یہ کہتے ہیں کہ ہم صوبائی حکومت کی درخواست پر بلوچوں کا قتل عام کررہے ہیں، اگر صوبائی حکومت ہمیں حکم دے ہم ایک منٹ میں واپس اپنے کیمپوں میں چلے جائینگے، اے چیف آف سراوان اے بلوچوں کے خود ساختہ نوانو، اے چیف آف مگسی ، اے سردارو، اے قوم پرستی کے پشاک میں ملبوس وزیرو!ہوش کرو، ہم بلوچ ماؤں اور بہنوں کی ننگ ناموس کے تقدس کے ساتھ تم لوگوں کی درخواست پر بلائے گئے قاتل فورس ایف سی آج جو کچھ کررہے ہے۔ ہمارے بچوں کو اغواء کرکے قتل کرنے والے ان کرایہ کےقاتل کی پشت پناہی تم سب مل کر کررہے ہو، آج بھی وقت ہے کہ تم اپنی بلوچیت کا ثبوت دیکر اس قاتل فورس کو جوکہ انسانیت اور انسانی حقوق کے نام پر بدنماداغ ہے کو لگام دو! یا اپنی کرسیوں سے ہٹ جاو، فیصلہ کی گھڑی اب آچکی ہے، اگر بلوچ قوم ، بلوچ سرمچار، میرے گوریلے بیٹے ایف سی سے لڑکر انکو بلوچستان سے باہر نکالنے اور ان کو انکی کیمپوں تک محدود کرنے میں ناکام رہے تو میں ایک ماں کی آواز میں اعلان کرتی ہوں کہ بلوچستان کا ہے۔ پشاور، خیبر اور مہمند ایجنسی کےان پٹھانوں اور پشتونوں کا نہیں ہے اب بھی وقت ہے اے حکمرانو! بلوچوں پر اتنا ظلم کرو کے بعد میں تم اور تمہاری یہ قاتل فورس سہہ سکتی ہو۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s