گوریلا کمانڈر ڈاکٹر اللہ نزر بلوچ کا تازہ انٹرویو

ترجمہ، سنگر پبلیکیشن (مقبوضہ بلوچستان) ری کمپوزر،بلوچ رائٹر

 آئی پی ایس نیوز کو اکتوبر 2012 کے دوسرے ہفتہ میں دیا گیا انٹرویو۔۔۔

” ہم تمام بلوچ مزاحمتی تنظمیوں کے ساتھ فکری ہم آہنگی رکھتے ہیں اور مکمل تعاون کے ساتھ اپنی جدوجہد کو آگےبڑھارہے ہیں۔ وہ دن دور نہیں جب ہم مل کر ایک مشترکہ کمان تشکیل دے گے”۔ گوریلا کمانڈرڈاکٹر اللہ نذر جس نے بذریعہ فون حال ہی میں آئی پی ایس نیوز سے بات کی۔۔۔۔۔

ایران، پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں میں تقسیم بلوچ جنکی اپنی الگ زبان ہے ایک وسیع و عریض خطہِ زمین پرآباد ہیںجسے بلوچستان کہا جاتا ہے۔ جو کہ رقبے میں مملکتِ فرانس کے برابر ہے۔ بلوچستان زیادہ تر سنگلاخ پہاڑیوں پر مشتمل ہے۔ مگر اس زمین کےک اندر بے پناہ قدرتی وسائل دفن ہیں۔ گیس، سونا، تانبا اور یورونیم جیسے بیش بہا وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود بلوچستان ان تینوں ریاستوں میں سب سے کم ترقی یافتہ علاقہ ہے۔

پاکستان کے خلاف جنگ میں بلوچ مزاحمت کرکئی گرہوں میں تقسیم ہیں جن میں بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ ریپبلکن آرمی، بلوچستان لیبریشن فرنٹ اور لشکرِ بلوچساتان اہم ترین تنظیمیں ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہےکہ اس تقسیم کی وجہ بلوچ عوام میںموجودہ قبائلی عناصر کیوجہ سے ہے۔ مگر تمام اختلافات ککے باوجود ایک بات طے ہے کہ یہ تمام گروپ سیکیولرسوچ رکھتے ہیں اور بلوچستان کی آزادی کے حوالے سے ایک واضح ایجنڈا رکھتے ہیں۔

ہمارے IPSرپورٹر KARLOS ZURUTUZA  جوکہ 2009 اور 2010 میں ایران، پاکستان اور افغانستان کا دورہ کرچکے ہیں، داکٹر اللہ نذر کو بذریعہِ فون انٹرویو کیا جسکے اقتباسات ذیل میں پیش کیے جارہے ہیں۔

سوال: آپ جس گروپ کی قیادت کررہے ہیں اس کی وضاحت آپ کن الفاظ میں کریں گے؟

بلوچستان لیبریشن فرنٹ BLF میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں جو بلوچستان کی آزادی کے لیے ایک واضح نظریہ رکھتے ہییں۔ جن میں کسان سے لے کر ڈاکٹروں تک ہرطبقے کے لوگ شامل ہیں۔ اس وقت قریبا 6000 تربیت یافتہ جنگجو ہماری صفوں میں شامل ہیں اور یہ تعداد دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے۔ یہ واضح ہوکہ BLF اس وقت مشرقی بلوچستان میں گوریلا جنگ کے ذریعے اپنی جدوجہد میں مصروف ہے جو کہ پاکستانی کنٹرول میں ہے۔

سوال: کیا آپ کا ایران میں موجودہ مزاحمتی گروپ جنداللہ سے کوئی ہم آہنگی ہے یا آپ ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں؟

ہم جانتے ہیں کہ جنداللہ میں جو لوگ لڑرہے ہیں وہ بلوچ ہیں لیکن ہمارا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ہمارا ان سے کوئی رابطہ ہے۔ ہماری اپنی خالص قوم پرستانہ افکار پر مشتمل جنگ ہے جو جنداللہ کی مذہبی انتہا پسندی سے کوسوں دور ہے۔

سوال: اسلام آباد ہمیشہ یہ الزام لگاتا ہے کہ بلوچ مزاحمتی تحریک کو بھارت سپورٹ کررہا ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں؟

انڈیا ہمیں کوئی مدد نہیں پہنچارہا۔ یہ محض پاکستانی میڈیا کی جانب سے پھیلائی ہوئی پروپیگنڈا ہے اور کچھ نہیں۔ اس پروپیگنڈے کا بنیادی مقصد دنیا کو یہ دکھانا ہےکہ بلوچ اپنے جنگ نہیں لڑرہے ہیں بلکہ وہ بھارت کے کرایے کے سپاہی ہیں۔

سوال: پاکستانی انتظام میں شامل بلوچستان کی ایک صوبائی حکومت ہے۔ آپ نے کیوں ہتھیار اٹھائے ہیں۔ آپ کیوں پارلیمانی جدوجہد نہیں کرتے؟

ہم پاکستان کی وجود میں آنے سے پہے ایک ریاست تھے اور یہ کہ اگست 1947 میں خود پاکستان نے ہماری آزادی تسلیم کی تھی۔ مگر ساتھ ماہ بعد پاکستان نے بزورِقوت ہماری زمین پر قبضہ کیا۔ اس لیے ہماری اور انکا تعلق قابض اور مظلوم کی ہے۔ بلوچ قوم نے کبھی بھی اس قبضہ گیرت کو قبول نہیں کیا۔ ہم ہمیشہ سے ہی اس ناجائز قبضہ گیرت کے خالف لڑتے رہے ہیں۔ اب اس ریاست اور اسکے اداورں کو ہم کیسے تسلیم کریں گے۔ وہ پاکستانی پارلیمنٹ جو بلوچ قوم کی شناخت، زبان اور ثقافت کو مٹانے کے لیے جارحانہ پالیسی بناتی ہے ہم کس طرح اس پارلیمان کاحصہ بن سکتے ہیں۔ اور سپریم کورٹ اس جارحیت کا جائز قانون کا لبادہ پہنارہی ہے۔ ہم پاکستان اور اسکے کسی ادارے کو تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی انکا حصہ بنے کا سوچ سکتے ہیں۔

سوال: کچھ بلوچ لیڈر آزادی نہیں حقِ خوداردیت کی بات کرتے ہیں؟

بی این پی کے سربراہ سابق وزیرِاعلٰی اور مینگل قبیلے کے سردار اختر مینگل صاحب اور دیگر اب بھی حقِ خودارادیت کی بات کرتے مگر چونکہ یہ ایک مبہم اصلاح ہے اسلیے اس اصلاح کا استعمال کرکے مذکورہ لیڈر پاکستان کے اندر رہ سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ مگر ہم اپنی علیٰحدہ شناخت رکھتے ہیں، ہماری تاریخ ہے اسلیے ہم پاکستانی ریاست کے اندر رہ کر اپنی تاریخ، زبان اور ثقافت کی موت کا تماشا نہیں دیکھ سکتے۔ ہم آخری دم مکمل ذادی کے لیے اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔

سوال: لندن میں موجودہ بلوچ رہنما حیربیارمری کی جانب سے پیش کردہ فریڈم چارٹری کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ آیا فریڈم چارٹر بلوچستان کی آزادی کے لیے کوئی کردار ادا کریگا؟

یہ ایک نیک قدم ہے جو حیربیارمری صاحب نے اٹھائی ہے۔ میرے خیال میں تمام آزادی پسندوں کو اسکی حمایت کرنی چائیے۔

سوال: اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ گوادر ڈیپ سی پورٹ جیسے پروجیکٹ بلوچستان کی معاشیت کو بڑائیں گے؟

گوادر ڈیپ سی پورٹ کا پلان پنجاب اور کالونیل طاقتوں کی مفادات کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس کا بلوچ عوام کی فلاح وبہبود سے کوئی تعلق نہیں ۔ اس کا ایک بنیادی مقصد بلوچستان میں Demographic تبدیلی لانا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مہاجر پنا گزینوں کا لاکر بلوچستان میں آبادکریں تاکہ بلوچ آبادی کو بگاڑسکیں۔ میں تو کہوں گا کہ اگر گوادر ڈیپ سی پورٹ کامیابی کےساتھ آپریشنل ہواتو یہ بلوچ قوم کے لیے وارنٹ ثابت ہوگا۔

سوال: بلوچ کہتے ہیں اسلام آباد کی حکومت بلوچستان میں طالبانیت کو فروغ دے رہی ہے تاکہ بلوچ قومی تحریک دبایا جاسکے۔ کیا یہ سچ ہے؟

ہاں یہ سچ ہے۔ بلوچ بنیادی طور پر سیکیولر ہیں اور یہ سیکیولر اور روشن خیالانہ رویہ انکی ثقافت اور روایت میں موجود ہے۔ بلوچ تاریخ اسکی گواہ ہے۔ اب چونکہ انتہا پسند پاکستانی آقاؤں کے لیے یہ چیز قابلِ برداشت نہیں اس لیے انہوں نے بلوچ معاشرے کو Talibanize کرنےکا کام شروع کیا ہے۔ اس وقت جہاں ہوں وہاں ISI نے بلوچ تحریک کے خلاف دو مذہبی مسلح گروہ بنارکھے ہیں۔ ایک انصارالاسلام اور دوسرا تحفظِ حدوداللہ۔ انہوں نے یہ گروہ اسلام کے نام پر بنائے ہیں مگر انکا اصل مقصد بلوچ آزادی کی جنگ کو ختم کرنا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیںکہ پاکستان طالبان اور القاعدہ کا پنگھوڑا ہے اور ان دونوں دہشت گرد گروہوں کی نشونما پاکستان ہی کررہی ہے۔ اور انکے ذریعے افغانستان، بھارت، سعودی عرب اور یمن میں دہشتگردبرآمد کررہی ہے۔ یعنی پاکستان ایک نہایت ہی غیر ذمہ دارانہ ریاست ہے جس نے پوری مہذب دنیا کو غیر محفوظ بنا رکھا ہے۔ اس لیے بلوچ قومی تحریک کا نقصان مہذب دنیا کا نقصان ہے اور اسکی کامیابی اور آزاد بلوچ ریاست کی تشکیل دنیا کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

سوال: واشنگٹن 2014 تک اپنی فوجیں افغانستان سے واپس بلارہا ہے آپ کے خیال میں پاک وافغان خطے پر اس کے کیا اثرات مرتب ہونگیے؟

اگر امریکہ اور نیٹو افغانستان سے چلے گئے تو یہ پورا خطہ غیر مستحکم ہوگا اور شدید مشکلات سے دوچار ہوگا۔ ایک کمزور افغانستان نہ صرف اس خطے میں استحکام کو بگاڑدے گا بلکہ دنیا اسکے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s