یا اللہ۔ ۔ ۔ مجھے عقل دے یا صبر دے۔ ۔ ۔ !!!

تحریر: نوروز خان بلوچ

موجودہ تحریک جب سے شروع ہوئی، دھمادم مست قلندر والی بات مجھے یاد آتی ہے، ہم صبح اخبارا اٹھا کر دیکھتے ہین تو اس لئے خوش ہوتے کہ بلوچ مزاحمت کاروں نے اگر کوئی کاروائی کی تو یہ سوچھتے ہوئے اخبار لپیٹ کر جیب میں رکھتے ہیں کہ شکر ہے آج اخبار خریدنے کے پیسے ضائع نہیں ہوئے اور جب کبھی کاروائی کی خبر سے اخبار خالی ہو تو مرجھائے من سے اخبار کسی  پکوڑے والے کو صدقے میں دیکھ کر خود کو سخی ہونے کا تاثر دیتے ہیں اور تھوڑی پریشانی بھی لاذحق ہوتی ہے کہ اس میں آج بی ایل اے، بی آر اے، بی ایل ایف لشکر بلوچستان کی جانب سے واقعات قبول کرنے کی خبر کیوں نہیں چھپا ہے۔ قیادت کی حد تک دیکھا جائے تو وہ  بھی آزادی جیسے لفظ کو چیونگم کی طرح چھباتے نظر آتے ہیں۔بد قسمتی سے کوئی واضح پروگرام سامنے نہ آسکا۔

  اگر کچھ دیکھا تو نعروں  کی حد تک کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔ ۔ ۔ آزادی، ڈاون وت۔ ۔ ۔ پاکستان، ایران، نہ ایران نہ پاکستان۔ ۔ ۔  بلوچستان بلوچستان، براہمدغ بگٹی قدم بڑھاو۔ ۔ ۔ ہم تھمارے ساتھ ہیں، ھیر بیار آئے گا ۔ ۔ ۔ انقلاب لائےگا،مار بی ایل اے مار۔ ۔ ۔ ہم تھمارے ساتھ ہیں، مار بی آر اے مار۔ ۔ ۔ ہم تھمارے ساتھ ہیں، ہر دل کے اندر۔ ۔ ۔ بی ایس او۔نواب مری تیرے  جان نثار ۔ ۔ ۔ بے شمار بے شمار۔ تئی لیڈر مئی لیڈر۔ ۔ ۔  اللہ نذر اللہ نذر۔ وغیرہ وغیرہ

جہاں تک بزرگوں کی احترام کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شک نہیں اسلام ہمیں بزرگوں کے احترام کا درس دیتا ہے اور یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری بھی بنتی ہےکہ ہم اپنے بڑوں کا احترام کریں سوال ابھرتا ہے کہ اگر گھر میں آپ کا بزرگ والد آپ کے نظریہ (آزادی) میں رکاوٹ بنے یا آپ کے کام کرنے کی راہ پر رکاوٹ بنے تو کیا آپ اپنی کام کو والد کے کہنے پر خیر آباد کہیں گے؟ اسامہ بن لادن القائدہ کا سب سے  بڑا بزرگ تھا، ملا عمر طالبان کا روحانی پیشوا اور امیر ہے تو پھرساری دنیا انہیں دہشت گرد کیوں کہتی ہے، سویت یونین اور پھر امریکہ  کو اسامہ اور ملا عمر کی طرز حکمرانی کیوں اچھی نہیں لگی اور انہوں نے فغانستان کو آگ اور خون میں نہلادیا؟ بزرگ سبہی کے برابر قابل احترام ہوتے ہیں لیکن نظریات میں فرق ہوتا ہے ۔ کوئی گلے کاٹ کر اسلام کا زبردستی نفاظ چاہتا ہے تو کوئی غیر ملکی قابضین کو اپنے وطن سے نکالنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ آپ کے پاس کون سی ایسی جادوئی چھڑی ہے کہ آپ دنیا کے دلوں میں اپنی اور تحریک کےلئے ہمدری پیدا کرنے میں کامیاب ہونگے۔ کیا دنیا اتنی بے وقوف ہے کہ یہ تک نہیں جانتی کہ بلوچستان کو 27مارچ 1948میں بزور بازو قبضہ کیا گیا۔ چاند پر کمندیں ڈالنے والے سپر پاورز یہ بھی نہیں جانتے کہ پاکستان بلوچستان پر جبری طور پر قابض ہے پنجابی قابض ریاست چائنہ اور ایران کے  ساتھ مل کر بلوچ قومی دولت ، تیل گیس،سونا چاندی، سنگ مرمر اور گوادر ڈی سی پورٹ کو تعمیر کرکے دنیا کا دادا گیر بننے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ بلوچستان کے باسی دو وقت کی روٹی کے لئے سرگرداں ہیں؟کیا آپ کو  یہ معلوم ہے کہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی جنہوں نے 1980کی دہائی میں امریکہ سے پیسہ لیکر مجاہدین کے ذریعے سویت یونین کو ٹکھانے لگانے کےلیے دن رات ایک کر دئے۔آج جنرل کیانی روس کا دورہ کیوں کر رہے ہیں؟ کیا بلوچ قیادت نے کبھی روس کو براہ راست یہ بتانے کی کوشش کی بھائی صاحب کل آپ کی جاہ و جلال اور  طاقت کو ختم کرنے والے دیمک کا نام بھی پاکستان ہے اور آج یہ آپ کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھا رہا ہے لیکن اس دوستی کو شروع کرنے سے پہلے بلوچستان کی طرف بھی دیکھیں جو کبھی بھی آپ کا بد خواہ نہ تھا کیا بلوچ قیادت نے سفارتی سطح پر روس یا کوئی اور ملک کو  کس نظریے یا سوچ کے تحط  بلوچ تحریک کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ روس کواس زمانے کا بلوچ تقسیم اچھی طرح سے  یاد ہے جو افغانستا ن میں دوران جلاوطنی  تحریک دولخت ہوئی تھی تحریک  گزینی اور بجارانی کے نام پر بٹ چکی تھی۔کچھ پاکستانی غلامی قبول کرکے ریاست کے گود میں  جا بیٹھ ے اور کچھ اپنی زخم چاٹتے خالی ہاتھ بلوچستان لوٹ گئے کیا بلوچ قیادت نے ماضی سے کچھ بھی نہں سیکھا؟واجہ براہمدغ بگٹی سویٹزر لینڈ میں بیٹھ  کر بین الاقوامی نمائندوں جو بلوچستان  کو جاننا چاہتے ہیں ، آنے والے بلوچستان کے بارے میں بیتا ب ہیں کہ اس نومولود بچے کو کیا نام دیا جائے گا جب آزاد ہوگا اور یہ کن کن خاصیت کا مالک ہوگا آیا یہ دوستی کے قابل ہو گا بھی کہ نہیں۔ براہمدغ محض آزادی کی بات کرکے دنیا کی ہمدردی بلوچ تحریک کےلئے جیتنا چاہتا ہے مجھے نہیں لگتا ہے صرف آزادی کی خشک نما نعرے سے دنیا متاثر ہوگی۔اور کیا واجہ حیر بیار مری لندن میں بیٹھ کر اپنے لئے ان مشکلات کو کس طرح ذائل کر پائیں گے جو پاکستان اور برطانیہ کے حکمران اور ایجنسیاں ہر گزرتے دن کے ساتھ بلوچ تحریک کے خلاف بھیانک اور خطر ناک بنانے کی کوششوں میں لگے ہیں۔حیر بیار مری نے اپنے کیس کی سمعات کے دوران آزادی کی دوٹوک موقف اور بلوچ تحریک کی بیک گراونڈ بیان کرکے برطانوی  جیوری کو تو متمعئین کر لیا لیکن برطانیہ سمیت باقی دنیا کو کیسے باور ہوگا کہ آنے والے بلوچستان ان کے بچوں کے لئے محفوظ جگہ ہوگا یا شمالی وزیر ستان اور وادی کشمیر  جیسا سرسبز و شاداب تو ہوگا لیکن وہاں جاتے ہی ان کے بچے اغواہ ہونگے اور تاوان کی ادائیگی کے بعد وہ رہا ہونگے؟ آپ انہیں(دنیا )  یہ باور کرائیں کہ پہلے تو آزاد بلوچستان میں کوئی غیر ملکی سیاح اغوا، نہیں ہوگا اگر خدا نخواستہ اغواہ ہوا بھی تو  ان کا گلہ کٹنے کی بجائے جان سولیکی طرح زندہ سلامت اہلخانہ کے ہمراہ ہوگا۔ آزادی یقینا اچھی نعمت ہے، آزادی تو طالبان بھی چاہتے ہیں کیونکہ وہ امریکہ و نیٹو کو غاصب اور حامد کرزئی کی حکومت کو غیر ملکی کٹھ پتلی حکومت کہتے ہیں پھر طالبان کی آزادی کی حمایت  باقی دنیا کیوں نہں کر رہی ہے۔ کیا آپ خود طالبان کے موقف (آزادی) کی حمایت کریں گے۔ نہیں۔ کیونکہ آپ کو پتہ ہے کہ طالبان جب ماضی میں اقتدار پر براجماں تھے تو لوگوں کے گلے کاٹے گئے ۔مستقبل میں اقتدار حاصل کی تو بھی وہی پالیسی دہہرائیں گے۔صرف آزادی کا اعلان کرکے دنیا کو بلوچ تحریک کی طرف مائل کرنا ناممکن ہے جب تک کہ  آپ ان کے سامنےمستقبل ک ایک روشن  خاکہ پیش نہ کریں۔کل اگر اقوام متحدہ میں بلوچستان کو آزاد حیثیت سے تسلیم کرنے کے لئے بحثت چھڑ تی ہے تو آپ کے پاس کیا وژن ہے۔وہ وہاں صرف یہ کہیں گے جی بلوچ آزادی چاہتے ہیں۔؟جہاں تک چارٹر پر اختلافی رائے اور خدشات کی بات ہے تو میرا نہں خیال کہ چارٹر کی اجرا، کے بعد اس پر نوابزادہ حیر بیا ر مری یا اس کے ٹیم کی مہر ہوگی اور دنیا اس چارٹر کو ان کی کارستانی کہے گی اور بی آر پی سمیت دیگر آزادی پسند وں کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔اس چارٹر میں اگر مہر ہوگی تو وہ بلوچ قوم کی اجتماعی مہر ہوگی۔بی آر پی کے کراچی زون کےسیکریٹری اطلاعات نے کہا کہ  ھیربیار مری نے انہیں لیگل ایڈوائزر سمجھ چارٹر پرمحض رائے دینے کی بات کہی تو میرا نہیں خیال کہ اس کو اتنی اشو بنانا مناسب ہوگا۔ اگر واجہ ھیر بیار مری بی آر پی رہنما یا دیگر سنگتوں کو چھوٹا یا غیر اہم سمجتے تو سرے سے چل کر سویٹزر لینڈ ان کے ہاں نہ جاتا اور چارٹر کو کسی اپنے دوست کے ہمراہ بھیج دیتا۔ واجہ ھیر بیار نے دبئی میں جب اختر کے پاس اپنے نمائندوں کو روانہ کیا  تو اس کی بھی وجوہات تھیں اور شاہد واجہ براہمدگ صاحب اچھی طرح جاتےہیں کہ ھیر بیار دبئی کا سفر نہیں کر سکتے ورنہ وہ اختر کے پاس بھی جانے سے نہیں ہچکچاتے۔ لیکن بعد میں جب اختر صاحب نے اس چارٹر کو مسترد کر دیا پھر ان کے ساتھ بیٹھ جانے کا کوئی جواز  باقی نہ رہا۔آج کا بلوچ نوجوان  قیامت سے زیاد ہ اپنی لیڈر پر ایمان رکھتا ہے لیکن ان کو جب معلوم ہوگا کہ لیڈر کے پاس دنیا کو سمجھانے کے لئے کوئی واضح سوچ اور دلیل نہیں تو آپ خود سوچئے اس کے دل کے ہزار ٹکڑے نہیں ہونگے؟ ۔ وہ شاید ریاست کے مظالم سے اتنی دل برداشتہ نہ ہوگا کہ جتنی اپنے رہنما کی کم عقلی پر نوحہ کناں ہوگا۔

One comment on “یا اللہ۔ ۔ ۔ مجھے عقل دے یا صبر دے۔ ۔ ۔ !!!

  1. waja tao goda mara bogosh ke ma donyaha choto sarpad bekne . aur tai gappa che ame zaaher bitt ke sahje baloch qom bewakofe ke esha wati leader samje .

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s