انٹرویو : میر حیر بیار کا روزنامہ توار پینل سے انٹرویو

بلوچ قوم دوست رہنماء حیر بیار مری نے عملی سیاست کا آغاز افغانستان میں مقیم اپنی جلا وطنی کے دوران کیا وہ بلوچ سیاست میں روز اول سے ہی روایتی سیاسی طریقہ کار سے ہٹ کر قومی حق حاکمیت اور قومی آزادی کیلئے سرگرم عمل رہے اور اس کیلئے عملی کردار ادا کرتے رہے واجہ حیر بیار مری نے اپنے فکری ساتھیوں کے اسرار پہ 1997 کے الیکشن میں حصہ لیکر اپنے آبائی علاقے سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے لیکن صوبائی اسمبلی کے پہلے سیشن کے دوران انہوں نے پاکستان سے وفاداری کا حلف لینے سے انکار کرتے ہوئے بلوچ قومی وطن سے وفاداری کی روایت کو برقرار رکھا سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق واجہ حیر بیار مری نے اپنی وزارت کے دوران نہ صرف بلوچ قومی سیاست کیلئے ہر ممکن حد تک راہ ہموار کی ، بلکہ اس دوران وزارت سے جُڑے وسائل کو بلوچ قومی سیاست کے ذرائع کیلئے بروئے کار لاتے ہوئے انقلابی انداز میں استعمال کیا جو بلوچ قومی سیاست میں ایک اہم انقلابی قدم ثابت ہوا 2000 ء میں ان کو ریاستی اداروں کی جانب سے جسٹس نواز مری کے قتل کے کیس میں ان کو ملوث کرتے ہوئے ان پہ مقدمہ قائم کیا گیا ازاں بعد ان پہ اور بھی بہت سے کیسز بنائے گئے واجہ حیر بیار مری آج کل لندن میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں توار پینل نے بلوچستان کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں ان کا ایک انٹر ویو کیا جو قارئین کی صرف نظر ہے ۔

توار پینل: کیا آپ کی نظر میں قومی آزادی کے علاوہ پاکستان کے ساتھ کوئی دوسرا راستہ نکل سکتا ہے؟

میر حیربیار مری: پاکستان نے بلوچ سرزمین کو بزور شمشیر قبضہ کر کے بلوچ قوم کو غلام بنایا ہے اور بلوچ قوم کے قدرتی وسائل کو لوٹ کر پنجاب کے مفادات کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ بلوچ قوم کو نان شبینہ کا محتاج بنا کر پنجاب کی رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ صرف یہ نہیں بلکہ پاکستان بلوچ قوم کو غلام بنانے کے ساتھ ساتھ بلوچ قومی شناخت کو بھی مٹانے کے درپے ہے۔بلوچ قوم کے پاس بلوچ قومی آزادی کے علاوہ پاکستان کے ساتھ مجھے کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آرہا ہے۔

توار پینل: اختر مینگل کے دورہٗ اسلام آباد کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

میر حیربیار مری: اختر مینگل یقیناً ایک سمجھوتے کے تحت اسلام آباد گیا ہے ، تاکہ وہ اقوام متحدہ کے ٹیم کے دورہ بلوچستان کے بلوچ تحریک آزادی پر پڑنے والے مثبت اثرات کو زائل کر یں۔کیونکہ قابض نے بلوچ قومی تحریک کو کمزور کرنے اور تحریک آزادی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے مختلف منصوبے تیار کیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت اختر کا اسلام آباد جانا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے

توار پینل: اختر مینگل نے اپنے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ تمام سرکاری حمایت یافتہ اور آزادی پسند میرے خلاف اکٹھے ہوئے ہیں، اس پر آپ کیا کہیں گے؟

میر حیربیار مری: یہی سوال ان سے کیا جانا چاہیے، کہ پاکستانی فوج، جی ایچ کیو کو کس نے اپنا قبلہ بنایا، پہلے سے وہاں محبت خان مری، ڈاکٹر مالک، نصیر مینگل اور شفیق مینگل سجدہ ریز ہیں اسی میں ایک اور شخص کا اختر کی شکل میں اضافہ ہوا ، سب ایک صف میں کھڑے ہوکر لاہور پنڈی کی طرف سجدہ ریز ہوئے اب قوم بتائے کہ وہ ایک ہوئے یا ہم۔

توار پینل: آپ کی رائے میں دنیا بلوچ تحریک آزادی کو کس نظر سے دیکھ رہی ہے؟

میر حیربیار مری: بلوچ قوم کی قربانیوں نے پوری دنیا کو ہماری طرف مائل کیا ۔ اب دنیا کسی حد تک ہماری آواز سن رہی ہے۔بلوچ قوم کی قربانی نے بلوچ قومی آواز کو دنیا تک پہنچا دیا ہے یہ دنیا کا قانون ہے کہ جن لوگوں نے اپنے آپ پر بھروسہ کیا ان اقوام نے آزادی حاصل کی اور آج بلوچ قوم نے بھی اپنی جدوجہدسے دنیا میں ایک قوم کی حیثیت سے اپنا شناخت متعارف کرایا۔ جسے میں بلوچ قوم کی قربانیوں کا ثمر سمجھتا ہوں۔

توار پینل: بلوچ عوام کی قربانیوں کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

میر حیربیار مری: بلوچ قبضہ گیر کے مختلف حربوں کی وجہ سے پوری قوم خاموش موت سے مر رہی تھی۔ لیکن کسی کو معلوم نہیں تھا کیونکہ ہماری شناخت ختم ہو کر پاکستانی ہورہی تھی۔ لیکن آج جدوجہد اور نوجوانوں کی قربانیوں نے ہماری شناخت کو کسی حد تک بچا لیا ہے میں اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں ۔ شناخت انسان کی بہترین شے ہوتی ہے ۔ آج لوگ اپنی جان قربان کر کے پوری قوم کو خاموش موت سے بچا رہے ہیں یہی زندہ قوم کی واضح مثال ہے ۔ بلوچ اپنی جدوجہد اور قربانیوں سے تاریخ رقم کر رہے ہیں۔جو لوگ اپنا آج ختم کرکے پوری قوم کو اجتماعی موت سے بچا رہے ہیں اس قربانی کو ہم عظیم سمجھتے ہیں۔

توار پینل: چارٹر جن بلوچ لیڈران کو دیا گیا اس میں پیش رفت کہاں تک ہوئی؟

میر حیربیار مری: چارٹر کسی بھی قوم کے لیڈرشپ کا اپنے قوم عوام اور لوگوں سے ایک کمٹمنٹ اور معاہدہ ہوتا ہے کہ جب کوئی تنظیم قوم کے لیے لڑتی ہے تو تنظیم کی پالیسی اور مستقبل کا وژن اور آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا ان چیزوں کو ایک معاہدے کی شکل میں اپنی قوم کے ساتھ واضح کیا جاتا ہے ۔ جس طرح PLO جنوبی افریقہ امریکہ وغیرہ میں ہوا ۔ ہم نے کوشش کی کہ بلوچستان میں جو جدوجہد ہورہی ہے لوگ اپنے آج کو آنے والے کل کے لیے قربان کر رہے ہیں تو انکا کل یعنی مستقبل کیسا ہوگا۔ اس لیے چارٹر کو پیش کیا گیا تاکہ لوگ اس پر متفق ہوں اور قوم بھی دیکھے کہ ان کے مستقبل کا بلوچستان کیسا ہو۔ جہاں برابری انصاف اور ایک خوشحال بلوچستان کا خواب کیسے پورا ہو۔ چارٹر میں یقیناًتمام چیزیں واضح انداز میں پہلے مرحلہ میں بلوچ لیڈروں کے سامنے پیش کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی آراء اور تجاویز شامل کرسکیں۔ اس کے دوسرے مرحلے میں ہم اسے بہت جلد بلوچ قوم کو پیش کرنے والے ہیں۔

توار پینل: بلوچ لیڈران کا اس پر ردعمل کیسا رہا؟

میر حیربیار مری: ہم نے چارٹر تمام ہم خیال لوگوں بشمول ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ کو دیا ۔اختر مینگل نے انکار کیا جبکہ براہمدغ نے کہا تھا کہ وہ بہت جلد جواب دینگے لیکن بعد میں ہماری بار ہا فون کرنے کے باوجود اس نے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا بلکہ فون تک اٹھانے سے گریز کیا۔ لیکن حال ہی میں اپنے انٹرویوز میں اسے رد کرنے کا تاثر دیا۔اور میری ترجما نی کرتے ہوئے کہا کہ میں بھی سمجھ چکا ہوں کہ اس کی کوئی افادیت نہیں ہے اس لیے میں خود بھی چارٹر سے دستبردار ہوا ہوں۔ مجھے معلوم نہیں کہ اسے یہ خیال کہا ں سے آیا۔ یہ کہنا کہ میں چارٹر سے دستبردار ہوا ہوں یہ حقیقت کے برعکس ہے بلکہ ہم دوستوں کے ساتھ مل کر اس پر بہت سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں تاکہ اسے جلد بلوچ قوم کے سامنے لا سکیں ۔

توار پینل: کیا آپ کا براہمدغ کے ساتھ کوئی رابطہ ہے؟

میر حیربیار مری: نہیں ان کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے بلکہ ہم نے کئی باران سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن اس نےجواب  نہیں دیا اور نہ ہی دوستوں کے چارٹر کے حوالے سے ایمیلز کا کوئی جواب دیا۔

توار پینل: عام بلوچوں کی طرف سے کوئی پذیرائی ملی چارٹر کے حوالے سے کسی نے رابطہ کیا؟

میر حیربیار مری:عام بلوچ نے مجھے بہت کہا کہ آپ اسے عوام اور قوم کے سامنے لائیں۔ اور ہم بھی اسے مرحلہ وار قوم کے سامنے پیش کریں گے۔ کیونکہ چارٹر قوم کے کل اور مستقبل کا تعین کرتا ہے ۔ ہم اسے بہت جلد قوم کے سامنے پیش کریں گے۔ پھر پوری قوم کی جو رائے ہوگی اسی کے مطابق بلوچستان کے مستقبل کے چارٹر کو حتمی شکل دی جائیگی۔

توار پینل: شیر محمد بگٹی اور بی این پی نے انٹرویو اور بیانات میں تاثر دیا کہ آپ کی رحمان ملک سے ملاقات ہوئی یہ بات کس حد تک درست ہے؟

میر حیربیار مری: ایک چیز میں پوری قوم کے سامنے واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے شروع سے آج تک جب بلوچ قومی تحریک میں اپنی حیثیت کے مطابق حصہ لیا اور تحریک کے شروع سے آج تک میرا ایمان رہا کہ قوم اور عوام مقدس ہے اور میں نے انھیں سب کچھ سمجھ لیا اور انھی کے لیے جدوجہد کی لیکن میں نے کوئی بھی چیز ان سے نہیں چھپائی۔ بلکہ ہر چیز ان کے سامنے منکشف کیا میری جلاوطنی پھر پناہ اور پناہ کے دوران جو کچھ ہوتا رہا میں نے پوری قوم کو باخبر رکھا۔
جہاں تک رحمان ملک کی بات ہے وہ 2008 کے اوائل میں میرے گھر آئے تھے لیکن میں نے انھیں واضح انداز میں کہا کہ ہم آزادی مانگتے ہیں آزادی سے کم کسی بھی چیز پر راضی نہیں ہونگے۔ اس ملاقات کے بارے میں بھی میں نے بلوچ قوم کو اپنے ایک انٹرویو جو میں نے طلعت حسین کو دیا تھا اس کے اندر آگاہ کیا ۔

توار پینل: بلوچستان میں کچھ لیڈران جیسے کہ براہمدغ بگٹی بلوچستان میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ریفرنڈم کی بات کر رہے ہیں آپ اس کو کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟

میر حیربیار مری: میں ریفرنڈم کو اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف سمجھتا ہوں۔ بلوچستان میں ریفرنڈم بلوچ قوم کو دائمی غلامی کے اندھیروں میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ میں اس قسم کے کسی بھی ریفرنڈم کی حمایت نہیں کرتا۔ بلوچ قوم کو اپنی جہدوجہد آزادی کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ آج پورے بلوچستان میں پشتونوں پنجابیوں اور غیر بلوچوں کو شناختی کارڈ جاری کردیے گیے ہیں ۔ پاکستان کے بلوچستان میں اب بھی نوابوں اور سرداروں کی بدولت کنٹرول عام لوگوں پر ہے ۔ پاکستان دوہری چال چلنے میں ماہر ہے اور سارا نظام کنٹرول ان کے پاس ہے اگر ریفرنڈم کو نوبت آئی تو وہ لاکھوں پنجابیوں اور غیر بلوچوں کو بلوچستان منتقل کر کے انہیں شناختی کارڈ جاری کر کے ریفرنڈم کو اپنے حق میں لاکر ہمیں دائمی قانونی غلامی میں جکڑ سکتے ہیں۔ اگر ہم شکایت بھی کریں تو اقوام متحدہ کننوں کے تصدیق کریں گے بلکہ وہ ہمیں الٹا اس کے آگے روڑے اٹکانے کا الزام دیں گے کویت پر عراق نے قبضہ کیا تھا تو انھیں بغیر ریفرنڈم کے وہاں سے نکالنے پر مجبور کیا گیا۔ اسی طرح ویتنام اور عراق سے امریکی فوج کو ریفرنڈم کیے بغیر وہاں سے نکال دیا گیا۔ جب تک ہم اپنی جدوجہد سے عام لوگوں کو قابض کی ایما پر کام کرنے والے نوابوں سرداروں اور ڈرگ مافیا کی چنگل سے آزاد کر کے قومی تحریک میں شامل کر کے انھیں مکمل Homogenous ہم نوعی قوم نہ بناتے اس وقت تک ریفرنڈم کی باتیں یا حمایت اپنے پاؤں پر سے خود زمین کھینچنے کے مترادف ہے۔ Heterogeneous سے ہم نوعی صرف اور صرف قبضہ گیر کے خلاف انقلابی جدوجہد سے ممکن ہے۔ طول پکڑنے والی جدوجہد خود اپنے اندر گند اور میل کو صاف کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ قوم کو ہم نوعی کی طرف گامزن کرتی ہے۔

توار پینل: آپ کی رائے میں مستقبل کا بلوچستان کیسا ہوگا؟

میر حیربیار مری: بلوچستان ایک قومی فلاحی ریاست ہوگا۔ جہاں لوگوں کی جان و مال عزت و آبرو کا تحفظ ہو اورجہاں بلوچ قوم کو مفت تعلیم صحت کی سہولیات کے ساتھ ساتھ روزگار کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہوگی۔ ہمارے ملک میں اتنے وسائل ہیں کہ ہم انہی وسائل کو بروئے کار لا کر بلوچ قوم کو اعلی تعلیم دے کر دیگر مہذب اور ترقی یافتہ اقوام کے برابر لا سکیں گے۔ ایک ملک کی ترقی اور تعمیر کے لیے ان کی افرادی قوت بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے، آج پاکستان کہتا ہے کہ وہ ہمیں پانچ ہزار نوکریاں خیرات کی شکل میں دے کراحسان جتانے کی کوشش کر رہا ہے، جب بلوچستان آزاد ہوا توہمارا ملک اس قابل ہوگا کہ بلوچ عوام کو روزگار دینے کے ساتھ ساتھ ملک کی انفراسٹرکچر اور تعمیر و ترقی کے لیے باہرسے بھی افرادی قوت کی ضرورت ہوگی۔

توار پینل: آج کل لوگوں میں یہ بحث چھڑ چکی ہے کہ بلوچستان میں زیادہ مسلح تنظیمیں بنی ہیں جس کی وجہ سے بلوچستان میں خانہ جنگی کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔ اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

میر حیربیار مری: اس بات سے کوئی ذی شعور بلوچ انکار نہیں کر سکتا کہ تمام آزادی پسند مسلح تنظیمیں بلوچستان کی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کے درمیان طریقہ کار پر اختلاف ہوسکتے ہیں لیکن کسی کے نظریہ فکر جو بلوچستان کی آزادی ہے پر شک و شبہات نہیں کیا جاسکتا ۔ تمام تنظیمیں ایک دشمن کے خلاف بر سر پیکا ر ہیں۔ وہ کیسے اپنی طاقت قوت کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کر کے دشمن کا کام آسان کر کے اس کو فائدہ دینگے۔ طریقہ کار کے اختلاف پر بحث و مباحثہ کو خانہ جنگی کہنا قطعاً درست نہیں۔ بلکہ اس کا مقصد اصلاح ہے ۔ بلوچستان میں خانہ جنگی کا تاثر پاکستانی پروپیگنڈہ ہے اگر تاریخ کی ورق گردانی کی جائے تو بلوچوں کے درمیان ماسوائے چاکر و گہرا م کی خانہ جنگی کے علاوہ کوئی بھی اس طرح کا عمل نہیں ہوا بلکہ اسی دوران یورپ اور چین خانہ جنگی کی لپیٹ میں تھے۔ بلوچوں کی خانہ جنگی کو قابض کی ایماٗ پر بڑھا چڑھا کے پیش کرتے ہیں لیکن یورپ اور چین کی خانہ جنگی کو اہمیت نہیں دیتے۔ آج بلوچوں میں کافی شعور بیدار ہوا ہے کہ خانہ جنگی بلوچوں کو مزید تقسیم در تقسیم کر کے دائمی غلامی کے اندھیروں میں دھکیل دینے کے مترادف ہوگا۔

توار پینل: جنرل کیانی نے حال ہی میں اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ بلوچستان کے مسئلے کو پاکستانی آئین کے دائرے میں رہ کر حل کی حمایت کرتے ہیں ۔ اس پر آپ کیا کہیں گے۔

میر حیربیار مری: ایک غیر آئینی فوج کے جنرل جو بار بار خود اپنے ملک کی آئین کی پامالی کر کے اس پر شب خون مارتا ہو۔ ہمیں اس کے آئین کی پاسداری کا درس دینا حیران کن ہے۔ ہمارے اور پاکستان کے درمیان صرف اور صرف ایک رشتہ ہے قابض اور محکوم کا۔ اسی رشتے کو مذہب کا لبادہ پہنا کر مسلم امہ کی یکجہتی کا نعرہ لگایا جاتا ہے۔ کہ تمام مسلمان ایک ہیں۔ اگر تمام مسلمان ایک ہیں تو پھر خلیجی ممالک جو ایک زبان ثقافت رسم و رواج اور جغرافیہ کے حوالے سے منسلک ہونے کے باوجود الگ الگ کیوں ہیں۔ یہاں پر تو دو الگ قوموں جن کی تاریخ ثقافت زبان رہن سہن سب الگ ہیں پھر انہیں کیسے ایک قوم بنایا جاسکتا ہے۔

توار پینل: بلوچستان کے ساحل پر قبضہ جمانے کے پاکستان اور چین گٹھ جوڑ کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

میر حیربیار مری: میں سمجھتا ہوں کہ گوادرو سیندک یا بلوچستان میں کہیں بھی کوئی غیر ملکی بلوچ قوم کی مرضی ومنشا کے بغیر بلوچ قومی وسائل کو لوٹنے کے لیے پاکستان کے ساتھ گٹھ جوڑ کرے تو اس میں اور قابض میں کوئی واضح فرق نہیں رہتا ۔ چین کو زمین کی اہمیت و افادیت معلو م ہے چین اپنے جزائر جنہیں سینکاکو کہتے ہیں جہاں کوئی رہتا بھی نہیں ہے ان کے لیے جاپان کے ساتھ حالت جنگ میں ہے۔ لیکن وہ ہماری زمین و ساحل وسائل ہتھیانے کے لیے پاکستان جیسے ملک سے گٹھ جوڑ اس کے جارحانہ عزائم کو ظاہر کرتا ہے، جو بھی ملک بلوچ قومی مفادات کو نقصان پہنچائے تو بلوچ قوم اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اسے اپنی سرزمین میں برداشت نہیں کرے گا۔

توار پینل: اگر موجودہ جدوجہد کا ماضی کی جدوجہد سے تقابلی جائزہ لیں تو اس جدوجہد کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

میر حیربیار مری: جب قابض پاکستانی فوج نے 1948 میں بلوچستان پر قبضہ جمایا تو پہلی بار شعوری طور پر آغا عبدلکریم خان نے پاکستان کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا۔ بعد کے تمام جدوجہد قابض کی ظلم و جبر کے ردعمل سمجھے جاتے ہیں۔ موجودہ جدوجہد آزادی اس وقت شروع ہوئی جب بلوچ لیڈر اور تنظیمیں پاکستانی پارلیمانی عیش و عشرت مراعات اور وزارت کے حصار میں قید تھے۔ بلوچستان میں صرف چند ایسے محب وطن لوگ تھے جنہوں نے پاکستان کی بلوچ قومی شناخت کو مٹانے کی حکمت عملی کو بھانپ لیا تھا۔ یہ لوگ پاکستان کی تمام چالاکیوں کے باوجود ایک دھائی سے اپنے لائحہ عمل طے کر رہے تھے اور آزادی کی جدوجہد شروع کرنے کے لیے سازگار ماحول کے منتظر تھے۔ یہ کہنا کہ نواب بگٹی کی شہادت کے بعد آزادی کی جدوجہد ردعمل کے طور پر شروع ہوئی تو غلط ہوگا۔ اس جدوجہد کو شروع کرنے والے اور حالات کا رخ موڑنے والا ایک ایسا طبقہ ہے جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں جو کہ نواب بگٹی کی شہادت سے قریباً ایک دہائی پہلے سے شب و روز اس پر کام کر رہے تھے۔
اس سے پہلے پاکستان نے ہمیشہ بلوچوں پر جنگ مسلط کیا تھا۔ لیکن اس جدوجہد کو شروع اور پاکستان پر مسلط ایک ڈیٹر مینڈ بلوچ محب وطن طبقے نے کیا۔ اس جدوجہد نے پاکستان کو انگشت بدندان کیا کیونکہ اس وقت پاکستان کے وہم و گماں میں بھی نہیں تھا ۔ کیونکہ پاکستان یہ سمجھ رہا تھا کہ انہوں نے بلوچ لیڈران سیاسی پارٹیاں کو مراعات ذاتی عیش و عشرت سے بنے ہوئے ایسے جال میں پھنسایا کہ یہ چاہیں بھی تو اس سے نہیں نکل کر آزادی کی جدوجہد کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

توار پینل: سپریم کورٹ بلوچستان کے مسئلے پر کافی متحرک ہے اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟

میر حیربیار مری: سپریم کورٹ کے فیصلے اور ججوں کے بیانات ان کی حقیقت طشت از بام کرچکے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بلوچ جدوجہد نے پاکستان کو نقصان پہنچایا۔ بلوچستان میں بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد تیزی سے عوامی حمایت حاصل کرتے ہوئے کامیابی کی جانب گامزن ہورہی ہے ۔ جس کی وجہ سے پاکستان تیزی سے تباہی کی طرف جارہی ہے۔ تو اس وقت سپریم کورٹ کا ایکشن لینا اور مشورہ قابض کو خطرے کا احساس دلانے اور بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش ہے۔ سپریم کورٹ پاکستان کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے انہیں لاپتہ بلوچوں اور بلوچ نوجوانوں کی مسخ لاشوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

توار پینل: اختر مینگل اس وقت لند ن میں موجود ہیں کیا آپ کا اس سے کوئی رابطہ ہے؟

میر حیربیار مری: مجھے کچھ دن پہلے ورلڈ سندھی کانگریس میں شرکت کرنے کی دعوت دی گئی تھی ۔ آ ج مجھے معلوم ہوا کہ اختر مینگل بھی اس کانفرس میں شرکت کر رہے ہیں ۔ میں نے اپنے دوستوں سے صلاح و مشورہ کرنے کے بعد اس کانفرنس میں شرکت کرنے سے سندھی دوستوں سے معذرت کی اور اس کی وجہ بھی بتائی۔ حالانکہ اس وقت سندھی اور بلوچ دونوں پاکستان کی ظلم و بربریت کا شکار ہیں ۔ ہمارا دشمن مشترکہ ہے ہمار ایک دوسرے کے ساتھ مشترکہ دشمن کے خلاف تعاون بھی ضروری ہے ۔ لیکن آج کے کانفرنس میں اختر مینگل کی موجودگی میں ہم نے اس میں شرکت کرنا مناسب نہیں سمجھا وہ اس لیے کیونکہ ہماری اور اختر کی سوچ و فکر میں کافی فرق ہے۔ اختر مینگل پاکستانی سپریم کورٹ کے ساتھ مل کر پاکستان بچانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس ہم پاکستان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس وقت میرا اختر کے ساتھ بیٹھنا ہماری سوچ کے منافی ہوگا ۔ اختر مینگل کے اسلام آباد جانے کے بعد گدر میں پاکستان کی جانب سے فوجی آپریشن اور آج مرگاپ میں خورشید بشام بلوچ کی مسخ شدہ لاش کی برآمدگی اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ اختر مینگل اسلام آباد اقوام متحدہ کی ٹیم کے دورہ بلوچستان کے مثبت اثرات کو زائل کرنے کے لیے وہاں گئے تھے اور دنیا کو بھی یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ بلوچستان میں کوئی مسئلہ نہیں ہے بلوچ ابھی تک پاکستان کے ساتھ رہنے کے لیے راضی ہیں۔ ہم یہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستانی فوج ایف سی خفیہ ایجنسیاں اور عدلیہ بلوچ قومی آزادی کی تحریک کے خلاف ایک ہو کر کام کر رہے ہیں۔ پاکستانی فوج اورخفیہ ایجنسیاں بلوچ قوم کے خلاف انسانیت سوز جرائم میں ملوث ہیں جبکہ سپریم کورٹ ان جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوششوں میں مصروف ہے اس لیے سپریم کورٹ کے ججوں نے اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ سے ملنے تک کو انکار کیا۔ ایسے وقت میں اختر مینگل کا اسلام آباد جانا اور سپریم کورٹ کو امید کی آخری کرن قرار دینے کو ہم بلوچ تحریک آزادی کو دانستہ نقصان دینے کی کوشش سمجھتے ہیں ۔
ا گر اختر مینگل مستقبل میں بلوچ قومی آزادی کے کیمپ میں شامل ہوجائے تو اس کے بعد ہم بلوچ قوم اور دوستوں کے صلاح و مشورے کے بعد ان کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہونگے۔

توار پینل: ملالہ پر حملہ اور اسے پاکستانی میڈیا میں پذیرائی کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

میر حیربیار مری: ملالہ پر حملہ غلط ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی واضح ہوجائے کہ ایک ملالہ کے واقعہ کو جو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے بلوچستان میں ایسے سینکڑوں ملالہ ہیں جنہیں پاکستانی فوج نے اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا ان پر نام نہاد میڈیا اور لبرل خاموش ہیں۔
ملالہ کے واقعہ کو پاکستان اس لیے بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے کیونکہ ان کی کشکول خالی ہے وہ امریکہ اور مہذب دنیا سے مزید پیسے لینے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ پاکستان کو جو امداد ملتی ہے اس میں ان کے اتحادی طالبان کا بھی حصہ ہے ۔ ایسے واقعات یہ ملی بھگت سے اپنے کشکول بھرنے کے لیے کرتے ہیں۔
پاکستان طالبان سے ایسے کام کروا کر مہذب دنیا کو بلیک میل کر کے ان سے مزید امداد لیتا ہے۔

ریکمپوز : حقءِتوار گروپ

بشکریہ : روزنامہ توار (مستونگ)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s