نیتاجی سبھاش چندر بوس

تحقیق و ترجمہ:

subhash-chandra-boseسبھاش چندر بوس 23جنوری 1897ء کو اڑیسہ میں پیدا ہوئے، ان کے والد ایک قابل اور کافی معروف وکیل تھے، جبکہ والدہ انتہائی مذہبی و گھریلو عورت تھی۔ سبھاش اپنے چودہ بہن بھائیوں میں سے نویں نمبر پہ تھے۔ وہ بچپن سے ہی ذہین و قابل طالب علم تھے۔ انہوں نے اپنے میٹرک امتحآنات میں پورے کلکتہ سے ٹاپ کیا جبکہ اسکاٹیش چرچیز کا لج کلکتہ سے انہوں نے فلسفے کی تعلیم پہلی پوزیشن لئے مکمل کی۔ 1919ء میں اپنے والدین کی خواہش پوری کرنے وہ برطانیہ گئے جہاں انہوں نے ریاست کو چلانے ولای خدمات کے لئے سرکاری ملازمین کے انتخاب کے مقررہ ذہانت کے امتحانات میں 1920ء میں شرکت کرکے کامیابی حاصل کی مگر اس بیچ وہ سانحہ جلیا والا باغ (Jallianwalla Massacre) سے کافی بے چین و مضطرب رہا کرتے۔ 1921ء میں انگریز کی عطاکردہ نوکری جو حتیٰ کہ انہوں نے پوری دیانت و خالصتاً صلاحیت کے بل بوتے پہ حاصل کی، اپنے اس عمل کو قومی جرم سمجھتے، سرکاری منصب کیلئے جاری اپنے تربیت کا سلسلہ ترک کرکے دوبارہ ہندوستان کا رخ کیا۔

 ہندوستان آنے کے بعد وہ گاندھی سے متاثر ہوئے کانگریس کا حصہ بنے۔ انڈین نیشنل کانگریس کا رکپن بنتے خود گاندھی جی نے ان کی سیاسی تربیت و متحرک رکھنے کے لئے انہیں درپیش بندو چیٹران جان داس (Deshbandhu Chittaranjan Das) کے ہمراہ کیا اور وہی ان کے سیاسی استاد کہلائے۔ سبھاش اپنی سیاسی ذہانت کے باعث جلد ہی کانگریس کے اہم رہنماؤں کے مقابل ایک اہم شخصیت بن کر ابھرے۔ 1928ء میں جب کانگریس نے جزوی آزادی (Domination Status) کی مانگ پر حامی بھری تو سبھاش چندر بوس نے اسکی سخت مخالفت کرکے ہندوستان کی مکمل طور سے آزادانہ حیثیت حاصل کرنے کی جدوجہد کے لئے سخت دلائل دیئے۔ 1930ء میں وہ سول نافرمانی کے تحت جیل گئے اور 1931ء میں وہ جیل سے رہا ہوئے تو انہیں معلوم ہوا کہ گاندھی نے (گاندھی۔ اروین معاہ دے۔ Gandhi-irwin Pact ( پہ دستخط کردیئے ہیں۔ انہوں نے اس معاہدے کہ جس کے تحت سول نافرمانی کو معطل کیا جانا تھا پر سخت تنقید کرکے گاندھی کی صاف لفظوں میں مذمت کی اور اپنا احتجاج ریاکرڈ کرویا۔ ان کا یہ ماننا تھا کہ سول نافرمانی کی تحریک کو کسی صورت نہیں رکنا چاہیے تھا خصوصاً ان وقتوں کہ جب بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کو پھانسی لگواتے قومی تحریک کو زبردست نقصان دیا گیا ہو۔ سبھاش کے اس جارحانہ انداز میں کی گئی مخالفت کے باعث انہیں دوبارہ سے جیل جانا پڑا کہ جہاں وہ کچھ عرصہ گزارنے کے بعد طبعی حوالوں کو بنیاد بناتے رہا ہونے میں کامیاب ہوئے۔ اس کے بعد وہ یورپ گئے اور وہاں سے واپسی پر انہیں پھر سے جیل میں ڈالا گیا۔ رہائی پر انہوں نے بھرپور انداز میں کانگریس کی مخالفت کی اور پھر اپنے سیاسی سوچ کی مطابقت سے تحریک آزادی کو جاری رکھا۔

جرمنی کے آئینے میں آزادی ہند کا سایہ سبھاش چندر بوس 1941ء میں جنگ عظیم دوئم کے پرآشوب و ہنگامہ خیز وقتوں کے دوران جرمنی پہنچے۔ ان کے مطابق ان کے دیگر ہم وطن رہنماؤں کا فلسفہ جدوجہد جو عام تشدد کی سوچ پہ مبنی تھا۔ بھارت کی آزادی کیلئے غیر موثر نظریہ ہی نہیں بلکہ برطانوی قبضے کو مزید طول دینے کی سازش بھی تھا اور وہ اسی سازش کے خلاف جرمنی کی مدد لیتے برطانوی قبضہ گیریت کا خاتمہ چاہتے تھے۔

سطحی حوالوں سے یہ بات تو عام سی لگے کہ آزادی کی جدوجہد میں بیرونی امداد کی چاہا میں بوس نے جرمنی سے مدد چاہی مگر ان وقتوں کی سیاست کا تجزیہ کرکے اس بات کو بھی ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ ہندوستان کی سیاست میں گاندھی جی کے آھنسار و ستے گڑھ کے مقبول و پسندیدہ فلسفے کے مقابل ایک رہبر کا اس سے انکاری ہوتے دنیا کی ایسی طاقت سے مدد طلب کرنا جو خود عالمی و خصوصاً برطانوی پروپیگنڈے کے باعث دنیا بھر میں ایک شیطانی و تخریبی طاقت کے طورپر جانا جاتا ہو، اس تناظر میں نیژتاجی کا ایٹلر سے مدد طلب کرنا خود اپنے سیاسی کیرئیر کو داؤ پر لگانے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں موجود جرمن و نازی مخالف بلانگ کے ساتھ دشمنی کرنے جیسا تھا۔ یقیناًیہ خیال تو دیگر رہنماؤں کو بھی آیا ہوگا کہ وہ بھارت کی آزادی کیلئے برطانوی مخالف اتحادیوں کا ساتھ دیتے جنگ آزادی کی داغ بیل ڈالے مگر شاید کوئی بھی سبھاش جتنا بہادر یا قوت فیصلہ رکھنے والا نہ تھا کہ جو نہ صرف خود اپنی جان پہ کھیلتا برطانیہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال سکے بلکہ اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ اپنے سیاسی کیرئیر و نیک نامی کو بھی داؤ پہ لگادے۔
برطانوی خفیہ خبر رسا تنظیموں کو سبھاش کے متعلق کچھ ایسی ہی اطلاعات شروع سے ہی تھی کہ یہ گاندھی کے فلسفہ سیاست کی مخآلفت کرکے خود کو کانگریس سے جدا رکھتے، برطانوی مخالف اتحادیوں سے رابطہ استوار کرنے کی فراغ میں ہے لہٰذا انہوں نے سطحی الزامات کے تحت سبھاش کو انہی کے گھر میں ہی نظر بند کرکے ان کی بھرپور نگرانی شروع کی تاکہ انہیں اس طرز کے کسی بھی اقدام سے روکا جاسکے۔ جنوری 1941میں سبھاش چندر برطانیہ کی جانب سے نگرانی کرنے والے لوگوں کو چکما دیتے اپنے گھر کی قید سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئے اور بعدازاں ایک اطالوی پاسپورٹ کے ذریعے کہ جس میں ان کا نام “اور لانڈو مززوٹا (Orlando Mazzota) ” تھا کہ جس میں انہیں ایک غیر ملکی سیاسی نمائندہ و سفیر ظاہر کیا گیا تھا، اس پاسپورٹ کے ساتھ انہوں نے ایک طویل و پرمشقت سفر کے بعد افغانستان سے بذریعہ ماسکو اور 

پھر 28مارچ 1941ء میں برلن (جرمنی) پہنچنے میں کامیابی ہوئی۔بوس کو جرمنی میں خوش آمد کہا گیا البتہ ان کے جرمنی پہنچنے کی خبر کو چند سیاسی وجوہات کی بناء پر صیغہ راز میں رکھا گیا۔ جرمن فاران آفس کو سبھاش کے ساتھ معاملات کی دیکھ ریکھ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا خیال رکھے جانے کی ذمہ داری دی گئی۔ جنگ عظیم سے قبل کلکتہ و کابل میں تعینات جرمنی کے سفراء نے خصوصی طورپر بوس کی سیاسی حیثیت و پس منظر سے جرمن فاران آفس کو پہلے سے ہی مطلع کررکھا تھا۔ بوس نے جرمنی پہنچنے کے ساتھ اپنے مقصد کیلئے سرگرم ہونا شروع کیا۔ انہوں نے 9اپریل 1941ء کو ہی جرمن سرکار کو ایک میمورینڈم پیش کیا کہ جس میں انہوں نے جرمن اتحادیوں کو بھارت کے الحاق کیلئے یورپ خصوصاً برلن میں “آزاد بھارت سرکار “Government In Exile کو ناگزیر قرار دیتے اسے بنانے و تسلیم کرنے کیلئے جرمنی سے مدد طلب کی۔ اس میمورینڈیم میں سبھاش نے ایک ریڈیو اسٹیشن کے قیام کا مطالبہ بھی کیا کہ جس کے تحت بھارت کے لوگوں کو ان کی آزادی کیلئے جدوجہد کرنے اور برطانوی سرکار سے بغاوت کرنے کے لئے رہنمائی کیا جانا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جرمن فوج کو بھارت میں موجود برطانوی فوجی اڈوں کی تباہی کیلئے بھی درخواست کی۔ یاد رہے کہ اس میمورینڈیم میں سبھاش چندر بوس کی بنائی “آزاد ہند فوج” کا تذکرہ شامل نہ تھا ہاں البتہ بوس نے جرمن فوج کو بھارت و عرب ممالک میں برطانوی فوج کو تباہ کرنے کیلئے اکسایا۔ آزاد ہند فوج کا خیال برلن میں اپنے قیام کے ابتدائی دنوں میں بوس کے خٌال میں نہ تھا کیونکہ یہ خیال کسی اور حادثاتی واقع کا نتیجہ تھا۔

ان وقتوں جرمن سرکار اپنے مرتب کردہ منصوبے کے تحت سبھاش چندر بوس کے ساتھ معاملات کو طے کرنا چاہتی تھی۔ سبھاش چندر بوس کے مطالبات کو دیکھ جرمن فاران آفس کو محسوس ہوا کہ وہ ان مطالبات کے مقابل اتنی اختیارات نہیں رکھتی اور نہ ہی بناء ایٹلر کے منظور کے معاملات کو آگے بڑھایا جاسکے۔ معاملات کو اعلیٰ حکام تک پہنچانے کے لئے کافی وقت درکار تھا اور اس بیچ بوس کے لئے سوائے انتظار کے کچھ نہ تھا۔ اس مدت میں بوس ذہنی حوالوں سے کافی پریشآن اور مایوس ہونے لگے۔ اس بیچ بوس نے اپنے پیش کردہ میمورینڈیم میں چند تبدیلیاں کرکے معاملات کو آگے کرنے پر زور دیا اور بالآخر چند مہینوں کے انتظار کے بعد جرمنی نے انہیں غیر مشروط طورپر مدد دینے کی رضا مندی ظاہر کی، جس کے نتیجے میں دو بنیادی چیزوں کو کامیابی سمجھا گیا۔ جن میں ایک جرمنی میں “آزاد ہند کا مرکز” اور دوسرا “آزاد ہند ریڈیو” کا قیام تھا۔ نومبر 1941ء میں باقاعدہ دونوں کا افتتاح ہوا کہ جنہوں نے تحریک آزادی ہندوستان میں اہم کردار ادا کیا۔
2نومبر 1941ء میں مرکز آزاد بھارت میں پہلا باضابطہ اجلاس منعقد کیا گیا کہ جس میں ایک تاریخی قرار داد کو منظور کیا گیا کہ جس کی جھلک پوری ہندوستانی تحریک آزادی میں دیکھی جانے لگی۔ اس قرار داد میں مذکورہ نکات کی منظوری ہوئی۔

1: لفظ “جے ہند”کو باضابطہ طورپر منصبی سلامی کے طورپر استعمال کیا جانا لازم قرار دیا گیا۔

2:عظیم شاعر ربندر ناتھ ٹائیگور۔ Rabindranath Tagore کے تخلیق کردہ ملی نغمے “جانا گانا مونا “Jana Gana Mona کو قومی ترانے کی حیثیت دی گئی۔

3:کثیر الازبان ملک یعنی بھارت کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھنے کیلئے “ہندی” کو قومی زبان قرار دیا گیا۔

4:اس مقام کے بعد سبھاش چندر بوس کو “نیتاجی” یعنی “رہنماؤں کا رہنما” کا لقب دیا گیا۔

نومبر 1941ء کو آزاد ہند ریڈیو نے اپنی باقاعدہ نشریات کا آغاز کیا۔ نشریات کا آغاز نیتاجی کی تقریر سے ہوا۔ یہ تقریر محض بھارتی لوگوں کو آزادی کیلئے متحرک کرنے کے لئے ہی نہیں بلکہ ملک میں موجود تمام انقلابی قوتوں کو یہ پیغام پہنچوانے کیلئے بھی تھا کہ نیتاجی نے خود جرمنی میں مقیم ہوئے برطانیہ کی غلامی کے خلاف اک نئے محاذ کا باقاعدہ افتتاح کردیا ہے تاکہ ملک میں موجود تمام انقلابیوں کو اس تحریک آزادی کے لئے نئی طاقت و حوصلہ فراہم کیا جاسکے۔

این جی گنپولے (N.G.Ganpuley) اپنی کتاب میں نیتا جی کے مطلق لکھتے ہیں کہ سبھاش چندر بوس ہما وقت تحریک آزادی کے متعلق سوچا کرتے، وہ عموماً اچھوتے خیالات (Sudden Bright Ideas) کی تخلیق کرکے آزادی کی راہیں ڈھونڈ نکالتے۔ اک بار انہوں نے کوئی آدھے درجن ہندوستانی قیدیوں کے متعلق پڑھا کہ جنہیں برلن میں بی بی سی و کچھ دوسرے ریڈیو چینلز پہ چلنے والے ہندی پروگراموں کے ترجمے کے لئے عموماً لایا جاتا، بعد میں انہوں نے خود ان قیدیوں سے ملاقات کرکے جنگ و ان کی اسیری و موجودہ حالات زندگی پہ گفتگو کی۔ وہ کچھ عرصہ غور و فکر کرنے کے بعد اس نتیجے پہ پہنچے کہ کیوں نا ایسے بھارتی جنگی اسیران کو جمع کرکے انہیں بھارت کی قومی فوج کی شکل دیتے براہ راست برطانیہ سے جنگ لڑی جائے؟ یہ خیال خود ان کے لئے کافی انوکھا تھا مگر وہ ایسی صورت کو دیکھتے خود پھولے نہ سمائیں اور جلد ہی جرمن سرکار سے گفت و شنید کا سلسلہ شروع کیا۔

ابتداء میں تو یہ منصوبہ متذبذب و ناقابل عمل سا لگا مگر جرمنوں نے اس میں حوصلہ افزاء دلچسپی ظاہر کرکے نیتاجی کی موقع سے مطابقت رکھنے والا منصوبہ قرار دیا کیونکہ یہ ایک تاریخی اتفاق تھا کہ شمالی افریقہ میں برطانیہ فوج کا ایک بڑا دستہ کہ جس میں بیشتر بھارتی تھے حال ہی میں جرمن فوج کے ہاتھوں لگا تھا۔ اس منصوبے کی انجام دہی کیلئے پہلے متعدد بھارتی جنگی قیدیوں کے پاس نیتاجی کا پیغام بھجوایا گیا اور بعد میں تمام بھارتی قیدیوں کو آہنہ برگ کیمپ (Annaburg Camp) جو دریس ڈین (Dresden) میں واقع تھا وہاں لایا گیا۔ جب قیدیوں کو یکجا کرکے انہیں بھارتی قومی فوج میں بھرتی ہونے کی پیش کش کی گئی تو غیر متوقع طورپر انہوں نے عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔

دسمبر میں جب بوس نے خود اس کیمپ کا دورہ کیا تو وہاں موجود قیدیوں نے انہیں بجائے قومی رہنما کے دیکھنے کے خود کو کرائے کا فوجی (Mercenaries) بنائے جانے کیلئے ترغیب دینے والا فرد جانا جس پر سبھاش چندر کو کافی رنج ہوا۔ یہاں بوس نے اپنے تاریخی خطاب کے بعد قیدیوں کی رائے جاننے کیلئے انہیں علیحدہ انٹرویو بھی کیا تاکہ ان کے تحفظات کو دور کیا جاسکے۔ ان انٹرویز کے نتائج یوں تو حوصلہ افزاء تھے مگر بوس نے ان کے ذاتی فوازئد کے حصول جیسے سوالات جانتے یہ رائے قائم کی کہ چونکہ برطانیہ ان کے لوگوں کو معاوضے و لالچ کے ذریعے اپنے ترغیب دینے کی پالیسی پر عمل پیرا تھا لہٰذا اب یہی طریقہ ہی ان کی فوجی خدمات کے حصول کیلئے معقول نظر آتا کیونکہ انٹرویز کرکے یہ بات واضح ہوگی کہ بیشتر کے سوالات یا تحفظات نجی نوعیت کے ہیں مثلاً فوج میں ان کا کیا مرتبہ ہوگا وغیرہ، بہرحال بوس نے ان پر خوب محنت کرکے انہیں آزادی کا سپاہی بنانے کی ترغیب دیتے ان کے ساتھ خود بھی آزادی کی جنگ لڑنے پر انہیں آمادہ کردیا۔


نیتاجی کی بڑی کاوشوں کے بعد بالآخر جرمن بھی اس بات پر راضی ہوئے کہ انڈین جنگی قیدیوں کو سخت فوجی نظم و ضبط سکھاتے ان کی تربیت کی بجائے۔ ان کی تربیت کیلئے وہی ضابطہ اخلاق طے پایا کہ جس کے تحت خود ان وقتوں کی جرمن فوج کیلئے ہوا کرتی۔ جس میں پیارے فوج سے لے کر جدید اسلحہ و آلات کے ساتھ گاڑیوں کے ہمراہ چلنے والا فوجی دستہ بھی شامل تھا۔ جرمنوں کے ساتھ طے کردہ اپنے اس فوجی معاہدے میں سبھاش چندر بوس نے بڑی کامیابی کے ساتھ اپنی یہ شرط بھی منوائی کہ تربیت پانے والا بھارتی فوجی دستہ، جرمنوں کی صف میں رہتے ان کے کسی بھی محاذ میں لڑنے کے بجائے صرف و صرف ان محاذوں پہ لڑے گا کہ جہاں انہیں برطانوی فوج کا براہ راست سامنا ہو۔ وہ بھارت میں برطانوی فوج کے خلاف لڑنے کے سوا کسی اور محاذ پہ لڑنے ہرگز نہیں جائینگے، البتہ اچانک حملہ آور ہوئے کسی بھی دشمن کے خلاف وہ اپنی دفاع کی خاطر لڑنے کا کل اختیار رکھیں گے۔ مزید یہ کہ گو وہ بھارتی سپاہی ہمیں مگر موجودہ وقتوں کے تناظر میں انہیں جرمن فوج کی جانب سے وہی مراعات حاصل رہے گی جو جرمن فوج کے کسی دستے کو مہیا کی جاتی ہیں جن میں یکساں کھانے، کپڑے، چھٹیاں و دیگر سہولیات شامل ہیں۔

دسمبر 1941ء میں تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی اور اب اگلہ قدم عام بھارتی شہریوں اور نوجوانوں کو بھی اس قومی فوج میں شامل کرنے کی دعوت کو عام کرنا تھا۔ اس سلسلے میں آزاد ہند ریڈیو پر تشہیری بنیادوں پر نوجوانوں کو آزادی کے لئے لڑنے کی دعوت دینے کیلئے آزاد ہند فوج کا حصہ بننے کی ترغیب دی گئی۔ برلن میں مقیم متعدد بھارتی نوجوانوں نے ریڈیو پہ نشر پروپیگنڈے کے زیر اثر سے فوج میں شمولیت کی۔

25دسمبر 1941ء کو آزاد ہند کے مرکز میں ایک تقریب رکھی گئی کہ جس کا مقصد پہلے 15لوگوں پہ مشتمل گروہ کو آزاد ہند فوج کے ہیڈ کوارٹر یعنی فرانکن برگ (Frankenburg) باقاعدہ فوجی ٹریننگ کیلئے روناہ کرنے کی خوشی میں یکجا ہونا تھا۔ تقریب انتہائی باوقار و سادگی سے منائی گئی۔ نیتاجی نے نوجوانوں کو دعائیوں و پرجوش کلمات سے الوداع کرکے کہا کہ یہ تحریک آزادی ہندوستان کی کل تاریخ کا اپنی نوعیت میں پہلا واقع ہے اور مجھ سمیت پوری قوم کو اس سے کافی امیدیں ہیں۔

اس واقع کے بعد آزاد ہند فوج میں بھرتیوں کا ایک سلسلہ شروع ہو ا اور قومی فوج میں بھرتی کے سلسلے کو پھر کبھی روکا نہ گیا۔ اک دفعہ اگر کوئی فوجی خاص مدت کی ٹریننگ مکمل کرتا تو اسے اضافی ذمہ داریاں سونپنے آہنہ برگ کیمپ بھیجا جاتا، جہاں وہ جنگی حکمت عملی کے متعلق چیزوں و علوم پر ماہرات حاصل کرتا۔ دوران ٹریننگ اس بات پر خاص زور دیا جاتا کہ فوجیوں میں اس بات کا بھی خاص دھیان دیا جاتا کہ بھرتی ہوئے زیادہ سے زیادہ فوجیوں کو (Tactical Operation) یعنی فوجی حکمت عملی کے تحت ہی جنگ کرنے کو ممکن بنانے کیلئے تمام جدید آلات سے واقف کرایا جائے۔ انہیں وائر لیس، عمارتوں کے بنانے و گرانے والے آلات کے ساتھ ساتھ مختلف سواریوں وک چلائے جانے، پیراشوٹ اور پہاڑوں و ڈھلانوں میں چلنے و انہیں بعمہ سامان سر کرنے جیسی مختلف نصاب کے ذریعے باقاعدہ تیار کیا گیا۔

ٹریننگ کے دوران نیتاجی اکثر کیمپ کا دورہ کرتے تھے اور چونکہ فوجی نظم و ضبط و جنگی ٹریننگ کا خود بھی ان میں اک رجحان یا شوق ساتھا لہٰذا وہ جرمن ٹریننگ کے طریقوں میں کافی دلچسپی لیا کرتے۔ ان میں سے بعض ٹریننگ کی سخت گیری سے نیتاجی خود بھی لطف اندوز ہوا کرتے، کہا جاتا ہے کہ جب وہ بھارت میں تھے تو اسکول کے وقتوں وہ اسکول کے ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے فوجی شعبے میں بحیثیت اک رضا کار ممبر بھی تھے مگر انہوں نے باقاعدہ طورپر کبھی بھی کسی فوجی اکیڈمی سے ٹریننگ یا وابستگی نہیں رکھی تھی۔

جویس لیبرہ (Joyce Lebra) لکھتے ہیں کہ
“حالانکہ بوس کا سابقہ کوئی فوجی تجربہ نہیں مگر انہوں نے اپنے فوجیوں کے ہمراہ جنگی قوانین و فوجی تربیت حاصل کی۔”

بوس کے نزدیک ریڈیو پہ آزادی کی تحڑیک کیلئے پروپیگنڈاہ کرنے سے زیادہ، آزادی کی جنگ لڑنے کے لئے خود سپاہی بنانا زیادہ مثبت، زیادہ قوم پرستانہ اور زیادہ اطمینان بخش ہے، وہ انڈین نیشنل کانگریس کے اپنے سابقہ ہم وطن رہنماؤں کہ جن میں گاندھی، نہرو اور پٹیل وغیرہ شامل تھے، ان تمام کی ہندوستان کے آزادی کے معاملے میں برطانیہ کو بات چیت کی میز پہ لاتے کسی سمجھوتے کیلئے راصی کرنے کی سوچ کے برخلاف برطانیہ سے کسی فوج کے ذریعے مقابلہ کرکے اسے ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کئے جانے کی تھی۔ انہیں نظم و ضبط و ادارہ سازی کے ذریعے متوقع نتائج کے حصول پر پختہ یقین تھا اور شآید اسی لئے ہی انہیں اس بات سے زیادہ کچھ بھی مطمئن نہیں کرپاتا کہ جتنا وہ اپنے لوگوں کو جرمن فوج کے انتہائی ذہین افسروں کے تحت ٹریننگ کرتے دیکھ کر مطمئن ہوتے۔
چار ہی مہینوں میں ٹریننگ لینے والے فوجیوں کی تعداد 3سو سے تجاوز کرگئی اور کچھ ہی مہینوں میں یہ 6سو سے بھی بڑھ گئی۔ دسمبر 1942ء وہ مہینہ تھا کہ جب آزاد ہند فوج کی تعداد 4بٹالین کو پہنچ گئی۔ 1943ء کی ابتداء میں کوئی 2000تربیت یافتہ فوجی آزادی کی جنگ لڑنے کیلئے مکمل طور سے تیار تھے مگر سبھاش کا اس جنگ کی افتتاح کے لئے اپنا طے کردہ تخمینہ کم از کم 3500فوجیوں کا تھا، جس کے لئے وہ روز و شب لوگوں کو آزاد ہند فوج میں بھرتی کے لئے لوگوں کو آمادہ کرنے کی اپنی مہم میں مصروف رہے، مگر اس قدر سرگرم رہنے کے باوجود بھی وہ اپنے محتاط و راز داری کے سیاسی رویے سے اک ذرا کنارہ نہ ہوئے۔ اس دورانیے میں وہ جرمنی بھر میں سرگرم رہنے کے باوجود اپنی موجودگی کو خفیہ رکھے ہوئے تھے۔ جرمن حکومت نے بھی ان کی جرمنی میں موجودگی کو قبول نہیں کیا اور وہ عام محفلوں و ظاہری طورپر اپنی اطالوی شناخت سگنور اور لانڈو مززوٹا “Signor Orlando Mazzota” یا سفیر مززوٹا “Excellency Mazzota” کے نام سے ہی جانے و پہچانے جاتے۔

اس رازداری کے شیوے و بوس کی سیاسی حکمت کا اعتراف ایٹلر کے شاطر پروپیگنڈہ منسٹر اپنی ذاتی ڈآئری میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے لکھتے ہیں۔

جرمن اخباروں میں نمایاں طورپر شائع کیا جائے گا اور اس پر رائے بھی دی جائے گی اور اسی طرح ہی ہم بھارت کی جانب سے انگلستان پر اپنی جنگ کا باضابطہ آغاز کرینگے کہ جسے اب تک ہم نے اعلاً اعلاناً اب تک قبول نہیں کیا۔

  گوبیلز نے اپنی ڈائری پہ بوس کے متعلق اپنے تاثرات لکھتے لکھا

“وہ ایک نہایت عمدہ کام کرنے والا انسان ہے۔ سنگاپور کی شکست نیتاجی کیلئے ایک اشارہ تھی کہ وہ باقاعدہ طورپر اپنی تقریر ریڈیو پہ براڈ کاسٹ کرکے برطانوی سامراج سے جنگ کرنے کے اپنے عہد کو دہرائیں حالانکہ ایسے حالات میں ان کا برطانیہ سے جنگ کرنے کا اعلان محض علامتی حد تک ہے مگر ایسے اعلانات بعد میں شروع ہوئے۔ جنگ و عسکری کارروائیوں کے لئے سہارا بن جایا کرتی ہیں۔ شاید یہ اپنی اثر پذیری کے حؤالے سے اس سے بھی زیادہ سود مند ثابت ہو۔”

جرمن کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل کریپ (Col Krappe) نے آزاد ہند فوج کے نوجوانوں سے حلف لینے کی ایک تقریب رکھی کہ جس میں ہر 6جوانوں کو شمشیر پہ ہاتھ رکھواتے یہ حلف ان سے لیا گیا کہ “میں خدا کی قسم کھاتے یہ حلف لیتا ہوں کہ میں ریاست جرمنی و اس کی عوام کے رہنما و انڈیا کی آزادی کے جنگ میں جرمجن فوج کے سپریم کمانڈر، ایڈولت ایٹلر کا فرمانبردار رہونگا، انڈیا کپی آزادی کی جنگ کے رہنما سبھاش چندر بوس جو ایک بہادر سپاہی ہے، میں اپنی جان ان کے لئے قربان کردینے کا حلف اٹھاتا ہوں۔”سبھاش چندر بوس نے اس

یادگار تقریب میں فوجیوں کو ان کی خاص شناخت کے لئے ایک پرچم بھی عنایت کیا کہ جس میں انڈین نیشنل کانگریس کا سفید و ہرا رنگ کے ساتھ زردی مائل تاریخی رنگ تو تھا مگر اس میں خاص کانگریسی سوچ و فلسفہ عدم تشدد کے کانگریسی گھماؤ دار چکرو ویل کی جگہ اک پر تیلے، جنگجو و شکار پہ جھپٹتے چیتے کی تصویر نمایاں تھی جو خصوصی طورپر خود نیتاجی کی فلسفہ سیاست کا آئینہ دار تھی۔ نیتاجی نے یہ پرچم عنایت کرکے کہا کہ ” ہمارے نام آزاد ہند کی تاریخ میں سنہری لفظوں سے لکھے جائیں گے۔ اس مقدس جنگ میں شہید ہونے والے ہر مزاحمت کار کے نام یادگار تعمیر کرواتے اسسے ہمیشہ کیلئے زندہ کیا جائے گا۔”

بوس و جرمن حکام کے بیچ یہ مفاہمت تھی کہ جرمن فوج، روس سے ہوتے تاجک و ازبک سرزمین سے ہونے کے بعد افغانستنا سے ہوئے بھارت پہنچیں گے جبکہ سبھاش کی آزاد ہند فوج باقی علاقوں میں برطانوی فوج کو الجھائے رکھے گی اور ساتھ میں نیتاجی اپنے پروپیگنڈے کے ذریعے براہ راست برطانوی انڈین فوجیوں و پولیس کو اس بات کا احساس دلائے گی کہ آزاد ہندوستان کے قیام کے بعد ان سب کو برطانیہ کی اس مجرمانہ عمل کو سہارا اور اس کی حمایت کیلئے کام کرنے پر ضرور ان کی شنوائی ہوگی۔ سبھاش کا یہ ماننا تھا کہ ایسے پروپیگنڈے سے نہ صرف برطانیہ کے حوصلے پست ہونگے بلکہ بھارتی نجات برطانوی فوج کو قابض انگریز کے یہاں عسکری خدمات کی انجام دہی سے روکتے بھارت میں موجود متعدد نوجوانوں کو آزاد ہند فوج میں بھرتی کیلئے اکٹھا کیا جاسکے گا جس کے سبب برطانوی فوج کے حوصلوں کو کافی پست کیا جاسکتا ہے۔

نیتاجی کا یہ منصوبہ کافی حد تک نتیجہ انگیز ہوسکتا تھا مگر اس میں بڑی خرابی یہ ترھی کہ اس منصوبے کی کامیابی کا زیادہ تر دارومدار روس میں لڑتے جرمن فوج کی کامیابی پر تھا اور یہ نقطہ ہی تمام منصوبے کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ بن کر ابھرا۔ اسٹالن گارڈ کی تاریخی جنگ میں غیر متوقع طورپر جرمن فوج کو منہ کی کھانی پڑی اور نیتاجی کا سارا سینہ جرمن فوج کی ناکامی کے باعث منسوخ کرنا پڑگیا۔

جہاں جرمن فوج کو روس میں سخت نقصان اٹھانا پڑا، وہاں دنیا کے دوسرے کونے میں جرمن اتحادیوں میں سے جاپان وہ ملک تھا کہ جسے مشرقی ایشیا (Far East)میں بڑی کامیابیاں مل رہی تھیں۔ جاپان بھی لاکھوں ہندوستانیوں کے ہر دلعزیز رہنما، سبھاش چندر بوس کو اپنی سرزمین پہ مدعو کرنے کے لئے بے تاب تھا، چونکہ جاپان میں آزاد ہند فوج کا ایک دستہ موہن سنگھ کی سربراہی مجیں پہلے سے ہی جاپان میں موجود تھا اور ساتھ میں دیگر ہندوستانی نژاد برطانوی قیدیوں کا آزاد ہند فوج میں شامل ہونا متوقع تھا لہٰذا 29مئی کو ایڈولت ایٹلر نے بھی نیتاجی کو اپنا مرکز جرمنی سے مشرقی ایشیا منتقل کرنے کا مشورہ دیا حالانکہ ان وقتوں جلد سے مرکز تبدیل کرنے میں کافی دقتیں تھیں کیونکپہ انہی وقتوں آزاد ہند ریڈیو کے ساتھ دو زبانوں میں آزاد ہند جرنل بھی چھینا شروع ہوچکا تھا، ساتھ میں جرمنی میں کام کرنا بھی نہایت سہل و محفوظ تھا۔ ذاتی حوالوں سے نیتاجی کو رہائش کیلئے ذاتی بنگلہ، کار، خوراک و تفریح کیلئے کافی سہولیات کے ساتھ ساتھ 800پاؤنڈ ذاتی الاؤنس بھی ملاکرتا جبکہ آزاد ہند مرکز کیلئے بھی تسلیم شدہ فنڈز کو 1200پاؤنڈ سے 3200پاؤنڈز کیا جاچکا تھا، جو کہ قرض کی صورت ان شرائط پہ ادا کیا جاتا کہ آزادی کے بعد یہ رقوم بھارت، جرمن سرکار کو واپس ادا کرے گی۔ بہرحال حالات کی نزاکت کو دیکھتے نیتاجی نے اپنا مرکز بدلنے کی حامی بھری۔ کہا جاتا ہے کہ جب نیتاجی نے مرکز بدلنے کا فیصلہ کیا تو ایٹلر نے ڈریسٹن میں آکر آزاد ہند فوج کی الوداعی تقریب میں خطاب بھی کیا۔ حالانکہ یہ اطلاعات مصدقہ ذرائع سے تصدیق شدہ تو نہیں مگر شناتارام ویشنو سمانتا (Shantaram Vishnu Samanta)نامی آزاد ہند فوج کے ایک فوج نے اپنے ایک رپورٹ میں اس کا ذکر کرتے کہا کہ ایٹلر نے ہم فوجیوں سے ملاقات کی ایک تقریب میں جرمن زبان میں تقریر بھی کی کہ جسے بعد میں ہندی میں ترجمہ کرکے سنایا گیا کہ جس میں انہوں نے کہا۔

“آپ خوش نصیب ہیں کہ اک ایسے ملک پیدا ہوئے کہ جہاں کی ثقافتی روایت نہایت عمدہ اور جہاں بہت زیادہ افرادی قوت ہو۔ اپنے وطن کو بیرونی غلبے سے آزاد کرنے کیلئے آپ اور آپ کے رہنما کے جوش و ولولے کو دیکھتا میں کافی متاثر ہوا۔ آپ کے رہنما کا مقام مجھ سے بڑھ کر ہے کیونکہ میں تو محض 8کروڑ جرمنوں کا لیڈر ہوں مگر وہ تو 40کروڑ ہندوستانیوں کے لیڈر ہے۔ وہ ہرطرح سے مجھ سے زیادہ قابل احترام لیڈر و عظیم جرنل ہے۔ میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں اور پورا جرمنی انہیں سلام پیش کرتا ہے۔ یہ تمام ہندوستانیوں کا فرض ہے کہ وہ انہیں قائد قبول کرتے ان کیعزت و ان کی تائید کریں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر آپ ایسا کرپائیں تو آپ ان کی رہنمائی کے توسط جلد ہندوستان کو آزاد کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

 سبھاش چندر بوس اور چند تنقیدی نکات
مختلف شخصیات و تحریکوں کو ترجمے کی صورت یہاں لکھنے کا مقصد قطعی ان افراد کی کامیابیوں کو مثالی تصور کرتے (Idealize) کرنا نہیں بلکہ ان سے کچھ سیکھنے کو ہے، گوکہ سبھاش چندر بوس سیاسی حؤالوں سے ایک ذہین و دور اندیش رہنما تھے مگر ان کی جدوجہد پہ تنقیدی نگاہ رکھتے بلوچ تحریک کی رہنائی کرنے کے لئے کافی موضوعات کو سمجھنے کا موقع مل سکت اہے مثلاً ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کس طرح سبھاش بوس ہندوستان کی آزادی کیلئے ایک غیر سیاسی رجحان و تصور کا شکار ہوتے اپنی تحریک آزادی کی بنیادیں بجائے ہندوستانی سماج میں بنانے کے، “دشمن کا دشمن۔ دوست”جیسے غیر سائنسی وغیر سیاسی منطق پہ آمادہ ہوتے اپنی تمام توانائی پہلے جرمنی و بعد میں جاپان پہ خرچ کرتے وہ نتیجہ اخذ نہی کرپاتے کہ جس کی خواہش میں وہ برسوں سخت جدوجہد میں گزارتے ہیں۔ حالانکہ سیاست میں یہ ضروری نہیں کہ دشمن کا دشمن دوست ہو، سیاسی تاریخ میں ایسی مثالیں وافر ملتی ہیں کہ ۔۔۔۔ دشمن کا دشمن، بڑا دشمن جبکہ دونوں بار ممالک دشمن کے دوست کے مفادات و اپنے مفادات میں یکسانیت پیدا کرکے اسے نہ صرف اپنا دوست بلکہ دشمن کا بھی دشمن بنا ڈالتے ہیں۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کیسے نیتاجی جرمنی میں رہتے اپنے ایام کا آخری پورا ایک سال محض اس امید پہ گزارتے ہیں کہ کیسے وہ ایڈولت ایٹلر سے ذاتی ملاقات کرکے اسے ہندوستان میں برطانیہ سے جنگ لڑنے کیلئے انہیں معاونت کرنے کو تیار ہو جبکہ ملاقات کرنے کے بعد وہ خود ہی یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ جرمنی کے اپنے عزائم ہیں مگر اس کے باوجود بھی وہ جرمنی کے روس پہ حملہ کرنے تک کا انتظار کرکے اپنا قیمتی وقت برباد کئے جاتے ہیں۔

اس تناظر میں اگر بلوچ تحریک کو دیکھیں تو ڈاکٹر اللہ نذر کا یہ بیان کہ وہ پرو کسی وار کو خود کیلئے ایک گالی سمجھتے اس بات پہ قطعی تکیہ نہیں کئے کہ کب کوئی ان کے لئے کچھ کرے، ایک خاصا خوش آہند اور بوس جیسے عظیم سیاسی مفکر کے ذاتی تجربے سے بھی بڑی دانائی کی بات ہے کیونکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بلوچ تحریک کے رہنما اس بات سے باخوبی باعلم ہے کہ رہائش بجائے انفرادی شخصیات کی طرح ذاتی نوعیت کے تعلقات بنانے کے بجائے خالصتاً قومی مفادات کے تحت تعلقات استوار کرتی ہیں۔

مزید برآں بوس کی تحریک آزادی ہند میں ایک اہم تنقید جو خصوصی طور سے ہمارے قائدین کیلئے مطالعہ کا مضمون ہوسکتی ہے کہ کیسے سبھاش چندر بوس یورپ میں رہتے وہاں کے جنگی قیدیوں (فوجیوں) کو منظم کرکے ہندوستان میں آزادی کیلئے مسلح مزاحمت پہ تکیہ کئے ہوئے تھے، بظاہر تو یہ خیال قابل عمل لگتا ہے مگر اس نوعیت کے تجربات عموماً ناکام ہوئے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ قومی جذبات کے تحت مسلح مزاحمت کیلئے تیار ہونا، قومی شعور کی پختگی کا آخری مرحلہ ہے، گوکہ پروپیگنڈہ و رجحانات کی ترویج سے چند لوگوں کو قومی شعور کی پختگی کے اس آخری مرحلے ملیں لایا جاسکتا ہے مگر اک منظم قومی فوج بنانے کیلئے فقط تقاریر و پروپیگنڈے پر انحصار نہیں کیا جاسکتا، اس میں زمینی حقائق کو تبدیل کرتے، معاشرے کو جنگ کیلئے آمادہ کرنا اور پھر انہیں منظم کرکے قومی فوج کی شکل دینا ناگزیر ہے حتیٰ کہ بلوچ سیاست میں بہے جانے والے نوجوانوں کے لہو سے زمینی حقائق اس جیسی تبدیلی کیلئے تیار تو ہوئے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہماری سیاسی تنظیمیں ان رجحانات سے ابھرتے اس قدر فائدہ نہیں لے پائی کہ جتنا توقع کی جاسکتی ہے جبکہ ایسے حالات کو موازنے کی صورت میں لیتے ہم کردوں سے کافی کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s