بوبی سینڈز کی ڈائری (مارچ1981ء)

ترجمہ و ترتیب جوان بلوچ ۔۔
بھوک ہڑتال کے پہلے 17دنوں تک بوبی سینڈز اپنی ذاتی ڈائری میں کافی کچھ تحریر کرتا رہا جس میں بھوک ہڑتال کی مہم کے دوران، اس کے ذاتی تاثرات بھی شامل تھے البتہ اس خفیہ ڈائری کا جب ادراک سبھی کو ہوا تو اسے جاری رکھنا ان کے لئے تقریباً ناممکن بنادیا گیا۔ بہرحال ان کی ڈائری سے کشید کئے گئے چند اقتباس بعمہ تاریخ آپ قارئین کی نظر ہیں۔
اتوار:
میں اب اس جہاں سے پرے اک اور جہاں کی چوکھٹ پہ کھڑا ہوں۔ خدا میری روح پہ مہربان ہو۔ میرا دل رنجیدہ ہے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میں نے اپنی غریب ماں کا دل دکھاتے اپنے تمام کنبے کو ناقابل برداشت اضطراب میں مبتلا کردیا ہے لیکن مجھے ان تمام دلائل اور کوششوں کو بھی رد کرنا پڑرہا ہے کہ جنہیں فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی اہم وجہ وہ غیر انسانی افعال ہیں کہ جنہیں میں اور میرے دوست یہاں چھیلے ہوئے آرہے ہیں۔
میں ایک سیاسی قیدی ہوں، مکمل طور سے ایک سیاسی قیدی کیونکہ میں خود معقول ہوں اس جنگ کا کہ جو سالوں سے ہم پہ تھوپی گئی ہے۔ اک ایسی جنگ جو ہم مظلوم آئرشوں اور ان غیر ملکی ظالموں کے بیچ چل رہی ہے جو بنا ہماری چاہ کہ ہم یہ حکومت کرتے ہماری سرزمین پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔
خدا کی جانب سے عطا کی گئی حق آزادی پہ ایمان رکھتے آج میں کھڑا ہوں تاکہ ہر آئرش مرد و عورت اپنے اس مطالبہِ حق کیلئے مسلح جدوجہد کرپائے اور اسی لئے آج میں یہاں Incarcerated
میں سمجھتا ہوں کہ آئرلینڈ میں قیام امن اس وقت تک ممکن نہیں کہ جب تک یہ نامانوس و غیر ملکی استحصالی طاقت یعنی برطانیہ مکمل طور سے ہم سے جدا ہوتے ہمیں ہمارے معاملات اور ہماری منزل آزادانہ طور سے خود طے کرنے کا حق نہیں دے دیتی۔ ہم معاشی، ثقافتی و مذہبی حوالوں سے ان سے آزاد رہتے اپنی جداگانہ شناخت کی بدولت ہی اپنی منزل طے کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
میری جدوجہد کا مقصد جیل میں موجود اس (H-Block) (جہاں بوبی سینڈز قید تھے) میں مجھ پہ ہونے والے تشدد کے خاتمے یا میرے سیاسی قیدی ہونے کی شناخت سے نہیں جڑی بلکہ میں اپنی قومی ریاست کی شناخت کیلئے اپنا سب کچھ قربان کردینے کیلئے آج اس اذیت کے خلاف احتجاج کررہا ہوں۔
پیر:
آج ہم نے (زندانوں کی دیواروں و باتھ روم کی صفائی نہ کرکے) (No Wash Protest) کے ساتھ اپنے جاری احتجاج کو اک نیا رنگ دے ڈالا۔ میرے نزدیک یہ ضروری ہے کہ کسی بھی طرح سے مذمت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا جائے اور جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ سیاسی نہیں اور اس لئے خود کو سیاست میں شریک نہیں کرنا چاہتا تو میرے مطابق ان کی سیاست ہی کچھ اور ہے۔ وہ شاید برطانیہ کے لئے سیاست کرتے ہیں یا خود برطانوی ہیں۔
آج مجھے میرے خاندان و دوستوں کپے کچھ رقعے مل پائے کہ جن میں سے میں نے صرف ایک ہی پڑھا۔ یہ وہی تھا کہ جس کی مجھے سب سے زیادہ ضرورت و خواہش تھی۔ یہ میری ماں کی طرف سے بھیجا گیا وہ رقعہ ہے کہ جس میں انہوں نے مزاحمت و لڑنے کا جوش دوبارہ سے خود میں محسوس کرنے کا کہا ہے۔ مجھے سچ میں یہ سب جانتے بہت فخر اور خوشی ہوئی۔ آج میرا دل اک نظم کے لکھنے کا بھی ہوا جو تحریری حوالوں سے اب تکپ مکمل نہیں شاید میں کل تک اسے مکمل کرلوں
پیاری ماں
پیاری ماں! میں جانتا ہوں آپ ہمیشہ سے میرے ساتھ ہیں
میری مدد کو، میری رہنمائی کو، اپنے تمام پیار کے ہمراہ
آپ نے کی میری تیماداری۔۔۔مجھے کھلایا، مجھے مضبوط کیا
تاکہ میں دنیا کا اس کی تمام برائیوں کے ساتھ مقابلہ کرسکوں
آج میں لکھوں بھی آپ کو تو کیا؟
اک دو سطریں لکھنے سے میں آپ کی ان عنایتوں کا مداوا بھی تو نہیں کرسکتا
اس نگہداشت و خیال اور اس وقت کا کہ جو آپ نے مجھ پر لٹایا
جو آپ نے سالہ سال مجھ پہ لٹایا
میں نہیں جانتا کہ خود آپ میں اتنی ہمت کہاں سے آئی؟
منگل
میں غیر معمولی طورپر آج بھی بہت بہتر محسوس کررہا ہوں حالانکہ میں جانتا ہوں کہ یہ محض میرا تیسرا دن ہے مگر معلوم نہیں کیوں آج بھی میں ہر دن کی طرح بہتر محسوس کررہا ہوں۔
آج صبح میں نے دو صحافیوں سے ملاقات کی۔ جن میں ایک گارجین کے ڈیوڈ بیرس فورڈ اور دوسرے آئرش ٹائمز کے بربنڈن اوکھاتوؤیر تھے۔ میں نے خاموش رہنے کے بجائے کھل کر ان سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
میں اب 63کلو کا ہوگیا ہوں۔ سو پھر کیا ہوا (ہنستے ہوئے)؟
خیرآج ایک پادری سے بھی میری ملاقات کرائی گئی جو شاید نفسیاتی حوالوں سے میرا وزن کرنے آیا تھا یا پھر میرے حوصلے کو جانچنے کا کام اسے سپرد کیا گیا تھا۔ (میں نے اگر ان کے متعلق کوئی غلط رائے قائم کی تو ان سے پیشگی معذرت)
میں نے اپنی ماں کو بھی کچھ لکھا اور آج انہیں کچھ زیادہ لکھنے کی تمنا بھی ہے۔

انہوں نے آج پھر میرے سامنے ٹیبل لگاتے کھانا سجایا۔۔۔ایمانداری سے کہوں تو میں نے اک نظر بھی کھانوں پر نہیں ڈالا۔ جس پر وہ مجھ سے وہی احمقانہ سوال پوچھتے رہے کہ “کیا تم اب بھی نہیں کھاؤ گے؟”
چونکہ کچھ اور خیالات نے مجھے اور سوچنے پر مجبور کررکھا ہے لہٰذا میں آج بھی اپنی نظم مکمل نہیں کرپایا مگر کل اسے ضرور لکھونگا۔
بدھ
آج میں نے بال کٹوائے خوب شاور لیا جس کے سبب میں کافی اچھا محسوس کرنے لگا۔ میں تو اب اپنی عمر سے بھی 10سال چھوٹا لگنے لگا ہوں۔
موجودہ خبروں پر نظر رکھتے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ریگن و ٹیچر (امریکی و برطانوی صدر و وزیراعظم) کا اتحاد روسی توسعیت یا اس کے بڑھتے ہوئے جغرافیائی حدود کو اپنے مفادات کی خاطر استعماری توسعت کے تحت روک لیں گے تاکہ وہ اپنے مفادات کا تحفظ کرسکیں۔
جمعرات
کہا جارہا ہے کہ میرے والد علیل ہونے کے باعث اسپتال منتقل کردیئے گئے ہیں۔ میں کافی غمگین ہوئے بے چین سا ہورہا ہوں مگر میں پھر بھی اس مہم کے لئے پرعزم ہوں۔
میں خود بھی ویسے داڑ (دانت) کے درد کے باعث کافی پریشان ہوں۔
آج میں نے ایٹکنز (Atkins) کا بیان بھی پڑھا کہ جس میں اس نے برطانوی ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “برطانیہ اپنی پوزیشن سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔” ایسی باتیں و بیانات اب مجھے تکلیف نہیں د یا کرتیں کیونکہ میں ذہنی حوالوں سے ان سب کیلئے تیار ہوں حتیٰ کہ میں تو اس سے بھی بدتر حالات و کچھ سننے کا امکان رکھتا ہوں۔
جمعہ
کل اور آج کی رات بھی مجھے پادری سے ملنے نہیں دیا گیا۔ انہوں نے مجھے میرے عدالتی پیروکار سے بھی ملنے کی اجازت نہیں دی۔ یہ شاید مجھے تنہا کردینے کیلئے ہو۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ آگے چل کر مزید سختی کرکے مجھے نہایت بے رحمی سے کسی تنہا کوٹی میں ڈال دینگے۔ میں اپنے دوستوں سے جدا ہونے پر ان سے پیشگی معذرت کرتا ہوں لیکن میں جانتا ہوں کہ جس راہ پر میں چل نکلا ہوں وہ نہایت کٹھن اور مشکل ہے مگر مجھے کسی بھی حال میں فاتح و سرخرو ہونا ہے۔
آج میں نے اپنی توانائی میں کمی کو خوب محسوس کیا اور میں اب بظاہر بھی کمزور دکھنے لگا ہوں۔
آج پھر انہوں نے میرے سامنے ڈھیر سارا کھانا رکھا۔ جس میں مختلف قسم کی دالیں بھی تھیں مگر میں جانتا ہوں کہ مجھے مہیا کردہ تمام کھانا یا تو پہلے ہی سے وزن کیا گیا ہے یا پھر ہر چیز کو پیشگی گنا گیا ہے یا پھر وہ ڈاکٹر کی مدد سے میر اچیک اپ کرکے اس سے یہ بھی پوچھتے ہیں کہ آیا اب میری صحت کیسی ہے۔ مگر یہ بے وقوف اتنا بھی نہیں جانتے کہ کوئی ڈاکٹر معمولی سی غذا کی تشخیص نہیں کرسکتا اور نہ ہی یہ احمق یہ سمجھ پاتے ہیں کہ میرا ایک بھی نوالہ لینے کا قطعاً کوئی ارادہ نہیں۔
میں راتوں کو اچھے سے نیند کرپارہا ہوں کیونکہ میں نے دن میں سونا مکمل طور سے ترک کردیا ہے۔ میں اچھی نیند لیتا خوشگوار خواب دیکھنا چاہتا ہوں۔ اب نہیں معلوم کہ آیا یہ میری ذہنی پختگی کے باعث ہے کہ جسے میں خود خراج عقیدت پیش کرنا مسرور رہوں یا مجھے اس کی قیمت آگے چل کر چکانا مقصود ہو۔ مجھے تو اس بات کا بھی اشتیاق ہے کہ میں کتنے دنوں تکپ یوں اپنی ڈائری میں بھی کچھ لکھ پاؤنگا؟ بہرحال میں مطمئن ہوں کہ وہ نہ تو ہمیں مجرم گردان سکیں گے اور نہ ہی ہماری ح۔۔۔یقی شناخت ہم سے چھینتے، ہماری انفرادیت کو چراتے ہمیں سیاسی کرتے، منظم وادارا جاتی روبوٹس بناکر اپنے بنائے گئے قوانین کی پاسداری کرنے پر مامور کرسکیں گے۔ وہ ہماری آزادی کی اس جدوجہد کو کبھی مجرمانہ عمل و خلاف قانون تصور کرکے اس پر جرم کا لیبل نہیں لگاسکتے۔
مجھے تو اس برطانوی منطق پہ حیرت ہوتی ہے۔ یہ پچھلے 8صدیوں سے کسی ایک بھی ایسے آئرش کا عزم نہیں تھوڑ پائے کہ جس نے ان کے سامنے نہ جھکنے کا عزم کررکھا ہو۔ یہ نہ تو ان 800سالوں میں ہمارے لوگوں کو اپنی آزادی کی جدوجہد سے مایوس کرپائے اور نہ ہی ان پر فتح حاصل کرکے ان کی حوصلہ شکنی میں کامیاب ہوئے اور ایسا کبھی ہو بھی نہیں سکتا۔ جو یہ سمجھتا ہے کہ میں ایسا اس لئے کہہ رہا ہوں کیونکہ میں برطانیہ کو نہیں جانتا، تو میں ان سے کہتا ہوں کہ آپ اس برطانیہ کے ہم غریب غلاموں کو نہیں جانتے۔
ہفتہ
آج مجھے ایک بہترین رقعہ ملا۔ جو میری بہن بیرنی (Bernie) نے مجھے لکھ بھیجا ہے۔ میں اس سے بے پناہ پیار کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ وہ عظیم ہے۔
آج مجھے اس بات کا پورا یقین ہوچلا ہے کہ اب حکام مجھ پر مزید سختیاں کرکے مجھے جلد تنہا کسی کوٹھری میں رکھنے والے ہیں۔ مگر ممکن ہے کہ میرا اندازہ غلط ہو مگر میں اپبنے ساتھیوں کے ساتھ زیادہ وقت تک رہنا چاہونگا اور جس کی بلاشبہ متعدد وجوہات ہیں۔اب 61کلوگرام کا ہوچکا ہوں اور میرا وزن اب تیزی کے ساتھ کم ہوتا جارہا ہے۔ مجھے بھوک کے سبب شدت درد سے زیادہ تکلیف نہیں اور نہ ہی میرا جی کھانے کیلئیے للچاتا ہے۔ مجھے تو پچھلے بھوک ہڑتال کا خیال دل میں ستاتا ہے کہ کیسے مکاری کے ساتھ اس احتجاج کو ختم کروایا گیا۔ اب تو اس سے بھی زیادہ کچھ داؤ پہ لگا ہے۔
آج مجھے کچھ آئرش خبریں بھی ملی مگر ان میں کچھ بھی خاص نہ تھا۔ شاید اسی لئے ہی وہ مجھ تک پہنچائی گئی۔
دوسرا ہفتہ
اتوار
چند ہی گھنٹوں بعد 27سال کا ہوجاؤنگا۔ متضاد طور سے یہ خوشی بھرا ایک جنم دن ہے شاید اس لئے کہ کم از کم اپنے عمر کے اس حصے پر پہنچنے میں آزادانہ طورپر کچھ کرنے کا حوصلہ رکھ سکتا ہوں۔
آج میں 60.8 کلو ہوں اور مجھے طبعی حؤالوں سے کسی بھی قسم کی کوئی شکایت نہیں۔
آج بھی مجھے میری بہن اور اس کے بوائے فرینڈ کی جانب سے ایک رقعہ ملا جسے پڑھ کر مجھے یہ جانتے خوشی محسوس ہوئی کہ ہمارے بھوک ہڑتال کی حمایت میں کافی کچھ کیا جارہا ہے۔
پیر
آج ملیری سالگرہ کی خوشی میں لڑکوں نے میرے لئے گانا گایا اور اپنا پیار نچھاور کیا۔ میرا وزن اب 60کلو ہوچکا ہے۔
جیسے کہ آج میں 27سال کا ہوچکا ہوں اور ایسا ہے کہ میں کبھی بھی مر کے ختم ہوسکتا ہوں مگر میری خواہش ہے کہ ہمارا تشخص کبھی نہ مٹے۔
منگل
موجودہ حالات کو دیکھتے آج کا دن بھی تقریباً معمول کے مطابق رہا۔ میں 59.3کلو کا ہوں مگر اب بھی مجھے کسی بھی قسم کی میڈیکل شکایت نہیں، ہاں البتہ مجھے شکایت ہے خود کو مجرم کہلاوئے جانے کی اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر کسی کا اپنے وطن سے عشق کرنا جرم ہے تو میں مجرم ہوں وگرنہ میں مجرم نہیں اور کیا کوئی انگریز کسی جرمن کو اس بات کی اجازت دے سکتا ہے کہ وہ اس کی سرزمین پر قبضہ کرکے اس کے قوم پر حکومت کرے؟ کیا کوئی فرنچ کسی ڈچ کو اس طرز کی اجازت دے سکتا ہے؟
بدھ
آج مجھے میری سالگرہ کی مبارکباد کے متعدد کارڈ ملے کہ جن میں سے میں بیشتر کو نہیں جانتا۔ میرا وزن کل جتنا ہی ہے اور مجھے طبعی حوالوں سے کوئی پریشآنی بھی نہیں ہاں البتہ آج کچھ کھانے کی فطری خواہش مجھ میں ضرور پیدا ہوئی مگر میں نے ذہن میں اپنے دوستوں و قوم کی آزادی جیسے عظیم خیالات کو تازہ کرکے اس خواہش کو دبادیا۔
جمعرات
میرا وزن 58.75کلو ہے۔ انہیں آج میرے خون کا نمونہ لینا تھا کچھ ٹیسٹ کرنے کیلئے مگر ڈاکٹرز کا اب یہ کہنا ہے کہ انہیں کچھ اور بھی ٹیسٹ کرنے ہیں لہٰذا وہ خون کا ٹیسٹ بھی اگلے ہفتے انہی کے ساتھ کریں گے۔
میں نے آج یہ سنا ہے کہ فرنک ہیگیز (Frank Hughes) نے میرے ساتھ متحد ہوتے بھوک ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔ مجھے اس پر پورا اعتماد ہے اور میں اس کی بہت زیادہ عزت بھی کرتا ہوں۔ اس کا یہ عمل پوری قوم کے لئے قابل ستائش ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میں تنہا نہیں اور فرنک جیسے کامریڈوں کے ہمراہ بلا میں کیسے تنہا رہ بھی سکتا ہوں!
کچھ بھی اہم نہیں سوائے طویل مدت تک زندہ رہنے والے اس دائمی خیال کے کہ “کبھی ہار مت مانو” چاہے حالات کتنے ہی خراب، کتنے ہی بدتر، کتنے ہی تکلیف دہ اور کتنے ہی دل برداشتہ کیوں نہ ہوں۔ “پیچھے مت ہٹنا”، کبھی مایوس مت ہونا، کبھی ہمت مت ہارنا”، ان حرام زادوں کو ہنسنے دو، انہیں ہم پر دانت نکالتے زوروں سے ہنسنے دو، انہیں ہم پر طنز کرنے دو، انہیں کرنے دو ہماری تذلیل، بربریت، محرومی، حراساں کرتے ہمیں ستانے دو۔۔۔ ہنسنے دو انہیں اب، کیونکہ یہ سب کچھ اتنا بھی اہم نہیں کہ اس کے جواب میں کچھ کہا بھی جائے۔
باقی ان بے رحم، غیر انسانی اور ان ظالموں و ان کے تمام طنز و بربریت کے خلاف میں اپنے آخری جواب کی خود تیاری میں لگا ہوں اور میرا جواب ان کے اس طرح غیر پسندیدہ و غیر اخلاقی ہنسی و طنز کے بجائے ہماری فتح کی خوشی ہوگی۔ ہمارے لوگوں کی مسرت ہوگی۔ ہمارا بدلہ، ہماری آزادی و اس جنگ کے آخری معرکے تک ان ظالموں کی شکست ہوگا۔ یقیناًہمارا انتقام، ہمارے بچوں کی مسکراہٹیں ہیں۔
جمعہ
میں تو ہم پرست تو نہیں مگر سچ میں آج کا پورا دن غیر اہم سارھا۔ ویسے میں اب تک اچھا ہی محسوس کررہا ہوں حالانکہ میرا وزن اب 58.5Kgsتک آن پہنچا ہے۔ میں تھکا ہوا تو نہیں مگر میری کمر میں کمزوری کے باعث شدید درد سا ہے اور میں پھر سے لیٹ گیا ہوں۔ مجھے خبریں بھی نہیں مل پارہی اور وہ آج بھی پورا دن میری کوٹھری پہ نظریں جمائے ہوئے تھے اور وقتاً فوقتاً میری ٹوہ میں لگے رہے۔ باقی سب کچھ تقریباً پہلے جیسا ہے، کچھ خاص نہیں بدلا۔
ہفتہ
آج پھر ایک غیر اہم، بوریت سے بھرپور دن گذرا، میر اوزن 58.25Kgs ہے اور مجھے اب تک کسی بھی قسم کی کوئی خاص طبعی پریشانی نہیں۔
ہر انسان کا ایک ضمیر ہوتا ہے جو اس سے باتیں کیا کرتا ہے۔ میں نے اپنے آپ سے یہ سیھکا ہے کہ ہر کسی کا ایک کردار ہے۔ اسی طرح ہماری جدوجہد میں ہر کوئی، چاہے وہ جمہوریت پسند ہو یا کوئی اور، ایک خاص کردار کا عامل ہے۔ جدوجہد میں شامل کسی کا کردار بڑا یا کم اہم نہیں کیونکہ کسی بھی کام کو کرنے کیلئے نہ کوئی بڑا ہوا کرتا ہے نہ چھوٹا۔
اب بھی کافی کچھ کرنا باقی ہے اور اس کافی کچھ کو ہم اہم اور کم اہم میں تقسیم نہیں کرسکتے۔ ہم میں شامل زیادہ تر کو آزاد سوشلسٹ آئرلینڈ حاصل کرنے کی آرزو ہے جس کے لئے بس اہم یہی ہے کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ محنت اور قربانیاں دینا چاہیے۔
اتوار
پھر سے ایک بور دن، مگر ایک اچھی خبر یہ ہے کہ کل مجھے میری فیملی سے ملاقات کرنے کا موقع دیا جارہا ہے یقیناًیہ خوش آئند ہوگا۔
پیر
آج کا دن نہایت عمدہ رہا۔ آج میں اپنی ماں، والد اور مارسیلا (Marcella) سے ملا۔ سچ میں بہت عمدہ وہ جس پریشانی میں مبتلا تھے آج مجھے اسے بھی سمجھنے کا موقع ملا۔
میرا وزن 58.25کلو ہے اور میں نے خود کو اچھی طرح سے اس کمبل سے ڈھانپا ہے تاکہ سردی سے بچا جاسکے۔ مجھے آج بھی کسی قسم کی طبعی پریشانی تو نہیں مگر ہاں آج میں اپنے گھر والوں سے ملاقات کے بعد کافی نفسیاتی یہجان کا شکار ہوں، ساتھ میں مجھے سخت موسم کے باعث بھی کافی تکلیف ہے، حالانکہ میں نے خود کو کمبل میں اچھی طرح لپیٹا ہے مگر مجھے اپنے پاؤں کو سردی سے بچانے کیلئے کچھ بھی مہیا نہیں اور اسی کے سبب ہی میں اپنے جسم کی گرمی بھی برقرار نہیں رکھ پارہا۔ خیر میں اب تک اس قابل ہوں کہ کچھ نمک چکھ سکھوں مجھے مہیا کردہ تمام کتابیں بھی فضول کی ہیں۔ میں کل ایک ڈکشنری کی درخواست بھی کرونگا تاکہ ان میں سے کچھ کو پڑھا جائے چاہے وہ کتنا ہی فضول کیوں نہ ہو۔
منگل
میں نے اپنے بال اور چھوٹے کردیئے ہیں اور یہ اچھے لگ رہے ہیں اب۔۔۔ آج کسی ڈاکٹر کو بھی لایا گیا مگر اب بھی کوئی شکایت نہیں گوکہ میرا وزن اب 57.70کلو ہے۔
میں آج پھر اپنے بھوک ہڑتالی مہم کے متعلق سوچتا رہا اور میں نے یہ بات محسوس کی کہ ارادے کا پختہ ہونا ناگزیر ہے۔ میں نہیں جانتا کہ ایسی ذہنی پختگی کا منبع آخر کیا ہے؟ شاید یہ کسی کی آزادی کی خواہش سے جڑی کوئی چیز ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ کیسے، کب اور کہاں سے پیدا ہوئی ہے مگر یہ طے ہے کہ اگر کوئی کسی کی آزادی کی خواہش کو ختم نہیں کرسکتا تو وہ اسے تھوڑ بھی نہیں سکتا۔ وہ مجھے بھی نہیں تھوڑ سکتی کیونکہ میرے من میں بھی آزادی کی تمنا ہے، اپنے دل میں تو میں پوری آئرش قوم کی آزادی کی تمنا لئے ہوں اور مجھے یقین ہے کہ وہ سورج ضرور طلوع ہوگا کہ جب پوری آئرش قوم اس تمنا آزادی کا کھل کر اظہار کرے گی اور یہ وہی دن ہوگا کہ جب ہم اک نئے چڑھتے ہوئے سورج کو دیکھیں گے، اک نئی صبح دیکھیں گے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s