سرکش ریاستیں

135841499

خالد بلوچ 
دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ دنیا کے قبضہ گیر ریاستوں نے ہمیشہ محکوم اقوام کا استحصال کیا اور انکے سرزمین پر لوٹ گھسوٹ ماحول گرم کرکے مظلوموں کا استحصال کیا۔ لیکن محکوم اقوام نے ہمیشہ قابض کے خلاف انقلابی تحریکیں شروع کرکے ان سر کش ریاستوں کو عبرتناک شکست سے دوچار کرکے یہ ثابت کردیاکہ ظالم جتنابھی طاقتور ہو مظلوم اپنی مستقل مزاج جہد سے قابض کو شکست سے دوچار کرسکتاہے۔ دنیا کے بیشتر خطوں میں مظلوموں کی جدوجہد نے سرکش ریاستوں کو مجبور کیا کہ وہ اپنی پالیسیوں کو تبدیل کردیں اسی کے سبب مظلوموں سے عبرتناک شکست سے دوچار ہونے کے بعد ظالم ریاستوں نے ظلم کے نئے نت طریقے ایجاد کرکے معاشی و عسکری پالیسیوں کے نام پر مظلوم اقوام کا استحصال کررہے ہیں ۔ سرکش ریاستیں وہ جنونی ریاستیں ہیں جو کسی بین الاقوامی قانون کی پابند نہیں ہوتے ہیں اور ہمیشہ دوسرے ریاستوں کے خودمختیاری کو روند کر خودساختہ عالمی بادشاہیت کے دعویدار ہوتے ہیں۔ ان ممالک میں امریکہ ،برطانیہ فرانس، روس اور چین سمیت دیگر بہت سے سرکش ریاستیں ہیں جنہوں نے عالمی و علاقائی بالادستی قائم کی ہے تاکہ ان کے مفادات کے کوئی نقصان نہ ہوسکے۔ سرکش ریاستیں باتیں تو انسانی حقوق کی کرتے ہیں لیکن انسانی تاریخ میں جتنے قتل و غارت انہی ریاستوں نے کیے ہیں شاید کیسی اور نے کی ہوں۔ برطانیہ 19 صدی دہشت کے ذریعے دنیا کے ہر کونے میں اپنے فوجی طاقت اور استحصالی منصوبوں کے تحت مظلوم عوام کے سرزمین پر قبضہ لوٹ گھسو ٹ سے محکوم اقوام کا استحصال کرتا رہا ہے۔ دنیا کے تجزیہ نگار کہتے ہیں برطانیہ کا قبضہ اتنا وسیع تھا کہ سورج مشرق سے نکل کر مفرب میں غروب ہوجاتا ہے لیکن برطانیہ کا قبضہ اس سے زیادہ وسیع تھا۔ ایشیاء ، افریقہ اور امریکہ کے متعدد ممالک برطانیہ کے کالونی تھے۔ سرکش برطانیہ کا پالیسی تھا تقسیم کرو اور حکومت کرو جب برصغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی راج کررہی تھی اُس وقت برطانیہ نے ہندوستان میں مذہبی فسادات اور ذات پات کے نام پر تقسیم کا عمل شروع کردیا تھا۔ برطانیہ نے جس ملک پر قبضہ کیا وہاں کہ عوام کو یہ باور کروانے میں کامیابی حاصل کی کہ آپ جائل ہو ہم آپ لوگوں انسان بنانے آئے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سرکش فرانس نے افریقی ممالک میں ظلم کے پہاڑ برسائیں اسے پہلے فرانس نے 132 سال تک الجزائر پر اپنا قبضہ قائم رکھا۔ لیکن الجزا ئر کے انقلابی لیڈروں نے آزادی کی تحریک شروع کی تو سامراج فرانس کو مجبور کردیا کہ الجزائریوں کے سرزمین کو چھوڑ دے۔ سرکش امریکہ جو خود کو امن کا داعی کہتا ہے لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی فوجی بربریت نے دنیا کو جنگ کے نئے دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ اور امریکہ نے اپنے دہشتگردانہ پالیسی کے ذریعے مغرب اور خصوصاً اپنے عوام کو یہ باور کروانے میں کامیابی حاصل کی ہے کہ کمیونسٹ لادین اور اور بربریت پسند ہوتے ہیں۔ امریکہ نے دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے کمیونسٹوں کو ظالم اور دہشتگرد ظاہر کردیا تا کہ امریکی کی استعماری اور معاشی مفادات کو کوئی خطرات نہ ہو ۔ اگر محکوم اقوام نے اپنے بنیادی حقوق کے لیے جنگ کیا تو امریکہ کی دہشتگردانہ پالیسیوں نے ان تحریکوں کو اپنے ملک کی سیاست سے ایسے غائب کردیا کہ آج امریکہ میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں کبھی سوشلزم کی بنیاد پر کوئی تحریک یا جماعت اپنا وجود نہیں رکھتی تھی۔ جبکہ 60ء کے دہائی کے دوران براعظم امریکہ میں بہت سے سوشلزم اور کمیونسٹ تحریکیں ابھری تھی ۔ان ممالک میں کیوبا اور ویتنام سرفہرست ہے۔ اگر ہم کیوبا کی مثال لے تو امریکی ریاست نے کیوبا کے عوام پر ظلم کے پہاڑ برسائے ایک امریکی پولیس افسر کہتا ہے کہ ہم کیوبن لاگوں کی لاشوں کے حوالے سے عوام کو مبہم تعداد بتاتھے تاہم ہلاکتیں بہت زیادہ ہوئی تھیں ۔لیکن کیوبن عوام اور انقلابی لیڈروں نے سر کش امریکہ کے خوابوں کو شرمندہ کردیا ۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ طاقت کے ذریعے کسی بھی قوم کو غلام نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ کیوبا جب 1898ء تک ایک طویل جدوجہد کے بعد سپین سے آزادی حاصل کرلی تھی اس وقت امریکہ کے نظر میں اس ملک کی اہمیت میں اضافہ ہوا۔ ایک بیان میں امریکی حکمرانوں نے کیوبا کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا یہ ایک کچا پھل ہے اور یہ جلد پک جائے گا جب پھل پکے گا تو ہماری جولی میں آ گرے گا اس بیان کے بعد امریکہ نے کیوبا پر اپنی طاقتور فوج کے زریعے سن 1902 ء میں باقائدہ اپنے قدم جمع لیے۔ سر کش ریاست کے خلاف کیوبا کے انقلابی لیڈروں نے جنگ کرکے آخر کار سر کش ریاست کو مجبور کردیا کہ وہ ملک چھوڑ دے۔ 1959ء امریکی فوج کیوبا سے بائر ہوگے لیکن امریکی حکمرانوں کو یہ بات ہضم نہیں ہوا۔ اس لئے 1961ء میں کیوبا کے خلاف یک طرفہ امریکی معاشی پابندی لگادی اور تاریخ میں طویل ترین ہے اور اس کا یہ بھی منفرد پہلو ہے کہ غذا اور ادویات پر بھی پابندی عائد کردی ۔لیکن اس کے باوجود کیوبا کے انقلابی حکومت نے ناقابل یقین نظام صحت کو قائم کرکے امریکہ کو دنیا بھر میں شرمندہ کیا۔اگر کوئی بین الا قوامی و علاقائی تنظیم امریکی پالیسی کے مفاد میں کام نہیں کرتی تواس کے باقی رہنے کا جواز بہت کم ہوتے ہیں ا ورمریکی ریاست نے مشرقی اور جنوب ایشیا میں لاکھوں اموات کا باعث بننے والی مہلک منشیات تیار کی ہیں ان ملکوں کو معاشی پابندی کی دھمکی دے کر نہ صرف ان پریکٹس کو قبول کرنے بلکہ انکی تشہیر کرنے پربھی مجبور کیاگیا ہے۔ امریکہ جب عراق پر حملے کرنے جارہا تھا اس حملے کی ہر طرف سے مخالفت ہورہی تھی لیکن سر کش ریاست حملے کے دن کا یوں انتظار کررہے تھے جیسے نئے سال کا جشن منانا ہو اس ظالمانہ روائی کے بعد عالمی و علاقائی تنظیمیں خاموش تماشائی رہے ہیں۔امریکی ریاست بڑی ہی آسانی کے ساتھ بڑے پرسکون انداز میں ‘ انسانی دوستی کے نام پر مقامی باشندوں اور ان کے تہذیب کو نیست نابود کردیتا ہے ۔جب امریکہ نے ویتنام پر قبضہ کردیا تو اپنی مراعات یافتہ دانشوروں کے ذریعے ویتنام کے انقلابیوں کو ظالم لکھا۔ یہاں تک کے60ء کی دہائی تک امریکی عوام دل سے یہ یقین رکھتے تھے کہ ہمارے حکمران ویتنام میں بربریت اور دہشت گردی کے خلاف ایک عظیم جنگ لڑرہے ہیں ویتنام کے جنگ کے دوران امریکی فضائیہ نے ان گھنے جنگلوں میں ڈائی اوکسین اورنج نامی گیس کا سپرے کیا تھا جہاں شمالی ویتنام کے جنگجوں پناہ لیتے تھے اس گیس سے متاثر ہونے والے کئی لوگ آج بھی زہنی اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور اس جنگ میں ویتنام کے 30 لاکھ لوگ اور امریکہ کے 58 ہزار فوجی مارے گئے تھے لیکن ویتنامی انقلابی لیڈروں نے سرکش ریاست کے تمام حربوں کو ناکام بنائے ۔اور آج بلوچ بھی انہی حالات سے گذر رہا ہے ۔بلوچستان میں پاکستان کے قبضے کے خلاف انقلابی تحریک جاری ہے اب بلوچ قوم بھی اپنے جدوجہد کے ذریعے پاکستان کو اپنے سرزمین سے بے دخل کریں گے۔ پاکستانی ریاست بھی بلوچستان میں امریکی پالیسیوں جیسے پالیسی متعارف کروانے میں مصروف ہے۔ امریکہ نے ویتنام کی تحریک میں کمیونسٹوں کو جائل بربریت پسند قرار دیا پاکستانی ریاست بھی بلوچ قومی تحریک کو کاوئٹر کرنے میں اپنی مذہبی منصوبوں کے تحت بلوچ قوم کو مذہبی دہشتگردی فرقہ ورانہ جنگ کروانے میں مصروف ہے”لیکن بلوچ قومی کے عظیم فرزند ریاست کے تمام حربوں کو ناکام بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کررہے ہیں آج بلوچ اس فلسفے پر یقین رکھتے ہے آزادی اپنی ہی دم سے حاصل کی جاتی ہے نہ کہ بیرونی طاقتوں سے بیرونی طاقتیں ہمیشہ محکوم اقوام کا استحصال کرتے ہیں بقول بانک کریمہ کہ ہم عالمی دنیا سے اخلاقی ہمدردی چاہتے ہے ہمارے تحریک کو اخلاقی کمک کریں آزادی کی جنگ ہم خود لڑیں گے تاریخ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جس قوم نے اپنے سرزمین اور ثقافت کے لیے جنگ کیا تو ایسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔

خواتین بلوچ قومی تحریک میں

bso-azad-countinue-his-protest-for-free-zakir-majeed-110609-1

تحریر :سیوت بلوچ
تاریخ کامطالعہ کرنے سے ہمیں بہت سی ایسی مثالیں ملیں گے کہ خواتین نے قبائل، گروہ، سماج اور ریاستوں کی سربراہی کی ہیں۔ انسانی سماج کے تمام شعبہ جات میں خواتین نے نمایاں کردار ادا کی ہیں اور کررہے ہیں۔ جبکہ عورتوں کی فعال کردار ہمیں بلوچ قومی تاریخ میں بھی ملیں گی۔ حتی کہ انہوں نے اندرونی اور بیرونی مسائل بھی حل کی ہیں یا حل کرنے میں مدد دی ہیں۔لیکن ہمیں بلوچ سماج میں خواتین کے کردار انفرادی حوالے سے نظر آتے ہیں تاریخ میں کئی بھی یہ درج نہیں ہے کہ بلوچ سماج میں سماجی تبدیلی کیلئے خواتین اجتماعی طورپر ابھر کر سامنے آئے ہو۔
قومی آزادی کی تحریکیں پارٹی و تنظیموں کے بغیر نہیں لڑی گئی ہیں یعنی پارٹی و تنظیموں کے بغیر کوئی بھی تحریک نہیں لڑی جاسکتی ہیں۔ اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ خواتین کے شمولیت کے بغیر تنظیم اور پارٹیاں قومی تحریکوں میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکتے ہیں ۔بلوچ قومی تحریک میں سیاسی پارٹیوں کے اندر دیکھا جائے خصوصاً بی این ایم اور بی آر پی میں تو قیام سے لے کر آج تک ان میں ایسی کوئی خواتین قیادت نظر نہیں آتی ہیں جو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر بلوچی قومی تحریک میں نمایاں کردار ادا کر سکیں۔
قومی اور انقلابی تحریکوں میں طلباء تنظیموں کا ایک بہت بڑا کردار ہوتاہیں۔وہ اس لئے کہ یہ طلباء تنظیم نوجوانوں کو سیاسی تربیت کے ذریعے سیاسی محاذکے لئے تیار کرتے ہیں۔یہ غلط نہیں ہوگا اگر میں کہوں کہ قومی جدوجہد کو آکسیجن فراہم کرنے والے یہی طلباء تنظیمیں ہوتی ہیں۔ اسی طرح بلوچ قومی جدوجہد میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آذاد یہی عمل تسلسل کے ساتھ سرانجام دے رہا ہے۔چونکہ بی ایس او کی تاریخ طویل ہے اگر ہم بی ایس او کو ماضی اور حال کے تناظر میں دیکھے تو ہمیں بی ایس او میں خواتین کی کردار نمایاں نظر نہیں آئے گی۔البتہ بی ایس او آزاد میں چیئرپرسن کریمہ بلوچ کی کردار روشن باب کی مانند ہے لیکن اجتماعی حوالے سے المیہ یہ ہے کہ بی ایس او آزاد کی ابتدائی ایام سے تاحال بی ایس او آزاد میں کریمہ بلوچ کے علاوہ کوئی خواتین قیادت نظر نہیں آتی ہے۔آخر وہ کون سی وجوہات ہیں کہ ہمارے تحریک کے اندر کئی سال گزرنے کے باوجود خواتین کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ میری ناقص رائے کے مطابق اس المیہ کی بہت سی وجوہات ہوسکتے ہیں۔جیسا کہ ہم نے باقاعدہ طور پراجتماعی صورت میں عورتوں کو تحریک کے لئے تربیت نہیں دی ہے بلکہ ان سے صرف محدود پیمانے کے تنظیمی کام لئے گئے ہیں۔خواتین کارکنان کو یہ تربیت نہیں دی گئی ہے کہ خواتین کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حالانکہ ہمارے پالیسی ساز ادارے اس چیز سے بخوبی واقف ہیں کہ جتنے حالات سخت ہونگے اور اتنی زیادہ خواتین فعال کردار ادا کرسکتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود انفرادی طور پر جو خواتین تحریک میں شامل ہو جاتے ہیں پھر کچھ وقتوں کے بعد تحریک سے کنارہ کش ہو کر خاموشی اختیار کرتے ہیں۔میرے ناقص رائے کے مطابق یہ ہماری پارٹی پالیسیوں میں کمزوری کی علامات ہیں ۔میں بطور سیاسی کارکن اس المیہ کی زمہ داری سیاسی پارٹیوں پر عائد کرتی ہوں۔ ہمارے پارٹی لیڈر خواتین کی کاکردگی کی بات تو کرتے ہیں لیکن خواتین کو اجتماعی حوالے سے تحریک کا حصہ بنایا جائے اس حوالے سے کوئی عملی اقدام نہیں اُٹھایا گیا ہے ۔پارٹی کے ساتھ بی ایس او آذاد کے فیصلہ ساز اداروں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ بحیثیت انقلابی طلباء تنظیم بی ایس او آزاد نوجوان خواتین سیاسی کارکنان کیلئے پارٹیوں میں عوامی سیاست کرنے کیلئے اُن کی سیاسی سمت واضح کرنے میں ناکام رہا ہے۔ 
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ادارے منظم انداز میں خواتین سیاسی کارکنان میں سیاسی شعور پیدا کریں سیاسی شعور حاصل کرنے کے بعد خواتین معاشرتی پابندیوں کو تھوڑ کر عملی اور اجتماعی طور پر اپنے کرداروں کو اجاگر کریں گے اگرچہ یہ ایک طویل سیاسی عمل ہے مگر آنے والے وقتوں میں اس کے نتائج آنا شروع ہو نگے کیونکہ اب عورتیں چاردیواری سے نکل کر کھلی دنیا میں آگئیں ہیں۔اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ ہم اپنے عورتوں کو کس طرح سے سماجی طور پر ان روایات، اقدار اور اور فرسودہ نظریات سے آزاد کریں گے۔ان کی سیاسی حیثیت بہتر بنانے کے لیے ان کو اجتماعی طور پر متحد کر کے زیادہ سے زیادہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ دینا ہوگا ان کی منظم سیاسی تربیت کرنا چاہئے تاکہ وہ گوریلہ جنگ اور سیاسی میدان میں منظم انداز میں حصہ لے سکیں ان موجودہ حالات میں خواتین کو متحرک کرنا لازمی امر ہو گیا ہے۔

Students for Free Tibet (SFT)

Students_for_a_Free_Tibet_Protesters_marched_to_Lafayette_Park_from_the_Chinese_Embassy_in_D

By: Ruzn Baloch

           Youth always played an apparent role in the revolutionary struggles in past, and continue to do so today as well. Involvement in politics leads a student toward an active participation in political ruffles and fiscal crisis in the country. Students always meet the world with histories. It’s either Latin America or Africa; students had stood on first queue to defend their sovereignty.

            Tibet is an autonomous region of China, which is also called as the “Roof of the World” because it shares Mt. Everest with Nepal. But, Tibetan claims that Tibet is an independent state under the illegal occupation of China. 

             In 1912, the 13th Dalai Lama—Tibet’s political and spiritual leader—issued a proclamation reaffirming Tibet’s independence, and the country maintained its own national flag, currency, stamps, passports and army.  Dalai Lama further says; “China and Tibet are two different nations, their relation is just based on religion.” Before 1912, Tibet was under the Qing dynasty’s rule from 1720 to 1912. During the Qing rule of Tibet, the region was structurally, militarily and administratively controlled by the Qing dynasty. 

            In 1950, the newly established Communist regime in China entered in Tibetan borders and invaded Tibet. Today, Tibet is under Chinese occupation. The Chinese government justifies its occupation by claiming: “Old Tibet was backward and needed China to liberate it”. But all these are political tactics; either it’s Mao’s China or Union of Soviet Socialist Republicans (USSR), each preferred their own national interests first, and contemplated for others then. 

            Students-politics always made histories for any struggle. We, even, can say that students-politics is main ingredient for mass struggle. Students-for-Free-Tibet (SFT) works in solidarity with the Tibetan people in their struggle for freedom and independence. 

           Students-for-Free-Tibet (SFT) was founded in New York City in 1994 by a group of Tibetans, young students and supporters. The concept of SFT was adopted from the understanding of the critical role of students and youth who had played historical role in freedom struggles throughout the world history.

            Since that time, SFT has grown into an international network of students and non-students in more than 35 countries. Today, they have more than 650 high school, university and community chapters and one full-time office in New York City. There are few satellites offices and organizing hubs; SFT Canada has an office in Toronto, SFT India has an office in Dharmsala and SFT UK has an office in London. They work in solidarity with the Tibetan people in their struggle for freedom and independence. Their role is to empower and train youth as leaders in the worldwide movement for social justice. They believe every individual has the right to be free. Those who enjoy freedom have power and responsibility to make positive changes in the world.

            Interestingly, SFT’s leading leap is under women. Today, Pema Yoko is the acting executive director of SFT and National Network Leaders are: Tenzin Tselha, National Director SFT-India; Sonam Chokey, National Director SFT-Canada; Ellen Lees, National Director SFT-UK. 

           SFT has vividly spoken up about membership, finance, officers (leadership) and amendments in the preamble of its constitution. Membership of SFT is open to students of all grades, and funds of SFT are used to bring in speakers and activists advocating for the rights of the Tibetan people. 

          SFT achieved many goals and became most famous political organization in world. In 1996, SFT participated in the first Tibetan freedom concert in San Francisco, which drawn the attention of over 100,000 people towards the Tibetan cause. In 1998, SFT organized high-profile demonstrations across North America during the visits of then Premier Zhu Rongji and President Jiang Zemin of China. In 2001, SFT organized public gatherings, entitled “Mobilization for Tibet”, which marked as ‘a week of powerful demonstrations and civil disobedience’—just prior to the President Bush’s first-ever visit to China—-in Washington DC to draw attention towards the Tibet issue. In 2005, SFT began a worldwide campaign targeting the Canadian Corporation Bombardier for supplying the Chinese government with specialized technology needed to build a rail link connecting Tibet with China.

By partnering the Chinese government on the construction of the railway, SFT claimed that Bombardier has made themselves a partner in the occupation of Tibet by China. On July 1, 2006, the inauguration of the Gormo Lhasa Railway-3, Free Tibet Activists unfurled a banner over the Beijing railway station reads: “China’s Tibet Railway, Designed to Destroy.”

Tibetans, inside and outside of Tibet, opposed the Gormo Lhasa Railway on the grounds that it is a tool whom Beijing will use to overwhelm the Tibetan population, exploit Tibet’s resources, dilute Tibetan culture and devastate the Tibetan environment. In 2008, San Francisco, SFT activists captured the world’s attention with a daring action when they climbed the cables of the Golden Gate Bridge and unfurled a massive banner proclaiming China’s official Olympics slogan, “One World, One Dream”, and another banner with their answer, “Free Tibet.”

The dramatic action made global headlines and news footages were made broadcasted live worldwide. At least two Olympic torchbearers made bold statements in support of Tibet during their run with the torch. In January 2011, SFT and other US-based Tibetan organizations held a three-day protest in Washington. DC as Chinese President Hu Jintao made his first official state visit.

SFT used #TibetFlagChallenge as a social media campaign which went viral with participants from at least 48 cities in 18 countries who had shown the Tibetan flag in their own unique ways. This challenge was introduced in the commemoration of the third annual Tibetan Independence Day on February 13, 2015.

The flag, which is banned in Tibet and China, is an enduring symbol of the Tibetan people’s struggle for freedom and independence, and through the #TibetFlagChallenge participants were able to secure this symbol in their efforts to shape their future for a free Tibet.

On October 15, 2016, despite heavy security, SFT-India successfully parachuted a giant banner reading “Free Tibet” on the popular Western Coast of Goa, where the BRICS Summit was held and attended by Chinese President Xi Jinping. This action made “Tibet” a media focus. 

                On Press Freedom Day, SFT registered a report at Amnesty International against China for abducting Tibetan writers and intellectuals. 

Khenpo Kartse, a respected religious teacher who was abducted in 2013 by Chinese forces, efforts and protests of SFT pressurized china to release Khenpo, after spending two and a half years in prison.

                Every nation has a civil identity which tells that a nation is different from other, and every nation has the right to have a democratic and secular state. Struggle for Free Tibet will be continued till the day when Tibetan gets its sovereignty back.

State Policies against Baluch National Liberation Movement

baloch-sarmachar

By: Dostain Baloch

The Baluch National Liberation Movement, despite multiple odds, has made the state a patient of dementia, which is the reason that state conducts military operation indiscriminately against innocent Baluch children, women and elders, and loot-and-burn their homes in the military-operation-hit-areas. Because the state knows that the Baluch’s fifth attempt to regain its independence has gained strength from all required-aspects which are needed for a successful national liberation movement in the modern world of 21st century.

The ideology of Baluch National Liberation Movement is protected by political mass parties and the Baloch students’ organization. As Baluch National Movement (BNM) and Baloch Republican Party (BRP) are struggling to strengthen the movement politically among the Baluch masses of every class, and Baloch Students Origination-Azad (BSO-A) is educating Baluch students and youth about the liberation movement and working as a basic institution for building future leadership for Baluch nation.

For countering the political front of Baluch, the state has emerged its financed political mass parties—which are National Party (NP), Jamiat Ulema-i-Islam-Fazal (JUI-F) and Jamaat-e-Islami (JI)—in order to divert the attention of Baluch masses from Baloch National Liberation Movement, and to make the masses busy with fabricated issues.

 JUI has been made functional in entire Baluchistan through the madressa network (seminary network) which targets youth particularly through madressas and masses generally.

 JI operates particularly in the Jhalawan area of Baluchistan. Similar, NP is also made quite active in entire Baluchistan. The above mentioned pro-state political parties are directly lined up in the first queue to counter the Baloch National Liberation Movement.

The reaming pro-parliamentarian parties, Balochistan National Party-Mengal (BNP-M), Baluchistan National Party-Awami (BNP-A), are indirectly assisting the state by diverging the message of the Baloch National Liberation Movement due to the personal interests of the party leaderships, because everyone know that parliamentarian politics is neither the solution to the Baluch issue nor it had done anything for the collective interest of Baluch nation for last 70 years. In contrast, these pro-parliamentarian parties betrayed the Baluch nation since the beginning, and became the cause of sustaining state occupation stronger and prolonged. As a proof, we can see the sectors of education and health in Baluchistan only, which even don’t work properly and are made willfully backward along with wishes of these parties. Because a state wants to prolong its occupation via destructing the education and heath sectors of the occupied nation, and same case has made happened to the Baluch nation.

On the other hand, the Baluch armed organizations—Baluchistan Liberation Front (BLF), Baluch Republican Army (BRA), Baluch Liberation Army (BLA) and others—are struggling to protect the ideology of the Baloch National Liberation Movement through military means, because the enemy is well equipped and is doing genocide of Baluch nation by different means and tactics.  

In order to counter the Baluch armed organizations, state is trying to counter the Baloch National Liberation Movement through Pakistan Army, its intelligence agencies; Inter Services Intelligence (ISI) and Military Intelligence (MI), and other state-backed proxies; the local death squads and religious extremists/sectarians armed organizations which are Islamic State (IS), Lashkar-e-Jhangvi and its factions and Taliban. But, despite many odds, the Baluch armed organizations are protecting their homeland successfully.

The Baluch’s fifth attempt to regain its independence is lined up from all fronts, political; mass parties and students’ organization, and the armed organization. This is the reason that state has become a patient of dementia because it knows that it is not possible to crush any national movement with such multilayer protective mechanism.

Strengthening Baluch political, mass and students’ parties and organization, and armed organization is to strengthen the Baloch National Liberation Movement, which is the future of the Baluch nation. The Baluch nation should have faith in itself that the victory is its, because no power had won the war against any occupied nation in the world history, whether that was America against Cuba, China against Vietnam and France against Algeria, but ultimately the occupied nations had won the war of their independence. The fact is that Pakistan Army might defeat another state army, but can’t defeat a nation.

Now it is the responsibility of every Baluch individual, specially educated youth, to take part in the Baloch National Liberation Movement in order to counter every policy of state against the movement, because organizations and parties only can counter the state policies, not individually. The fifth attempt of regain of independence has completed its 17 years due to Baluch national parties and organizations. Therefore, being more politicized means being more strong politically, so every Baluch individual, men and women, boys and girls, should educate themselves politically by joining the Baluch political mass parties and students’ organization, and surely future will be of the Baluch nation.  

خواتین جدوجہد پارٹی تناظر میں

picture-for-blog

کمبر لاسی
اس کرہ ارض کی تاریخ میں عورت کا مقام ہمیشہ سے بلند رہا ہے ۔ عہد قدیم ہو یا عہد جدیدعورت کا کردار سماج کی ترقی میں بنیادی رہا ہے ۔ 
ابتدائی زمانے میں عورت اپنے قبیلے کے سربراہ کی حیثیت سے قبائل کو منظم رکھتے تھے۔ شکار کو آپس میں برابری کے بنیاد پر تقسیم کرنا ، موسم سرما میں اپنے قبائل کے لوگوں کے لیے جانور کے کال کے کپڑے بنا کر آپس میں تقسیم کرنا اور قبائل کے دیگر ضروریات کو مشترکہ جدوجہد سے پورا کرتے تھے ۔جب کاشتکاری کی آغاز ہوئی تو کاشتکاری سے لے کر جانوروں کو پالتو بنانا اور اُن کی دیکھ بال کرنے کی تمام تر ذمہ داریاں عورتوں پر تھے اور معاشرے میں عورت کا مقام مرد سے بلند تھا۔ تاریخ کے ہر موضو ع کو دیکھے چاہے’’ وہ جنگ ہی کیوں نہ ہو‘‘۔ عورت نے تاریخ کے ہر مقام میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔تاریخ کے ہر باب میں ہمیںRani Velu Nachiyarجیسی بہادر عورت ملیں گے۔ Rani Velu Nachiyar پہلی ہندوستانی عورت تھی جس نے برطانیوی سامراج کے خلاف بغاوت کی آواز بلندکیا۔بولیویا میں 1781ء میں ایک خاتون GreGoria Apazaنے ہسپانوی سامراج کے خلاف بغاوت کی رہنمائی کی اور 1782ء میں Bartolina Sisa نے ہسپانوی سامراج کے خلاف بغاوت کو آگے بڑھا یا ہے۔ بعد میں اسے گرفتار کرکے پھانسی دی جاتھی ہے۔ کولمبیامیں 1819ء میں Antonia Santosجو ایک کسان عورت تھی اس نے سوکورو صوبہ میں گوریلہ وں کی بغاوت کو متحرک کیااورہسپانوی فوج کے خلاف جنگ کا آغاز کیا اسے بھی بعد میں گرفتار کر کے اس کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا گیا او ر آخر Antonia Santos کو بھی سزائے موت دی گئی۔Ani Pachen ایک تبتی خواتین تھی جس نے چائنا کے خلاف جنگ میں 600جنگجوں کی قیادت کی۔اگرہم نیپال کی ماو سٹوں کا جائزہ لے تو ان کی گوریلہ کیمپ میں 30فیصد خواتین ہیں ان کو کیمونسٹ پارٹی آف نیپال نے منظم کیا ہے اور ان کو باور کرایا کہ سامراج کی شکست آپ کی جدوجہد پر ہی منحصر ہے اور آپ ہی انقلاب کے ہراول دستہ ہو ۔کیمونسٹ پارٹی کی بدولت عورت مردوں کے شانہ بشانہ جنگ میں برابری کی بنیاد پر اپنا کردار ادا کررہے ہیں ۔اگر ہم کرد قومی تحریک کا جائزہ لیں تو وہاں بھی خواتین گوریلہ محاذ پر برسر پکار نظر آئے گے اور کامیابی سے ہر محاذ پر دشمن کو شکست سے دوچار کررہے ہیں ۔کردوں کی خواتین کو اس طرح منظم کرنے میں کرد ستان ورکرپارٹی نے فیصلہ کن کردار اداکیا ہے اور معاشرہ میں مردوں اور عورتوں کو یقین دلایا ہے کہ غلام قوم کی کوئی روایات نہیں ہوتی ہے اور انقلاب نام ہی فرسودہ روایات کے خاتمہ کا ہے ۔ آج کرد معاشرے میں تر قی پسندانہ فکر اور برابری کی جو روایات ہے وہ کردستان ورکر پارٹی کی فرسودہ روایات اور استحصالی نظام کے خلاف منظم منصوبہ بندی ہے۔کردستان ورکر پارٹی کی منظم منصوبہ بندی کے سبب آج کرد قومی آزادی کے تحریک میں خواتین مردوں کے برابر محاذوں کے قیادت کررہے ہیں۔اسی طرح اگر ہندوستان کی ماو ئسٹ موومنٹ کی بات کریں تو وہاں بھی خواتین ہر محاز پر دشمن سے نبرد آزما ہیں اگر ہم ماو ئسٹوں کی حالیہ واقعاتوں کا ذکر کرے تو ہمیں ہندوستان کی پولیس پر حملے نظر آتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں پولیس پر حملے میں 40 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ۔اس واقعہ کی رپورٹ کے مطابق اس حملہ میں 300گوریلہ شامل تھے ان میں سے 70فیصد خواتین گوریلہ تھی۔ماو ئسٹوں کو منظم کرنے میں بھی ان کی پارٹی نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ مختصر اًیہ ہے کہ ان تمام تحریکوں میں خواتین کی فعال کردار پارٹیوں کے فیصلہ کُن کردار کے نتائج ہیں۔اب اصل موضوع کی جانب آتے ہیں بلوچستان کے آزادی پسند پارٹیوں اور تنظیموں کا جائزہ لیتے ہیں کہ انہوں نے قومی آزادی کی تحریک میں عورتوں کو کتنامنظم کیا ہے۔بلوچ نیشنل موومنٹ بلوچستان کی واحد پارٹی ہے جس کی جڑیں عوام میں پیوست ہے اور ہم سیاسی کارکنان بی این ایم کو بلوچستان کی مستقبل سمجھتے ہیں۔ بحیثیت سیاسی کارکن ہم حق بجانب ہے کہ بلوچ قومی تحریک میں پارٹی (بی این ایم) کردار کے تمام پہلو وّں کے نیک نیتی سے جائزہ لیں۔ بلوچ قومی تحریک میں عورتوں کے کردار کے حوالے سے بلوچ نیشنل موومنٹ کے پالیسی شائد واضح ہوں لیکن عملاً اس کے لیے زمین تیار نہیں کی گئی ۔بی این ایم میں چند ایک خواتین سیاسی کارکنان موجود ہیں جو پارٹی پروگرام کو پھیلانے میں دن رات ایک کررہے ہیں یقیناًان خواتین سیاسی کارکنان کی جدوجہد قابل ستائش ہیں لیکن یہ تلخ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ بی این ایم عوامی سطح پر خواتین کو پارٹی کا حصہ بنانے میں ناکام رہا ہے اور اس حقیقت کو جتنی دیر سے تسلیم کرینگے نقصانات اتنے زیادہ ہونگے ۔ بلوچ قومی تحریک میں ایک بد نصیبی یہ بھی رہا ہے کہ خواتین سیاسی کارکنان ایک محدود وقت کے لیے پارٹی یا تنظیموں کا حصہ ضرور ہوتے ہیں لیکن اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے مبہم کا شکار رہتے ہیں۔ بی ایس او آزاد کے پلیٹ فارم میں نوجوان خواتین سیاسی کارکنان اپنے طالب علمی کے زمانے میں انتائی متاثر کن کردار کے مالک ہوتے ہیں ، بی ایس او آزاد کے پلیٹ فارم میں ایسے سینکڑوں خواتین سیاسی کارکنان موجود تھے اور شائد آج بھی ہے جن میں قائدانہ صلاحیت موجود ہے لیکن یہ نوجوان خواتین سیاسی کارکنان اپنے سیاسی مستقبل کو خاندان و قبائلی رسم و رواج کے سامنے قربان کرتے ہیں ۔ شائد یہ تنظیمی تربیت کا فقدان ہو یا پارٹی کا فرسودہ روایات کے خلاف سخت موقف اختیار نہ کرنے کے سبب کے آج بلوچ قومی تحریک میں خواتین کے کردار کے حوالے سے یہ المیہ موجود ہے۔ بہر حال یہ اجتماعی کمزوریاں بلوچ قومی تحریک کے تنظیم و پارٹی میں موجود ہیں ۔ میرے ناقص رائے کے مطابق بی ایس او آزاد و بی این ایم اس خلا ء کو پُر کرنے کیلئے انتائی سنجیدگی سے سر جوڑ کر بیٹھے اور خاندانی و قبائلی فرسودہ روایات کے خلاف مصلحت کے بجائے واضح و سخت موقف اختیار کریں ۔

جہدِ مسلسل کے علامت’’ شہید سراج بلوچ

Untitled-222

محراب بلوچ
جہد مسلسل پر ایمان کی حد تک یقین رکھنے والے لوگوں کو ہرانا یا پھر مایوس کرنا کسی کی بس کی بات نہیں ہے۔بلوچستان میں ایسے بے شمار کرداروں نے جنم لیا ہے ،جو اپنے مقصد کی خاطر جہد مسلسل کی لمبی داستان لیے ہوئے امر ہوگئے ہیں ۔ان میں سے ایک کامریڈشہید سراج بلوچ ہے۔سراج کو اگر کوئی دیکھتا تو اْسے یہ جج کرنے میں دیر نہیں لگتا کہ یہ نوجوان ایک تاریخ رقم کرنے والے نوجوانوں میں سے ہے ،کیونکہ سراج اپنے ہمسروں سے قدرے مختلف اورایک عظیم سوچ کا مالک تھے۔اسکے رگوں میں آزادی کے خون دوڑے رہے تھے ،اسکی ہر مباحثہ جدوجہد اور آزادی پر محویت تھے۔سراج نے اپنا سیاست کا آغاز بلوچ نوجوانوں کی تنظیم بی ایس او آزاد سے 2011میں کیا۔یہ وہی دورتھا ہر نوجوان آزادی کی خواب لیے تنظیموں سے وابستہ ہونا شروع ہوگئے تھے۔ریاستی بربریت کیسامنے بلوچ نوجوان کوہِ البرز کی ماند کھڑے تھے۔
راقم کا سراج سے بھی اسی دوران ناطہ جوڑا۔ہم ایک ہی ساتھ کام کرتے تھے۔ہماری تعلق آواران کے مختلف چھوٹے چھوٹے گاؤں میں سے تھا۔مگر تنظیم نے ہمیں ہر کسی کو انکے اپنے گاؤں اور جھونپڑیوں سے نکال کر ہماری تربیت کے لیے ہمیں اکٹھا کیا تھا۔ سراج بلوچ جسمانی حوالے سے ہم سب سے لاگر اور کمزور تھا۔مگر اْسکا کمٹمنٹ اکثر سے مضبوط تھا۔سراج جزبہ اور حوصلہ مندی کا ایک پیکار تھا۔جب ریاستی تشدد اپنے حدود سے تجاویز کرگئے ،اکثردوست مالی حالات کا بہانہ کرکے بیرونی ممالک مزدوری کے لئے چلے گئے تو سراج اپنے علاقے اور تنظیم کاری میں مصروف بہ عمل رہے۔ حالات دن بہ دن سیاست کاری کے لیے ناگوارہ رہ گئے۔مگر سراج کا کہنا تھا کہ انقلابیوں کے لیے حالات کا ناسازگار کہنا اْسکی بزدلی کو عیاں کرتی ہے۔
شہیدسراج کا تعلق آواران کے علاقے بزداد میشود سے تھا۔سراج میشود کاچراگ تھا۔سراج اپنے مان باپ کو اتنا عزیز تھا کہ ااْنہوں نے اْسکا نام بندوک رکھا۔بندوک ایک بلوچی لفظ ہے جسکے لفظی معنی منسلک کے ہیں۔والدین نے اپنے اولاد کی کردار کو بچپن ہی سے محسوس کیا تھا ،کہ ہماری بندوک خود کو تاریخ سے منسلک کرے گی اور سراج نے وہ سب کچھ عملًا کر کے دیکھایا ہے۔
سراج بندوک نام سے مشہوررہا ،بندوک ایسا پیارا نام تھا۔ مجھ سمیت ہر کوئی اْسے اسی نام سے متوجہ کرتا۔سراج تنظیم کے زمہ دار کارکنوں میں سے ایک تھا ،بی ایس او آزاد آواران زون کے ہر پروگراموں میں موجود تھا۔آواران میں سراج زیادہ پمفلیٹ اور چاکنگ کی وجہ سے اتنا مشہور ہو گیا کہ پاکستانی آرمی ہمیشہ ہرکسی کو پکڑتا تو بندوک کی جگہ کاپوچھتے تھے ،بندوک کی جگہ وہ اسے بندوق کہہ کر اسکی جگہ اور دوستوں کا پوچھ لیا کرتے کہ بندوق کہاں ہے ؟ اسکا گھر کہاں ہے ؟سراج کی بہادری اور تنظیم سے والیہانہ وابستگی پاکستان آرمی کی سکون اور چھین لے اْڑے تھے ،آرمی نے تین دفعہ سراج کے گھر پر چھاپہ مارا۔ایک بار سراج آرمی کے ہاتھ آنے سے بچ گیا تھا۔جب تیسری مرتبہ سراج کو پیریشر دینے میں ناکام رہے تو پاکستانی بہادر فوج کو سراج بلوچ کی بوڑے والدین کی چھونپڑیوں کو راکھ میں بدل کر راکس کرتے ہوئے واپس اپنی بیرکوں میں چلے گئے۔ فوج ہر وقت کہتا تھا بندوق کہاں ہے۔
سراج بلوچ تنظیمی کاموں کے سلسلے آواران سے کولواہ کی طرف جارہے تھے کہ بزداد لینک میں آرمی کے چپے ہوئے اہلکاروں کی فائرنگ سے زخمی حالات میں آوارن آرمی کیمپ میں شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوگئے۔
فوج کے نفسیاتی شکست یہاں بلکل واضح ہے کے سراج بی ایس وا آزاد کا ایک ورکر تھا۔سراج کو بھی برداشت نہیں کیا جاتا تھا۔فوج کا کہنا ہے کہ ہر اْس بلوچ ٹارگٹ ہوگی جن کی وابستگی آزادی پسند وں سے ہو،کیوں ہی نہ وہ طالب علم ہو۔ اسطرح کے عمل سے دشمن ہماری تحریک کو کمزور ہونے کے بجائے مزید مظبوط کر رہی ہے۔تحریکیں سر کٹانے سے نہیں بلکہ سر خم کرنے سے ختم ہوتی ہیں۔
ہمارے شاعر عطا شاد کہتے ہیں کہ 
تو پہ سرانی گوڈگ ءَ زندے ھیالا نا کشے
پہ سندگ ءَ داشت کنے پھلاں چہ بو تالانی ءَ 
پھولوں کی خوشبو کو نکالنے سے کوئی روک نہیں سکتا اگر پھول کو مزید چیڑتے ہو یا کاٹتے ہو مزید خوشبو نکلتے ہیں۔

عظیم طلبہ تنظیم ‘‘بی ایس او آزاد‘‘

2BkU-qM5

تحریر : دلدار بلوچ
غلامی کو قبول نہ کرتے ہوئے علم وشعور سے لیس ،لیڈر شپ کی صلاحیت، حوصلہ، پختگی اور ہر قسم کے کٹھن حالات سے مقابلہ کرنے والے بی ایس او آزاد ہی کے کارکن ریاست اور اُن کے گماشتوں کے آگے پہاڑ کی مانند کھڑے ہو کر انکے سیاہ کردار کو قوم کے سامنے آشکار کررہے ہیں اوربلوچ نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرکے غلامی جیسی ناسور شے سے چھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے عملی میدان میں جدوجہد کررہے ہیں۔جبکہ ریاست اور اُن کے گماشتے علم وشعور سے لبریز بی ایس اوآزاد کے کارکنوں کو راستے سے ہٹانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑرہے ہیں ۔بلوچ نوجوانوں کو اغواء کرنا، انکی جسم کو مسخ کرکے لاشوں کو ویرانوں میں پھینکنے کا تسلسل جاری رکھا گیا ہے تا کہ بلوچ نوجوانوں کو زھنی طور پر مفلوج کرکے بی ایس او آزاد اور تحریک آزادی سے دستبردار کرانے پر مجبور کرسکیں۔ مگر بی ایس او آزاد کے نوجوانوں نے شروع دن سے ہی ریاست کے سامنے سرخرو ہوکر ہر قسم کی رکاوٹوں، تشدد، دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے اپنی جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 
بلوچستان کے ہر دیہاتوں شہروں میں بی ایس او آزاد کے کارکنوں نے غلامی کے خلاف آواز اٹھاکر کسانوں، مزدوروں، اور ہر طبقہ فکر کے لوگوں میں شعور پیدا کرکے ان کوعملی میدان میں متحرک کیا ہے۔ جو کہ ریاست اور انکے پالے گئے سرداروں کیلئے کسی بڑے پریشانی سے کم نہیں۔خاص کر دیہاتی علاقوں میں پارلیمنٹ پرست جو کے ووٹ حاصل کرنے کے بہانے کسانوں اور سادہ لوح بلوچ عوام کے سامنے بڑے سے بڑا نعرہ لگا کر عوام سے ووٹ حاصل کر کے ہر دور میں عوام ہی کی استحصال کرتے ہیں۔ اور ان پارلیمانی سیاست کرنے والوں نے یہ بات کبھی برداشت نہیں کی ہے کہ کسان کا فرزند تعلیم حاصل کرکے مستقبل میں انکے استحصالی نظام کو قبول نہ کرتے ہوئے انکے شیطانی عزائم کو مسترد کریں۔
اسطرح پارلیمانی سیاست کرنے والے معتبروں اور سرداروں نے پارلیمنٹ میں رہ کر اسکولوں اور دوسرے درسگاہوں پر اپنے لوگوں کو ٹیچر صرف تنخواہ وصول کرنے کیلئے منتخب کیے ہیں تاکہ غریب کے بچوں کو تعلیم سے دور کریں یا تو اسکولوں اور درسگاہوں کو فوجی چھاونیوں میں تبدیل کریں تاکہ یکسر طور پر بلوچ نوجوانوں کو تعلیم سے دور کرکے بلوچ قوم کو مزید غلام بناکر انکی بخوبی استحصال کرسکیں۔
کیونکہ ریاست اور اسکے آلاکاروں کو یہ بخوبی پتہ ہے کہ قلم اور کتاب ہی واحد زریعہ ہے جس کے زریعے غریب کسان کی اولاد میں علم وشعور آتی ہے اور وہ کسی صورت میں انکی طرف سے سرزد کیے گئے استحصالی نظام کے لئے موت کا سبب بنیں گی۔
تعلیمی اداروں میں ریاست نے غلامانہ نظام تعلیم کو بلوچ نوجوانوں پر مسلط کیا ہے۔ تاکہ وہ بینکنگ نظریہ ایجوکیشن حاصل کرکے نوکری کرنے کا سوچ رکھ کر صرف اور صرف اپنی زات کیلئے تعلیم حاصل کرکے اپنی سوچ کو محدود دائرے میں بند کرکے زہنی طور پر مفلوج ہو جائے اور نوکری کیلئے میروں اور سرداروں کے جوتوں کو سجدہ کریں اور استحصالی نظام اور قومی غلامی کے خلاف آواز نہ اٹھائیں۔
مگر بی ایس او آزاد ہی نے ریاستی غلامانہ نظام کے طرز تعلیم کو یک سر مسترد کرکے بلوچ نوجوانوں کو علم وشعور سے لبریز کرکے سیاسی طور پر مضبوط اور حوصلہ مند نوجوان پیدا کیں ہیں۔
اسطرح تعلیمی اداروں اور دوسرے علاقوں میں بی ایس او آزاد جیسی عظیم بلوچ طلبہ تنظیم کی موجودگی کو ریاست اور اسکے آلاکاروں نے برداشت نہیں کی ہے۔ اور بی ایس او آزاد کے برعکس خودساختہ تنظیموں کو متحرک کرکے ریاست نے اپنے آلاکاروں کو فنڈنگ کی تاکہ وہ بلوچ طلبہ کو اپنی طرف لاکر اس عظیم طلبہ تنظیم سے دور کریں ۔ مختلف طریقوں میں اپنے آلاکاروں کو سرگرم کیں ہیں مگر اسکے باوجود کسانوں، غریبوں کیلئے آواز بلند کرنے والے تنظیم نے اپنے وجود کو برقرار رکھتے ہوئے ریاستی مشینری کو ناکام کرتے ہوئے اپنے جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ بات واضح ہے کہ گماشتہ تنظیم کوریاست اور انکے آلاکار حوصلہ افزائی کرکے بلکہ ان کہ ہر قسم کی مالی معاونت کررہے ہیں تاکہ خود ساختہ تنظیموں کے زریعے ایک طرف تو پارلیمانی سیاست مضبوط ہو جائے اور دوسری طرف بلوچ طلبہ کی سوچ مفلوج ہوکر رہ جائے۔ 
مگر تعلیمی اداروں میں بی ایس او آزاد کی موجودگی تو دور کی بات ہے صرف اس عظیم بلوچ تنظیم کی نام پر ریاستی آلاکاروں کے پسینے نکلنا شروع ہوتے ہیں۔ اور وہ اس عظیم طلبہ تنظیم کی موجودگی کو کسی طرح برداشت نہیں کرسکتے اور وہاں فوری طور پر فوج اور ریاستی ایجنٹ متحرک ہوتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اس کے کارکنوں کو کچل سکیں مگر یہ انکی بھول ہے کہ نوجوانوں کو کچلنے سے انکے سوچ اور نظریے کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ جس طرح ڈاکٹر چے گویرا آج ہر نوجوان کے دل میں بسا ہے۔ اسطرح بی ایس او آزاد کے ہزاروں کارکنان کے اغواء کے باوجود روز بہ روز بی ایس او آزاد مضبوط ہوتا جارہا ہے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ ہر ادوار میں جیت مظلوم کا ہے اور ریاست کتنی ہی طاقت ور کیوں ہی نہ ہو مگر مظلوموں نے ہر طاقت کو شکست دی ہے۔ اور اسطرح بی ایس او آزاد مظلوموں کی آواز ہے، کسانوں کی آواز کو بلند کرنے والے عظیم سوچ اور نظریے کے مالک تشدد اور اغواء کے خوف سے اپنے مقصد سے پھیچے ہٹنے والے نہیں ہیں ۔ ریاست نے اپنی پالیسیوں کو اس طلبہ تنظیم کو کچلنے کیلئے ہر طرح آزمایا ہے مگر انکو اب تک بد ترین ناکامی کا سامنا ہوچکا ہے۔ اور بی ایس او آزاد نے اپنے ساخت کو مضبوط سے مضبوط تر بنایا ہے۔ اور بناتا رہے گا چاہے کسی قسم کی قربانی درکار ہوں ہم اپنے عظیم مقصد کیلئے ڈٹے رہیں گے اور ایک قدم پیچھے نہیں ہٹیں گے!

آئی ایم آلسو لیارین

694083-lyarifootballscreenshot-1397162978-616-640x480

مہلب بلوچ
یہ جبلتِ انسانی ہے کہ اُسے اپنا جنم بھومی کی جگہ کا محبت سات سمندر پار بھی اپنی طرف کھینچ لاتی ہے ۔یہ ایک ایسی محبت ہے جو تا ابد ہے ،کھبی بھی اسکی شدت میں کمی واقع نہیں ہوگی۔یہ محبت شاعروں کو اپنی داستان پر شاعری کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔سائنسدانوں کو ریسرچ پہ اُکساتا ہے اور وسائل کے ہوس میں تڑپے لوگوں کو اپنی وسائل کی انبار کو بڑھانے کی خاطر دوسروں کی زمین اور وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے ایک بد مست ہاتھی بنا دیتی ہے۔فلسفی حضرات کو کیوں،کیسے،کب،کہاں کی جواب کے تلاش میں مصروف کردیتا ہے۔ایک فرمانبدار اولاد کو اپنے خودمختاری پر مر مٹنے پر تیار کر دیتا ہے۔ایسے ہی میری جنم بھومی کی جگہ بھی مجھے قلم اور کاپی کی رشتے کو سمجھنے کے بعد سے لے آج تک موٹیویٹ کرتی رہی کہ میں بھی اپنی جنم بھومی کی جگہ پر کچھ رقم کر سکوں ۔
خوش قسمتی سے میری تعلق بلوچ سرزمین کا وہ حصہ جسے بلوچ تاریخ میں ایک بڑی اہمیت حاصل ہے ۔وہ ہے شہید اُستاد صبا دشتیاری،اسلم،حاجی رازاق،حکیم بلوچ،یوسف نسکندی،بی ایس او کی جنم بھومی کی جگہ ،بلوچ سیاست میں مرکزی حیثیت حاصل کرنے والا لیاری ہے۔
میرا تعلق ایک ایسے علاقے سے ہے جو اپنے اندر کہیں کردار لیئے چپے ہیں،جس میں فٹبالروں،بوکسروں،شاعروں،فن کاروں ،آرٹسٹوں،اور دانشوروں کی ایک لمبی لسٹ لئے ہے جوہمیشہ سے اپنے باسیوں کے لئے باعثِ فکر کی علامت بنتی رہی ہیں۔
لیاری جو آج ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ریاستی ادارے اپنے تمام ستونوں کو بروکار لاکر اسکی اصلی امیج کومسخ کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔لیاری وہ علاقہ ہے جس نے بلوچ ادیب ودانشور شہید صبا دشتیاری کی جائے مقام ہے جو بہادری کی علامت بن کر تاریخ میں شمع کی حیثیت حاصل کرکے امر ہوئی ہے ۔صبا جو کراچی پریس کلب کے سامنے استحصالی طبقوں کو انکی اصلیت بتانے پر بضد تھے ،اُیسے ریاستی دھمکیاں بھی اپنے راستے سے ہٹانے میں ناکام رہے ہیں ۔آج بھی لیاری سمیت بلوچستان کی انرجیٹک طبقہ اسکی فکر و فلسفہ کو اپنی منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے کمر بستہ ہیں۔
جب ہم بلوچ سیاست کو تاریخ کی تناظر میں دیکھتے ہیں تو ہمیں کماش خیربخش مری ،عطا اللہ مینگل ،غوث بزنجو کے ساتھ ساتھ لیاری ہی کی بے باک دانشور حضرات کی بھی ایک لڑ مل جاتی ہے جس میں لالا لال بخش رند،یوسف نسکندی سمیت کہیں جانباز وں سے واقفیت ہوتی ہے کہ جنہوں نے بلوچ سیاسی تاریخ میں ایک بڑی مقام حاصل کی ہیں ۔لیاری سیاستدانوں اور دانشور کا بسیرا رہا ہے اور وہ تسلسل کو شہید اُستاد صبا دشتیاری، حاجی رازاق،حکیم بلوچ،اسلم بلوچ لیاری سمیت سینکڑوں نوجوان نے اپنے خون سے اُس تاریخی ورثا کو بچائے رکھا ہے ۔
یہ سارے عمل ریاست کے لئے نیک شگون نہیں تھے تو ریاست کو ہر حال بلوچستان کے لیے اُٹھائے گئے آواز کو روکنی تھی کیونکہ یہ عمل اُسکی وجود سے وابستہ تھی،اسی کی منا سبت سے لیاری جو کہ بلوچ سیاست میں اسے ایک مرکزی حیثیت حاصل تھی ۔اس حیثیت کو ختم کرنے کے لئے وہاں پاکستانی پارلیمنٹرین پارٹیوں جس میں پاکستان پیپلز پارٹی پیش پیش تھی لیاری کو ایک موت اور جوئے کے اڈے میں تبدیل کرنے کے لئے باقاعدہ متحرک ہو گئے ہیں ۔سب سے پہلی ترقیاتی کام پی پی پی نے کی وہ تھی گینگ وارز کی گروہ کی تشکیل،دوسری منشیات کے اڈوں کا قیام ،تیسری بڑی ترقیاتی کام اغوا برائے تاوان،چوتھی بڑی کام انہی گروہ کا لیاری ہی کی گلیوں میں آپس کی لڑائی ۔ 
نوجوان جو ایک قوم میں ریڈ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں انہیں بے حودگی اور منشیات کی جانب دکیل دیئے گئے ۔اُس سے پہلے لیاری کے ہوٹلوں اور میدانوں میں نئے شاعر اپنے لکھے ہوئے شاعروں کو اپنے استادوں کے سامنے حوصلہ افزائی کے لیے پڑھا کرتے تھے،موسیک کار اپنے موسیکی میں مشغول تھے ،فٹبالر اپنے ٹورنامنٹوں کی تیاری میں مصروف تھے ،سیاسی ورکر بلوچستان کی آزادی کے لیے پوسٹرز اور اسٹیکرز چپکانے میں مصروف تھے ،بلوچ رہنما جلسہ و جلوسوں میں اپنے پیغام پہچانے میں گلاہش تھے ۔یہ سارے عمل ایک صحتمند معاشرے کی علامت تھے اور یہ قابعض کی وجود کے لئے چیلنجز تھے تو اُس چیلنجز کو حل کرنے کے لیے ریاست نے لیاری کی پرامن اور خوشحال فضا کو خون آلودہ بنا دیا تاکہ اُسکی وجود کو کوئی مسلہ درپیش نہ ہوں۔
لیاری جو سیاست ،کھیل کود،امن وخوشحالی کا ایک علامت تھا وقت کے قبضہ گیر حکمرانوں نے میرے درھتی کوایک خوف و دہشت کی علامت بنادیا گیا ۔ لیاری کی ہر گلی خون آلودہ ہوگئی ،لیاری کے بوڑے ماں اپنے اکلوتے بیٹھے کی لاش پر اُسکی چیک وپکار نے سارے لیاری کوغم سے نڈھال کر دیا ہے ،شہزاد کی ماں کی چیک و زاری نے کلری کو رولا دیا ہے۔لیاری کے اولاد وں کے لئے چاروں طرف سے گولیاں ہی گولیاں برساہی جا رہی ہیں ایک طرف سے گینگ وار دوسری طرف سے امن کو برقرار پر آئے ہوئے رینجرز کے اہلکاروں کی نشانے میں ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہو رہے ہیں۔ایک جانب مذہبی انتہا پسندوں کی شکار میں ہیں۔
آج میرے دھرتی کا اکثریتی نوجوان منشیات کے اڈوں پر ڈھیر سارے چوٹے اپنے جسم پر سجا کر موت کی انتظار میں ہر گلی کے کونے پر کہیں دنوں سے ایک لاش بن کر پڑھے ہیں۔
آج میرے لیاری کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ،جب میرے ماں اپنے ہمسائے کھچیوں کے ہاں پانی بھرنے جاتے ہیں تو وہ جو لیاری کے وارث بھی نہیں ہیں مگر لیاری کے باشندوں کو گالم گلوچ کرکے اُنکی بالٹینوں کوانکے ہاتھوں سے چین کر کہیں دور سڑک پر پھینک دیتے ہیں۔ہمارے لوگوں کی حالات آج روہینگیا کے مسلمانوں اور بنگلادیش کے بہاریوں سے بھی بد تر ہیں۔
جب بات ہو مرے دھرتی لیاری کی اور وہاں بلوچی ادب میں ایک قلیدی کردار کا مالک مراد ساحر کا ذکر نہ ہو تو ناانصافی ہو گی کیونکہ مراد ساحر ہی وہ شاعر تھے جنہوں نے اپنی شاعری کی نوک پر نوجوانوں کو جدوجہد کے لئے متحرک کر رکھا ہے ،اپنے شاعری کے ذریعے بلوچستان کے نااہل اور کمزور میر و نوابوں کی اصلیت سے اپنے عوام کو آگاہی دیتے رہے ۔مراد ساحر کا یہ نظم اُسکی کردار کی پرچار کے لئے کافی ہے۔
نہ المءِ شوک نہ کَوم ءِ دوستی نہ سُددنیا ءِ
چشیں بے جوھر ءُ جاندُز ءُ سُستیں نوجوان ءَ سوچ
ایک دوسرے جگہ علاقے کی کم ظرف میرو متبروں سے متوجہ ہو کے کہتا ہے کہ :
پہ نان ءِ چُنڈے ءَ چورو جنوزام لوگ سد گال اَنت
چشیں کَوم ءِ لجوزیں اے امیر ءُ واجھان ءَ سوچ
بلوچی زبان کے شاعروں کے ساتھ ساتھ میرے لیاری موسیکی اور گلوکاری کا بھی ایک مرکز رہا ہے ۔بلوچی موسیکی پر راج کرنے والا گلوکار اُستاد عبدالستار کا تعلق بھی میرے ہی لیاری سے تھا۔وہ اپنے دُن اور راگوں سے دوسرے قومیت سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بھی اپنی دنیا میں لے جاتا تھا۔میں یوں کہوں کہ بلوچ سماج کے اکثریتی گوہروں کا تعلق اُستاد صبا،حاجی رازق،حکیم اور شہید شہزاد کے لیاری سے ہی تھے۔
آج بھی میرے لیاری میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے ،آرٹسٹ جواد بلوچ اور اُزمہ چہروں پرمسکرائٹ لئے یہ دو نوجوانوں نے دنیا کے کامیاب لیڈروں اور فلمی اداکاروں کی تصاویرکے اسکیچ کرنے کا مقصد دنیا کو یہ تاثر دیناہے کہ دیکھو ہم دنیا کی امن وآشستی کے لیے اپنے فن کے ذریعے اپنا پیغام دنیا تک دینا چاہتے ہیں کہ ہم امن پسند اور پرامن لوگ ہیں ۔یہ خون خوارریاست ہے جو ہمیں دنیا کے سامنے دہشتگرد ظاہر کرکے ہمیں اور ہماری جدوجہد کو ختم کرنے پر تلُا ہوا ہے۔مگر ہم اپنی فن سے دنیا کوکہنا چاہتے ہیں کہ دہشتگرد ہم نہیں بلکہ ریاست خود ہے اور ویہی دنیا کی امن کو تباہ کرنے پر تلا ہے۔دنیا کی نظروں میں سرفرست والے دہشتگرد ہمارے سرزمین میں ہمارے ہی خلاف متحرک کر دیئے گئے ہیں ،کھبی طالبان کی روپ میں آکر اسُتاد صبا کو شہید کر دیتے ہیں تو کبھی امام بیل بن کر لیاری کے نوجوانوں کو منشیات کا آدھی بنا کر انسانیت کے دائرے سے نکال باہر کر دیتے ہیں۔

تمرد ءُ شیریں حمل

0

داد جان بلوچ

مرچی ءَ چہ پنج سَد ءْ ھبدہ سال ءَ پیش یک زوراکیں راجےءَ مکران ءِ تیاب دپ ءِ سَرءَ اْرش کت ءْ لْٹ ءْ پل بندات کت۔ اے زوراک یورپی راج پْرتگیزبوتگ۔ آ ایشانی مَستر احمد بن بخدی بوتگ۔ راج دپترءَ چہ بازیں گپانی شاھدی رَسیت۔ دپتر زانت گوشنت کہ پرتگیزی مکران ءِ تیاب دپ پسنی ءَ گوں وتی آپی گراباں اھتگ اَنت ءْ داشتگ اِش۔ ایشی ءَ چہ پد 1515تاں1571آھانی روگ آھگ برجاہ بوتگ۔ مکران ءِ تیاب دپ ءَ قبضہ کتگ ءْ مھلوک لْٹ ءْ کٹ کتگ ءْ مال ءْ دلوت ھم برتگ اَنت۔ گڈاں بامرد ءْ تمردیں بلوچ پْسگ حمل جیئند گوں پرتگیزیاں مزنیں جنگ ءْ چوپے بندات کنت ءْ پرتگیزی زوراوراں پونزءَ رسینیت۔نمیرانیں حمل ءِ نام بلوچ راج دپترءَ مدام چو روکیں چراگ ءَ انت کہ آرا کسے شمشت نہ کنت۔
گْشنت کہ وھدے شانزدھمی کرن ءَ پْرتگیز ی وتی گرابانی دیم ءَ ہندوستان ءِ نیمگ ءَ دینت ھمے سفرءِ میان ءَ تیاب دپ ءِ بازیں بہرے دستی کن اَنت 1506 ہندوستان ءِ تیاب دپ وتی دست کنگ ہور خلیج فارس ءَ بگر تاں ھندوستان ءَ سندھ ءْ مکران ءِ تیاب گوادر، پسنی ،مکران ءِ کلین تیاب دپ وتئی دست ءَ کتگ اَنت۔
مکران ءِ تیاب ءَ پرتگیز اْرش کنگ ءَ پد لٹ ءْ پل زوراکی بندات کن ت۔ ھنچو گْشنت کہ پرتگیزیاں قبضہ کنگ ءْ ھکومت کنگ ء واستہ تیاب وتئی دست ءَ کتگ اَنت۔ آھانی ارش روچ پہ روچ ءَ گیش بوان بوتگ اَنت۔بلوچ وتی تیابانی رکینگ ءِ ھاترءَ میر حمل کلمتی گور ءَ شْت اَنت کہ آھانی بیوپاری راہ تیاب ءَ زِر پرتگیزیاں وتئی دَست ءَ کْتگ۔۔
حمل پہ تمردی ءْ مڈاہ داری وتی لشکرے جوڈ کنت۔گْشنت کہ پرتگیزیانی کَچ سَک باز بوتگ۔بلئے حمل پہ تمردی آیانی دیم ءَ چو کوہ ءَ مِک بیت۔ آ یک جنگی بوجیگے اڈ کنت کہ نام ءَ شاگ ءِ ے کنت۔
جنگ سک مزن بیت۔ بلئے گڈسر ءَ تمردیں حمل پرتگیزیا ں پروش دنت۔ پرتکیزی واتر بنت ءْ مھلوک پدا آسودگی ساہَ کَشیت۔
مردم کسہ کارنت کہ یک روچے حمل گون وتی ھمراہ ءْ ھمبلاں پہ سیل ءْ شکارءَ شاگ ءِ سر ءَ زر ءَ در کپیت۔ ھمے وھد ءَ مزنین توپانے کیت کہ چول دیان ءَ شاگ ءَ ھندوستان ءِ زرءَ سرکنت۔ آ وھدءَ ھندوستان ءِ زِر پرتگیزیانی دَست ءَ بَنت آ وھدے شاگ ءَ گندنت گڈااے دیم ءْ آدیم چپ ءْ چاگرد ءِ ے کن انت۔ توار جَن اَنت کہ میر حمل وت ءَ مئے دَست ءَ بدئے۔
بلئے میر حمل وت ءَ آیانی دست ءَ دیگ ءَ چہ گیش جنگ ءَ ارزشت دنت۔ بلئے ھئیپ کہ آئی ءِ دست ءِ زہم کپیت۔ ھمے وھد ءَ آ گوشیت۔
* منی سگار من ترا چہ وتی بچاں دوست داشت اَت
*من ترا چہ وتئی بانکیں جنک ءَ دوست داشتگ اَت
*تو چیا چہ حمل ءِ شیری پنجگاں کپت ئے ماں زر ءَ 
*تیگ من ءَ گندیت ءْ زِرءَ گندیت ،چہ من بہتر آ زِرءَ گندیت۔
حمل ءِ زہم ءِ کپگءَ گوں پرتگیزی وتی دام ءَ حمل ءِ سر ءَ دور دینت ءْ آئی ءَ دزگیر کن اَنت۔ آئی ءَ گوں گوک بندیں ریزاں بندنت۔
حمل گْشیت کہ حمل ءَ مرگ ءِ چار چیز وش بنت۔ جاھو ءَ میڈ، راجرو ءَ آسک پہ وشی گَل کن اَنت 
گْشنت کہ وشی بہ کن اِت کوھاں بہ چر اِت کہ نو کَسی تْرس نیست،
حمل شْتگ نو کَس مارا شَل سریں تیراں نہ جنت
گْشنت کہ اے جنگ ءَ چیزے دشتی حمل ءَ ہمراہ بوتگ کہ آ چہ مَرگ ءَ تْرس اتگ ءْ جستگ اَنت۔ ہھمے واستہ بلوچی بتلے کہ حمل ءَ ھمراہ بے دلیں دشتی بوتگ اَنت۔
میر حمل آیانی بندیگ بیت بلئے آ حمل ءَ بازیں لب ءْ ملامے دیگ ءِ جہد کن اَنت کہ حمل آیانی گوما ھمگرنچ بہ بیت ءْ آیانی جنکے سانگ بکنت کہ آیانی نسل ءِ توک ءَ حمل ءِ وڑیں بامردے ودی بہ بیت۔ بلئے میر آیاں تچکیں پسو دنت کہ
جن فرنگانی حمل ءَ پسند ءَ نہ بنت
وت گشئے ھوک اَنت، چک گشئے ھوکی گلڑ اَنت
پشک اِش لکْ اَنت ناپگانی کنڈاِش دراَنت
ناہی چانگالاں گوں مکسکاں ایر بر اَنت
پرچا کہ حمل زانت کہ آ تہنا یک مردمے نہ اِنت بلکیں وتی راج ءِ چم ءْ ٹیلگ اِنت۔آ راج ءِ تمردی ءِ چیدگ اِنت۔ ھمے واستہ آ مَرگ ءَ وش اَتک کنت بلئے پروش نہ وارت ءْ بلوچ راجدپتر ءِ تاکانی توک ءَ مدامی نیمران بیت۔

بلوچ تحریک میں عورت کا کردار محدود کیوں؟

Untitled-1-copy

دنیا کی مختلف تحریکوں اور بلوچ قومی تحریک کا تقابلی جائزہ
:چراغ بلوچ
مولانا رومی کے بقول عورت خدا کی روشنی ہے، یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ عورت ہی وہ مخلوق ہے جس نے خاندان کوانکی معاشی مسائل سے چھٹکارا دلانے کی خاطر زراعت ایجاد کی ۔عورت ہی وہ مخلوق ہے جس نے زراعت ایجاد کرنے کی شکل میں معاشرتی ترقی میں ایک انقلاب برپا کیا ، معاشی انقلاب سے پہلے پیٹ بھرنے کا واحد ذریعہ شکار تھا ،اور وہ کام خاندان کے اندر مرد سر انجام دیتے تھے۔عورت گھر میں بیٹھ کر بچوں کی پرورش کیا کرتے تھے ۔ زراعت کی ایجاد کے بعد سے عورت کی معاشرے میں ترقی اور فلاح بہبود میں برابری کا حصہ چلی آرہی ہے۔آج کی اس جدید دور میں وہ معاشرے جو ترقی کی عروج پر ہیں اُن معاشروں میں عورتوں نے اپنا برابر کا حصہ ادا کیا ہے۔
درجہ ذیل میں ممالک اور اداروں کی تعمیر میں عورتوں کی کردار کا ایک سرسری جائزہ لیا جائے گا اور انہیں بلوچ سماج میں بلوچ عورتوں کی کردار کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی جائے گی۔
تاریخ ہمیشہ بہادر اور حوصلہ مند انسانوں پر ناز کرتی ہے، تاریخ کا یہی اصول عورتوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ بہادر عورتیں چاہے دنیا کے کسی بھی کونے پر اور کسی شعبے سے بھی تعلق رکھتے ہوں۔ انہوں نے دنیا کی تاریخ اور اُن تمام فرسودہ نظریہ اور فلسفوں کو جھوٹا ٹہرایا ہے کہ عورت مرد کے مقابلے کم عقل اور کم ذہین ہے۔ان عورتوں نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ ہم ہی تو دنیا میں انقلابات کے نقیب ہیں، چاہے وہ ویت نام کے گوریلا ترونگ بہنوں کی شکل میں ہوں ،جنہوں نے ویت نام کی آزادی کی خاطر اپنے قریبی اور اپنی طاقت میں مغرور چین کے شاہ سے لڑ کر تاریخ رقم کی تھی، یا پھر فرانس کی تاریخ میں مقبول عورت جان آف آرک کہ جنہوں نے یونانی فلاسفر سقراط کی طرح اپنے مقصد پے ڈٹے رہ کر موت کو ترجیح دے دی ۔
اگر ہم اسرائیل کی تاریخ کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اسرائیل کی تشکیل میں گولڈا میئر کا کردار مرکزی تھا ۔ گولڈا میئر وہ عورت تھی جس نے مردوں کو پیچھے چھوڑکر اسرائیل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ اسرائیل کی تاریخ میں پہلی اور دنیا کی تاریخ میں چوتھی عورت تھی جس نے اپنی قومی تاریخ کے ساتھ ساتھ دنیا کی تاریخ میں بھی گران بہا خدمات سر انجام دئیے ہیں۔وہ دنیا بھر کے یہودیوں سے ایک ایک ڈالر جمع کرکے اسرائیل کے لئے سرگرم عمل رہنے والے جہدکاروں کو مدد فراہم کیا کرتی تھی۔ وہ پمفلٹ لکھتی تھی اسکی اپنی بیٹی سارہ رات کی تاریکی میں اسرائیل کے گلی کوچوں میں دیواروں پر انہیں چپکا دیتی تھی۔
کردوں کی قومی تحریک میں ایک سرگرم تنظیم پی کے کے کی بنیاد رکھنے میں بھی ایک عورت سکینہ کینسز کا نام با نی رہنما ؤں میں شمار ہوتی ہے۔ کردوں کی موجودہ جدوجہد کی کامیابیوں کے پیچھے عورت سیاسی کارکنوں اور گوریلہ جہدکاروں کی ایک بڑی کنٹیربیوشن ہے، کرد جنگجو خواتین آئی ایس آئی ایس کے خلاف وائی پی جے کی پلیٹ فارم سے کمر بستہ ہیں۔ انہی کی جدوجہد کی بدولت کرد قومی تحریک کو عالمی دنیا میں پذیرائی مل چکی ہے۔کرد عورتیں ایک منظم طریقے سے اپنی قومی تحریک کو لیڈ کر رہی ہیں۔آج بھی پی کے کے کی گوریلہ محاز کو ایک عورت سیمل بائک کمانڈ کر رہی ہے،سیمل بائک بھی سکینہ کینسز کی طرح پی کے کے کی بانی رہنماؤں میں سے ایک ہیں جو آج پی کے کے کی عسکری ونگ کی کمانڈنگ کر رہی ہے۔وہ ایک منظم انداز سے اپنے جدوجہد کو مقصد کی جانب لے جارہے ہیں ۔
الجزائر کی جدوجہد میں بھی عورتوں کی شمولیت سے ایف ایل این کے قوت کو چار چاند لگ جاتی ہے ۔ جب فرانسیسی جبر اور تشدد حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے تو الجزائر کے جہدکار وں کواپنی جدوجہد کو تیز کرنے میں مشکلات پیش آتی ہے ، وہ جنگ کے لیے تیار عورتوں کی بھرتی شروع کردیتے ہیں ،وہ جہد کار عورتیں جدوجہد کی تمام مشکلات کو آسان کر دیتے ہیں ۔ وہاں عورت نرس بن کر جنگ کے زخمیوں کی تیمار داری کرتے تھے ،دھماکہ خیز مواد ایک جگہ سے دوسرے جگہ پہنچا دیتے تھے ۔ شہری علاقوں اور باروں پر جمیلہ بوہارڈ اور زہرہ داریف کی یونٹس بڑی مہارت سے بمب فکس کرکے دھماکہ کیا کرتے تھے ۔آج اگر الجزائر نے آزادی حاصل کی ہے یہ ساری کریڈٹ جدوجہد میں سرگرم پارٹی لیڈرشپ کو جاتی ہے کہ جنہوں نے عورتوں کی تربیت کر کے انہیں قابض سے آزادی لینے کی جنگ میں متحرک کردیا تھا۔
جب ہم ہندوستان کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہاں ہندوستانی تاریخ ایک عورت اندرا گاندھی پر نازاں ہے۔ کیونکہ اسی عورت کی دورِ وزارت عظمیٰ میں ہندوستان اپنے بنیادی حریف پاکستان سے ایک بڑا جنگ جیت گیا تھا۔بنگلہ دیش کے محاز پر پاکستان کی نوے ہزار فوجیوں کو انڈین فوج نے قیدی بنادیا تھا۔ اندرا گاندھی نے آزادی کی جنگ کے دوران ایک چھاپہ مار مسلح گروہ (منکی برگیڈ) کے نام سے بنا کر قابض کے فوجیوں پر حملہ کرتے تھے۔
مندرجہ بالا کے برعکس جب ہم بلوچوں کی موجودہ 70سالہ جدوجہد پر نظر دوڑائیں گے تو یہاں ہمیں عورتوں کی سرگرمیاں بہت محدود نظر آئیں گی۔ بلوچ تحریک میں خواتین کی شمولیت بہت کم رہی ہے لیکن اس کے باوجود ان کی عملی سرگرمیوں سے حالیہ بلوچ تحریک کے حوالے سے دنیا میں ایک مثبت پیغام پہنچا ہے۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ عورتوں کی شمولیت اور ان کی سرگرمیاں آزادی جیسی عظیم مقصد کے حصول کے لئے انتہائی سطحی ہیں۔ تحریک کے تناظر میں اگر عورتوں کی شمولیت کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو اُن کی کردار انتہائی محدود ہے۔بلوچ تحریک سے عورتوں کی کنارہ کشی یا سرے سے ہی محدود پیمانے پر شمولیت کی ایک بڑی وجہ معاشرے میں ریاستی مذہبی شدت پسندی کے اثرات ہیں۔ ریاستی بیانیہ ہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ خواتین کے کردارکو گھر کی چاردیواری تک محدود رکھا جا ئے۔ بلوچستان جیسے معاشرے میں کہ جہاں بغاوت کا خطرہ ہر وقت موجود تھا ریاست نے اپنے پروپگنڈہ پھیلانے کے لئے میڈیا، مدرسوں، تبلیغی جماعتوں سمیت بھاری تعداد میں سرمایہ لگایا۔ اسی وجہ سے آج بلوچ معاشرے کے بیشتر حصوں میں عورت گھرکی چاردیواری میں خود کو قید کیے ہوئے ہے۔ عورت نے یہ پابندی رضاکارانہ طور پر قبول کی ہے، نہیں تو اس پابندی کے خلاف کہیں سے آواز اٹھ جانا چاہیے تھا۔
بلوچ تحریک میں جس محدود پیمانے پر عورتوں کی شمولیت ہوتی ہے، وہ بھی وقتی طور پر ہے۔ تھوڑا عرصہ ساتھ رہنے کے بعد عورتیں تنظیم اور پارٹیوں سے ایسے دور چلے جاتے ہیں، اور خود تحریک سے بھی لاتعلق کردیتے ہیں۔وہ تنظیم کے مجرم کی طرح پارٹی سرگرمیوں سے دوررہتے ہیں۔ اسکے پیچھے بھی بہت سارے وجوہات کارفرما ہیں ۔
ان وجوہات میں سے ایک یہ کہ ہماری سیاست میں سرگرم عمل رہنے والی عورتیں ابھی بھی خود کو معاشرتی پابندیوں سے آزاد نہیں کرپائی ہیں۔ ہماری سیاست میں شریک عورتیں آج بھی ایک عام عورت کی طرح ازدواجی زندگی سے منسلک ہونے کے بعد اپنی سیاسی سرگرمیوں سے یا مکمل کنارہ کش ہوجاتی ہیں، یا پھر اِن سرگرمیوں کو خاندان کے تابع بناتی ہیں۔ سیاست میں عدم شرکت یا کنارہ کشی کی اصل وجہ عورتوں کی ذاتی رائے نہیں بلکہ اس میں معاشرتی دباؤ کا بھی بہت بڑا کردار ہے ۔ صرف عورت ہی نہیں بلکہ معاشرے کا ہر فرد اپنی ذاتی رائے بنانے سے اتنا اثر انداز نہیں ہو سکتا کہ جتنا وہ ایک مشترکہ سرگرمی میں حصہ ڈالنے سے مثبت کردار ادا کر سکتا ہے ۔ وہ خواتین جو سیاست میں شرکت کے بعد ذاتی زندگی کا چناؤ کرتی ہیں، اس حوالے بلوچ پارٹیوں کو منصوبہ سازی کرنا چاہیے ، کیوں کہ موجود انقلابی جنگ بلوچ معاشرے کو بڑی حد تک روایتی سوچ کے خلاف اکسا چکی ہے ۔ لیکن روایتی سوچ کے خلاف کس طرح معاشرے کے تمام افراد بشمول خواتین کو متحرک کیا جائے ، اس حوالے سے حتمی کردار بلوچ لیڈران کو ادا کرنا چاہیے ۔
عورتوں کی عدم شمولیت کی ایک اور وجہ جدوجہد میں سرگرم عمل پارٹیاں اور تنظیمیں ہیں ۔ ان اداروں نے عورت کی وہ تربیت نہیں کی جو انہیں کرنا چاہیے تھا۔ تحریک نے عام لوگوں کے خا ندانوں کو باور نہیں کرایا ہے کہ عورتوں کے بغیر جدوجہد اپنی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتی، عورتیں جب سرگرم عمل نہیں ہوتی ہیں تو آنے والے ادوار میں اُنہیں جدوجہد کی رہنمائی کرنے میں مشکلات کے ساتھ قبضہ گیر کی حقیت کا پتہ بھی نہیں چلتا۔جب ریاستی جبر کا رخ انکی طرف ہوگی تو وہ اُسے برداشت کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔
اب ہمارے سارے اداروں کو چاہیے کہ اُن سب خاندانوں کو جدوجہد کی اہمیت آسان الفاظ میں واضح کرنا چاہیے،آج تک حاصل ہونے والے کامیابیوں سے انہیں آگاہ کرنا چاہیے تاکہ وہ جدوجہد سے بیزاری ظاہر نہ کریں،دنیا کی ساری تحریکوں میں وقوع پذیر ہونے والے جبر اور تشدد کی عکس بندی کرکے اُنہیں دکھائیں تاکہ وہ خود کو آنے والے مشکلات کے لیے ذہنی طور پر تیار کر سکیں اورمایوسی اور کنارہ کشی کی نوبت نہ آئے۔
بلوچ پارٹیوں کو اپنے خواتین سیاسی کارکنوں کو نظر یاتی اور فکری حوالے سے لیس کرکے معاشرے میں موبلائزیشن کے عمل کو تیز کرکے ممبرسازی کرنا چاہیے۔ انہیں سیاست میں سرگرم عمل لوگوں کو آنے والے جبر کے لیے تیار کرنے ہونگے۔ آج بلوچ تحریک میں سرگرم عمل پارٹیوں میں عورتوں کی محدود پیمانے پر شمولیت تحریک کے لئے کسی المیے سے کم نہیں، اگر حالات ایسے رہے تو معاشرے کی نصف آبادی کو تحریک میں متحرک نہیں کیا جا سکتا، اس جدید دور میں عورتوں کی تحریک میں عدم شمولیت سے تحریکیں ناکامی کا شکار بھی ہو سکتی ہیں