خواتین جدوجہد پارٹی تناظر میں

picture-for-blog

کمبر لاسی
اس کرہ ارض کی تاریخ میں عورت کا مقام ہمیشہ سے بلند رہا ہے ۔ عہد قدیم ہو یا عہد جدیدعورت کا کردار سماج کی ترقی میں بنیادی رہا ہے ۔ 
ابتدائی زمانے میں عورت اپنے قبیلے کے سربراہ کی حیثیت سے قبائل کو منظم رکھتے تھے۔ شکار کو آپس میں برابری کے بنیاد پر تقسیم کرنا ، موسم سرما میں اپنے قبائل کے لوگوں کے لیے جانور کے کال کے کپڑے بنا کر آپس میں تقسیم کرنا اور قبائل کے دیگر ضروریات کو مشترکہ جدوجہد سے پورا کرتے تھے ۔جب کاشتکاری کی آغاز ہوئی تو کاشتکاری سے لے کر جانوروں کو پالتو بنانا اور اُن کی دیکھ بال کرنے کی تمام تر ذمہ داریاں عورتوں پر تھے اور معاشرے میں عورت کا مقام مرد سے بلند تھا۔ تاریخ کے ہر موضو ع کو دیکھے چاہے’’ وہ جنگ ہی کیوں نہ ہو‘‘۔ عورت نے تاریخ کے ہر مقام میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔تاریخ کے ہر باب میں ہمیںRani Velu Nachiyarجیسی بہادر عورت ملیں گے۔ Rani Velu Nachiyar پہلی ہندوستانی عورت تھی جس نے برطانیوی سامراج کے خلاف بغاوت کی آواز بلندکیا۔بولیویا میں 1781ء میں ایک خاتون GreGoria Apazaنے ہسپانوی سامراج کے خلاف بغاوت کی رہنمائی کی اور 1782ء میں Bartolina Sisa نے ہسپانوی سامراج کے خلاف بغاوت کو آگے بڑھا یا ہے۔ بعد میں اسے گرفتار کرکے پھانسی دی جاتھی ہے۔ کولمبیامیں 1819ء میں Antonia Santosجو ایک کسان عورت تھی اس نے سوکورو صوبہ میں گوریلہ وں کی بغاوت کو متحرک کیااورہسپانوی فوج کے خلاف جنگ کا آغاز کیا اسے بھی بعد میں گرفتار کر کے اس کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا گیا او ر آخر Antonia Santos کو بھی سزائے موت دی گئی۔Ani Pachen ایک تبتی خواتین تھی جس نے چائنا کے خلاف جنگ میں 600جنگجوں کی قیادت کی۔اگرہم نیپال کی ماو سٹوں کا جائزہ لے تو ان کی گوریلہ کیمپ میں 30فیصد خواتین ہیں ان کو کیمونسٹ پارٹی آف نیپال نے منظم کیا ہے اور ان کو باور کرایا کہ سامراج کی شکست آپ کی جدوجہد پر ہی منحصر ہے اور آپ ہی انقلاب کے ہراول دستہ ہو ۔کیمونسٹ پارٹی کی بدولت عورت مردوں کے شانہ بشانہ جنگ میں برابری کی بنیاد پر اپنا کردار ادا کررہے ہیں ۔اگر ہم کرد قومی تحریک کا جائزہ لیں تو وہاں بھی خواتین گوریلہ محاذ پر برسر پکار نظر آئے گے اور کامیابی سے ہر محاذ پر دشمن کو شکست سے دوچار کررہے ہیں ۔کردوں کی خواتین کو اس طرح منظم کرنے میں کرد ستان ورکرپارٹی نے فیصلہ کن کردار اداکیا ہے اور معاشرہ میں مردوں اور عورتوں کو یقین دلایا ہے کہ غلام قوم کی کوئی روایات نہیں ہوتی ہے اور انقلاب نام ہی فرسودہ روایات کے خاتمہ کا ہے ۔ آج کرد معاشرے میں تر قی پسندانہ فکر اور برابری کی جو روایات ہے وہ کردستان ورکر پارٹی کی فرسودہ روایات اور استحصالی نظام کے خلاف منظم منصوبہ بندی ہے۔کردستان ورکر پارٹی کی منظم منصوبہ بندی کے سبب آج کرد قومی آزادی کے تحریک میں خواتین مردوں کے برابر محاذوں کے قیادت کررہے ہیں۔اسی طرح اگر ہندوستان کی ماو ئسٹ موومنٹ کی بات کریں تو وہاں بھی خواتین ہر محاز پر دشمن سے نبرد آزما ہیں اگر ہم ماو ئسٹوں کی حالیہ واقعاتوں کا ذکر کرے تو ہمیں ہندوستان کی پولیس پر حملے نظر آتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں پولیس پر حملے میں 40 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ۔اس واقعہ کی رپورٹ کے مطابق اس حملہ میں 300گوریلہ شامل تھے ان میں سے 70فیصد خواتین گوریلہ تھی۔ماو ئسٹوں کو منظم کرنے میں بھی ان کی پارٹی نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ مختصر اًیہ ہے کہ ان تمام تحریکوں میں خواتین کی فعال کردار پارٹیوں کے فیصلہ کُن کردار کے نتائج ہیں۔اب اصل موضوع کی جانب آتے ہیں بلوچستان کے آزادی پسند پارٹیوں اور تنظیموں کا جائزہ لیتے ہیں کہ انہوں نے قومی آزادی کی تحریک میں عورتوں کو کتنامنظم کیا ہے۔بلوچ نیشنل موومنٹ بلوچستان کی واحد پارٹی ہے جس کی جڑیں عوام میں پیوست ہے اور ہم سیاسی کارکنان بی این ایم کو بلوچستان کی مستقبل سمجھتے ہیں۔ بحیثیت سیاسی کارکن ہم حق بجانب ہے کہ بلوچ قومی تحریک میں پارٹی (بی این ایم) کردار کے تمام پہلو وّں کے نیک نیتی سے جائزہ لیں۔ بلوچ قومی تحریک میں عورتوں کے کردار کے حوالے سے بلوچ نیشنل موومنٹ کے پالیسی شائد واضح ہوں لیکن عملاً اس کے لیے زمین تیار نہیں کی گئی ۔بی این ایم میں چند ایک خواتین سیاسی کارکنان موجود ہیں جو پارٹی پروگرام کو پھیلانے میں دن رات ایک کررہے ہیں یقیناًان خواتین سیاسی کارکنان کی جدوجہد قابل ستائش ہیں لیکن یہ تلخ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ بی این ایم عوامی سطح پر خواتین کو پارٹی کا حصہ بنانے میں ناکام رہا ہے اور اس حقیقت کو جتنی دیر سے تسلیم کرینگے نقصانات اتنے زیادہ ہونگے ۔ بلوچ قومی تحریک میں ایک بد نصیبی یہ بھی رہا ہے کہ خواتین سیاسی کارکنان ایک محدود وقت کے لیے پارٹی یا تنظیموں کا حصہ ضرور ہوتے ہیں لیکن اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے مبہم کا شکار رہتے ہیں۔ بی ایس او آزاد کے پلیٹ فارم میں نوجوان خواتین سیاسی کارکنان اپنے طالب علمی کے زمانے میں انتائی متاثر کن کردار کے مالک ہوتے ہیں ، بی ایس او آزاد کے پلیٹ فارم میں ایسے سینکڑوں خواتین سیاسی کارکنان موجود تھے اور شائد آج بھی ہے جن میں قائدانہ صلاحیت موجود ہے لیکن یہ نوجوان خواتین سیاسی کارکنان اپنے سیاسی مستقبل کو خاندان و قبائلی رسم و رواج کے سامنے قربان کرتے ہیں ۔ شائد یہ تنظیمی تربیت کا فقدان ہو یا پارٹی کا فرسودہ روایات کے خلاف سخت موقف اختیار نہ کرنے کے سبب کے آج بلوچ قومی تحریک میں خواتین کے کردار کے حوالے سے یہ المیہ موجود ہے۔ بہر حال یہ اجتماعی کمزوریاں بلوچ قومی تحریک کے تنظیم و پارٹی میں موجود ہیں ۔ میرے ناقص رائے کے مطابق بی ایس او آزاد و بی این ایم اس خلا ء کو پُر کرنے کیلئے انتائی سنجیدگی سے سر جوڑ کر بیٹھے اور خاندانی و قبائلی فرسودہ روایات کے خلاف مصلحت کے بجائے واضح و سخت موقف اختیار کریں ۔

جہدِ مسلسل کے علامت’’ شہید سراج بلوچ

Untitled-222

محراب بلوچ
جہد مسلسل پر ایمان کی حد تک یقین رکھنے والے لوگوں کو ہرانا یا پھر مایوس کرنا کسی کی بس کی بات نہیں ہے۔بلوچستان میں ایسے بے شمار کرداروں نے جنم لیا ہے ،جو اپنے مقصد کی خاطر جہد مسلسل کی لمبی داستان لیے ہوئے امر ہوگئے ہیں ۔ان میں سے ایک کامریڈشہید سراج بلوچ ہے۔سراج کو اگر کوئی دیکھتا تو اْسے یہ جج کرنے میں دیر نہیں لگتا کہ یہ نوجوان ایک تاریخ رقم کرنے والے نوجوانوں میں سے ہے ،کیونکہ سراج اپنے ہمسروں سے قدرے مختلف اورایک عظیم سوچ کا مالک تھے۔اسکے رگوں میں آزادی کے خون دوڑے رہے تھے ،اسکی ہر مباحثہ جدوجہد اور آزادی پر محویت تھے۔سراج نے اپنا سیاست کا آغاز بلوچ نوجوانوں کی تنظیم بی ایس او آزاد سے 2011میں کیا۔یہ وہی دورتھا ہر نوجوان آزادی کی خواب لیے تنظیموں سے وابستہ ہونا شروع ہوگئے تھے۔ریاستی بربریت کیسامنے بلوچ نوجوان کوہِ البرز کی ماند کھڑے تھے۔
راقم کا سراج سے بھی اسی دوران ناطہ جوڑا۔ہم ایک ہی ساتھ کام کرتے تھے۔ہماری تعلق آواران کے مختلف چھوٹے چھوٹے گاؤں میں سے تھا۔مگر تنظیم نے ہمیں ہر کسی کو انکے اپنے گاؤں اور جھونپڑیوں سے نکال کر ہماری تربیت کے لیے ہمیں اکٹھا کیا تھا۔ سراج بلوچ جسمانی حوالے سے ہم سب سے لاگر اور کمزور تھا۔مگر اْسکا کمٹمنٹ اکثر سے مضبوط تھا۔سراج جزبہ اور حوصلہ مندی کا ایک پیکار تھا۔جب ریاستی تشدد اپنے حدود سے تجاویز کرگئے ،اکثردوست مالی حالات کا بہانہ کرکے بیرونی ممالک مزدوری کے لئے چلے گئے تو سراج اپنے علاقے اور تنظیم کاری میں مصروف بہ عمل رہے۔ حالات دن بہ دن سیاست کاری کے لیے ناگوارہ رہ گئے۔مگر سراج کا کہنا تھا کہ انقلابیوں کے لیے حالات کا ناسازگار کہنا اْسکی بزدلی کو عیاں کرتی ہے۔
شہیدسراج کا تعلق آواران کے علاقے بزداد میشود سے تھا۔سراج میشود کاچراگ تھا۔سراج اپنے مان باپ کو اتنا عزیز تھا کہ ااْنہوں نے اْسکا نام بندوک رکھا۔بندوک ایک بلوچی لفظ ہے جسکے لفظی معنی منسلک کے ہیں۔والدین نے اپنے اولاد کی کردار کو بچپن ہی سے محسوس کیا تھا ،کہ ہماری بندوک خود کو تاریخ سے منسلک کرے گی اور سراج نے وہ سب کچھ عملًا کر کے دیکھایا ہے۔
سراج بندوک نام سے مشہوررہا ،بندوک ایسا پیارا نام تھا۔ مجھ سمیت ہر کوئی اْسے اسی نام سے متوجہ کرتا۔سراج تنظیم کے زمہ دار کارکنوں میں سے ایک تھا ،بی ایس او آزاد آواران زون کے ہر پروگراموں میں موجود تھا۔آواران میں سراج زیادہ پمفلیٹ اور چاکنگ کی وجہ سے اتنا مشہور ہو گیا کہ پاکستانی آرمی ہمیشہ ہرکسی کو پکڑتا تو بندوک کی جگہ کاپوچھتے تھے ،بندوک کی جگہ وہ اسے بندوق کہہ کر اسکی جگہ اور دوستوں کا پوچھ لیا کرتے کہ بندوق کہاں ہے ؟ اسکا گھر کہاں ہے ؟سراج کی بہادری اور تنظیم سے والیہانہ وابستگی پاکستان آرمی کی سکون اور چھین لے اْڑے تھے ،آرمی نے تین دفعہ سراج کے گھر پر چھاپہ مارا۔ایک بار سراج آرمی کے ہاتھ آنے سے بچ گیا تھا۔جب تیسری مرتبہ سراج کو پیریشر دینے میں ناکام رہے تو پاکستانی بہادر فوج کو سراج بلوچ کی بوڑے والدین کی چھونپڑیوں کو راکھ میں بدل کر راکس کرتے ہوئے واپس اپنی بیرکوں میں چلے گئے۔ فوج ہر وقت کہتا تھا بندوق کہاں ہے۔
سراج بلوچ تنظیمی کاموں کے سلسلے آواران سے کولواہ کی طرف جارہے تھے کہ بزداد لینک میں آرمی کے چپے ہوئے اہلکاروں کی فائرنگ سے زخمی حالات میں آوارن آرمی کیمپ میں شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوگئے۔
فوج کے نفسیاتی شکست یہاں بلکل واضح ہے کے سراج بی ایس وا آزاد کا ایک ورکر تھا۔سراج کو بھی برداشت نہیں کیا جاتا تھا۔فوج کا کہنا ہے کہ ہر اْس بلوچ ٹارگٹ ہوگی جن کی وابستگی آزادی پسند وں سے ہو،کیوں ہی نہ وہ طالب علم ہو۔ اسطرح کے عمل سے دشمن ہماری تحریک کو کمزور ہونے کے بجائے مزید مظبوط کر رہی ہے۔تحریکیں سر کٹانے سے نہیں بلکہ سر خم کرنے سے ختم ہوتی ہیں۔
ہمارے شاعر عطا شاد کہتے ہیں کہ 
تو پہ سرانی گوڈگ ءَ زندے ھیالا نا کشے
پہ سندگ ءَ داشت کنے پھلاں چہ بو تالانی ءَ 
پھولوں کی خوشبو کو نکالنے سے کوئی روک نہیں سکتا اگر پھول کو مزید چیڑتے ہو یا کاٹتے ہو مزید خوشبو نکلتے ہیں۔

عظیم طلبہ تنظیم ‘‘بی ایس او آزاد‘‘

2BkU-qM5

تحریر : دلدار بلوچ
غلامی کو قبول نہ کرتے ہوئے علم وشعور سے لیس ،لیڈر شپ کی صلاحیت، حوصلہ، پختگی اور ہر قسم کے کٹھن حالات سے مقابلہ کرنے والے بی ایس او آزاد ہی کے کارکن ریاست اور اُن کے گماشتوں کے آگے پہاڑ کی مانند کھڑے ہو کر انکے سیاہ کردار کو قوم کے سامنے آشکار کررہے ہیں اوربلوچ نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرکے غلامی جیسی ناسور شے سے چھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے عملی میدان میں جدوجہد کررہے ہیں۔جبکہ ریاست اور اُن کے گماشتے علم وشعور سے لبریز بی ایس اوآزاد کے کارکنوں کو راستے سے ہٹانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑرہے ہیں ۔بلوچ نوجوانوں کو اغواء کرنا، انکی جسم کو مسخ کرکے لاشوں کو ویرانوں میں پھینکنے کا تسلسل جاری رکھا گیا ہے تا کہ بلوچ نوجوانوں کو زھنی طور پر مفلوج کرکے بی ایس او آزاد اور تحریک آزادی سے دستبردار کرانے پر مجبور کرسکیں۔ مگر بی ایس او آزاد کے نوجوانوں نے شروع دن سے ہی ریاست کے سامنے سرخرو ہوکر ہر قسم کی رکاوٹوں، تشدد، دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے اپنی جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 
بلوچستان کے ہر دیہاتوں شہروں میں بی ایس او آزاد کے کارکنوں نے غلامی کے خلاف آواز اٹھاکر کسانوں، مزدوروں، اور ہر طبقہ فکر کے لوگوں میں شعور پیدا کرکے ان کوعملی میدان میں متحرک کیا ہے۔ جو کہ ریاست اور انکے پالے گئے سرداروں کیلئے کسی بڑے پریشانی سے کم نہیں۔خاص کر دیہاتی علاقوں میں پارلیمنٹ پرست جو کے ووٹ حاصل کرنے کے بہانے کسانوں اور سادہ لوح بلوچ عوام کے سامنے بڑے سے بڑا نعرہ لگا کر عوام سے ووٹ حاصل کر کے ہر دور میں عوام ہی کی استحصال کرتے ہیں۔ اور ان پارلیمانی سیاست کرنے والوں نے یہ بات کبھی برداشت نہیں کی ہے کہ کسان کا فرزند تعلیم حاصل کرکے مستقبل میں انکے استحصالی نظام کو قبول نہ کرتے ہوئے انکے شیطانی عزائم کو مسترد کریں۔
اسطرح پارلیمانی سیاست کرنے والے معتبروں اور سرداروں نے پارلیمنٹ میں رہ کر اسکولوں اور دوسرے درسگاہوں پر اپنے لوگوں کو ٹیچر صرف تنخواہ وصول کرنے کیلئے منتخب کیے ہیں تاکہ غریب کے بچوں کو تعلیم سے دور کریں یا تو اسکولوں اور درسگاہوں کو فوجی چھاونیوں میں تبدیل کریں تاکہ یکسر طور پر بلوچ نوجوانوں کو تعلیم سے دور کرکے بلوچ قوم کو مزید غلام بناکر انکی بخوبی استحصال کرسکیں۔
کیونکہ ریاست اور اسکے آلاکاروں کو یہ بخوبی پتہ ہے کہ قلم اور کتاب ہی واحد زریعہ ہے جس کے زریعے غریب کسان کی اولاد میں علم وشعور آتی ہے اور وہ کسی صورت میں انکی طرف سے سرزد کیے گئے استحصالی نظام کے لئے موت کا سبب بنیں گی۔
تعلیمی اداروں میں ریاست نے غلامانہ نظام تعلیم کو بلوچ نوجوانوں پر مسلط کیا ہے۔ تاکہ وہ بینکنگ نظریہ ایجوکیشن حاصل کرکے نوکری کرنے کا سوچ رکھ کر صرف اور صرف اپنی زات کیلئے تعلیم حاصل کرکے اپنی سوچ کو محدود دائرے میں بند کرکے زہنی طور پر مفلوج ہو جائے اور نوکری کیلئے میروں اور سرداروں کے جوتوں کو سجدہ کریں اور استحصالی نظام اور قومی غلامی کے خلاف آواز نہ اٹھائیں۔
مگر بی ایس او آزاد ہی نے ریاستی غلامانہ نظام کے طرز تعلیم کو یک سر مسترد کرکے بلوچ نوجوانوں کو علم وشعور سے لبریز کرکے سیاسی طور پر مضبوط اور حوصلہ مند نوجوان پیدا کیں ہیں۔
اسطرح تعلیمی اداروں اور دوسرے علاقوں میں بی ایس او آزاد جیسی عظیم بلوچ طلبہ تنظیم کی موجودگی کو ریاست اور اسکے آلاکاروں نے برداشت نہیں کی ہے۔ اور بی ایس او آزاد کے برعکس خودساختہ تنظیموں کو متحرک کرکے ریاست نے اپنے آلاکاروں کو فنڈنگ کی تاکہ وہ بلوچ طلبہ کو اپنی طرف لاکر اس عظیم طلبہ تنظیم سے دور کریں ۔ مختلف طریقوں میں اپنے آلاکاروں کو سرگرم کیں ہیں مگر اسکے باوجود کسانوں، غریبوں کیلئے آواز بلند کرنے والے تنظیم نے اپنے وجود کو برقرار رکھتے ہوئے ریاستی مشینری کو ناکام کرتے ہوئے اپنے جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ بات واضح ہے کہ گماشتہ تنظیم کوریاست اور انکے آلاکار حوصلہ افزائی کرکے بلکہ ان کہ ہر قسم کی مالی معاونت کررہے ہیں تاکہ خود ساختہ تنظیموں کے زریعے ایک طرف تو پارلیمانی سیاست مضبوط ہو جائے اور دوسری طرف بلوچ طلبہ کی سوچ مفلوج ہوکر رہ جائے۔ 
مگر تعلیمی اداروں میں بی ایس او آزاد کی موجودگی تو دور کی بات ہے صرف اس عظیم بلوچ تنظیم کی نام پر ریاستی آلاکاروں کے پسینے نکلنا شروع ہوتے ہیں۔ اور وہ اس عظیم طلبہ تنظیم کی موجودگی کو کسی طرح برداشت نہیں کرسکتے اور وہاں فوری طور پر فوج اور ریاستی ایجنٹ متحرک ہوتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اس کے کارکنوں کو کچل سکیں مگر یہ انکی بھول ہے کہ نوجوانوں کو کچلنے سے انکے سوچ اور نظریے کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ جس طرح ڈاکٹر چے گویرا آج ہر نوجوان کے دل میں بسا ہے۔ اسطرح بی ایس او آزاد کے ہزاروں کارکنان کے اغواء کے باوجود روز بہ روز بی ایس او آزاد مضبوط ہوتا جارہا ہے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ ہر ادوار میں جیت مظلوم کا ہے اور ریاست کتنی ہی طاقت ور کیوں ہی نہ ہو مگر مظلوموں نے ہر طاقت کو شکست دی ہے۔ اور اسطرح بی ایس او آزاد مظلوموں کی آواز ہے، کسانوں کی آواز کو بلند کرنے والے عظیم سوچ اور نظریے کے مالک تشدد اور اغواء کے خوف سے اپنے مقصد سے پھیچے ہٹنے والے نہیں ہیں ۔ ریاست نے اپنی پالیسیوں کو اس طلبہ تنظیم کو کچلنے کیلئے ہر طرح آزمایا ہے مگر انکو اب تک بد ترین ناکامی کا سامنا ہوچکا ہے۔ اور بی ایس او آزاد نے اپنے ساخت کو مضبوط سے مضبوط تر بنایا ہے۔ اور بناتا رہے گا چاہے کسی قسم کی قربانی درکار ہوں ہم اپنے عظیم مقصد کیلئے ڈٹے رہیں گے اور ایک قدم پیچھے نہیں ہٹیں گے!

آئی ایم آلسو لیارین

694083-lyarifootballscreenshot-1397162978-616-640x480

مہلب بلوچ
یہ جبلتِ انسانی ہے کہ اُسے اپنا جنم بھومی کی جگہ کا محبت سات سمندر پار بھی اپنی طرف کھینچ لاتی ہے ۔یہ ایک ایسی محبت ہے جو تا ابد ہے ،کھبی بھی اسکی شدت میں کمی واقع نہیں ہوگی۔یہ محبت شاعروں کو اپنی داستان پر شاعری کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔سائنسدانوں کو ریسرچ پہ اُکساتا ہے اور وسائل کے ہوس میں تڑپے لوگوں کو اپنی وسائل کی انبار کو بڑھانے کی خاطر دوسروں کی زمین اور وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے ایک بد مست ہاتھی بنا دیتی ہے۔فلسفی حضرات کو کیوں،کیسے،کب،کہاں کی جواب کے تلاش میں مصروف کردیتا ہے۔ایک فرمانبدار اولاد کو اپنے خودمختاری پر مر مٹنے پر تیار کر دیتا ہے۔ایسے ہی میری جنم بھومی کی جگہ بھی مجھے قلم اور کاپی کی رشتے کو سمجھنے کے بعد سے لے آج تک موٹیویٹ کرتی رہی کہ میں بھی اپنی جنم بھومی کی جگہ پر کچھ رقم کر سکوں ۔
خوش قسمتی سے میری تعلق بلوچ سرزمین کا وہ حصہ جسے بلوچ تاریخ میں ایک بڑی اہمیت حاصل ہے ۔وہ ہے شہید اُستاد صبا دشتیاری،اسلم،حاجی رازاق،حکیم بلوچ،یوسف نسکندی،بی ایس او کی جنم بھومی کی جگہ ،بلوچ سیاست میں مرکزی حیثیت حاصل کرنے والا لیاری ہے۔
میرا تعلق ایک ایسے علاقے سے ہے جو اپنے اندر کہیں کردار لیئے چپے ہیں،جس میں فٹبالروں،بوکسروں،شاعروں،فن کاروں ،آرٹسٹوں،اور دانشوروں کی ایک لمبی لسٹ لئے ہے جوہمیشہ سے اپنے باسیوں کے لئے باعثِ فکر کی علامت بنتی رہی ہیں۔
لیاری جو آج ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ریاستی ادارے اپنے تمام ستونوں کو بروکار لاکر اسکی اصلی امیج کومسخ کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔لیاری وہ علاقہ ہے جس نے بلوچ ادیب ودانشور شہید صبا دشتیاری کی جائے مقام ہے جو بہادری کی علامت بن کر تاریخ میں شمع کی حیثیت حاصل کرکے امر ہوئی ہے ۔صبا جو کراچی پریس کلب کے سامنے استحصالی طبقوں کو انکی اصلیت بتانے پر بضد تھے ،اُیسے ریاستی دھمکیاں بھی اپنے راستے سے ہٹانے میں ناکام رہے ہیں ۔آج بھی لیاری سمیت بلوچستان کی انرجیٹک طبقہ اسکی فکر و فلسفہ کو اپنی منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے کمر بستہ ہیں۔
جب ہم بلوچ سیاست کو تاریخ کی تناظر میں دیکھتے ہیں تو ہمیں کماش خیربخش مری ،عطا اللہ مینگل ،غوث بزنجو کے ساتھ ساتھ لیاری ہی کی بے باک دانشور حضرات کی بھی ایک لڑ مل جاتی ہے جس میں لالا لال بخش رند،یوسف نسکندی سمیت کہیں جانباز وں سے واقفیت ہوتی ہے کہ جنہوں نے بلوچ سیاسی تاریخ میں ایک بڑی مقام حاصل کی ہیں ۔لیاری سیاستدانوں اور دانشور کا بسیرا رہا ہے اور وہ تسلسل کو شہید اُستاد صبا دشتیاری، حاجی رازاق،حکیم بلوچ،اسلم بلوچ لیاری سمیت سینکڑوں نوجوان نے اپنے خون سے اُس تاریخی ورثا کو بچائے رکھا ہے ۔
یہ سارے عمل ریاست کے لئے نیک شگون نہیں تھے تو ریاست کو ہر حال بلوچستان کے لیے اُٹھائے گئے آواز کو روکنی تھی کیونکہ یہ عمل اُسکی وجود سے وابستہ تھی،اسی کی منا سبت سے لیاری جو کہ بلوچ سیاست میں اسے ایک مرکزی حیثیت حاصل تھی ۔اس حیثیت کو ختم کرنے کے لئے وہاں پاکستانی پارلیمنٹرین پارٹیوں جس میں پاکستان پیپلز پارٹی پیش پیش تھی لیاری کو ایک موت اور جوئے کے اڈے میں تبدیل کرنے کے لئے باقاعدہ متحرک ہو گئے ہیں ۔سب سے پہلی ترقیاتی کام پی پی پی نے کی وہ تھی گینگ وارز کی گروہ کی تشکیل،دوسری منشیات کے اڈوں کا قیام ،تیسری بڑی ترقیاتی کام اغوا برائے تاوان،چوتھی بڑی کام انہی گروہ کا لیاری ہی کی گلیوں میں آپس کی لڑائی ۔ 
نوجوان جو ایک قوم میں ریڈ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں انہیں بے حودگی اور منشیات کی جانب دکیل دیئے گئے ۔اُس سے پہلے لیاری کے ہوٹلوں اور میدانوں میں نئے شاعر اپنے لکھے ہوئے شاعروں کو اپنے استادوں کے سامنے حوصلہ افزائی کے لیے پڑھا کرتے تھے،موسیک کار اپنے موسیکی میں مشغول تھے ،فٹبالر اپنے ٹورنامنٹوں کی تیاری میں مصروف تھے ،سیاسی ورکر بلوچستان کی آزادی کے لیے پوسٹرز اور اسٹیکرز چپکانے میں مصروف تھے ،بلوچ رہنما جلسہ و جلوسوں میں اپنے پیغام پہچانے میں گلاہش تھے ۔یہ سارے عمل ایک صحتمند معاشرے کی علامت تھے اور یہ قابعض کی وجود کے لئے چیلنجز تھے تو اُس چیلنجز کو حل کرنے کے لیے ریاست نے لیاری کی پرامن اور خوشحال فضا کو خون آلودہ بنا دیا تاکہ اُسکی وجود کو کوئی مسلہ درپیش نہ ہوں۔
لیاری جو سیاست ،کھیل کود،امن وخوشحالی کا ایک علامت تھا وقت کے قبضہ گیر حکمرانوں نے میرے درھتی کوایک خوف و دہشت کی علامت بنادیا گیا ۔ لیاری کی ہر گلی خون آلودہ ہوگئی ،لیاری کے بوڑے ماں اپنے اکلوتے بیٹھے کی لاش پر اُسکی چیک وپکار نے سارے لیاری کوغم سے نڈھال کر دیا ہے ،شہزاد کی ماں کی چیک و زاری نے کلری کو رولا دیا ہے۔لیاری کے اولاد وں کے لئے چاروں طرف سے گولیاں ہی گولیاں برساہی جا رہی ہیں ایک طرف سے گینگ وار دوسری طرف سے امن کو برقرار پر آئے ہوئے رینجرز کے اہلکاروں کی نشانے میں ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہو رہے ہیں۔ایک جانب مذہبی انتہا پسندوں کی شکار میں ہیں۔
آج میرے دھرتی کا اکثریتی نوجوان منشیات کے اڈوں پر ڈھیر سارے چوٹے اپنے جسم پر سجا کر موت کی انتظار میں ہر گلی کے کونے پر کہیں دنوں سے ایک لاش بن کر پڑھے ہیں۔
آج میرے لیاری کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ،جب میرے ماں اپنے ہمسائے کھچیوں کے ہاں پانی بھرنے جاتے ہیں تو وہ جو لیاری کے وارث بھی نہیں ہیں مگر لیاری کے باشندوں کو گالم گلوچ کرکے اُنکی بالٹینوں کوانکے ہاتھوں سے چین کر کہیں دور سڑک پر پھینک دیتے ہیں۔ہمارے لوگوں کی حالات آج روہینگیا کے مسلمانوں اور بنگلادیش کے بہاریوں سے بھی بد تر ہیں۔
جب بات ہو مرے دھرتی لیاری کی اور وہاں بلوچی ادب میں ایک قلیدی کردار کا مالک مراد ساحر کا ذکر نہ ہو تو ناانصافی ہو گی کیونکہ مراد ساحر ہی وہ شاعر تھے جنہوں نے اپنی شاعری کی نوک پر نوجوانوں کو جدوجہد کے لئے متحرک کر رکھا ہے ،اپنے شاعری کے ذریعے بلوچستان کے نااہل اور کمزور میر و نوابوں کی اصلیت سے اپنے عوام کو آگاہی دیتے رہے ۔مراد ساحر کا یہ نظم اُسکی کردار کی پرچار کے لئے کافی ہے۔
نہ المءِ شوک نہ کَوم ءِ دوستی نہ سُددنیا ءِ
چشیں بے جوھر ءُ جاندُز ءُ سُستیں نوجوان ءَ سوچ
ایک دوسرے جگہ علاقے کی کم ظرف میرو متبروں سے متوجہ ہو کے کہتا ہے کہ :
پہ نان ءِ چُنڈے ءَ چورو جنوزام لوگ سد گال اَنت
چشیں کَوم ءِ لجوزیں اے امیر ءُ واجھان ءَ سوچ
بلوچی زبان کے شاعروں کے ساتھ ساتھ میرے لیاری موسیکی اور گلوکاری کا بھی ایک مرکز رہا ہے ۔بلوچی موسیکی پر راج کرنے والا گلوکار اُستاد عبدالستار کا تعلق بھی میرے ہی لیاری سے تھا۔وہ اپنے دُن اور راگوں سے دوسرے قومیت سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بھی اپنی دنیا میں لے جاتا تھا۔میں یوں کہوں کہ بلوچ سماج کے اکثریتی گوہروں کا تعلق اُستاد صبا،حاجی رازق،حکیم اور شہید شہزاد کے لیاری سے ہی تھے۔
آج بھی میرے لیاری میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے ،آرٹسٹ جواد بلوچ اور اُزمہ چہروں پرمسکرائٹ لئے یہ دو نوجوانوں نے دنیا کے کامیاب لیڈروں اور فلمی اداکاروں کی تصاویرکے اسکیچ کرنے کا مقصد دنیا کو یہ تاثر دیناہے کہ دیکھو ہم دنیا کی امن وآشستی کے لیے اپنے فن کے ذریعے اپنا پیغام دنیا تک دینا چاہتے ہیں کہ ہم امن پسند اور پرامن لوگ ہیں ۔یہ خون خوارریاست ہے جو ہمیں دنیا کے سامنے دہشتگرد ظاہر کرکے ہمیں اور ہماری جدوجہد کو ختم کرنے پر تلُا ہوا ہے۔مگر ہم اپنی فن سے دنیا کوکہنا چاہتے ہیں کہ دہشتگرد ہم نہیں بلکہ ریاست خود ہے اور ویہی دنیا کی امن کو تباہ کرنے پر تلا ہے۔دنیا کی نظروں میں سرفرست والے دہشتگرد ہمارے سرزمین میں ہمارے ہی خلاف متحرک کر دیئے گئے ہیں ،کھبی طالبان کی روپ میں آکر اسُتاد صبا کو شہید کر دیتے ہیں تو کبھی امام بیل بن کر لیاری کے نوجوانوں کو منشیات کا آدھی بنا کر انسانیت کے دائرے سے نکال باہر کر دیتے ہیں۔

تمرد ءُ شیریں حمل

0

داد جان بلوچ

مرچی ءَ چہ پنج سَد ءْ ھبدہ سال ءَ پیش یک زوراکیں راجےءَ مکران ءِ تیاب دپ ءِ سَرءَ اْرش کت ءْ لْٹ ءْ پل بندات کت۔ اے زوراک یورپی راج پْرتگیزبوتگ۔ آ ایشانی مَستر احمد بن بخدی بوتگ۔ راج دپترءَ چہ بازیں گپانی شاھدی رَسیت۔ دپتر زانت گوشنت کہ پرتگیزی مکران ءِ تیاب دپ پسنی ءَ گوں وتی آپی گراباں اھتگ اَنت ءْ داشتگ اِش۔ ایشی ءَ چہ پد 1515تاں1571آھانی روگ آھگ برجاہ بوتگ۔ مکران ءِ تیاب دپ ءَ قبضہ کتگ ءْ مھلوک لْٹ ءْ کٹ کتگ ءْ مال ءْ دلوت ھم برتگ اَنت۔ گڈاں بامرد ءْ تمردیں بلوچ پْسگ حمل جیئند گوں پرتگیزیاں مزنیں جنگ ءْ چوپے بندات کنت ءْ پرتگیزی زوراوراں پونزءَ رسینیت۔نمیرانیں حمل ءِ نام بلوچ راج دپترءَ مدام چو روکیں چراگ ءَ انت کہ آرا کسے شمشت نہ کنت۔
گْشنت کہ وھدے شانزدھمی کرن ءَ پْرتگیز ی وتی گرابانی دیم ءَ ہندوستان ءِ نیمگ ءَ دینت ھمے سفرءِ میان ءَ تیاب دپ ءِ بازیں بہرے دستی کن اَنت 1506 ہندوستان ءِ تیاب دپ وتی دست کنگ ہور خلیج فارس ءَ بگر تاں ھندوستان ءَ سندھ ءْ مکران ءِ تیاب گوادر، پسنی ،مکران ءِ کلین تیاب دپ وتئی دست ءَ کتگ اَنت۔
مکران ءِ تیاب ءَ پرتگیز اْرش کنگ ءَ پد لٹ ءْ پل زوراکی بندات کن ت۔ ھنچو گْشنت کہ پرتگیزیاں قبضہ کنگ ءْ ھکومت کنگ ء واستہ تیاب وتئی دست ءَ کتگ اَنت۔ آھانی ارش روچ پہ روچ ءَ گیش بوان بوتگ اَنت۔بلوچ وتی تیابانی رکینگ ءِ ھاترءَ میر حمل کلمتی گور ءَ شْت اَنت کہ آھانی بیوپاری راہ تیاب ءَ زِر پرتگیزیاں وتئی دَست ءَ کْتگ۔۔
حمل پہ تمردی ءْ مڈاہ داری وتی لشکرے جوڈ کنت۔گْشنت کہ پرتگیزیانی کَچ سَک باز بوتگ۔بلئے حمل پہ تمردی آیانی دیم ءَ چو کوہ ءَ مِک بیت۔ آ یک جنگی بوجیگے اڈ کنت کہ نام ءَ شاگ ءِ ے کنت۔
جنگ سک مزن بیت۔ بلئے گڈسر ءَ تمردیں حمل پرتگیزیا ں پروش دنت۔ پرتکیزی واتر بنت ءْ مھلوک پدا آسودگی ساہَ کَشیت۔
مردم کسہ کارنت کہ یک روچے حمل گون وتی ھمراہ ءْ ھمبلاں پہ سیل ءْ شکارءَ شاگ ءِ سر ءَ زر ءَ در کپیت۔ ھمے وھد ءَ مزنین توپانے کیت کہ چول دیان ءَ شاگ ءَ ھندوستان ءِ زرءَ سرکنت۔ آ وھدءَ ھندوستان ءِ زِر پرتگیزیانی دَست ءَ بَنت آ وھدے شاگ ءَ گندنت گڈااے دیم ءْ آدیم چپ ءْ چاگرد ءِ ے کن انت۔ توار جَن اَنت کہ میر حمل وت ءَ مئے دَست ءَ بدئے۔
بلئے میر حمل وت ءَ آیانی دست ءَ دیگ ءَ چہ گیش جنگ ءَ ارزشت دنت۔ بلئے ھئیپ کہ آئی ءِ دست ءِ زہم کپیت۔ ھمے وھد ءَ آ گوشیت۔
* منی سگار من ترا چہ وتی بچاں دوست داشت اَت
*من ترا چہ وتئی بانکیں جنک ءَ دوست داشتگ اَت
*تو چیا چہ حمل ءِ شیری پنجگاں کپت ئے ماں زر ءَ 
*تیگ من ءَ گندیت ءْ زِرءَ گندیت ،چہ من بہتر آ زِرءَ گندیت۔
حمل ءِ زہم ءِ کپگءَ گوں پرتگیزی وتی دام ءَ حمل ءِ سر ءَ دور دینت ءْ آئی ءَ دزگیر کن اَنت۔ آئی ءَ گوں گوک بندیں ریزاں بندنت۔
حمل گْشیت کہ حمل ءَ مرگ ءِ چار چیز وش بنت۔ جاھو ءَ میڈ، راجرو ءَ آسک پہ وشی گَل کن اَنت 
گْشنت کہ وشی بہ کن اِت کوھاں بہ چر اِت کہ نو کَسی تْرس نیست،
حمل شْتگ نو کَس مارا شَل سریں تیراں نہ جنت
گْشنت کہ اے جنگ ءَ چیزے دشتی حمل ءَ ہمراہ بوتگ کہ آ چہ مَرگ ءَ تْرس اتگ ءْ جستگ اَنت۔ ہھمے واستہ بلوچی بتلے کہ حمل ءَ ھمراہ بے دلیں دشتی بوتگ اَنت۔
میر حمل آیانی بندیگ بیت بلئے آ حمل ءَ بازیں لب ءْ ملامے دیگ ءِ جہد کن اَنت کہ حمل آیانی گوما ھمگرنچ بہ بیت ءْ آیانی جنکے سانگ بکنت کہ آیانی نسل ءِ توک ءَ حمل ءِ وڑیں بامردے ودی بہ بیت۔ بلئے میر آیاں تچکیں پسو دنت کہ
جن فرنگانی حمل ءَ پسند ءَ نہ بنت
وت گشئے ھوک اَنت، چک گشئے ھوکی گلڑ اَنت
پشک اِش لکْ اَنت ناپگانی کنڈاِش دراَنت
ناہی چانگالاں گوں مکسکاں ایر بر اَنت
پرچا کہ حمل زانت کہ آ تہنا یک مردمے نہ اِنت بلکیں وتی راج ءِ چم ءْ ٹیلگ اِنت۔آ راج ءِ تمردی ءِ چیدگ اِنت۔ ھمے واستہ آ مَرگ ءَ وش اَتک کنت بلئے پروش نہ وارت ءْ بلوچ راجدپتر ءِ تاکانی توک ءَ مدامی نیمران بیت۔

بلوچ تحریک میں عورت کا کردار محدود کیوں؟

Untitled-1-copy

دنیا کی مختلف تحریکوں اور بلوچ قومی تحریک کا تقابلی جائزہ
:چراغ بلوچ
مولانا رومی کے بقول عورت خدا کی روشنی ہے، یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ عورت ہی وہ مخلوق ہے جس نے خاندان کوانکی معاشی مسائل سے چھٹکارا دلانے کی خاطر زراعت ایجاد کی ۔عورت ہی وہ مخلوق ہے جس نے زراعت ایجاد کرنے کی شکل میں معاشرتی ترقی میں ایک انقلاب برپا کیا ، معاشی انقلاب سے پہلے پیٹ بھرنے کا واحد ذریعہ شکار تھا ،اور وہ کام خاندان کے اندر مرد سر انجام دیتے تھے۔عورت گھر میں بیٹھ کر بچوں کی پرورش کیا کرتے تھے ۔ زراعت کی ایجاد کے بعد سے عورت کی معاشرے میں ترقی اور فلاح بہبود میں برابری کا حصہ چلی آرہی ہے۔آج کی اس جدید دور میں وہ معاشرے جو ترقی کی عروج پر ہیں اُن معاشروں میں عورتوں نے اپنا برابر کا حصہ ادا کیا ہے۔
درجہ ذیل میں ممالک اور اداروں کی تعمیر میں عورتوں کی کردار کا ایک سرسری جائزہ لیا جائے گا اور انہیں بلوچ سماج میں بلوچ عورتوں کی کردار کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی جائے گی۔
تاریخ ہمیشہ بہادر اور حوصلہ مند انسانوں پر ناز کرتی ہے، تاریخ کا یہی اصول عورتوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ بہادر عورتیں چاہے دنیا کے کسی بھی کونے پر اور کسی شعبے سے بھی تعلق رکھتے ہوں۔ انہوں نے دنیا کی تاریخ اور اُن تمام فرسودہ نظریہ اور فلسفوں کو جھوٹا ٹہرایا ہے کہ عورت مرد کے مقابلے کم عقل اور کم ذہین ہے۔ان عورتوں نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ ہم ہی تو دنیا میں انقلابات کے نقیب ہیں، چاہے وہ ویت نام کے گوریلا ترونگ بہنوں کی شکل میں ہوں ،جنہوں نے ویت نام کی آزادی کی خاطر اپنے قریبی اور اپنی طاقت میں مغرور چین کے شاہ سے لڑ کر تاریخ رقم کی تھی، یا پھر فرانس کی تاریخ میں مقبول عورت جان آف آرک کہ جنہوں نے یونانی فلاسفر سقراط کی طرح اپنے مقصد پے ڈٹے رہ کر موت کو ترجیح دے دی ۔
اگر ہم اسرائیل کی تاریخ کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اسرائیل کی تشکیل میں گولڈا میئر کا کردار مرکزی تھا ۔ گولڈا میئر وہ عورت تھی جس نے مردوں کو پیچھے چھوڑکر اسرائیل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ اسرائیل کی تاریخ میں پہلی اور دنیا کی تاریخ میں چوتھی عورت تھی جس نے اپنی قومی تاریخ کے ساتھ ساتھ دنیا کی تاریخ میں بھی گران بہا خدمات سر انجام دئیے ہیں۔وہ دنیا بھر کے یہودیوں سے ایک ایک ڈالر جمع کرکے اسرائیل کے لئے سرگرم عمل رہنے والے جہدکاروں کو مدد فراہم کیا کرتی تھی۔ وہ پمفلٹ لکھتی تھی اسکی اپنی بیٹی سارہ رات کی تاریکی میں اسرائیل کے گلی کوچوں میں دیواروں پر انہیں چپکا دیتی تھی۔
کردوں کی قومی تحریک میں ایک سرگرم تنظیم پی کے کے کی بنیاد رکھنے میں بھی ایک عورت سکینہ کینسز کا نام با نی رہنما ؤں میں شمار ہوتی ہے۔ کردوں کی موجودہ جدوجہد کی کامیابیوں کے پیچھے عورت سیاسی کارکنوں اور گوریلہ جہدکاروں کی ایک بڑی کنٹیربیوشن ہے، کرد جنگجو خواتین آئی ایس آئی ایس کے خلاف وائی پی جے کی پلیٹ فارم سے کمر بستہ ہیں۔ انہی کی جدوجہد کی بدولت کرد قومی تحریک کو عالمی دنیا میں پذیرائی مل چکی ہے۔کرد عورتیں ایک منظم طریقے سے اپنی قومی تحریک کو لیڈ کر رہی ہیں۔آج بھی پی کے کے کی گوریلہ محاز کو ایک عورت سیمل بائک کمانڈ کر رہی ہے،سیمل بائک بھی سکینہ کینسز کی طرح پی کے کے کی بانی رہنماؤں میں سے ایک ہیں جو آج پی کے کے کی عسکری ونگ کی کمانڈنگ کر رہی ہے۔وہ ایک منظم انداز سے اپنے جدوجہد کو مقصد کی جانب لے جارہے ہیں ۔
الجزائر کی جدوجہد میں بھی عورتوں کی شمولیت سے ایف ایل این کے قوت کو چار چاند لگ جاتی ہے ۔ جب فرانسیسی جبر اور تشدد حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے تو الجزائر کے جہدکار وں کواپنی جدوجہد کو تیز کرنے میں مشکلات پیش آتی ہے ، وہ جنگ کے لیے تیار عورتوں کی بھرتی شروع کردیتے ہیں ،وہ جہد کار عورتیں جدوجہد کی تمام مشکلات کو آسان کر دیتے ہیں ۔ وہاں عورت نرس بن کر جنگ کے زخمیوں کی تیمار داری کرتے تھے ،دھماکہ خیز مواد ایک جگہ سے دوسرے جگہ پہنچا دیتے تھے ۔ شہری علاقوں اور باروں پر جمیلہ بوہارڈ اور زہرہ داریف کی یونٹس بڑی مہارت سے بمب فکس کرکے دھماکہ کیا کرتے تھے ۔آج اگر الجزائر نے آزادی حاصل کی ہے یہ ساری کریڈٹ جدوجہد میں سرگرم پارٹی لیڈرشپ کو جاتی ہے کہ جنہوں نے عورتوں کی تربیت کر کے انہیں قابض سے آزادی لینے کی جنگ میں متحرک کردیا تھا۔
جب ہم ہندوستان کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہاں ہندوستانی تاریخ ایک عورت اندرا گاندھی پر نازاں ہے۔ کیونکہ اسی عورت کی دورِ وزارت عظمیٰ میں ہندوستان اپنے بنیادی حریف پاکستان سے ایک بڑا جنگ جیت گیا تھا۔بنگلہ دیش کے محاز پر پاکستان کی نوے ہزار فوجیوں کو انڈین فوج نے قیدی بنادیا تھا۔ اندرا گاندھی نے آزادی کی جنگ کے دوران ایک چھاپہ مار مسلح گروہ (منکی برگیڈ) کے نام سے بنا کر قابض کے فوجیوں پر حملہ کرتے تھے۔
مندرجہ بالا کے برعکس جب ہم بلوچوں کی موجودہ 70سالہ جدوجہد پر نظر دوڑائیں گے تو یہاں ہمیں عورتوں کی سرگرمیاں بہت محدود نظر آئیں گی۔ بلوچ تحریک میں خواتین کی شمولیت بہت کم رہی ہے لیکن اس کے باوجود ان کی عملی سرگرمیوں سے حالیہ بلوچ تحریک کے حوالے سے دنیا میں ایک مثبت پیغام پہنچا ہے۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ عورتوں کی شمولیت اور ان کی سرگرمیاں آزادی جیسی عظیم مقصد کے حصول کے لئے انتہائی سطحی ہیں۔ تحریک کے تناظر میں اگر عورتوں کی شمولیت کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو اُن کی کردار انتہائی محدود ہے۔بلوچ تحریک سے عورتوں کی کنارہ کشی یا سرے سے ہی محدود پیمانے پر شمولیت کی ایک بڑی وجہ معاشرے میں ریاستی مذہبی شدت پسندی کے اثرات ہیں۔ ریاستی بیانیہ ہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ خواتین کے کردارکو گھر کی چاردیواری تک محدود رکھا جا ئے۔ بلوچستان جیسے معاشرے میں کہ جہاں بغاوت کا خطرہ ہر وقت موجود تھا ریاست نے اپنے پروپگنڈہ پھیلانے کے لئے میڈیا، مدرسوں، تبلیغی جماعتوں سمیت بھاری تعداد میں سرمایہ لگایا۔ اسی وجہ سے آج بلوچ معاشرے کے بیشتر حصوں میں عورت گھرکی چاردیواری میں خود کو قید کیے ہوئے ہے۔ عورت نے یہ پابندی رضاکارانہ طور پر قبول کی ہے، نہیں تو اس پابندی کے خلاف کہیں سے آواز اٹھ جانا چاہیے تھا۔
بلوچ تحریک میں جس محدود پیمانے پر عورتوں کی شمولیت ہوتی ہے، وہ بھی وقتی طور پر ہے۔ تھوڑا عرصہ ساتھ رہنے کے بعد عورتیں تنظیم اور پارٹیوں سے ایسے دور چلے جاتے ہیں، اور خود تحریک سے بھی لاتعلق کردیتے ہیں۔وہ تنظیم کے مجرم کی طرح پارٹی سرگرمیوں سے دوررہتے ہیں۔ اسکے پیچھے بھی بہت سارے وجوہات کارفرما ہیں ۔
ان وجوہات میں سے ایک یہ کہ ہماری سیاست میں سرگرم عمل رہنے والی عورتیں ابھی بھی خود کو معاشرتی پابندیوں سے آزاد نہیں کرپائی ہیں۔ ہماری سیاست میں شریک عورتیں آج بھی ایک عام عورت کی طرح ازدواجی زندگی سے منسلک ہونے کے بعد اپنی سیاسی سرگرمیوں سے یا مکمل کنارہ کش ہوجاتی ہیں، یا پھر اِن سرگرمیوں کو خاندان کے تابع بناتی ہیں۔ سیاست میں عدم شرکت یا کنارہ کشی کی اصل وجہ عورتوں کی ذاتی رائے نہیں بلکہ اس میں معاشرتی دباؤ کا بھی بہت بڑا کردار ہے ۔ صرف عورت ہی نہیں بلکہ معاشرے کا ہر فرد اپنی ذاتی رائے بنانے سے اتنا اثر انداز نہیں ہو سکتا کہ جتنا وہ ایک مشترکہ سرگرمی میں حصہ ڈالنے سے مثبت کردار ادا کر سکتا ہے ۔ وہ خواتین جو سیاست میں شرکت کے بعد ذاتی زندگی کا چناؤ کرتی ہیں، اس حوالے بلوچ پارٹیوں کو منصوبہ سازی کرنا چاہیے ، کیوں کہ موجود انقلابی جنگ بلوچ معاشرے کو بڑی حد تک روایتی سوچ کے خلاف اکسا چکی ہے ۔ لیکن روایتی سوچ کے خلاف کس طرح معاشرے کے تمام افراد بشمول خواتین کو متحرک کیا جائے ، اس حوالے سے حتمی کردار بلوچ لیڈران کو ادا کرنا چاہیے ۔
عورتوں کی عدم شمولیت کی ایک اور وجہ جدوجہد میں سرگرم عمل پارٹیاں اور تنظیمیں ہیں ۔ ان اداروں نے عورت کی وہ تربیت نہیں کی جو انہیں کرنا چاہیے تھا۔ تحریک نے عام لوگوں کے خا ندانوں کو باور نہیں کرایا ہے کہ عورتوں کے بغیر جدوجہد اپنی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتی، عورتیں جب سرگرم عمل نہیں ہوتی ہیں تو آنے والے ادوار میں اُنہیں جدوجہد کی رہنمائی کرنے میں مشکلات کے ساتھ قبضہ گیر کی حقیت کا پتہ بھی نہیں چلتا۔جب ریاستی جبر کا رخ انکی طرف ہوگی تو وہ اُسے برداشت کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔
اب ہمارے سارے اداروں کو چاہیے کہ اُن سب خاندانوں کو جدوجہد کی اہمیت آسان الفاظ میں واضح کرنا چاہیے،آج تک حاصل ہونے والے کامیابیوں سے انہیں آگاہ کرنا چاہیے تاکہ وہ جدوجہد سے بیزاری ظاہر نہ کریں،دنیا کی ساری تحریکوں میں وقوع پذیر ہونے والے جبر اور تشدد کی عکس بندی کرکے اُنہیں دکھائیں تاکہ وہ خود کو آنے والے مشکلات کے لیے ذہنی طور پر تیار کر سکیں اورمایوسی اور کنارہ کشی کی نوبت نہ آئے۔
بلوچ پارٹیوں کو اپنے خواتین سیاسی کارکنوں کو نظر یاتی اور فکری حوالے سے لیس کرکے معاشرے میں موبلائزیشن کے عمل کو تیز کرکے ممبرسازی کرنا چاہیے۔ انہیں سیاست میں سرگرم عمل لوگوں کو آنے والے جبر کے لیے تیار کرنے ہونگے۔ آج بلوچ تحریک میں سرگرم عمل پارٹیوں میں عورتوں کی محدود پیمانے پر شمولیت تحریک کے لئے کسی المیے سے کم نہیں، اگر حالات ایسے رہے تو معاشرے کی نصف آبادی کو تحریک میں متحرک نہیں کیا جا سکتا، اس جدید دور میں عورتوں کی تحریک میں عدم شمولیت سے تحریکیں ناکامی کا شکار بھی ہو سکتی ہیں

مخلص کارکن شبیر بلوچ

caletlmyxqxoxou-800x450-nopad

حمید بلوچ 
بی ایس او آزاد بلوچ معاشرے میں ایک جامعہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ جو اپنے قیام سے لیکر آج تک بلوچ نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے انہیں شعوری طور پر تیار کرکے قومی غلامی کے خلاف جدوجہد کا درس دے رہی ہے ۔بی ایس او آزاد کی اسی شعوری جدوجہد نے بلوچ قوم کو ایسے ایماندار اور مخلص نوجوانوں سے نوازا ہے جو اپنے قومی آزادی کی جدوجہد میں ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ اور اس جدوجہد میں آنے والی ہر مشکل اور تکلیف کو خندہ پیشانی سے قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ایسے ہی نوجوان ہی قومی تاریخ کو اپنی جدوجہد سے زندہ رکھتے ہیں ایسے نوجوان امر ہوتے ہیں جو اجتماعی مفادات کو حاصل کرنے کے لئے انفرادی مفادات کو پس و پشت ڈال دیتے ہیں۔ .نوجوانوں کے اسی شعور جذبے اور ہمت نے وقت کے سامراجوں کو خوفزدہ کرکے رکھ دیا ہے۔ ایسے نوجوانوں کو ہی ریاست اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیکر راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ اور آج بھی لاتعدادباشعور نوجوان ظالم ریاستوں کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں آج جہاں بھی قومی آزادی کی تحریکیں چل رہی ہے وہاں نوجوان ہی ریاستی پالیسیوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں جن کو راستے سے ہٹانا قابض ریاستوں کے لئے ضروری ہے. بلوچ قومی تحریک جو گزشتہ 70 سالوں سے جاری ہے اس قومی آزادی کی تحریک میں نوجوانوں کا کردار قابل ذکر ہے کہ انہوں نے اپنے جان کی قربانی دیکر قومی تحریک کو زندہ رکھا اور اس تحریک میں بی ایس او آزاد کے نوجوان طالب علموں کا کردار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ بلوچ قومی تحریک کے ہر دور میں بی ایس او کے طالب علموں نے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا اپنے خون سے آزادی کی شمع کو بجھنے نہیں دیا بلکہ اپنے خون سے اس چراگ کو روشن رکھا . ان کی جدوجہد نے بلوچ معاشرے میں سیاسی تبدیلی کی بنیاد رکھی اور آج بی ایس او آزاد کے طالب علم بلوچ نوجوانوں کے آئیڈیل بن گئے ہیں ۔انہی نوجوانوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بی ایس او آزاد کے سینکڑوں نوجوان اغوا اور شہید ہوگئے ہیں۔شہید کمبر چاکر،شہید حمید، کامریڈ قیوم، رضا جہانگیر، شفیع بلوچ، فدا بلوچ، حاصل قاضی، سالار بلوچ، رسول جان، وحید بلوچ، اور دیگر سینکڑوں نوجوان بی ایس او آزاد کے ہی کیڈر تھے جنھوں نے اپنی ذاتی خواہشات کو اجتماع کی بقاء کے لئے قربان کردیاہے۔ ذاکر جان، مشتاق بلوچ، زاہد بلوچ، آفتاب بلوچ ،وسیم ،ارشاد بھی اسی راستے کے مسافر تھے اور اندھیری رات کو ختم کرنے کے لئے شہیدوں کے نقش قدم پر چل پڑے لیکن ان محبت اور دوستی کے پیغمبروں کو سر زمین سے عشق کی پاداش میں اغوا کرکے غائب کردیا گیا آج تک پتہ نہیں کہ یہ نوجوان کہاں اور کس حال میں ہیں۔ انہی نوجوانوں میں ایک نوجوان شبیر بلوچ عرف لکمیر جو 22سال کے نوجوان طالب علم اور بی ایس او آزاد کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری تھے جنہیں 4 اکتوبر 2016 کو ریاستی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے تربت کے علاقے گورکوپ سے ان کی اہلیہ کے سامنے سے اٹھاکر لاپتہ کردیا گیا ،آج شبیر بلوچ کو آغوا ہوئے دس مہینے کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن ان کی کچھ خبر نہیں۔شبیر بلوچ کو بلوچستان کے دوسرے نوجوانوں کی طرح اٹھا کر لاپتہ کردیا گیا لیکن اٹھانے والوں نے یہ نہیں بتایا کہ شبیر بلوچ کا کیا قصور ہے اس سے ایسا کونسا جرم سرزد ہوا ہے کہ اسکی سزا اسے غائب کرکے دی گئی وہ ایک سچا عاشق تھا اپنے سرزمین کا . شبیر بلوچ محبتوں کی سرزمین کا فرہاد تھا جسے سرزمین کی محبت نے جدوجہد کرنے پر مجبور کیا . اس کا صرف ایک ہی قصور تھا کہ اس نے اپنے مظلوم قوم کے لئے آواز اٹھائی وہ نوجوانوں کو کتاب پڑھنے کا درس دیتا تھا اور اغوا کرنے والوں کو بھی معلوم تھا کہ ہم نے کسی دہشت گرد کو نہیں بلکہ کتاب کے رسیا ایک مظلوم پر امن سیاسی کارکن کو اغوا کیا ہے. اور ایسے سیاسی کارکن اس اسلامی ریاست کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ شبیر بلوچ ایک طالب علم اور پرامن سیاسی کارکن تھے وہ ایک سنجیدہ اور باشعور نوجوان تھے قومی غلامی کو انہوں نے بچپن سے ہی محسوس کرلیا تھا اور اسی احساس محرومی اور احساس کمتری کو ختم کرنے کے لئے 2008 میں صرف 15 سال کی عمر میں بی ایس او آزاد کو جوائن کرکے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا شال اور آواران زون میں اپنی ذمہداریاں مخلصی اور ایمانداری سے انجام دے چکے ہیں۔آواران زون کے صدر بھی رہے اور 2014 میں انہیں بی ایس او آزاد کی مرکزی کمیٹی کا اعزازی ممبر چن لیا گیا یہ وہ وقت تھا جب بی ایس او آزاد تنظیمی حوالے سے سخت مشکلات کا شکار تھی ایک طرف ریاستی ظلم و جبر اور دوسری طرف سوشل میڈیا میں بی ایس او آزاد کے خلاف منفی پروپگنڈے شدت کے ساتھ جاری تھے۔ لیکن شبیر بلوچ اور بی ایس او آزاد کے مخلص کارکنوں نے اس مشکل دور سے بی ایس او آزاد کو نکالنے میں اہم کردار ادا کیا ۔بی ایس او آزاد کے 20 ویں قومی کونسل سیشن میں وہ بی ایس آزاد کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری کے عہدے پر بلامقابلہ منتخب ہوئے . شبیر بلوچ اپنی ذات سے زیادہ تنظیم کو اہمیت دیتے اور اپنا بیشتر وقت تنظیمی کاموں میں مصروف رہتے ۔شبیربلوچ جب اغوا ہوئے تو وہ زاہد بلوچ اور دوسرے کارکنوں کی طرح غیر مسلح تھے ان کے پاس ایک ہی ہتھیار تھا ،وہ ہتھیار تھا شعور و زانت کا جس سے ہر سامراج خوفزدہ رہتا ہے۔ اور ریاست نے اپنے خوف کو ختم کرنے کے لئے شبیر بلوچ کو اغوا کرلیا۔شبیر کا تعلق ایک ایسے علاقے سے ہے جہاں زندگی کے بنیادی ضروریات ناپید ہیں ،آواران جیسے بڑے ضلع میں صرف دو انٹر کالجز ہیں وہ بھی فوجی کیمپ بن چکے ہیں ،مگر شبیر کی تربیت کا کریڈٹ بی ایس او آزاد کے باشعور نوجوانوں کو جاتا ہے ،یہ رضا ہی تھے جنہوں نے شبیر بلوچ کی لیڈرشپ صلاحیت کو پرکتے ہوئے ایسے کم عمری میں ممبرشپ سے لے کر زونل لیڈرشپ تک لے آئے ۔اگر قابض ریاست نے بلوچوں کو کچھ دیا تھا وہ احساس محرومی ،احساس کمتری ،مسخ شدہ لاشیں ،اور منشیات کا زہر اسکے علاوہ پاکستان نے صرف بلوچوں سے طاقت کے زور پر انکی جدوجہد کو کاؤنٹر کررہی ہے۔ریاست کا یہ عمل کسی بھی شعور یافتہ نوجوان کو اسکی غلامی کا احساس دلاتا اسی غلامی کو ختم کرنے کے لئے اس نے پرامن طور پر سیاسی جدوجہد کرنے کا شعوری فیصلہ کیا ۔بی ایس او آزاد کی شعوری جدوجہد نے شبیر بلوچ کو اس قدر مضبوط بنادیاتھا کہ وہ ریاست کی پالیسیوں کو ناکام بنانے کی مکمل اہلیت رکھتا تھا وہ پاکستان کے استحصالی نظام کا سخت مخالف تھا کیونکہ اسے ادراک تھا کہ استحصالی نظام میں بنائے گئے قوانین بلوچ قوم کی بقاء کے لئے خطرہ ہے اگر اس فرسودہ نظام کے خلاف جدوجہد نہ کی گئی تو بلوچ قوم کا وجود دنیا سے مٹ جائے گا اور اس استحصالی نظام کے خلاف پرامن جدوجہد کررہے تھے کیونکہ استحصالی نظام کا خاتمہ جہد مسلسل سے ہی کیا جاسکتا ہے ۔شبیر بلوچ ایک پرامن سیاسی جہد کار اور انسانیت سے محبت کرنے والے انسان تھے اس کا کسی مسلح تنظیم سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔صرف نوجوان طالب علموں کو اس بنیاد پر اغوا کرنا کہ وہ کیوں ریاست کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں اور کیوں آزادی کی بات کرتے ہیں شبیر بلوچ ان باشعور نوجوانوں میں شامل تھے جنہیں غلامی سے نفرت اور آزادی سے محبت تھا۔ایسے باشعورنوجوانوں کا لاپتہ ہونا دنیا کے انسانی حقوق کے اداروں کے لئے سوالیہ نشان ہے۔

آئی آبجیکٹ مائی لارڈ

women-697928_960_720

رژن بلوچ 
جب سے ھوش سنبھالا ہے عورت کو مظلوم پایا ہے۔ اور مرد کو اس صنفِ نازک پر افسوس یا پھر اس کو حوصلہ دیتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ یہ حوصلہ اپنی چار دیواری سے باہر کسی غیر عورت کے لئے ہوتا ہے۔ اب میں جوان ہوکر عورت کو اپنے حقوق کے لئے لڑتے ہوئے دیکھ رہی ہوں، کبھی حقوق کے نسواں کے نام پر تو کبھی لبرلزم کے ہر کسی کا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے لڑنے کا یا آواز اُٹھانے کا اور آج کل تو دیواروں پہ لکھنے کا کلچر بہت عام ہے، جس میں عورت کی حوصلہ مندی کے لئے بھی کئی نعرے لکھے ہیں، جیسا کے ” عورت کو آذاد کرو ” ۔
در حقیقت سوال یہ ہے کہ آزادی کیا ہے؟ بقولِ روسی فلسفی برلِن کے ” آذادی وہ ہے جو دوسروں کی زندگیوں میں مداخلت نہیں کرتی ” میں اپنے ہر عمل میں خودمختار ہوں، کوئی بھی فیصلہ لینے کیلئے مجھے کسی کی اجازت درکار نہیں۔ لیکن جنوبی ایشیائی ممالک میں جب بھی انسانی آزادی کا موضوع زیر بحث آتا ہے تو مردوں کے لئیے “سیکس” سروں پہ منڈلانے لگتا ہے ۔ جبکہ عورتیں تو ابھی اِس بات پہ اٹکی ہیں کہ آزادی ہے کیا؟ مولوی حضرات کے نزدیک سات پردوں میں چْھپ کر رہنا ہے یا بقولِ سرمایہ دار برہنہ ہونا؟ وہ اِن چیزوں میں اتنا جھْٹ گئیں ہیں کہ آزادی جیسا گہرا لفظ عورت کی سمجھ سے بالاتر ہوگیاہے ۔ 
مجھ جیسے نا چیز نے ہمیشہ سے ہی حالات کے مارے دانشوروں کو بحث کرتے دیکھا ہے’’ عورت کی آذادی ماری جا رہی ہے ،’’ عورت بیچاری مظلوم ہے۔ لیکن یہ موضوع کبھی زیر بحث نہیں رہا کہ عورت آذادی مانگتی ہی کیوں ہے،؟ کیوں عورت نے اپنے اختیارات کسی اور کے حوالے کیے ہیں ،؟ کبھی یہ سوال نہیں اُٹھایا گیا کہ عورت مانگتی بھی اْسی سے ہی ہے جس نے کبھی دھوکہ دے کر تو کبھی چھین کر عورت کی آزادی سلب کی ہے۔ عورت نے مرد کو کبھی اپنے وجود کے لئے آذادی مانگتے نہیں دیکھا ہے ۔ کیوں کہ مرد زہنی حوالے سے تسلیم کرچکا ہے کہ وہ اپنی زات میں ایک آذاد شخص ہے ۔ لیکن عورت اِس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ اُس کی زندگی میں سب سے زیادہ حق اُس کا اپنا ہے، البتہ عورت بیچاری ابھی تک اِس بات پر لڑ رہی ہے کہ مجھے دوپٹہ اوڑھنا ہے کہ نہیں۔ 
میرے نزدیک آذادی کوئی آفاقی شے نہیں ہے آزادی انسان کی زہنیت ہے ۔ عورت اپنی ذات میں یہ تسلیم کریں کہ آزادی کو چھین کر یا منّت کر نہیں لی جا سکتی بلکہ یہ پہلے سے ہی اُنہی کے پاس موجود ہوتی ہے، بس استفادہ کرنا آنا چاہئے۔ 
آج کل بلوچ عورت اور سیاست کے موضوع پر محدود پیمانے پر بحث کی ابتدا ہوچکی ہے ، اور ہو بھی کیوں نہ آخر عورت معاشرے میں 51فیصد یعنی کہ اکثریت ہیں۔ اس موضوع پر چند ایک آرٹیکل پڑھنے کے بعد ایک دوست سے بلوچ عورت اور سیاست پر بحث ہورہی تھی تو دوست نے کچھ یوں کہہ کر عورت کو بری الذمہ قرار دیا “ہماری سیاست میں سرگرم عمل رہنے والی عورتیں ابھی بھی خود کو معاشرتی پابندیوں سے آزاد نہیں کرپائی ہیں۔ ہماری سیاست میں شریک عورتیں آج بھی ایک عام عورت کی طرح ازدواجی زندگی سے منسلک ہونے کے بعد اپنی سیاسی سرگرمیوں سے مکمل کنارہ کش ہوجاتی ہیں، یا پھر اِن سرگرمیوں کو خاندان کے تابع بناتی ہیں۔ سیاست میں عدم شرکت یا کنارہ کشی کی اصل وجہ عورتوں کی ذاتی رائے نہیں ہے بلکہ اس فرسودہ معاشرتی نظام کے اثرات ہیں” اب بات یہاں آکر رک جاتی ہے کہ آخر عورت نے اس فرسودہ معاشرے کو اتنی اجازت ہی کیوں دی ہے کہ اُسے سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کشی کرنے پر مجبور کریں۔ میرے ناقص رائے کے مطابق فرسودہ معاشرتی نظام کے مظبوطی میں عورت برابر کے شریک ہیں جو وہ اپنے سیاسی مستقبل کے لئے مثبت قدم اُٹھا کر مستقل سیاسی عمل کا حصہ بننے کے بجائے فرسودہ نظام کے سامنے دستبردار ہوتے ہیں۔ عورت کو تصوراتی دنیا سے نکل کر یہ تسلیم کر لینی چاہیے کہ سیاست کرنے کے اُتنی ہی حق عورت کو ہے جتنا کہ مرد کو ہے۔ عورت کو بس یہ احساس کرنا ہوگا کہ یہ حقوق کہاں اور کیسے استعمال کریں۔ بلوچ سماج میں عورتیں بھی اُتنی ہی زمہ داریاں نبھائیں جتنا ایک مرد نبھا رہا ہے کیوں کہ یہ سرزمین صرف مردوں کی نہیں ہے، اور اِس تحریک پہ حق صرف مردوں کا نہیں ہے۔ بلکہ اِس تحریک کا ہم عورتوں پر اْتنا ہی حق ہے جتنا اِس کا ایک مرد پر ہے۔ 
آخر میں یہ نہ چیز کچھ مختصر سوالات بلوچستان کے ترقی پسند پارٹیوں کے لیے چھوڑتی ہے۔ کیا ہم بر حق ہے کہ تمام ملبہ عورت پہ ڈالیں ؟ اگر عورت نے اپنا فیصلہ خود نہیں کیا یا اُس کے خوف نے عورت کو یہ قدم اُٹھانے کی اجازت نہیں دی تو اُن تمام تنظیم و پارٹیوں نے کیا کردار نبھایا جو ترقی پسند بلوچستان کا نعرہ لگاتے نہیں تھکتے؟ اگر اُن کی خواتین سیاسی کارکنان فرسودہ نظام کے شکار ہو گئے یا ہورہے ہیں اُن کی سیاسی مستقبل داؤ پہ لگ رہی ہے تو ان ترقی پسند تنظیموں نے اِس سنجیدہ معاملے پر کتنی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے ؟ کیا ان تنظیموں نے اپنے کارکنان کے سامنے فرسودہ سماج اور ترقی پسندانہ سماج کے درمیان فرق کو واضح کیا ہے؟ فرسودہ نظام کے ازدواجی زندگی کے خلاف درس و تدریس کا عمل سرانجام دی ہیں؟ اپنے خواتین سیاسی کارکنان کو فرسودہ معاشرتی نظام کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا ہے؟ شاید ہماری نام نہاد ترقی پسندانہ سوچ بھی اِن فرسودہ روایتوں کی نظر ہوگئی ہیں کہ خواتین کسی اور کی ملکیت ہے ۔ 
مجھ جیسا نا چیز یہ سمجھتی ہے کہ یہ تمام سوالات حل طلب ہیں ہر اُس تنظیم و پارٹی کے لئے جو ترقی پسند بلوچ سماج کا خواب دیکھتی ہے ۔پارٹی پلیٹ فارم میں اگر آج اس بحث کی ابتدا نہ کی گئی تو ترقی پسند بلوچ سماج کا خواب ایک خواب ہی

رہے گا ۔

حوصلہ مند کامریڈ نسیم بلوچ

Baloch-Sarmachar

قمر بلوچ
’’کامریڈز! ہماری کامیابی ہمارے نظم و نسق پر منحصرہے ،کیونکہ ہم گوریلہ ہیں اور گوریلہ جہدکاروں کی کامیابی اُس وقت ممکن ہوتی ہے جب اُنکے نظم و نسق مضبوط ہونگے۔اُنکے ہر عمل نظم ونسق کے اندر ہونگے ہمیں ہماری چالاکی اور مہارت ہمیں دشمن سے سبقت دلائے گی ۔آج کی اس جہدوجہد میں ہم نے کامیابی کے ساتھ کہی محاذوں پر دشمن فوج کو ناکوں چننے چھبائے ہیں۔اُن سب کامیابیوں کا راز ہماری گوریلہ اصولوں کی تعبداری میں ہے۔
میرے قوم کے فرزندوں!!ہماری کالج اور درسگاہ ہماری کیمپ ہے ۔یہاں سے ہماری سیاسی اور عسکری تربیت ہوگی۔ہم یہاں سے تربیت یافتہ ہوکر میدان جنگ میں دشمن کے ساتھ کمربستہ ہونگے اور اپنے اپنے علاقوں میں عوامی موبلائزیشن کا حصہ بنیں گے ۔اسی درسگاہ سے آج ہزاروں کی تعداد میں حمل جیہند ،بالاچ ،اورکمبر کے فرزندان نے بلوچستان کے گلی کوچوں میں دشمن کو شکست سے دوچار کر کے رکھ دیاہے ۔آج دشمن کی فوج اتنی بوکھلاہٹ کی شکار ہے کہ ہماری جھونپڑیوں سے خوف کھاتی ہے ۔یہ ہماری کامیابی ہے کہ دشمن عام بلوچ کو گوریلہ سمجھ کر ٹارگٹ کر رہی ہے وہ یہ سوچ کر یہ سب کچھ کررہی ہے کہ ہماری صفوں میں لوگوں کی شمولیت کم ہوگی مگر یہ سب الٹ ہو رہی ہے‘‘۔
یہ دو پیراگراف شہید نسیم کے ہیں جو اُس کی شہادت کے دن سے مجھے بیتاب کیے ہوئے ہیں کہ کامریڈ نسیم بلوچ کی قومی خدمات کے حوالے سے میں کچھ الفاظ رقم کروں۔ شہید نسیم نے یہ الفاظ میدانِ جنگ میں جنگجوؤں کوحوصلہ دینے اور متحرک کرنے کے لئے کہے تھے۔ 
اس دھرتی ماں نے ہزاروں ایسے نوجوان پیدا کیے ہیں جو ہمیشہ اپنے ماں کی آبرو کو بچانے کی خاطر زندگی جیسی خوبصورت ترین شے کو ہنسی خوشی قربان کر دے دیتے ہیں۔ میں کس کس کا نام لوں،شیہک،سردو،فدا،دینار،سیلم،اور ہمیشہ کامیابیوں کاذکر کرنے والے،دوستوں کو نظم و ضبط کی پابندی کا درس دینے والاکامیریڈ نسیم عرف ملا دیدگ بلوچ جیسے نوجوان پیدا ہوئے ہیں۔ جن قوموں میں قربانی دینے والے نوجوان موجود ہوں ایسے قوموں کو تا دیر غلام نہیں رکھا جا سکتا ہے۔نسیم اپنے طالب علموں کا ایک ہونہاراُستاد اور ایک عظیم ساتھی تھے ،وہ ہمیشہ اپنے نئے آنے والے سپاہیوں کا خیال کرتے تھے ،انہیں ٹریننگ مرکز پر لے جانا ،انہیں ماؤزے تنگ کی گوریلہ تصانیف پڑھانا،بیماری کی صورت میں انکی تیمار داری کرنا،نئے آئے ہوئے سپاہیوں کو شاعری سنانا،انہیں ادب کی دنیا کا سیر کروانا ،وغیرہ کامریڈ نسیم بلوچ کی روزمرہ کی معمولات تھے۔
راقم کاکامریڈ سے باضابطہ پہلی ملاقات اسکی بی ایس او کے زمانے میں ہوئی ہے جب وہ 2012کی سیشن کے سلسلے آواران میں آئے تھے۔ایک دو دن بی ایس او آزاد کے اسیر رہنما کامریڈ شبیر بلوچ کے گھر میں قیام کے بعد سیشن کی مقام پر روانہ ہوگئے۔ اکٹھا سفر کیا سارے سفر کو کامریڈ نے اپنے شاعری اور طنز و مزاح کی وجہ سے آسان بنایا،پانچ دن تک سیشن کے مقام پر کامریڈ کے ساتھ مختلف موضوع زیر بحث رہے،جن میں سیاست،ادب،مذہب،علاقے کی سیاسی صورتحال خاص کر اورماڑہ ،پسنی،اور گوادر زیر بحث رہے،کیونکہ کامیریڈ کا تعلق انہی علاقوں سے تھا۔
اُس ملاقات کے بعد اُس سے نہ ملتے ہوئے بھی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ میرے ساتھ بیٹھا ہے ادب لیکچر دے رہا ہے،وہ اس لیے کہ اسکی بحث و مباحثوں میں اتنی جاذبیت تھی کہ اُن کا اثر دیر تک رہتا۔
دو سال کی طویل مدت کے بعد ہم دوبارہ ملے ،جہاں سے ہم نے اپنی مباحثے کو ادھورا چھوڑا تھا وہاں سے دوبارہ شروع کیا۔ اس دوران کامریڈ نسیم سے ملاقات مختصر نہ تھی۔ کامریڈ سے روز دیوان اور مباحثہ ہوتا،دن ہفتوں میں بدل گئے، ہفتے مہینوں میں تبدیل ہو گئے ۔ وقت کا پہیہ آگے کی طرف چلتا گیا اور مہینے سالوں میں بدل گئے۔اس درمیان نہ بدلنے والے ہم تھے ۔ ہماری سرکل کی تعداد سینکڑوں میں بدل گئی۔اُس سرکل میں ہمیشہ دوستوں کو ہنسانے والا شہید لال جان،دوستوں کی پیغام رسانی والا شہید شہباز جان عرف دینار ،دوستوں کی بائیوگرافی لکھنے اور شہدا اور اسیران کی معلومات اکٹھا کرنے والا بی ایس او آزاد جھاؤ زون کے زمہ دار کارکن شہید سلار جان سمیت شہید سیلم جان، شہیدشہزاد،شہیددادبخش،شہیدقندیل،اورشہیدمجاہدبلوچ ہوا کرتے تھے۔جب ہم سب ساتھ ہوتے تو دنیا، ادب، مذہب، سیاست، پر ملا دیدگ طویل بحث شروع کردیتا ۔ ہم سب توجہ سے اُسے سن رہے ہوتے اور ان کی باتوں کو آہستہ آہستہ جذب کر رہے ہوتے تھے۔اُس سرکل سے میرا ناطہ چند مہینے قبل اس وقت چوٹا جب میں تنظیمی کاموں کے سلسلے میں انکی گیدرنیگ کو چھوڑکر اُن کامریڈوں کی نگری سے نکل گیا۔مگراس کے باوجود بھی انکی سرکلوں سے ہمیشہ مستفید رہا ،کیونکہ جب بھی ان میں سے کسی سے رابطہ ہوتا تو ساری معلومات کہیں دور رہ کر بہم پہنچ جاتے تھے ۔اُن دلچسپ اور اہمیت کے حامل اور سبق آموز باتوں اور سرکلوں کے تسلسل کو جھاؤ میں حالیہ تین روزہ خونی آپریشن نے میرے عظیم ساتھی کی شہادت نے توڑا ہے ۔ مگر میں آج بھی فخر سے کہوں گا کہ نسیم کے شاگرد اُس تسلسل کو مذید منظم انداز اور مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔ اور اس تسلسل کوبلوچ نوجوان اپنی منزل تک جاری و ساری رکھیں گے۔
بلوچستان قدرتی طور پر ایک زرخیز خطہ رہا ہے،بشریاتی اور مادی طور پر اُن مادی اشیا نے اس خطے کو ہر کسی کے لیے پُرکشش بنایا ہے ،سائرس اعظم سے لے کر پنجابیوں تک کے عزائم یہی تھے اور ہیں کہ کیسے ا س خطے کو اپنی تابع رکھا جا سکے۔ چاہے اُس کے لیے کتنی ہی مشکلات کیوں نہ درپیش آتی ہوں۔ مگر اس مٹی تلے تمام جاندار اور بے جاں اشیا نے اپنی آبائی علاقے کے لیے سائرس اعظم کی لشکر کے لیے تمام راستوں کو بند کر رکھا تھا اور وہ بیزاری کے عالم میں اپنی جاں کو بچانے کی خاطر اس خطے کو چھوڑ کر چلے گئے تھے۔پُرتگیزیوں کو ساحل بلوچ پر حملے کے بعد حمل جیہند نے پسپا کردیا تھا۔ انگریز کی لشکر کو محراب خان اور ساتھیوں نے بڑی مشکل میں ڈال کر ایک طویل بغاوت کے بعد اپنے خطے سے نکال باہر کروایا تھا۔ اور پنجابی کی عزائم کو خان قلات سے لے کر ،نوروزخان ، نورا مینگل، شیروف مری، بالاچ خان ، شہک، سردو سے ہوتے ہوئے نسیم جاں جیسے ہزاروں نوجوانوں نے شدید مشکلات میں ڈالا ہے۔اس شکست سے بچنے کی خاطر شاطر پنجابی نے کبھی قرآن مجید کا واستہ دیکر اس کی بے حرمتی کی، کبھی اپنے پالے ہوئے اسلام کے نام پر دھبوں جیسے مولویوں کا ۔ کبھی ہمیشہ کے لیے د وھوکہ دہی میں شہرت رکھنے والے بے ضمیر سرداروں اور نوابوں کا سہارا لے کر بھی وہ اس سرزمین کو اپنے زیر نگیں کرنے کی کوششیں کرتا ہے ۔ لیکن ان سب کے باوجود بھی وہ مشکلات کا شکار ہے ۔ آج اسے واضح شکست دیکھائی دے رہی ہے،اس لیے آج اسکی شکست خوردہ فوج کے لیے بلوچ کا ہر بچہ سرمچا ہے ،اور ہر جھونپڑی اُسے ایک گوریلہ کیمپ نظر آتی ہے اس لیے آج تک وہ ہزاورں کی تعداد میں نوجوانوں کو لاپتہ کرنے اور شہید کرنے کے ساتھ ساتھ ہزاورں جھونپڑیاں جلا چکا ہے۔
بلوچ دھرتی نے کبھی بھی اپنے دفاع کے لئے حمل جہیند،شیرو مری ،بالاچ کی کمی محسوس نہیں کی ہے ،کیونکہ بلوچ فرزندوں نے اُس کمی کو اپنے خون سے پورا کر دیا ہے،کبھی کمبر کے روپ میں ،کبھی شہیک کی شکل میں تو کبھی ملا دیدگ (نسیم )جان کی صورت میں حمل ،محراب خان ،اورکمبربن کر بلوچ دھرتی کوبچانے کی جدوجہد میں ہمیشہ کے لئے تاریخ کے اوراق میں نمیران ہوگئے ہیں۔

روایات پرست بلوچ خواتین

_Libya

نازنین بلوچ 
عام طور پر جب ہم روایت پرستی کا ذکر کرتے ہیں تو ہمارا دھیان خود بخود مذہب یا پھر آباء و اجداد کی معاشرتی روایات کی طرف چلا جاتا ہے۔ لیکن اگر اس کو تھوڑا وسیع کرکے دیکھیں تو یہ سوچ ہمیں جدید معاشروں میں بھی نظر آتی ہے جہاں ہم کسی نظریے یا نظام یا طریقہ کار کو مکمل آئیڈیل یا تبدیلی کو عدم گنجائش تصور کرتے ہیں ۔ ہمیں لگتا ہے کہ اس چیز میں تبدیلی کی گنجائش ہو ہی نہیں سکتی یا پھر اس مخصوص چیز میں تبدیلی کا خیال بھی ہمیں خوف میں مبتلا کر دیتا ہے۔ لیکن تبدیلی ایک ارتقائی عمل ہے جسے معاشرے کو چلانے کے لئے انتہائی اہم و ضروری ہے۔ 
اگر ہم بلوچ معاشرے میں روایت پرستی کا تنقیدی جائزہ لیں تو یہاں(بلوچ معاشرے میں) روایت پرست اورروایت شکنی پر مختصر بحث کرتے ہیں ۔ بلوچ 1947ء سے پہلے انگریز اور پھر پاکستان کا غلام رہا، اور تاریخ اس بات کا گواہ ہے کہ قابض کبھی نہیں چاہتا کہ محکوم اقوام باشعور ہو، کیوں کہ قومی شعور استحصالی نظام کے خلاف بغاوت کو جنم دیتی ہے ۔ پاکستان نے بلوچ سماج میں قومی شعور کے اجتماعیت کو نقصان دینے کیلئے بلوچ سماج کو کبھی فرقہ ، کبھی رنگ نسل تو کبھی مذاہب کے نام پر تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ بلوچوں کی استحصالی نظام کے خلاف اجتماعی مزاحمت ہیں کہ جنہوں نے بلوچ کو بحیثیت قوم استحصالی تقسیم سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی اور اپنے مقصدمیں درمیانے حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ لیکن ان تمام معاملات میں بحیثیت فرد ایک عام بلوچ (خواتین یا مرد) کا کردار کیا رہا ہے؟
عام طور پر اس کراہ ارض میں مرد ہمیشہ سے ہی مظبوط رہا ہے۔ اس لئے نہیں کہ جب وہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو شاید خواتین کے مقابل زیادہ غذا لیتا ہے بلکہ اس لئے کہ معاشرہ مرد کو ہر چھوٹایابڑا عمل کرنے پر سراہتا ہے اور خواتین کی مرد کے مقابلے میں حوصلہ افزائی انتائی کم جاتی ہے۔ اس معاشرتی رویے کے سبب مرد زیادہ پُر اعتماد اور خواتین قدرے سہمی رہتی ہے۔ مختصراً یہ موضوع جداگانہ بحث کی متقاضی ہے ۔ راقم کی موضوع یہ ہے کہ خواتین نے خود اپنے لیئے کیا کارنامے سر انجام دیے ہیں ؟ 
بلوچ بحیثیت قوم پچھلے 70سالوں سے غلام ہے اور اِس غلامی کے خاتمے کے لئے ہر ممکن جہد کی جارہی ہے۔ لیکن کسی بھی معاشرے میں استحصالی نظام کے خاتمے کی جدوجہد میں معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت لازمی امر ہے کیوں کہ معاشرے کا نصف حصہ جدوجہد کو زندہ تو رکھ سکتا ہے لیکن ایک منظم تحریک کی تشکیل میں ناکام رہتے ہیں۔ بلوچ سماج میں آبادی کا 51 فیصد خواتین پر مشتمل ہے ۔لیکن آج بلوچ قومی جدو جہد میں خواتین مرد کے مقابلے پانچ فیصد سے بھی کم ہیں۔ البتہ آج محدود پیمانے پر بلوچ خواتین جدوجہد میں پیش پیش تو ہے لیکن ان خواتین کی جدوجہد کا دورانیہ محض چند سالوں پر میط ہیں ۔ چند سالوں بعد روایتی طور پر ” پِیا سنگ بیاہ” کر کے چلیں جائے گے، اور پھر؟ 
پھر اُن کی سیاسی زندگی کی اختتام شروع ہوجاتی ہے، کیوں کہ خواتین اپنی سیاسی زندگیوں کا فیصلہ قسمت کے حوالے کرتے ہیں ۔ خواتین نے خود کبھی بھی اپنی سیاسی زندگیوں کے حوالے سے سنجیدگی سے غور و فکر نہیں کیا ہے۔ جس جدوجہد میں اُن کے مرد فکری ساتھیوں نے اپنے زندگی کے تمام آسائشوں کو قربان کرکے اجتماع کو فرد پر فوقیت دی ہے۔ اسی تحریک میں خواتین پانچ سے چھ سال تک فکری حوالے سے جدوجہد کرکے اپنی سیاسی شعور میں محدود پیمانے پر تبدیلیاں لاکر تحریک، جدوجہد اور اپنی سیاسی وابستگی کو فرسودہ روایات کے سامنے دستبردار ہو کر سب کچھ چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔ تحریک میں تلخ تجربات یہ ہے کہ لوگ آتے جاتے ہیں ۔لیکن تحریک کیلئے اپنے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے فکری دوستوں کے جسمانی حوالے سے جدا ہونے کا شاید اتنا افسوس نہیں ہوتا جتنا ان فکری دوستوں کا فرسودہ روایات کے سامنے دستبردار ہونے سے ہوتا ہے۔ شاید بعض اوقات وہ اپنی سیاسی وابستگی کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے ہیں لیکن فر سُودہ روایت کو کیسے توڑ دیں؟ گھر سے بغاوت کرنے کا خوف اُسے خاموشی پہ مجبور کر دیتا ہے اور وہ خاموش دبے پاؤں چلی جاتی ہے۔ اور باقی تمام کی طرح روایت پرست ہو جاتی ہے۔ 
تمام تر زندگی جو فرسودہ روایتوں کو پاش کرنے کی باتیں کرتی ہے وہ اسی فرسودہ روایت کی نظر ہوجاتی ہے۔ ایسا نہیں کہ بلوچ معاشرے میں کسی نے بغاوت نہیں کی بلکہ ایک واضح مثال ہے جس نے فرسودہ روایات کا پیشہ خندانی سے مقابلہ کیا ہے ۔ کریمہ بلوچ جو تمام بلوچ خواتین کیلئے ایک آئیڈل ہے۔ جس نے نہ معاشرے کی فرسودہ روایات کو خاطر میں لایا اور نہ ہی رشتوں کو اپنے سیاسی وابستگی کے درمیان آنے دیا بلکہ تمام مصائب کا مقابلہ کر کے آج بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کی پہلی خواتین چیئرپرسن ہے۔ آج بلوچ خواتین کو انتائی سنجیدگی سے غور و فکر کرنی چایئے ہے کہ جدوجہد ایک محدود دوارنیہ کیلئے کرنی ہے یا اپنے آپ کو جدوجہد کیلئے وقف کرنا چایئے ؟ یا خواتین کو فرسودہ روایات کے سامنے دستبردای کے روایات کے برقرار رکھ کر روایت شکن نہیں ہونا ہے ؟