قومی آزادی کی تحریک اور فرسودہ روایات

تحریر : کمال بلو چ

قومی آزادی اور خوشحالی کسی سماج کو قابلِ احترام ٹھہراتی ہے۔ہر باشعور انسان اپنے آزادی کے لئے جدوجہد کرتا ہے۔قوموں کی آزادی ہی انکی خوشحالی کا ضامن ہے۔سماج دشمن و قوم دشمن لوگ قومی اتحاد کو پارہ پارہ کرتے ہیں۔ایسے bookلوگ قومی تعمیر و ترقی کی راہ میں ہمیشہ رکاوٹ ہوتے ہیں، جبکہ اس کے برعکس آزادی و خوش حالی کے لئے جدوجہد کرنے والے لوگ سماج میں دیوتا کا مقام رکھتے ہیں۔ معاشرے حساس ہوتے ہیں لیکن طاقت کے زیر سایہ زندگی بسر کرنے والے معاشرے زیادہ ہی حساس ہوتے ہیں۔کیوں کہ غلام سماج قبضہ گیروں کی طاقت آزمائی کے لئے ہمیشہ’’ امتحان گاہ‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔شعوری طور پر غلامی کے خلاف لڑنے والے اقوام قابض سے کسی قسم کا سودا نہیں کرتے، بلکہ خندہ پیشانی کے ساتھ اپنی راستے میں حائل رکاوٹوں و مشکلات کا مقابلہ کرتے ہیں۔
بلوچ قومی آزادی کی تحریک فرسودہ روایات سے ہٹ کر گزشتہ 15 سالوں سے تنظیمی بنیادوں پر عوامی اعتماد کے ساتھ چل رہا ہے۔ہر روز پاکستانی ریاست بلوچ فرزندان کی لاشیں پھینک رہی ہے۔بلوچ قومی تحریک آزادی کے ساتھ عوام کا بھروسہ اس بنیاد پر ہے کہ سیاسی کارکنان اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے عوام کی رہنمائی کررہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اس جدوجہد میں کچھ ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جن کا تعلق براہ راست بلوچ قومی اجتماعی زندگی سے ہے۔قابض ریاست سے برسرِ پیکار چند لیڈران اپنے کردار و اعمال سے قومی نقصان کا سبب بنتے جا رہے ۔ اس بات سے ہمیں باخبر ہونا چاہیے کہ رہنما اس وقت عظیم نہیں مانے جاتے ہیں جو غلطی پر غلطی کر بیٹھیں۔ حالیہ کچھ عرصے سے کچھ ایسے واقعات جنم لے رہے ہیں۔ بلوچ قومی آزادی کی تحریک جو عوامی اعتماد کی بنیاد پر چل رہا ہے،اس اعتماد کو لیکر کچھ صاحبان غلط فہمی کا شکار ہو کر عجیب و غریب موقف اپنا رہے ہیں۔سوشل میڈیا میں اپنے نمائندوں کے ذریعے خود ساختہ باتیں پھیلا کر تحریک کے ہمدردوں کو مایوس کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ایسے لوگوں کے بارے میں فینن کہتا ہے کہ ’’ کوئی رہنماء خواہ وہ کتنا ہی قابل قدر کیوں نہ ہو،عوام سے بڑھ کر نہیں ہوتا، اپنے آپ کو بین الاقوامی وقار کے مسائل میں اُلجھانے سے بیشتر اپنی قومی وقار اور بقاء کو جاننا ضروری ہے‘‘۔
قومی آزادی کی جدوجہد کا معیار قوم پرستی اور انقلابی ہونا ہے۔جدوجہد کے اصولوں کو سمجھ کر اس پر چلنے والے لوگ قابلِ قدر ہوتے ہیں۔اس لئے اس نظریہ کو ماننے والے لوگ جوق در جوق آزادی کی تحریک میں شامل ہوتے ہیں۔کسی بھی سخت حالت میں نظریے کو ہی بقاء حاصل ہوتی ہے۔شعوری بنیاد پر لوگ نظریے کا ہمسفر ہوجائیں تو انہیں کوئی ختم نہیں کرسکتا۔ کوئی بڑا حادثہ کسی عمل کو متاثر کرسکتا ہے لیکن راستے کا رکاوٹ نہیں بن سکتا۔بلوچ قوم نے ہر وقت قومی آزادی کی آواز پر لبیک کہا ہے اور 1839سے لیکر آج تک پوری بلوچ قومی تحریک آزادی کے ساتھ ہمقدم ہے۔اس دوران کبھی دشمن کی جبر، تو کبھی نام نہاد رہنماؤں کا دھوکہ تحریک کی ناکامی کا سبب بنی ہے۔لیکن اس کے باوجود بلوچ عوام ہمیشہ آزادی کی تحریک سے جڑے رہے ہیں۔ایک ذمہ دار قوم ہر وقت جبر و تشدد و قبضہ گیریت کو سہنے کے بجائے مزاحمت کرتی ہے۔اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ دھوکہ ، لالچ رکاوٹ بن سکتے ہیں،تاریخ میں عیدو و جعفر اور صادق جیسے کرداروں کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے اپنی قوم سے دغا بازی کی ہے مگر ایسے سرخرو کردار بھی تاریخ میں امرہوئے ہیں جنہوں نے لالچ و خوف کے سامنے جھکنے کے بجائے چے گویرا، منڈیلا، بھگت سنگھ، اکبر خان، غلام محمد، بالاچ مری، رضا جہانگیر کی طرح اپنی زندگیا ں قربان کی ہیں۔ قومی آزادی کی جدوجہد دھوکے کی بنیاد پر نہیں بلکہ کھلے دل و دماغ کے ساتھ تمام مشکلات کا سامنا کرنے سے جیتے جاتے ہیں۔لیکن وقت و حالات کا انتخاب کرکے پالیسیاں تشکیل دینا بہت اہم ہے کیوں کہ تاک میں بیٹھے دشمن ہمیشہ اس کوشش میں ہوتا ہے کہ کس طرح تحریک کی کمزوریوں سے فائدہ اُٹھایا جا سکے۔دشمن پروپیگنڈوں و دیگر حربوں کے ذریعے اپنے مدمقابل کو ہمیشہ زیر کرنے کی کوشش میں رہتا ہے۔اپنے پروپیگنڈے کے عمل کو جاری رکھنے کے لئے دشمن اپنے اور نوآبادیات کے دانشوروں کو خرید کر ان کے ذریعے محکوم عوام میں مایوسی پھیلانے کی کوشش کرتی ہے۔
آج میڈیا و دانشوروں کے ساتھ ساتھ نام نہاد قوم پرست بھی استعال ہو رہے ہیں۔بڑے پیمانے پر ہونے والی سرمایہ کاری کے منصوبوں کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے تحریک کے خلاف ریاستی کاؤنٹر پالیسیاں عروج پر ہیں۔ اس وقت چین گوادر اور اسلام آباد میں موجود ہے، جس کے سامنے بلوچستان میں سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے سب سے بڑی رکاوٹ بلوچ قومی تحریک ہے۔اس رکاوٹ کو زائل کرنے کے لئے چائنا کی مدد سے پاکستانی فورسز مکران، جھالاوان ،سروان اور بلوچستان کے دیگر حصوں میں آپریشنز میں مصروف ہیں۔چین گوادر پورٹ پر ہر حال میں اپنا قبضہ چاہتا ہے۔اسی لئے وہ پاکستانی فوج کی ساتھ ملکر بلوچ قومی تحریک کو کاؤنٹر کرنے لئے ہر قسم کی مدد کررہی ہے۔
اس حقیقت سے پوری دنیا واقف ہیکہ بلوچستان پر پاکستان نے قبضہ کیا ہوا ہے۔اس قبضہ گیریت کے خلاف ہر محاذ پر بلوچ عوام لڑرہے ہیں۔اب اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دشمن کس طرح بلوچ تحریک کو کاؤنٹر کرنے کے حربوں پر عمل پھیرا ہے۔دشمن کی تمام سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے آزادی کی جہدکاروں کو اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنا ہوگا۔جدوجہد کے اس موڑ میں ہمارے رہنماؤں کو کافی سمجھ بوجھ کر اپنی پالیسیاں تشکیل دینا چاہیے۔ کیوں کہ جدوجہد انتہائی نازک موڑ میں ہے جہاں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔دشمن کی نظر بلوچ تحریک پر ہے کہ کون کس موقع پر کونسا فیصلہ لیتا ہے۔
حال ہی میں بی آر پی کے قائد براہمدغ بگٹی کی دی جانے والی انٹر یوز اور بیانات کو اگر ہم غیر سیاسی کہیں بھی تو حق بجانب ہوں گے۔ کیوں کہ ان انٹرویوز میں نواب براہمدغ بگٹی نے جن الفاظ کا انتخاب کیا ان سے فائدہ صرف اور صرف دشمن کو پہنچتا ہے۔
حال ہی میں براہمدغ بگٹی نے اپنے ایک بیان میں بلوچ نیشنل فرنٹ کے حوالے سے جو سوالات اُٹھائے ہیں وہ بد نیتی کے BARAHAMDAGH-BUGTI-300x160سوا کچھ بھی نہیں۔بی این ایف کا بلوچ سیاست میں ایک معتبر مقام ہے جس نے ہر حوالے سے متحرک کردار ادا کیا ہے۔براہمدغ بگٹی کی حالیہ سوالات کا مقصد ریاست سے مذاکرات کے لئے اپنے موقف کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش ہے۔بی این ایف کے اتحاد میں شامل بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے خلاف بھی بے بنیاد زبان درازی کی ہے۔بی ایس او جیسی تنظیم پر الزام لگا کر براہمدغ بگٹی در اصل اپنی تنظیمی نااہلی کو قوم سے چھپانے کی کوشش کررہے ہیں ۔بی ایس او ایک Mother Organization ہے جس کے کردار سے بلوچ قوم کا ہر فرد واقف ہے ۔۔۔
بلوچ عوام ان رہنماؤں کو قدر کی نگاہ سے اس لئے دیکھتی ہے کہ وہ آزادی کی غیر مشروط جدوجہد کررہے ہیں۔اگر اس نازک موڑ میں براہمدغ بگٹی سمیت کوئی بھی رہنماء آزادی کے موقف سے دستبردار ہو جاتا ہے تو بلوچ عوام ان کو نفی کرتے ہیں۔بی آر پی کے قائد کی حالیہ
انٹرویو اور بیانات سے جہاں کئی سوالات جنم لے رہے ہیں وہیں براہمدغ بگٹی روزانہ اپنے آزادی کے موقف سے پیچھے ہٹتے جا رہے ہیں۔مایوسی کے عالم میں براہمدغ بگٹی نے مزاکرات کے لئے ایجنڈہ رکھنے کا اختیار بھی ان قابضین کو دیا جو بلوچ سرزمین پر قابض ہیں اور ہزاروں معصوم بلوچوں کے قاتل ہیں۔براہمدغ بگٹی مزاکرات کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنے کی بات کرکے مزاکرات کا اختیار قابض فوجیوں کو دے رہے ہیں جو کہ براہمدغ بگٹی کی سیاسی نابالغی کی عکاسی ہے۔کیوں کہ بلوچ قومی تقدیر کا فیصلہ براہمدغ سمیت کسی بھی فرد کو حاصل نہیں کیوں کہ ہزاروں شہدا نے اپنی زندگیاں قومی آزادی کے لئے قربان کی ہیں۔ پاکستان جیسے غیر فطری ریاست سے آزادی کی جدوجہد انتہائی معاملہ فہمی اور سنجیدگی کا متقاضی ہے۔ اگر کسی کا دل چاہے وہ قومی تحریک کے حساس معاملات کو میڈیا میں مذاق کا ذریعہ بنائے یا کوئی اپنی مایوسی کو قومی مایوسی کہہ کر قابض سے مزاکرات پر آمادگی ظاہر کردے تو ان سے آنیوالا وقت سخت احتساب کریگی۔ اس طاقت کو ایجنڈہ رکھنے کا اختیار دینا کہ جس نے سرزمین پر قبضہ کر کے یہاں نسل کشی کی ہے، اس کی فورسز آئے روز بلوچ عوام کا قتل عام کررہے ہیں، کے احتساب کا دن ایک مقرر ہے۔ ایک سیاسی کارکن کے لئے ایسے بیانات مضحکہ خیز ہیں۔بقول چیئرمین زاہد بلوچ ’’ پاکستان اور بلوچستان دو تضاد ہیں، ان میں سے ایک کو ختم ہونا ہوگا‘‘۔ اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ بلوچ عوام کی خوشحالی پاکستان سے مشروط مزاکرات میں نہیں بلکہ پاکستان کی بلوچستان سے مکمل اننخلاء میں ہے۔
مزاکرات کرنے کا فیصلہ اگرچہ ایک پارٹی کی انفرادی حیثیت کا فیصلہ ہے لیکن اس بات پر خود کو بااختیار سمجھنا کہ وہ قومی اجتماعی مفادات کو پس پشت ڈال کر اپنے مفادات کے لئے کسی سے مذاکرات کرے مضحکہ خیز ہے۔کیوں کہ بلوچ قومی آزادی جیسے عظیم مقصد سے انحراف بلوچ عوام کے لئے کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچ قومی مفادات کو تحفظ دینے کے لئے پاکستان جیسے غیر فطری و قابض ریاست سے مزاکرات کے بجائے اس قبضہ گیریت کو شکست دینے کے لئے اپنی صفوں کو مضبوط کریں۔ہم دشمن کی طرح نہ سوچیں بلکہ اس سوچ کو تبدیل کریں ،دنیا انسانیت کے نام پر کما رہی ہے، لیکن انسانیت کے محافظ بہت ہی کم ہیں۔ بحیثیت ایک زندہ قوم کے ہمیں قومی طاقت بننا ہو گا۔بوسیدہ سوچ قوموں کی مستقبل کو تباہ کردیتا ہے۔ہماری آنے والی نسلوں کی خوشحالی کا سوچ و فکر ہی ہمیں تاریخ میں سرخرو کرتی ہے۔

کتب کا عالمی دن اور بلوچ اسٹوڈنٹس

تحریر : لطیف جوہر بلوچ

جورو

(یونیسکو، کتاب دوست انسانوں اور تمام اسٹودنٹس کے نام)

یہاں میں بلوچ صحافی ملک سراج اکبر کا ایک خوبصورت جملہ پیش کرنا پسند کروں گا ’’کہ بی ایس او نے سب سے بڑی کام جو بلوچ معاشرے میں خاص کر بلوچ اسٹوڈنٹس میں کی ہے وہ ہے ان میں کتاب پڑھنے اور اخبارات کا مطالعہ کرنے کی عادت ورجحان۔‘‘ بالکل یہ بات میں نے اس وقت محسوس کیا جب میں پہلی بار بی ایس او (آزاد) کا ممبر بنا تو پہلے ہی دن بی ایس او کے جس لیڈر سے میری ملاقات ہوئی اس نے مجھے ایک کتاب اس شرط پرتحفے میں دی کہ میں اس کا ضرور مطالعہ کروں گا۔ وہ کتاب میکسم گورکی لکھی ہوئی مشہور ناول ’’ماں‘‘ تھی۔کتاب مجھے میرے سیاسی استاد رضا جہانگیر عرف شے مرید بلوچ نے دی ۔ بعد میں 14اگست 2013 کو اسی کتاب اور قلم کی دوستی اور لوگوں کو پڑھنے اور پڑھانے کی طرف راغب کرنے کی جرم میں شے مرید کو بھی علم دشمنوں نے شہید کرکے ہم سے جدا کردیا۔ اسی طرح میں جہاں جس دوست کے پاس جاتا ہوں تو مجھے وہاں ضرور کتابیں دیکھنے کو ملیں گی وہ بھی بڑی تعداد میں جسکی مثال 24 ستمبر2013 کو بلوچستان میں زمین بوس دینے والی زلزلے نے دیدی جب اکثر گھروں سے کتابوں کی انبار مٹی تلے دبی ملیں ۔ آواران کے زلزلے سے پہلے میں اور میرا اسیر چیئرمین زاہد بلوچ اور دوسرے کچھ دوست ایک ساتھ بیٹھے تھے تو زاہد کے پاس ماؤ اور ہوچی منھ کی کتابیں تھیں اور ہمیں پڑھاتے، سرکلز لگاتے تھے۔ ہم اسی دوران بھی تربیتی نشست پر بیٹھے تھے کہ زمین کا ہلنا شروع ہوا تو چیئرمین زاہد بلوچ نے ہمیں گھر سے نکلنے کو کہا اور خود آخر میں نکلے تو چند سیکنڈ بعد تمام مکانات زمین بوس ہوگئے۔ ہم نے بھی ملبوں کو اٹھانا شروع کردیا زخمیوں اور لاشوں کو نکالنے کے لئے میں نے خود جہاں جہاں ملبے اٹھائے وہا ں وہاں مجھے زخمی بدن کے ساتھ دوسرے ان کی ٹوٹی ہوئی سامان کے ساتھ کتابیں بھی بڑی تعداد میں ملیں اور ان میں سے زیادہ تر علم دوستی، انسان دوستی، وطن دوستی کے متعلق تربیتی کتابیں تھی BSO Azad اور Sagaar Publication, Sangar Publications کی جانب سے چھپوائے گئے تربیتی سیریز بھی ان میں شامل تھیں۔ ان مثالوں کا مقصد بلوچ اسٹوڈنٹس کی کتابوں سے دوستی کی چھوٹی سی ثبوت ہے ۔ دوسری جانب آپ سب کو معلوم ہے کہ بلوچ اسٹوڈنٹس پر مختلف طریقوں سے ظلم کیا جا رہا ہے۔ سکولز، کالجز یا یونیورسٹی سے اغواء کرکے پھر انکی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینکنا، تعلیمی اداروں میں فورسز کی تعیناتی، کتاب اور قلم پر پابندی عائد کرنا، ٹیچرز کو اغوا اور ٹارگٹ کرنا، انہیں ڈرانا و دھمکانا۔ جس کی بہت ساری مثالیں ہیں۔24 کتابوں کے خالق شہید استاد صباء دشتیاری کی اس انداز سے قتل ہمارے لئے علم کے درووازے بند کرنے کی پہلی گھنٹی تھی۔ انکی علم دوستی کا ایک اور ثبوت سیدظہور شاہ ہاشمی ریفرنس لائیبریری ہے جہاں لا تعداد مضامین پر ہمیں لا تعداد کتابیں ملیں گی۔اس کو بھی ٹارگٹ کرکے ہم سے جدا کر دیا گیا۔ بلوچستان میں استاد سے لیکر شاگرد اور انکی کتابیں بھی محفوظ نہیں ہیں حال ہی تربت میں قائم ڈیلٹا سینٹر میں چھاپہ مار کر پاکستانی فورسز نے وہاں ڈیلٹا کے استاد رسول جان کو 13کم عمر بلوچ اسٹوڈنٹس کے ساتھ اغواء کیا جبکہ دوسرے دن عطاشاد ڈگری کالج کے ہاسٹل میں بی ایس او (آزاد) کے قائم کردہ لائبریری کے تمام کتابوں کو اپنی گرفت میں لے کر فورسز نے بی ایس او (آزاد) پر یہ الزام لگا کر کتابوں کو میڈیا کی زینت بناکر انہیں دہشت گردی کو فروغ دینے والی کتابیں قرار دیں، کسی ذی شعور کو حیرت نہ ہوئی کیونکہ یہ ایف سی کا حسب سابق ایک ڈرامہ تھااور یہ کتابیں ہر بُک اسٹال پر بآسانی دستیاب ہوتی تھیں۔ان کتابوں میں ڈاکٹر چے گویرا، نیلسن منڈیلا، نہرو، گاندھی، ماؤ، لینن، مارکس اور دوسری کتابیں جو اسٹوڈنٹس کوانسان دوستی اور سچائی کے درس دیتے ہیں۔ ہاں اگر کوئی بلوچ اسٹوڈنٹ نیلسن منڈیلا جیسا بنے پوری دنیا کو سیاہ ءُُ سفید کی جنگ سے نکال کر صرف انسان بننے کی درس دے اور عمل کرے تو کیا یہ دہشت گردی ہے؟ کیا آپ منڈیلا کو دہشت گرد کہلوانے پر راضی ہونگے؟ کیا منڈیلادہشت گرد تھا؟ کوئی لینن اور مارکس بنے برابر ی کی جدءُُ جہد کرے کیا وہ دہشت گرد ہے؟ چینی لوگ بتاؤ کیا ماؤ زے تنگ دہشت گرد تھا؟آج میں آپ کے لیڈر کوپڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کے ہر قول و عمل کا مطالعہ کرتا ہوں تو مجھے دہشت گرد ٹھہرایا جاتا ہے اور قتل کیا جاتا ہے۔مقصد فقط بلوچوں کو نا خواندہ رکھکر بلوچ شناخت کو مسخ کرکے انہیں ہر قسم کی جد و جہد سے دور رکھنا ہے۔ماؤ کی قوم اور پیروکاروں کو دیکھ کر بہت افسوس ہوتی ہے کہ میں اُس عظیم انسان کو انسانی ہیرو سمجھ کر انکو follow کرتا ہوں لیکن آج کا چین اس ملک کا معاون ہے جو ماؤ کی کتابیں پڑھنے پر ہمیں قتل کر رہا ہے ۔ ویت نام والے بتا سکتے ہیں کہ ہوچی منھ دہشت گرد تھا یا ہیرو؟ اسی طرح انڈیا والو آپ نہرو، گاندھی ، بھگت کو دہشت گرد مانتے ہو؟ یا ہیرو۔۔؟ اگر کوئی حق اور سچ کیلئے آواز اٹھائے وہ دہشت گردہے؟ کیا ڈاکٹر چے دہشت گرد تھا؟ کیا کاسترو دہشت گرد تھا؟ کیا اپنی تاریخ پڑھنا ، دنیا کی تاریخ پڑھنا ، دنیا کو سمجھنا،لوگوں کو حق اور سچ کیلئے بولنا سکھانا، علم و ادب کی طرف راغب کرنا ،لوگوں کو انسان بننے کی درس دینا دہشت گردی ہے؟ اگر نہیں تو ہم بلوچ اسٹوڈنٹس یہی کررہے ہیں ، اسی کے صُلے میں ہمیں مارا جا رہا ہے اغواء کیا جا رہا ہے۔کتابیں اور قلم چھینے جا رہے ہیں۔ ہمارے لیڈر و ورکرز قربان ہورہے ہیں۔آج 23اپریل کو کتب کا عالمی دن پرمنایا جاتاہے۔ یوینسکو کی اپیل پر دنیا ہر سال تقریبا100 سے اوپر ملکوں میں کتابوں کے دن کے طور پر سیمینار ، پروگرامز منعقد کرتی ہے۔ میں بھی ایک اسٹوڈنٹ ہوں میرے لیڈر بی ایس او آزاد کے چیئرمین زاہد بلوچ کو 18مارچ 2014کو کوئٹہ سے پاکستانی خفیہ اداروں نے اغواء کرکے لاپتہ کردیا ہے اس کا جرم صرف کتابیں پڑھنے، پڑھانے اور بلوچ اسٹوڈنٹس کو منظم کرکے حق اور سچ کیلئے ہر قسم کی قربانی دینے کا درس دینے کا ہے۔میرے لیئے آج یہی کتابیں اہمیت رکھتی ہیں شاید آپ لوگوں کو انٹرنیٹ میسر ہو ۔ آپ انٹرنیٹ استعمال کرکے پڑھتے ہو۔ میں غلام اسٹوڈنٹس ہوں انٹرنیٹ سے محروم ہوں اب بھی میرے بیگ میں کتابیں ہیں ۔ کالج اور یونیورسٹی کے قریب مجھے جانے نہیں دیا جاتا ہے الزام وہی جھوٹا ہے کہ آپ دہشت گردی پھیلاتے ہیں۔ لیکن 22 اپریل سے میں اپنے اغواء شدہ لیڈر بی ایس او آزاد کے چیئرمیں زاہد بلوچ سمیت اپنے دوسرے دوستوں کی بازیابی کیلئے اپنی آرگنائزیشن کے فیصلے کے مطابق تادم بھوک ہڑتال پر بیٹھا ہوں مجھے مرنے کا شوق نہیں ہے۔ میں بھی زندہ رہ کر علم حاصل کرنا چاہتا ہوں اور انسانیت کیلئے کچھ کرنا چاہتا ہوں ۔ میرے آرگنائزیشن نے مجھے انسانیت کا درس دیا ہے۔ میں کسی دوسرے پر ظلم نہیں کرسکتا لیکن اپنے آپ پر کر سکتا ہوں۔ اس لیے اپنے پر تشدد کرکے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھا ہوں میرے مرنے کا مقصد اسٹوڈنٹس ، کتاب اور قلم کو محفوظ کرنا ہے۔ لہٰذا میں یونیسکو جو کتاب عالمی دن کو ہرسال منانے کی اپیل کرتی ہے سمیت تمام علم اور کتاب دوست انسانوں اور ممالک سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ بلوچ اسٹوڈنٹس پر ہونے والی اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں ۔اور بلوچ اسٹوڈنٹس کا ساتھ دیکر بلوچ مسلے کو حل کرنے میں مدد کریں۔آپ ہمیں دنیا کے تمام ترقی پسند اسٹوڈنٹس کے ہم قدم اور ہم آواز پائیں گے۔علم و قلم دوستوں سے اپیل ہے کہ وہ بلوچستان میں پابند سلاسل بلوچ اسٹوڈنٹس اور زنجیروں سے جکڑی ہوئی کتاب اور قلم کے متعلق ضرور بولیں اور انکے رہائی کیلئے عملی اقدامات اٹھائیں۔ میرے آرگنائزیشن کا اور میرا مقصد اسٹوڈنٹس ، کتاب اور قلم کو محفوظ کرنا ہے۔

 

ٓ بوبی سینڈز اور کامریڈ لطیف جوہر

title

قومی تحریک آزادی جو ایک بہت لمبی سفر ہے، جو صدیوں میں اپنی منزل کو پہنچتا ہے۔اس کی خاطر ہر وہ ذرائع آزما ئے جاتے ہیں جو اس عمل کے لئے سود مند ثابت ہوسکتے ہوں۔بحث مباحثہ،جلسہ جلوس،سیمینار، ریلی حتیٰ کہ سیاست کی انتہا (تشدد) کوبھی آزمایا جاتا ہے۔مظلوم کبھی بھی تشدد کے لئے تیار نہیں ہوتا کیونکہ وہ خود ہر وقت تشد د سہ رہا ہوتا ہے ۔تشدد سہہ سہہ کر آخر تشدد پر اُتر جاتا ہے۔روز اپنی آنکھوں سے خود پر تشدد ہوتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ خود بخود مرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے،دوسرا اہم وہ باشعور طبقہ ہے جو انسانی اقدار کو سمجھتا ہے، وہ پہلے سے اپنے دفاع کے لئے کچھ کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے ۔اسی طبقے کا سماج میں ایک اعلیٰ مقام ہو تا ہے اور لوگ اسی طبقہ کے کہنے پر اپنا سب کچھ قربان کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔لیکن انہیں مخالفت کا سامنا ہر وقت رہتا ہے۔ کیونکہ مراعات یافتہ طبقہ ہر وقت موجود ہے۔وہ ان کی مخالفت کرتا ہے۔تاکہ ان کو وہ مقام حاصل نہ ہو۔لیکن مضبوط پارٹی اور تنظیم ان سب چیزوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ایک جمہوری آزادی پسند تنظیم کی جڑیں عوام میں ہوتی ہیں۔ اس لئے دشمن کی بنائی ہوئی خود رؤں کی حیثیت نہیں رہتی۔کیونکہ پارٹی وتنظیم کا کردار انقلاب کے لئے انتہائی اہم ہے، ایسے ادارے حیوان نما معاشرے سے انسانی ذہن تیار کرتے ہیں، جو انسان کی اہمیت کو سمجھتے ہیں،جس سماج میں سماجی، سیاسی اور انقلابی ادارے ہوتے ہیں وہ سماج کو بکھرنے و انارکی سے بچاتے ہیں۔ان اداروں کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ سماج کی مضبوطی کیلئے سماج کے ڈھانچے میں شامل اداروں کا عوام کی جڑوں میں مضبوط ہونا لازمی ہے۔ سائنسی بنیادوں پر استوار سماجی اداروں کی مدد سے ہی سماج کی کمزوریوں کا احاطہ کرکے انہیں حل کیا جاسکتا ہے۔کیونکہ سماجی ہر عمل سیاسی ہوتا ہے۔چاہے وہ نوعیت کے اعتبار سے چھوٹی ہو یا بڑی۔ارتقائی عمل سے گزر کر انقلابی عمل تک پہنچ جاتا ہے۔اس لئے دنیا میں جہاں کہیں بھی جد وجہد شروع ہوئی ہے، اس جدوجہد کی کوئی تاریخی پس منظر ضرور ہوتی ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ انسانی ذہنوں میں ہونے والی ترقی سے کوئی انکاری نہیں۔وہ ترقی کرتے ہوئے انسانی سماج کو تبدیل کرنے کی طاقت حاصل کرتے ہیں۔میں بنیاد پرستوں کے نظریہ ارتقاء سے اختلاف رکھتا ہوں، وہ محدود پیمانے پر سوچتے ہیں۔ان کو وہ نظریہ سوچنے پر مجبور نہیں کرتا جس کے وہ پیرو کار ہیں۔کیونکہ وہ غیبی طاقتوں پر یقین رکھتے ہیں۔لیکن ان میں سوچنے والے اور خود کو انقلابی کہنے والے بھی موجو د ہیں۔ جو کہتے ہیں کہ ہم ارتقاء پر یقین رکھتے ہیں۔مگر ان میں موقع پرستی کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔غور و فکر کی بات تو کرتے ہیں لیکن غور و فکر کو اپنی ذہن کے مطابق تولنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ اپنی بات کو سچ باقی تمام کو جھوٹ کہ کر اپنے نظریے کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔یہ کچھ تا ریخی حقائق ہیں ،انسانی سما ج جو ں جوں تر قی کی منزلیں طے کرتا گیا ،اسی طرح انسانی نظریات بھی بدلتے گئے ۔کہتے ہیں کہ دنیا گلوبل ولیج میں بدل چکی ہے ، دنیا نے آج جتنی ترقی کی ہے وہ جستجو و تنقید کی بدولت کی ہے لیکن آج بھی جو بنیا د پر ست ہیں اس تر قی کو قبول نہیں کر تے، تر قی اپنی جگہ وہ چھو ٹے چھو ٹے بحث و مباحثہ کو قبول نہیں کر تے ۔ بلوچ نوجوان میر یو سف عزیز مگسی سے لے کر بی ایس او کی بنیا د رکھنے تک ہر وقت شعور و آگاہی کے لئے قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں۔بی ایس او ’’جو کہ اپنے اندر ایک وسیع تاریخ رکھتا ہے‘‘ کی تار یخ قر بانیوں سے بھری پڑی ہے ۔بی ایس او اپنے نصف صدی سے زیادہ کی زندگی میں بلوچ معاشرے کوانسانی اہمیت و قومی تعلیمات سے روشناس کرتا رہا،انہی تعلیمات کی وجہ سے محقق و لکھاری بلوچ سیاست پر بحث و مباحثہ کے لئے بی ایس او کو ایک لازمی و اہم کردار سمجھتے ہیں اور حالیہ سیاسی حالات کا تجزیہ کرتے وقت بھی بی ایس او کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ ایسے کئی واقعات سے میرا سابقہ پڑا ہے، حال ہی میں ایک محقق ’’بلوچ قومی تحریک آزادی اور مڈل کلاس طبقہ‘‘ کے موضوع سے کچھ لکھنا چاہ رہا تھا ، اس نے کہا کہ ایک عرصے سے میری یہ خواہش رہی ہے کہ بی ایس او کے کسی نوجوان سے ملاقات ہو کیونکہ ایک نوجوان سیاسی ورکر کا نقطہ نظر شامل کیے بغیر میں اپنے کالم کو مکمل نہیں کرسکتا۔،بی ایس او وہ ادارہ ہے جہاں نوجوانوں کو اانقلابی تعلیم سے آراستہ کرکے انسان کی اہمیت و انسانیت کا احترام سکھایا جاتا ہے۔تب جا کر ایک نوجوان انسان و انسانی اہمیت و احترام کو اچھی طرح سے سمجھ پاتا ہے ،ایسے لو گ انسان اور انسانیت کے تما م حقوق سے واقف ہو جا تے ہیں۔ بی ایس او کے اسی کردار کی وجہ سے وہ ہر وقت سامراجی ریا ست پاکستان کے عتا ب کا شکا ر رہا ہے ،پاکستان کے وجود کا مقصد برطانیہ کے مفادات کو تحفظ دینا تھا،کیو نکہ بر طا نیہ کے خلاف بھگت سنگھ ،چندر شیکھر آزاد اور دیگر دوستوں کے جدوجہد کی بدولت جو انقلابی صورتحال پیدا ہو گئی تھی ،بر طا نوی راج نے اسے محمد علی جناح اور گا ندھی کے ذریعے ٹھنڈا کر دیا،اس بات کو سمجھنے کی اشد ضر ورت ہے کہ نو جوان ہی اپنی قربانیوں سے انقلاب کی راہ کا تعین کرتے ہیں ۔بھگت سنگھ نے کہا تھا کہ بہر وں کو سنانے کیلئے دھماکوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن خود بھگت سنگھ بھی عوام کو شعور دینے اور بر طا نیہ کو مجبور کر نے کیلئے جیل میں تا دم مر گ بھوک ہڑتا ل کر تے ہیں ا س با ت کا کافی چرچارہا ۔اسی خود اذیتی کے عمل سے ہی ہندوستانی عوام سڑکوں پر نکل آئی،اور پھر بر طا نوی سر کا ر نے جس بے دردی سے ہند وستان کے نہتے عوام کو قتل کیا ،وہ تا ریخ کا حصہ بن چکا ہے ۔برطانیہ نے اپنے سامراجی مفادات کے تحفظ کیلئے متحدہ ہندوستان کو تقسیم کرکے پاکستان کے نام سے ایک غیر فطری ریاست تشکیل دیا۔

اُس وقت بر طا نیہ نے ہند وستانیوں کو قتل کیا اور آج پاکستان بلو چستان میں نہتے لوگوں کا قتل عام کر رہا ہے ۔خاص کر با شعور نو جوان جو کسی بھی قوم کی ریڈھ کی ہڈی ہوتے ہیں، 1انہیں اغواء کر کے شہید کررہا ہے۔ اس عمل کے خلاف 2005میں شہید سہراب بلوچ نے خود اذیتی کے راستے کا انتخاب کرکے تادم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کیاْ،
بعداز اں انکی بھوک ہڑتال اُس وقت ختم ہو ئی جب ڈاکٹر اللہ نظر اور اُس کے ساتھی صادق آبا د سے منظر عام پر آگئے۔ اُس کے بعد بی ایس او نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے تگ و دوشروع کی، پورے بلوچستان میں لوگ اس سیاسی عمل میں شریک ہو گئے ، اس سے بلوچ سماج میں موجود سیاسی جمود کو توڑنے میں بڑی کامیابی ملی ۔حتیٰ کہ انہی کوششوں کی وجہ سے وائس فا ر بلو چ مسنگ پر سنزنے 2010سے ایک طویل بھوک ہڑتال شروع کی جو کہ تاحال جاری ہے۔ اور حال ہی میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے لانگ مارچ کر کے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے اپنی کوششوں کے تسلسل کو شدت سے برقرار رکھا۔

بلوچستان سے لاپتہ ہونے والوں میں سے اکثریت اُن سیاسی کارکنوں کی ہے جو اپنے حق کی خاطر بولتے یا لکھتے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر کالج ویونیورسٹیوں کے وہ طلباء ہیں جو ذہنی حوالے سے پختہ اور باصلاحیت سیاسی کارکن ہیں ،انہیں اغواء اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ وہ تمام چیزوں کو قریب سے دیکھنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو کہ ریاست کے لئے قابل قبول نہیں۔حال ہی میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین زاہد بلوچ کو کوئٹہ سے پاکستانی خفیہ اداروں اور ایف سی نے اغواء کیا تو اپنے چیئرمین کی بازیابی کیلئے بی ایس او(آزاد) نے تادمِ مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کردیاجو تاحال کراچی پریس کلب کے سامنے جاری ہے۔ جس میں کامریڈ لطیف جوہر تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں ۔سیاسی جمود کو توڑنے اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے خود پر تشدد ایک بہترین سیاسی احتجاج ہے ،اگر بی ایس او اپنی اس احتجاج سے دنیا کو اپنی جانب متوجہ کر سکی تو اچھی بات ہے اگر دنیا نے خاموشی کا تسلسل برقرار رکھا تو بی ایس او کو اپنی احتجاج کو مزید سخت کرنا ہو گا ۔بی ایس او(آزاد) کے مطابق اگر بھوک ہڑتال پر بیٹھے دوست کو اگر کچھ ہوا تو دوسرا آکر اس تسلسل کو جاری رکھے گا۔ تا وقتیکہ ہمارے لیڈر کو بازیاب نہیں کیا جاتا ،اس سے کچھ لو گ شاید اتفا ق نہ رکھتے ہوں۔ مگر میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اگر بی ایس اواس پر عمل درآمد کرے تو یہ ایک تاریخی فیصلہ ہوگا۔

لطیف جوہر کا یہ تادمِ مرگ بھوک ہڑتال آئرلینڈ کے بوبی سینڈز کے تادمِ مرگ بھوک ہڑتال کی یا دتازہ کرتا ہے۔ بوبی سینڈز (Bobby Sands) نامی، آئرش ری پبلکن آرمی کے ایک سیاسی اسیر سالوں پہلے اپنے مطالبات کے حق میں برطانوی جیل میں احتجاجاََ تادم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کرتا ہے ۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے 10آئرش آزادی پسند نوجوانوں نے تادمِ مرگ بھوک ہڑتال میں شہادت نوش کرکے انسانی تاریخ میں قومی آزادی کیلئے قربانی دینے کا ایک نیا باب رقم کیا۔یہ واقعہ 1981ء میں برطانوی جیل میں قید ان دس نوجوانوں کی شہادت کا ہے جنہوں نے جیل میں بھی غلامی سے انکار کرتے ہوئے تحریک آزادی کی شمع کواپنے لہو سے روشن رکھا۔ان کی شہادت 1981ء میں دوران بھوک ہڑتال ہوئی۔ ان کی یہ بھوک ہڑتال برطانوی جیلوں میں قید آئرلینڈ کے سیاسی قیدیوں کے بنیادی حقوق دوبارہ سے حاصل کرنے کے لئے تھی۔یہ واقعہ 1976ء میں شروع ہونے والے بھوک ہڑتال کی ابتداء سے منسلک ہے۔ آج بی ایس او(آزاد) کا ایک کا مر یڈ لطیف جو ہر کر اچی پر یس کلب کے سامنے تادمِ مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھ کر بوبی سینڈز اور ساتھیوں کی طرح ایک بہت بڑے مقصد کو پانے کے لئے خو د پر تشد د کر رہا ہے اگر کو ئی صر ف اس بات کو مدنظر رکھ کر بھوک ہڑتال کی مخالفت کررہا ہے کہ اس سے کامریڈ لطیف جوہر بلوچ کی زندگی کو خطرہ ہے تو میرے خیال میں کا مر یڈ لطیف بلو چ ایک ایسی تا ریخ رقم کرنے جا رہے ہیں جو رہتی دنیا تک ایک روشن باب کا اضافہ تصور کیا جائیگا ۔ کیونکہ لطیف جوہر حق و انصاف کیلئے خود موت کی طرف سفر طے کرر ہے ہیں۔یہ ایک پیغام ہے انسان دوستی کے دعویدار وں کے لئے کہ وہ اپنے فرائض سے کیوں روگردانی کرچکے ہیں ۔اس کے بھر عکس کامریڈ بھگت سنگھ اور بوبی سینڈز کی بھوک ہڑتال معمولی نوعیت یعنی جیل میں اپنے اسیری کے حقوق کے لئے تھیں، جبکہ کامریڈ لطیف بلوچ ایک بہت بڑے سیاسی معاملے کو لیکر بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔

زاہدکرد کی اغواء نماگرفتاری: مگر نظریہ آزاد ہے.

تحریر : حکیم واڈیلہ بلوچ

aaa۲۲ اپریل ۲۰۱۴ کو جب سوشل میڈیا سائٹس فیسبوک اور ٹویٹر پر اپنے پوسٹوں پر کمنٹس، لایکس اور ریٹیوٹز دیکھنے میں مصروف ہی تھا کہ اچانک سنگت دی بلوچ بالاچ مری کا ایک ٹویٹ نمودار ہوا جو کچھ اس طرح سے تھاکہ بی ایس او آزاد کراچی پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس کرنے والی ہے. اس ٹویٹ کے بعد پریس کانفرنس کا انتظار کرہی رہاتھاکہ واٹس ایپ پر ایک دوست نے میسج کیا( اڑے تو سرپدے بی کے بُرتگش) اڑے تمہیں پتا ہےکہ بی کے کو اغواء کرلیاگیاہے. اس میسج کے کچھ دیر بعد ہی ٹویٹر اور فیسبوک پر اس نیوز کے درجنوں پوسٹ دکھائی دیے جن میں بی ایس او آزاد کی چیرپرسن بانک کریمہ نے اس بات کی تصدیق کی بی ایس او آزاد کے مرکزی چیرمین زاہد کرد(بلوچ خان) کو ۱۸/مارچ/۲۰۱۴ کو ان سمیت بی ایس او آزاد کے دوسرے مرکزی دوستوں کے سامنے شال سے ایف سی اور سادہ لباس میں لوگوں نے اغواء کرکے غائب کردیاہے. زاہد کرد اسی طلبہ تنظیم بی ایس او آزاد کے چیرمین ہیں جوکہ بلوچ معاشرے کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف سفر پر گامزن کرنے کیلئے علم اور درس پر ہی یقین رکھتی ہے.

زاہد کرد پہلےہی اس بات کا خدشہ بی بی سی کہ ایک انٹریو میں ظاہر کرچکے تھے کے اگر وہ(پاکستانی فوج، ایف سی اور ایجنسیز) مجھے ڈھونڈ لینگے تو مجھے مار دینگے. اور ۱۸ مارچ کو پاکستانی ریاست نے اپنے ایک ایسے دشمن زاہدکرد کو ڈھونڈ ہی لیا جو اپنی حفاظت کیلیئے بندوق تو نہیں رکھتاتھا لیکن بلوچستان میں موجود انقلابی، حقائق پر مبنی تاریخی اور اپنی زبان و ثقافت بابت کتابیں پڑھتا اور طالب علموں کو بھی اسی جانب راغب کرتاتھا. جسکی ایک بلوچ کو پاکستانی قبضہ گیر فوج کی جانب سے اجازت نہیں تھیں . ریاست نے اپنے نہتے دشمن کو بہت ہی دیدہ دلیری سے اغواء کرکے غائب کردیا اور دنیا ایک بار پھر خاموش تماشائی بن کر پاکستان کی جانب سے بلوچ قوم پر کیے جانے والے مظالم میں پاکستان کی پشتپناہی کررہی ہے.

بی ایس او آزاد کے چیرمین زاہد کرد کو بی ایس او کے سی سی ممبر اور بعد ازاں مرکزی سیکریٹری جنرل کی حیثيت سے اکثر ہی کراچی میں بی این ایم، بی ایس او آزاد اور بی آر پی کے پروگرامز میں گرم جوشی میں تقریر کرتے دیکھا تھا. لیکن اپنے تقریروں میں کہی ہوئی تمام تر باتوں پر پورا اترنے والے وہ سنگت زاکر مجید، شہید شے مرید، شہید شفیع بلوچ، شہید قمبر چاکر، شہید امیرالملک، شہید شکور بلوچ اور شہید کامریڈ قیوم کی طرح بی ایس او آزاد کے ایک نڈر اور جانباز سپاہی ہیں. جہاں ایک طرف ریاست زاہد کرد کو اغواء کرکے یہ توقع رکھ رہاتھاکہ اس طرح کی وحشیانہ کاروائیوں سے بی ایس او کو کمزور کیاجاسکتاہے. لیکن بلوچ خان کے اغواء نما گرفتاری کیخلاف اور بازیابی کیلئے کراچی پریس کلب کے بائر تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے بی ایس او آزاد کے ایک اور نڈر اور بہادر جہدکار کامریڈ لطیف جوہر نے پاکستانی سفاک اور وحشی ریاست کو یہ پیغام دیاہے کہ وہ اور انکی تنظیم اپنی قومی آزادی کیلئے ہرطرح کی قربانیاں دینےکو تیار ہیں.

لطیف جوہر کا تادم مرگ بھوک ہڑتال آج دسویں روز میں داخل ہوچکاہے اور دوستوں سے معلومات حاصل کی تو پتہ چلاکہ کامریڈ اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوے ہیں اور کسی طرح بھی بھوک ہڑتال کو ختم کرنے کےلیئے آمادہ نہیں. لطیف جوہر کی جدوجہد کا مقصد قطعی طور پر پاکستان سے اپنے چیرمین کی بازیابی کیلئے مانگ کرنا نہیں بلکہ وہ تو دنیا کے انسان دوستوں، طلبہ تنظیموں، قوم دوستوں اور عالمی جمہوری اداروں سے اپیل کررہےہيں کہ ناصرف بلوچ خان(زاہدکرد)کی بازیابی کیلئے بلکہ تمام لاپتہ بلوچوں کی بازیابی سمیت مقبوضہ بلوچستان میں جاری پاکستانی بربریت کا نوٹس لیکر بلوچستان کی آزادی کیلئے عملی کردار اداکریں …

پیغمبرِ محبت زاہد بلوچ

تحریر : خرم علی (مرکزی آرگنائزر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن)

Zahid

مظلوم خواہ پنجابی کیوں نہ ہو ہم اُس کے لئے آواز اٹھانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ہماری سیاست کی بنیاد نفرت نہیں محبت پر ہے‘۔ یہ الفاظ جو کچھ برس قبل واجہ زاہد بلوچ نے اپنی گفتگو کے دوران ادا کئے آج تک میرے کانوں میں گونجتے ہیں۔ میں نے سیاست کے دوران کئی نامور اور قدآور شخصیات سے ملاقات کی ہے مگر ایسے لوگ شاز و نادر ہی دیکھے کہ جن کی سیاست کی بنیاد محبت پر ہو اور جو غصہ کی جگہ تحقیق اور منطق پر اپنے فیصلے لیتے ہوں۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ یہ شخص بلوچ نوجوانوں میں محبتوں کا ایسا رس گھول دے گا کہ نفرتوں کے پجاری ہر بلوچ نوجوان کو اپنے لئے خطرہ تصور کرنے لگیں گے اور بالآخر محبت کے پیغمبر کو صلیب کی زینت بنانے کے درپے ہو جائیں گے۔

بلوچ خان کی آواز میں ایک سحر تھا اور جذبات چشمہ کی طرح شفاف تھے۔ اس نے گفتگو کے دوران مبالغہ آرائی سے قطعاً کام نہ لیا اور اپنی خوبیوں سے زیادہ خامیوں کا ذکر کیا۔نیشنلزم سوشلزم بھارت میں ماوسٹوں کی تحریک کُردوں کی تحریک غرض یہ کہ تمام دنیا کی سیاست پر نہ صرف مفصل بحث کی بلکہ اس کے بارے میں ابہام سے پاک تبصرہ بھی کیا۔ میرے لئے حیران کن بات یہ تھی کہ سامراج کے حوالے سے شاید ہی کسی مارکسی لیڈر کا اتنا زبردست تجزیہ ہو جیسا کہ بلوچ خان کاتھا۔ وہ اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ بلوچستان کی آزادی کی جنگ بلوچ اپنے ہی بل پر لڑ رہے ہیں اور صرف اپنے ہی بل پر جیتی جا سکتی ہے۔ خطے میں دیگر مظلوم قوموں و قومیتوں اور طبقات کی تحریکیں اس کے لئے مثبت ضرور ہو سکتی ہیں مگر سامراجی ممالک بلوچستان کے لئے منفی تو ثابت ہو سکتے ہیں مثبت ہر گز نہیں۔

اگر آج میں تھوڑا بہت بھی بلوچستان کے مسئلہ کو سمجھ رہا ہوں تو اس میں بلوچ خان کا بہت اہم کردار ہے۔ اُن کو اس بات کا بھی بہت افسوس تھا کہ پاکستان کا بائیاں بازو نہ صرف بلوچستان کے مسئلہ کو سمجھنے سے قاصر ہے بلکہ پاکستان کے ریاستی ڈھانچہ کا بھی صحیح تجزیہ نہیں کر پایا جس سے میں بھی کافی حد تک متفق ہوں۔بلوچ دانشوروں اور طالب علموں کا قتلِ عام ہو یا ان کی درس گاہوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ ہو یا ان کی کتابوں کو جلانے کی کوششیں میرے لئے یہ سب کسی دھجکہ کا باعث نہ تھا کیونکہ گفتگو کے دوران جب میں نے واجہ سے پوچھا کہ ہم آپ کی کس طرح مدد کر سکتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہمیں بس لٹریچر چاہئے۔عام لوگوں کی طرح میرا بھی یہی تاثر تھا کہ بلوچ بندوق کے ذریعے آزادی حاصل کرنے کے خواہاں ہیں مگر اس گفتگو کے ذریعے مجھے پتہ چلا کہ وہ پہاڑوں میں نہیں جانا چاہتے۔ وہ تو جمہوری انداز میں سیاسی جنگ لڑنا چاہتے ہیں اور وہ اپنا اصل ہتھیار شعور و آگہی کو سمجھتے ہیں۔ وہ تو چاہتے ہیں کہ مہذب انداز میں اس مسئلہ کو حل کیا جائے اور بلوچستان کی عوام کے فیصلہ کا احترام کیا جائے مگر۔۔۔

آپ ہی بتائیے ایسے ہزاروں اشخاص کو غائب کر کے کیا ریاست یہ پیغام نہیں دے رہی کہ وہ انہیں یونیورسٹیوں کالجوں محلوں اور گھروں کے بجائے پہاڑوں میں بھیجنا چاہتی ہے۔وہ جانتی ہے کہ بلوچ کیا چاہتے ہیں مگر وہ اس آواز کو ان کے لبوں پر برداشت نہیں کر سکتی۔ وہ اس آواز کو پہاڑوں میں دبا کر یہ سمجھتی ہے کہ اس کی گونج دنیا تک نہیں پہنچ سکے گی۔ وہ اس مسئلہ کا حل جمہوری انداز میں نہیں دیکھنا چاہتی بلکہ اپنے ظلم و بربریت اور عسکری قوت کے غرور میں یہ سمجھتی ہے کہ خون کی ندیاں بہا کر وہ بلوچوں کو ان کے جمہوری حق سے محروم کر سکتی ہے۔ لگتا ہے وہ بھول گئی ہے کہ کس طرح یہیٰ خان اور بھٹو کا غرور جنرل نیازی کی وردی اترنے کی صورت میں ٹوٹا تھا۔

تجھ سے پہلے جو شخص یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی خدا ہونے کا  اتنا  ہی  یقیں   تھا

حبیب جالبؔ
آج بی ایس او آزاد کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو لگے دس دن ہو چکے ہیں۔ کل رات بہادر جوہر سے ملاقات ہوئی تو اس کے جسم کو ڈھلتا ضرور پایا مگر اس کا حوصلہ روز مزید جوان ہوتا دیکھ رہا ہوں۔میں چاہتا ہوں کہ یہ دلکش نوجوان اپنی زندگی نہ گنوائے کہ اس ریاست میں بسنے والے لوگ اندھے بہرے اور گونگے ہیں اور میری اطلاع کے مطابق میڈیا کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ اس ہڑتال پر زیادہ بات نہ کی جائے۔ مگر کیا کروں کہ اس کی مسکراہٹ مجھ سے روز یہی کہتی ہے کہ وہ امید کی ایک ایسی کرن ہے جو ظلم کے اس ا ندھیرے کو چیر کے رکھ دے گی اور محبت کے پیغمبر کو نفرت کے شکنجے سے آزاد کرا کے دم لے گی کہ واقعی

سورما   فتنہِ  باطل   کو   مٹا  دیتے  ہیں
خون دہکے ہوئے زرّوں کو پلا دیتے ہیں

نامعلومستان کا جغرافیہ وغیرہ

تحریر : وسعت اللہ خان

اب سے بہت برس پہلے ایک نجی جماعت کی سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں نامعلومستان ایک مغربی استعماری قوت کے زوال کے سبب وجود میں آیا۔ اگر آپ نامعلومستان کا جغرافیہ 247629-WusatullahNEWNEW-1398101036-710-640x480ملاخطہ فرمائیں تو اس کے ساتھ چار ممالک کی سرحدیں لگتی ہیں۔ مشرق میں جو ملک واقع ہے اسے ’’ایک پڑوسی ملک ’’ کہا جاتا ہے۔مغربی سرحد ایک سنگلاخ اکھڑ ہمسائے سے ملتی جلتی ہے۔جنوب مغرب میں واقع ملک میں ایک اقلیتی فرقے کی اکثریت ہے۔جب کہ شمال کے پڑوسی کا نام قدرے طویل ہے۔یعنی سمندر سے زیادہ گہرا اور ہمالیہ سے زیادہ بلند۔

جب نامعلومستان وجود میں آیا تب اس کے پانچ معلوم صوبے تھے۔مگر نامعلومستان کی درسی کتابوں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے بڑے صوبے نے نامعلوم وجوہات کے سبب پڑوسی ملک کی مدد سے علیحدگی اختیار کرلی۔باقی رہ گئے چار صوبے تو ان میں سے تین کو وقتاً فوقتاً نامعلوم قسم کے طرح طرح کے دردیہ دورے اٹھتے رہتے ہیں۔ ان کے بارے میں سب سے بڑے صوبے کا خیال ہے کہ وہم کی پیداوار ہیں اور وہم کا علاج تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں۔

نامعلومستان ایک ایسے جغرافیائی سنگم پر ہے جہاں کے قرب و جوار میں اس سمیت تین سے زائد ایٹمی طاقتیں اور تیل پیدا کرنے والے کئی برادر ممالک پائے جاتے ہیں۔لہذا ایک خاص الخاص سپرپاور سمیت کئی بین الاقوامی ، علاقائی اور مقامی حساس ادارے اس خطے کو نامعلومستان کے خلاف اپنے مذموم عزائم کا مسلسل اکھاڑہ بنائے ہوئے ہیں۔چنانچہ نامعلومستان میں آج تک سیاسی استحکام پیدا نہیں ہوسکا۔اب تک نامعلومستان پر چار معلوم جرنیل براہ راست بادلِ نخواستہ حکومت کرچکے ہیں اور جب جب دل نامعلوم اسباب کے سبب حکمرانی میں نہیں لگتا تو پھر دورانِ وقفہ آنے والی حکومتوں کی نگہداشت و پرداخت طرح طرح کے نت نئے نامعلوم طریقوں سے جاری رہتی ہے۔

اگرچہ نامعلومستان میں ایک مذہبی عقیدے کے لوگوں کی واضح سے بھی زیادہ اکثریت ہے۔پھر بھی اس اکثریت کو اکثر یہ کہہ کہہ کر ڈرایا جاتا ہے کہ نادیدہ ہاتھ ، خفیہ منصوبے ، بین الاقوامی سازشیں ، مٹھی بھر شرپسند ، اغیار کے ہاتھوں بکے دانشور وغیرہ وغیرہ نامعلومستان کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھنا چاہتے لہٰذا ان سے ہمہ وقت ہوشیار رہنے اور سب کو ایک ہی سوچ اور ایک ہی عقیدے پر لانے کی اشد ضرورت ہے۔چاہے اس کے لیے کوئی بھی قربانی دینی پڑے۔ورنہ نامعلومستان جس مقصد کے لیے وجود میں آیا تھا اس مقصد کو نامعلوم دشمن اور معلوم حاسد کھا پی کے برابر کردیں گے۔

باقی دنیا کے برعکس نامعلومستان میں کسی بھی شے ، سوچ یا اہم فرد و ادارے کا نام کھلے عام لینا معیوب اور قومی آداب کے خلاف ہے۔حتیٰ کہ بیوی بھی شوہر کو نام لے کر مخاطب کرے تو بدتمیزی گردانا جاتا ہے۔اور جو بیویاں شوہروں کو منے کے ابا ، اجی سنتے ہو ، آپ ، یہ اور وہ جیسے ناموں سے پکارتی ہیں ان کی بظاہر قدر و منزلت رہتی ہے۔کم و بیش یہی گھریلو فارمولا ہر سطح پر رائج ہے۔نامعلومستان میں پائے جانے والے اس ستر پوش کلچر کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ منہ پھٹ میڈیا بھی ان سے سرتابی کی پوری جرات نہیں کرسکتا۔چنانچہ مقامی ذرایع ابلاغ میں اکثر اس طرح کی خبریں شایع یا نشر ہوتی ہیں۔

قوم داخلی و خارجی دشمنوں کے خلاف متحد ہوجائے۔ (کون سے خارجی و داخلی دشمن۔اس ٹنٹے میں فضول میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ سب جانتے ہیں)۔

خوبرو دوشیزہ آشنا کے ساتھ فرار ہوگئی۔( نام ، پتہ ، کون، کہاں کب ؟ایسے سوالات نجی معاملات میں مداخلتِ بے جا کے برابر سمجھے جاتے ہیں بشرطیکہ دوشیزہ اور آشنا بارسوخ ہوں)۔

صدرِ مملکت نے ملک کے سب سے بڑے صنعتی شہر کے ایک پنج ستارہ مقامی ہوٹل میں ایک نجی تنظیم کی جانب سے تقسیمِ انعامات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام کے خلاف سازشیں کرنے والے اپنی حرکتوں سے باز آجائیں ورنہ جلد ہی ان سازشیوں کو بے نقاب کرکے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا۔(ہوسکتا ہے آپ کو ککھ سمجھ میں نہ آیا ہو۔لیکن ایک عام نامعلومستانی کے لیے یہ تفصیلات بھی بہت ہیں )۔

وزیرِ اعظم نے وفاقی دارالحکومت میں ملک کے مختلف علاقوں سے آئے  وفود کے اجتماع میں قومی ذرایع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک وفاقی سرکاری ادارے کے چند افسروں کی بے قاعدگیوں کی چھان بین کے لیے سرکردہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کو موقع پر احکامات جاری کردیے۔

نامعلوم افراد نے ایک غیر ملکی نجی ادارے کے چند اہلکاروں کو اغوا کرلیا۔قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ترجمان نے بتایا ہے کہ نامعلوم ملزمان کے خلاف مذکورہ غیر ملکی ادارے کے ایک اہلکار کی جانب سے ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔۔

ایک مذہبی تنظیم کے سربراہ نے اپنا نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر انکشاف کیا ہے کہ بعض عناصر ان کی جان کے درپے ہیں۔

ایک مقامی نجی چینل کی عمارت کے قریب فائرنگ سے ایک معروف صحافی زخمی۔ بعد ازاں اسے ایک نجی اسپتال میں داخل کرادیا گیا ۔ ایک ڈاکٹر نے اپنا نام صیغہِ راز میں رکھتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ صحافی کی حالت خطرے سے باہر ہے۔صحافیوں کی ایک ملک گیر تنظیم نے کل یومِ احتجاج کی اپیل کی ہے۔ایک علاقائی تنظیم کے رہنماؤں نے زخمی صحافی کی مبینہ عیادت کی۔جب کہ ایک مذہبی جماعت کے دو صوبائی رہنماؤں نے اس واقعہ کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے نا معلوم ملزمان کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔کئی سماجی تنظیموں نے بھی نجی چینل سے اظہارِ یکجہتی کا دعویٰ کیا ہے۔جب کہ ایک سرکردہ قوم پرست رہنما نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے صوبے کے دوسرے بڑے شہر کے مقامی پریس کلب کے سامنے احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے۔

ملک کے سب سے گنجان شہر میں آج بھی خون کی ہولی جاری رہی۔مختلف علاقوں سے متعدد لاشیں ملی ہیں۔ان میں سے ایک کی شناخت ہو گئی ہے۔مقتول کے ایک قریبی رشتے دار نے ایک غْیر ملکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ وہ ایک سرکاری تعلیمی ادارے میں پڑھاتا تھا اور اس کا کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں تھا۔تاہم شبہہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ مقتول کو ایک نیم مسلح کالعدم تنظیم نے ایک حساس ادارے کا مخبر ہونے کے شبہے میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا ہے۔دریں اثنا مقامی انتظامیہ نے عینی شاہدوں کی مدد سے نامعلوم قاتل کا خاکہ جاری کردیا ہے۔

اب تک میں نے نامعلومستان کے جتنے ابلاغی و نیم ابلاغی نمونے پیش کیے ان کے بارے میں اگر کوئی غیر نامعلومستانی یہ سوال کرے کہ ایک عام شہری کو ایسی بجھارتی اطلاعات سے کیسے پتہ چلتا ہے کہ کس شخص ، ادارے یا خیال کا تذکرہ ہو رہا ہے ؟ عرض یہ ہے کہ کوئی تو بات ہوگی کہ اسے مملکتِ خدادادِ نامعلومستان کہا جاتا ہے۔ نامعلومستان کے شہریوں نے ان خبری پہلیوں کو بوجھنے کے لیے ایک سینہ بسینہ گائیڈ تیار کر لی ہے۔لہٰذا وہ کیا کیوں کیسے کون کب کی پخراٹ میں پڑے بغیر فوراً معاملے کی تہہ تک پہنچنے میں یدِ طولی رکھتے ہیں۔

مثلاً کسی نامعلومستانی کے لیے یہ جاننا ہرگز ضروری نہیں کہ ایک بین القوامی دھشت گرد تنظیم کا سربراہ ملک کے ایک حساس شہر میں کیسے برسوں رہتا رہا۔کیونکہ کامن سنس کی بات ہے کہ وہ کسی کے مکان میں اسی طرح رہتا رہا جیسے لاکھوں دیگر غیر ملکی غیر قانونی طور پر کسی بھی ملک میں رہتے ہیں اور اپنی شناخت چھپاتے پھرتے ہیں۔ مبادا کسی حساس یا غیر حساس ادارے کے ہتھے نہ چڑھ جائیں۔اس بارے میں ایک خاص ملک کے مبینہ دباؤ پر جو تحققیاتی کمیشن بنا۔ اس کی رپورٹ میں بھی غالباً یہی نتیجہ اخذ کیا گیا ہوگا۔(اگر کبھی شایع ہوئی تو خود پڑھ لیجے گا )۔

ویسے بھی نامعلومستان میں آج تک جتنے معاملات پر جتنے بھی تحقیقاتی کمیشن بنے۔ انھوں نے بالاخر یہی نتیجہ اخذ کیا  کہ اس چوری کی تفصیلی تحقیق اور مستند شہادتوں اور شواہد سے یہ بات بلا شک و شبہہ ثابت ہوگئی ہے کہ یہ کام یقیناً کسی چور کا ہے۔

دیگر صوبوں کی نسبت نامعلومستان کے ایک صوبے میں زیادہ لوگ اچانک کیسے غائب ہوجاتے ہیں ؟ ہوسکتا ہے غیر ملکیوں کو یہ بات بھی عجیب لگے۔لیکن سب مقامی لوگوں جانتے ہیں کہ اس خاص صوبے میں شدید سردی اور شدید گرمی پڑتی ہے لہٰذا بہت سے لوگ جب بغیر احتیاطی تدبیر کے گھر سے نکلتے ہیں تو راستے میں لو یا پالا لگنے سے کسی سڑک کے کنارے یا کسی پگڈنڈی پر یا کوئی ویران جگہ عبور کرتے ہوئے پٹ سے گر پڑتے ہیں اور مرجاتے ہیں۔ان میں سے بہت سوں کے جسم درست حالت میں مل جاتے ہیں۔کئی گرے ہوؤں کو جنگلی جانور موقع پا کر بھنبھوڑ لیتے ہیں اور کچھ بدقسمت عالمِ بے ہوشی میں صحرائی جھکڑوں یا طوفانِ بادوباراں کے سبب مٹی یا ریت کے نیچے آدھے دفن ہوجاتے ہیں۔ہوسکتا ہے  ان میں سے کچھ کو کسی ذاتی دشمنی یا رنجش کے سبب کوئی اغوا کرکے بھی ماردیتا ہو۔یہ بھی ممکن ہے کہ انھوں نے تنگ آ کر دنیا ہی تیاگ دی ہو اور بطور سادھو ویرانوں کا رخ کرلیا ہو۔مگر پروپیگنڈہ یہی ہوتا ہے کہ انھیں کسی بے حس گروہ یا حساس ادارے نے زبردستی اغوا کرکے مارا ہے۔آپ ہی دل پر ہاتھ رکھ کے بتائیے کہ کسی پر بے بنیاد بہتان طرازی اور خامخواہ کی الزام تراشی کرنے والے دنیا میں کہاں نہیں پائے جاتے۔ ایسے عناصر صرف نامعلومستان میں تھوڑی ہوتے ہیں۔

اچھی بات یہ ہے کہ نامعلومستان میں ہر شہری ، تنظیم ، گروہ اور ادارہ مکمل آزاد ہے۔حکومت ان آزادیوں میں کم سے کم مداخلت پر یقین رکھتی ہے۔کوئی کسی بھی معاملے میں کسی کا نام لینا اس لیے پسند نہیں کرتاکیونکہ جب ہر چیز دوسری چیز سے جڑی ہوئی ہے تو پھر نام لینا نہ لینا بے معنی اور اپنا اور دوسروں کا وقت ضایع کرنے والی بات ہے۔بھلا یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایسی آزادیاں اگر مغربی دنیا میں ہوں تو انھیں سراہا جاتا ہے اور آئیڈیالائز کیا جاتا ہے اور مثالی معاشرے کہا جاتا ہے اور اگر یہی آزادیاں نامعلومستان میں ہوں تو انھیں افراتفری ، لاقانونیت ، منافقت اور جانے کیا کیا کہہ کر کوسا جاتا ہے۔جلنے والے جلا کریں مگر نامعلومستان کی اپنی شناخت ، اپنا نظام اور اپنی سوچ ہے۔اسی لیے تو ، اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں۔۔۔۔

نکولو مکیاویلی

یورپ کا ممتاز سیاسی مفکر نکولو مکیاویلی 3 مئی 1459ء کو اٹلی کے شہر فلورنس میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ متوسط طبقے مگر اشراف کے گھرانے سے تھا اور وکالت کرتا تھا۔ مکیاویلی کا دور دراصل یورپی ممالک کی باہی رقابت، محلاتی سازشوں اور سیاسی تبدیلیوں کا ہے۔ اس کے دور اندیش اور حساس ذہن نے ان سب کا زبردست اثر قبول کیا ۔اس نے سیاسیات پر اپنے تاثرات کو عقلیت کی کسوٹی پر پرکھ کر ریاست کے عروج و زوال کے اسباب بیان کئے اور1513ء میں (Il Principe) ’’بادشاہ‘‘ جیسی یگانہ روزگار کتاب لکھی۔

سولہویں صدی عیسوی میں اٹلی میں نکولو مکیاویلی کے نام سے ایک مشہور تاریخ دان’ فلسفی’ ادیب ’ ڈرامہ نویس اور شاطر سفارت کار گزرا ہے جو جدید سیاسی سائنس کا بانی مانا360px-macchiavelli01-jpg جاتا ہے ۔ یہ وہ دور تھا جب شہروں کی الگ الگ مملکتیں تھیں۔ مکیاویلی فلورنس کی جمہوریہ میں 1458سے 1512تک اہم عہدہ پر فائز رہا۔ اس عہدہ سے سبک دوشی کے بعد اس نے ایک شہرہ آفاق کتاب لکھی ۔ نام اس کا ’’ پرنس ،، ہے جس میںپہلی بار اقتدار کی سیاست کے اصول پیش کیے گئے ۔6 سو سال قبل مکیاویلی نے اس کتاب میں حقیقت پسندی کے نام سے سیاست کاجو فلسفہ پیش کیا اس نے نہ صرف اس زمانہ میں یورپ میں ایک تہلکہ مچا دیا تھا بلکہ آج بھی دنیا بھر کی سیاست پر اس کی گہری چھاپ ہے ۔ مکیاویلی نے بنیادی طور پر سیاست کو دین اور اخلاقی فلسفہ سے یکسر جدا کر کے ایسی سیاسی ساینس کے طور پر پیش کیا جس میں خیر اور شر کو خیرباد کہہ دیا گیا ہواور اقتدار کے حصول اور اس کی بقا کے لیے ہر جایز و ناجائز حربے کو حق بجانب قرار دیا گیا ہو۔ مکیاویلی کا عقیدہ تھا کہ نیک صالح انداز زندگی خوشحالی کی راہ نہیں دکھا سکتی اور دراصل مصائب کے بل ہی پر ’’ پرنس،، حکمرانی کا اہل ثابت ہو سکتا ہے ۔ ’’ پرنس ،، میں پیش کردہ اسی فلسفہ کی بنیاد پر سیاست میں دھوکا‘ فریب مطلق العنانی اور سیاسی ساز باز اورجوڑ توڑکو’’مکیاویلین ،، سیاست قرار دی جاتی ہے ۔مکیاویلی کی اخلاقی قیود سے آزاد سیاست کی بناء پر انگریزی زبان میں شیطان کے لیے ’’ Old Nick،، کی اصطلاح عام ہوئی ہے اور ذاتی مفادات کی خاطر فریب اور ساز باز اور جوڑ توڑ کے عمل کو مکیا ویلین عمل کہا جاتا ہے ۔ مکیا ویلی نے کتاب ’’پرنس،، 1513ء میں لکھی تھی لیکن یہ اس کے انتقال کے 5 سال بعد شائع ہوئی اور 1559ء میں جب پاپائے روم نے اس کی اشاعت پر پابندی عائد کی تو اس وقت تک اس کے 15ایڈیشن شایع ہو چکے تھے اور یہ کتاب یورپ کے حکمرانوں میں نہایت مقبول تھی جن میں انگلستان کے اولیور کرامویل ’ ہنری ہشتم اور شاہ چارلس پنجم نمایاں تھے۔

نظریہ ارتقاء پر اعتراضات اور ان کے جواب

تحریر: عمر ارشد مغل

یہ تصور کہ موجودہ جاندار کسی دوسری طرح کے جانداروں کی تبدیل شدہ شکل ہیں سب سے پہلے تقریبا دو ہزار سال قبل یونانی فلاسفروں نے پیش کیا تھا۔ ان مادیت پرست خیالات کے برخلاف افلاطون اور ارسطو نے نباتات اور حیوانات میں تغیرات کا مشاہدہ کیا اور انہیں Forms کی نامکمل قدرتی صورت خیال کیا۔ Forms یا Ideas کو لاطینی زبان میں Species کہتے ہیں۔ ارسطو کے مطابق یہ FORMS یا SPECIES ناقابل تغیر، ابدی اور کامل تھیں اور دنیا سے پرے کسی جگہ موجود تھیں۔
سترہویں صدی میں یورپ میں جدید سائنس کے آغاز سے ارسطو کے نظریات مسترد ہوئے اور جانداروں میں تغیرات کو قدرتی قوانین کے تناظر میں دیکھا جانے لگا۔ اب Species یا نوع، جانداروں کے ایسے گروہ کو کہا جانے لگا جو ایک جیسی خصوصیات رکھنے کے ساتھ ساتھ آپسی افزائش نسل کے قابل تھے۔ لیکن اب بھی ان انواع کو غیر تغیر پذیر اور علیحدہ علیحدہ تخلیق سمجھا جاتا تھا۔

لامارک کا نظریہ ارتقا

پہلامکمل نظریہ ارتقاء لامارک نے 1809ء میں پیش کیا جس کے مطابق انواع کی اپنی ضرورت اور کوشش کی وجہ سے ارتقائی عمل ہوتا ہے اور ایک نوع دوسری نوع میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ مثلاً قدیم زرافہ چھوٹی گردن کا تھا۔ جب زمین پر گھاس ناپید ہونا شروع ہوئی تو انہوں نے درختوں کے پتے کھانے کے لئے زور لگا لگا کے اپنی گردن لمبی کر لی اور ان کی لمبی گردن ہر نسل کے ساتھ کوشش کرتے رہنے سے مزید لمبی ہوتی چلی گئی۔ نتیجاً اب لمبی گردن والے زرافے ہی موجود ہیں۔
ڈارون وہ پہلا سائنسدان تھا جس نے ارتقائی عمل میں قدرتی انتخاب کو اہمیت دی۔ اس نظریے کو سائنسی حلقوں میں بہت پذیرائی ملی البتہ چرچ کے پراپیگنڈے کی وجہ سے عوام کی ایک بڑی اکثریت اس کے خلاف ہوتی گئی۔ ڈارون پہ الحاد کے فتوے لگے۔ اپنی زندگی میں ڈارون اپنے نظریے کا دفاع کرتا رہا۔ لیکن فوسل ریکارڈ کی کمی کی وجہ سے کچھ سائنسدان اب بھی شش و پنج میں مبتلا تھے۔ ڈارون کی وفات کے ساتھ ہی تقلید پرستوں کو پھر غلباء حاصل ہو گیا۔ انیسویں صدی میں جینیاتی تحقیق میں ترقی کے ساتھ ہی ڈارون کے پیش کردہ نظریہ کی صداقت عیاں ہو گئی۔ Hugo de Varies نے مینڈل، جو جینیاتی سائنس کا بانی کہلاتا ہے اور August Weismann کے تولیدی خلیہ کے کام کو ڈارون کے نظریہ سے جوڑ کر نظریہ ارتقاء کو جینیاتی بنیاد فراہم کی۔ اب ارتقاء کی علم حیاتیات میں اہمیت کا اندازہ معروف جینیاتی سائنسدان Theodosius Dobzhansky کی اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’’بائیولوجی میں نظریہ ارتقاء نہ ہو تو کچھ بھی سمجھا نہیں جاسکتا۔ ‘‘
نظریہ ارتقاء جب سے پیش کیا گیا تب سے ہی اس پر ایک نہ ختم ہونے والی بحث جاری ہے۔ اس نظریہ پر بہت سے اعتراضات کیے جاتے ہیں۔ جو لوگ نظریہ کے لغوی معنوں تک محدود رہتے ہیں اُن کے مطابق نظریہ ارتقاء ایک مفروضہ یا نظریہ ہے اور چونکہ مفروضہ غلط بھی ہو سکتا ہے لہٰذااس کے بارے میں اتنا سنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ کچھ لوگوں کا اعتراض ہے کہ اگر ارتقاء اب بھی جاری ہے تو اب ہوتانظرکیوں نہیں آتا یا پھر اب بندر سے انسان کیوں نہیں بنتے؟ کچھ ’’دانشور‘‘ نظریہ ارتقاء کے خود سے فرض کئے گئے ’’سماجی اثرات ‘‘سے خائف ہیں کہ اگر بقائے اصلح (Survival of the Fittest) کو درست مان لیں تومعاشرے میں فساد پیدا ہو جائے گااور ہر طاقتور، کمزور کو ختم کرنے کے دَر پے ہو گا۔ نہ صرف عام لوگوں میں یہ تصور ہے کہ نظریہ ارتقاء کے مطابق سائنسدان یہ ثابت کرتے ہیں کہ انسان بندر کی اولاد ہے، بلکہ نظریہ ارتقاء سے متنفر کرنے کے لئے اس کے مخالفین اس بات کو ایک حربے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ لوگ ارتقاء کا نام سنتے ہی بدک جاتے ہیں، کیونکہ ان کی اناپر ضرب لگتی ہے۔ غرضیکہ ارتقاء کے خلاف اعتراضات کی ایک بھرمار ہے جن میں سے بعض معقول ہیں اور بعض بالکل بے بنیاد اور جعلی۔ سائنسدان اپنی تحقیق کے ذریعے مسلسل ان اعتراضات کے جوابات دیتے چلے آ رہے ہیں۔

چارلس ڈارون

چارلس ڈارون

اس صورتِ حال میں عام آدمی چکرا کے رہ جاتا ہے کہ ایک طرف توسائنس ہمیں بے شمار سہولتیں دے رہی ہے اور دوسری طرف وہی سائنس انسان کو بندر سے جوڑنے پر تُلی ہے۔ عام آدمی کے ذہن کو وہ اعتراض بھی پراگندہ رکھتے ہیں جوکہ سرمایہ دارانہ نظام کے زیر اثر میڈیا کی طرف سے مسلسل پھیلائے جاتے رہے ہیں۔ زیادہ تر لوگ ایسے ہیں جو محض اعتراضات سُن کر ہی ارتقا کے خلاف دلائل دینے نکل پڑتے ہیں۔ وہ لوگ جوواقعتا حقیقت جاننا چاہتے ہیں اُن کے سامنے اصل معلومات تک رسائی اور اسے سمجھنے کا مسئلہ در پیش آتا ہے۔ کیونکہ سائنسی اصطلاحات میں کی گئی بات کو سمجھنا عام آدمی کے لئے تقریباً ناممکن ہے اس طرح سے ہماری اس تحریر کا مقصد ارتقاء پر کئے جانے والے معقول اعتراضات کا جواب عام فہم زبان میں فراہم کرنا ہے۔
سب سے پہلے ہم چند بنیادی اصطلاحات کو دیکھ لیتے ہیں۔

ارتقا
ارتقا کی عام رائج تعریف کے مطابق یہ ایک بتدریج ترقی کا عمل ہے جو کہ مرحلہ وار اور صرف بہتری کی طرف ہوتا ہے۔ یعنی یہ کم پیچیدہ سے زیادہ پیچیدہ کی طرف سفر ہے۔ مثلاً لسانی ارتقا اور معاشرتی ارتقا وغیرہ۔ جبکہ ارتقا کی بائیولوجی کی سائنس میں کی جانے والی تعریف کے مطابق’’ جانداروں کی آبادی میں نسل در نسل جینیاتی تبدیلی ارتقا کہلاتی ہے۔ ‘‘یعنی تبدیلی کم پیچیدہ سے زیادہ پیچیدہ کی طرف بھی ہو سکتی ہے اور اِس کے برعکس بھی۔ چنانچہ ارتقائی عمل کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیں دونوں طرح کی تبدیلیاں نظر آتی ہیں۔ البتہ یہ الگ بات ہے کہ ہماری نظر میں آنے والی زیادہ تر تبدیلی کم پیچیدہ سے زیادہ پیچیدہ کی طرف ہوئی ہے۔

420 ملین سال پرانا سی سٹار کا فوسل

420 ملین سال پرانا سی سٹار کا فوسل

فوسل
اس سے مراد جانوروں اور پودوں کے اجسام کی وہ باقیات ہیں جو زمانہ قدیم سے تعلق رکھتے ہیں۔ عام طور پر 10,000 سال سے پرانے اجسام یا ان کی باقیات کوفوسل تسلیم کیا جاتا ہے۔ فوسل کی مدد سے سائنسدان قدیم جانداروں کی عمر، قد، ساخت، رہن سہن اور ارتقائی لڑی میں ان کے مقام کا پتا چلاتے ہیں۔

جین اور جینیاتی سائنس
’’جین وراثتی نظام کی اکائی ہے۔‘‘ جانداروں کی شکل و شباہت، قد کاٹھ، بالوں اور آنکھوں کا رنگ وغیرہ ایسے خواص ہیں جن کا تعین جین کرتے ہیں۔ جس طرح لمبے قد والے والدین کے بچے عام طور پر لمبے ہی ہوتے ہیں۔ لمبے ہونے کی یہ خصوصیت والدین کی طرف سے اولاد میں جینز کی وجہ سے منتقل ہوتی ہے۔ سائنس کی وہ شاخ جو جین کے متعلق تحقیق کرتی ہے جینیاتی سائنس کہلاتی ہے۔

اب ہم ان اصولوں کا جائزہ لیں گے جو نظریہ ارتقاء کی بنیاد ہیں۔ نظریہ ارتقا کی بنیاد چار اصولوں پر ہے۔
1:تغیّرات Variations
2:بقا کی جدوجہد Struggle for Existance
3:فطرتی انتخاب Natural Selection
4:بقائے اصلح Survival of the Fittest

1: تغیّرات Variations
Charles_Darwin_-_Pigeon_skullsکسی بھی نوع میں تمام جاندار ایک جیسے نہیں ہوتے ان میں کچھ نہ کچھ فرق ہوتے ہیں۔ یہ فرق رنگ، قدوزن اور ساخت وغیرہ کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اسی بنیاد پر کوئی گڈریا اپنے ریوڑ کی تمام بھیڑوں کو علیحدہ علیحدہ پہچانتا ہے۔ یہ انفرادی اوصاف تغیّرات کہلاتے ہیں۔ یہ تغیرات ہر جاندار کے جینیاتی سسٹم کے فرق کی وجہ سے ہوتے ہیں۔
یہاں یہ بات اہم ہے کہ تغیّرات جانداروں کے اندرونی تضاد کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ تغیرات جانداروں کے DNA میں Mutation یا تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ تغیّرات DNA کے ذریعے اگلی نسل کو منتقل ہوتے ہیں۔ لمبے عرصے کی یہ مقداری تبدیلی ایک جست کے ذریعے معیاری تبدیلی میں بدل جاتی ہے اور نئی انواع وجود میں آتی ہیں۔

2: بقا کی جدوجہد Struggle for Existence
بیرونی ماحول تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ جب ماحول تبدیل ہوتا ہے تو تمام انواع کو اپنی بقاء کا خطرہ پیش آتا ہے۔ ہر نوع اپنے بچاؤ کے لئے اپنے آپ کو نئے ماحول کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتی ہے۔ جس نوع میں بقا کی صلاحیّت زیادہ ہوتی ہے وہ بچ جاتی ہے اور باقی انواع معدوم ہو جاتی ہیں۔ یعنی تغیّرات کے نتیجے میں جو انواع پیدا ہوتی ہیں ان میں سے جو تبدیل شدہ ماحول سے مطابقت رکھتی ہیں وہ بچ جاتی ہیں اور باقی معدوم ہو جاتی ہیں۔

3: فطرتی انتخاب Natural Selection
فطرت طاقتور ہے۔ جانداروں اور انواع کی زندگی کا انحصار فطرت پر ہے۔ جانداروں اور فطرت کے درمیان توازن ہی پرجانداروں کی زندگی کا دارومدار ہوتا ہے۔ جو انواع فطرت سے مطابقت نہیں رکھ پاتیں فطرت انہیں فنا کر دیتی ہے۔ تبدیل شدہ ماحول میں جو انواع فطرت سے مطابقت رکھتی ہیں، بچ جاتی ہیں۔ اس عمل کو فطرتی انتخاب کہتے ہیں۔

4: بقائے اصلح Survival of The Fittest
331px-Mutation_and_selection_diagram.svg_یہ اصول درحقیقت پہلے تین اصولوں کا نتیجہ ہے۔ فطرت کا انتخاب ہمیشہ بہترین ہوتا ہے۔ بہترین وہ انواع ہیں جو بقا کی جدوجہد میں فطرتی انتخاب کے نتیجہ میں بچ جاتی ہیں۔ یعنی جو نوع تبدیل شدہ ماحول میں فطرت کے ساتھ بہترین مطابقت رکھتی ہے وہی بچتی ہے۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ بقائے اصلح کا مطلب ایک نوع کے جانداروں کی آپسی جدوجہداور مقابلہ بازی ہرگز نہیں ہے، جیسا کہ بعض بورژوا دانشور ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر قدیم زرافے میں تغیرات کے نتیجہ میں دو طرح کی نسلیں وجود میں آئیں، ایک چھوٹی گردن والی اور ایک لمبی گردن والی۔ جب ماحول تبدیل ہوا تو گھاس ناپید ہو گئی اور صرف درختوں کے پتے ہی خوراک کے طور پر رہ گئے۔ نتیجتاً بقا کی جدوجہدمیں فطرتی انتخاب کے بعد وہ نوع بہترین ثابت ہوئی جو لمبی گردن ہونے کے باعث اونچے درختوں سے پتے کھا سکتی تھی۔ جبکہ چھوٹی گردن والی نوع ناپید ہو گئی کیونکہ وہ فطرت سے مطابقت نہ رکھ پائی تھی۔

اب ہم ایک ایک کر کے ان اعتراضات کا جائزہ لیں گے جو ارتقا اور نظریہ ارتقا پر کئے جاتے ہیں۔

1: ارتقا محض ایک نظریہ یا Theoryہے، حقیقت نہیں
ارتقا پر یہ اعتراض سب سے عام اور سب سے زیادہ کیا جاتا ہے۔ تقریباً ہر زبان میں نظریہ کا مطلب ایک مفروضہ ہوتا ہے، جسے کوئی بھی فرض کر سکتا ہے۔ لیکن سائنس میں ایسا نہیں ہے۔ سائنس میں نظریہ کسی فطرتی نظام یا عمل کی جامع تشریح کرتا ہے جسے ثبوت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ یاد رہے سائنس میں نظریہ پہلے نہیں آتا۔ بہت سارے حقائق کو جمع کرنے کے بعد جو نتیجہ سامنے آتا ہے، وہ نظریہ کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ سائنس میں نظریہ اور حقیقت کا فرق ’’کیسے‘‘ اور ’’کیا‘‘جیسا ہے۔ ارتقا ایک حقیقت ہے جسے مشاہدے، فوسل ریکارڈ، جینیاتی سائنس اور تجربوں سے اخذ کیا گیا ہے اور اب بھی پرکھا جا سکتا ہے۔ نظریہ ارتقا یہ بیان کرتا ہے کہ ارتقا کب، کیسے اور کن حالات میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔

2: ارتقا ایک مذہب ہے، سائنس نہیں
اس اعتراض کو کرنے والوں کا کہنا ہے کہ چونکہ ارتقا ابھی تک ثابت نہیں ہو سکا لیکن اس کے ماننے والے بغیر کسی ثبوت کے ارتقائی عمل کا واویلا مچاتے ہیں لہٰذا انہوں نے ارتقا کو ایک مذہب بنا لیا ہے۔ یہ اعتراض کرنے والے عوام کو’ ’ تشبیہہِ کاذب‘‘ یا False Analogy کے منطقی مغالطیمیں مبتلا کرتے ہیں۔ یعنی سائنس کو مذہب کہہ کر سائنس کو غلط ثابت کرنا۔ مذہب مکمل طور پر ایک اعتقادی نظام ہے جس کے ماننے والوں پر فرض ہے کہ وہ بنا کسی ثبوت کے اس کی کہی گئی ہر بات مانیں اور اس پر شک نہ کریں جب کہ سائنس اس کے برعکس ہے۔ سائنس تجربات اور مشاہدات کی بنا پر فیصلہ کرتی ہے۔ ارتقائی عمل بھی تجربے اور مشاہدے کی بنا پر دریافت ہوا ہے۔ Fossil Record کا جائزہ لیں تو قدم قدم پر تغیرات نظر آتے ہیں جو نئی انواع کے بننے کا پتا دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ نظریہ ارتقا ایسا نظریہ نہیں ہے جس پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔ اب تک اِس نظریہ پر بے شمار اعتراضات کیے جا چکے ہیں۔ یہ اعتراضات سائنسدانوں کی طرف سے بھی تھے اور دوسرے لوگوں کی طرف سے بھی، البتہ ابھی تک کوئی ایسا اعتراض نہیں کیا جا سکا جو سائنسی بنیادوں پر درست ہوتے ہوئے ارتقا اور ارتقائی عمل کو مسترد کر سکے۔ لہٰذا نظریہ ارتقا ایک سائنس ہے۔

3: ارتقا ایک ایسا نظریہ ہے جو ثابت نہیں ہو سکتا
یہ اعتراض کرنے والے شاید جانتے نہیں کہ ارتقائی عمل ایک سے زائد بار اور ایک سے زائد طریقوں سے ثابت ہو چکا ہے۔ فوسل ریکارڈ سے پتا چلا ہے کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف انواع موجود تھیں جو فطرتی انتخاب کی وجہ سے معدوم ہوئیں اور نئی انواع پیدا ہوئیں۔ جیسا کہ تاریخ میں ڈائینوسار معدوم ہوئے۔ اس کے علاوہ جینیاتی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ہمارے DNA اور چمپنزی کے DNA میں 98 فیصد مماثلت ہے اور یہ کہ موجودہ انسان اور چمپنزی، قدیم بندر نما انسان کی ہی تغیر پذیر شکل ہیں۔ نومولود بچے کو اگر پانی میں ڈال دیں تو وہ تیرنے کے انداز میں ہاتھ اور پاؤں چلانا شروع کر دیتا ہے۔ یہ عمل ہمارے قدیم آبی آباؤ اجداد کی یاد ہے جو بچے کے ذہن میں نقش ہوتی ہے۔ یہ یاد 6 ماہ تک بچے کے ذہن میں رہتی ہے۔ کچھ دماغی امراض میں یہ یادیں لمبے عرصے تک دیکھی جاتی ہیں۔

4: مشاہدے کا فقدان

انسان کے آبائو اجداد نے 85 ملین سال قبل دوسرے ممالیہ جانوروں سے مختلف شکل اختیار کی تھی

انسان کے آبائو اجداد نے 85 ملین سال قبل دوسرے ممالیہ جانوروں سے مختلف شکل اختیار کی تھی

اعتراض یہ ہے کہ اگر ارتقا درست ہے تو اب ہوتا نظر کیوں نہیں آتا۔ ارتقا ایک سست عمل ہے جس میں ایک نوع سے دوسری نوع تک تبدیلی کو لاکھوں سال اور ہزاروں نسلیں لگتی ہیں۔ جن انواع میں افزائشِ نسل تیز ہوتی ہے مثلاً کتوں، چوہوں اور جراثیم میں، ان میں تغیرات با آسانی دیکھے جا سکتے ہیں۔ ارتقا ایک ایسا عمل ہے جسے سائنسدانوں نے ہزار ہا بار لیبارٹرری میں کر کے دیکھا ہے۔ اگر جینیاتی تبدیلی اتنی ہی ناممکن ہوتی تو آج ذیابیطیس کے مریضوں کے لئے انسولین نہ بن پاتی جو کہ جینیاتی انجینرنگ کی بدولت ہی ممکن ہے۔ گزشتہ پچاس برسوں میں 20 سے زائد ایسی انواع وجود میں آئی ہیں جن کا اِس سے پہلے وجود نہ تھا۔ مثال کے طور پر ایڈز وائرس، پولی تھین کو کھانے والے بیکٹیریا وغیرہ۔

5: اگر ارتقا اب بھی جاری ہے تو اب کیوں بندر سے انسان نہیں بنتے؟
یہ اعتراض کرنے والے ارتقائی عمل سے یکسر ناواقف ہیں۔ درحقیقت نظریہ ارتقا میں کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ ہم بندر سے ارتقا پذیر ہوئے ہیں بلکہ ارتقائی عمل کے مطابق ہمارے اور بندر کے آباؤاجداد ایک ہی ہیں جو 60 لاکھ سال پہلے معدوم ہو گئے تھے۔ اس لحاظ سے بندر اور چمپنزی ہمارے حیاتیاتی کزن ہیں نہ کہ آباؤ اجداد۔ بندر یا چمپنزی کسی نئی نسل میں تو تبدیل ہو سکتے ہیں لیکن انسان میں نہیں۔

6: اتنی پیچیدہ زندگی ارتقا کی وجہ سے ممکن نہیں
اعتراض یہ ہوتا ہے کہ ایک انسانی خلیہ جسے صرف خوردبین سے ہی دیکھا جا سکتا ہے میں اتنے کام ہو رہے ہوتے ہیں کہ یہ سارے کام اگر ہم لیبارٹری میں کرنا چاہیں تو ہزاروں ایکڑ پر مشتمل لیبارٹری قائم کرنا پڑے گی۔ یعنی اتنی پیچیدہ زندگی ارتقائی عمل سے ممکن نہیں ہے۔ یہ اعتراض کرنے والے شاید بتدریج تبدیلی کو نظرانداز کر جاتے ہیں۔ Semetic مذاہب کے حساب سے زمین کی عمر چھ سے آٹھ ہزار سال ہے جبکہ سائنس کے مطابق کرہ ارض 4 ارب سال سے وجود میں ہے۔ ہم زندگی کی جس موجودہ شکل کو دیکھ رہے ہیں وہ اربوں سالوں کے ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے۔ یہ بتدریج تبدیلی فطرتی انتخاب کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔ اگر گزشتہ 50 سالوں میں 20 نئی انواع بن سکتی ہیں تو 4 ارب سالوں میں انسان کیوں نہیں بن سکتا؟

7: فوسل ریکارڈ میں تسلسل کی کمی

موجودہ انسان کا فوسل ریکارڈ

موجودہ انسان کا فوسل ریکارڈ

اب تک جتنے بھی فوسلز ملے ہیں وہ سب کے سب ایک نوع سے دوسری نوع تک بتدریج تبدیلی کا پتا دیتے ہیں۔ کچھ ارتقائی لڑیوں میں زیادہ تعداد میں فوسل ملے ہیں اور کچھ میں کم۔ مثلاً موجودہ گھوڑے کے ارتقائی عمل کے بہت سارے فوسلز مل چکے ہیں۔ موجودہ مرغ کے کم فوسلز ملے ہیں۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ چونکہ فوسل ریکارڈ میں تسلسل نہیں ملتا لہٰذا ارتقاء ثابت نہیں ہوتا۔ شاید یہ اعتراض کرنے والے چاہتے ہیں کہ اُن کو کسی فیچر فلم کی طرح ارتقائی عمل ہوتے ہوئے دکھایا جائے، جس میں ایک سیکنڈ میں 30 تصاویر لی جاتی ہیں۔ اگر وہ یہی چاہتے ہیں تو ایسا ہونا تو ناممکنات میں سے ہے۔ البتہ جینیاتی تحقیق سے اُن کے اس اعتراض کا جواب دیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ موجودہ انسان اور چمپنزی کے DNA میں 98 فیصدمماثلت ہے۔ اسی طرح تمام جانداروں کا DNA ایک دوسرے سے تعلق کا پتا دیتا ہے۔ اسی تعلق کی بِنا پر سائنسدان یہ جان پاتے ہیں کہ کونسی ارتقائی لڑی کس جاندار سے جا ملتی ہے۔ مثال کہ طور پر موجودہ مرغ کے DNA کا تعلق قدیم ڈائینوسار کے DNA سے ملتا ہے۔

8: ارتقاء کا سماجی پہلو
کچھ سماجی دانشور اور زیادہ تر مذہبی علما یہ اعتراض کرتے ہیں کہ چونکہ ارتقا کی تعلیم سے معاشرے میں بگاڑ، بُرے اعتقادات و عادات اور الحاد پرستی کے فروغ پا جانے کا اندیشہ ہے لہٰذا ارتقا کی تعلیم نہیں دینی چاہیے۔ ارتقا کے مخالفین کا کہنا ہے کہ مختلف موجودہ سماجی برائیاں، جیسے کہ جرائم، طلاق کی شرح، جنسی بیماریاں، شادی سے پہلے جنسی تعلقات، ہم جنس پرستی، غیر اخلاقی حرکات، جنگیں اور قتلِ عام، ارتقا پر یقین رکھنے کی وجہ سے ہے یا کم از کم ارتقا کی وجہ سے یہ بُرائیاں فروغ پا سکتی ہیں۔ یہ نظریہ ارتقا ہی ہے جو ہٹلر کے مظالم کا باعث بناوغیرہ وغیرہ۔
یہ معترضین بھی لوگوں کو ایک مغالطے کا نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ منطق کی زبان میں اِسے ’’مغالطہِ نتیجہ غیر مطلق‘‘ کہتے ہیں۔ یعنی غیر مطلق نتیجہ سے ڈرا کے دلیل کو رد کرنا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہٹلر جیسے آمر کو یہودیوں کے قتلِ عام کے لیے نظریہ ارتقا کی ضرورت نہیں تھی، دوسرا نظریہ ارتقا ہٹلر کے قتلِ عام کی کوئی سائنسی توجیح نہیں دیتا۔ اب رہی بات سماجی برائیوں کی تو اول تو یہ برائیاں اُس وقت بھی موجود تھیں جب ارتقا کا نظریہ پیش نہیں ہوا تھا، دوم یہ کہ ان سماجی برائیوں میں موجودہ اضافہ معاشرتی اور معاشی ناہمواری کی وجہ سے ہے نہ کہ ارتقا کی تعلیم کی وجہ سے۔

9: انسانی ارتقا
ارتقا کے مخالفین کا سب سے بڑا اعتراض انسانی ارتقا پر ہے۔ ذیل میں چند ایسے انسانی اعضا اور خصوصیات کا ذکر ہے جو ارتقائی عمل کے دوران ہم میں موجود تو ہیں البتہ اب اِن کے ہونے کا موجودہ انسان یعنی ہم میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اعضا اور خصوصیات ادنیٰ درجے کے جانوروں میں اب بھی فعال ہیں۔

ٓA: رونگٹے کھڑے ہونا Goose Bumps 
سردی، خوف اور غصے میں رونگٹے کھڑے ہو جانا عام مشاہدے کی بات ہے۔ کمتر جانوروں مثلاً پرندوں، بلی اور کتوں میں بھی ایسی حالت میں پرَ یا بال کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اِن جانوروں میں سرد حالات میں بال کھڑے کرنے سے بالوں میں ہوا قید ہو جاتی ہے جس سے انسولیشن کے عمل کے وجہ سے حرارت ملتی ہے۔ خوف کی حالت میں پرَوں یا بالوں کو کھڑا کر نے سے جانور کا سائز بڑا محسوس ہوتا ہے اور ممکنہ طور پر شکاری ڈر کے بھاگ جاتا ہے۔ ہمارے آباؤ اجداد میں بھی رونگٹے کھڑے ہونے سے یہی کچھ ہوتا تھا۔ اب ہم میں رونگٹے کھڑے ہونے کی کوئی عملی فعالیت نہیں ہے۔

B: وٹامن سی بنانے والا جین L-gulonolactone Oxidase
زیادہ تر دودھ پلانے والے جانوروں میں وٹامن سی جسم کے اندر سے بنتا ہے جس طرح ہمارے جسم میں وٹامن ڈی بنتا ہے۔ یہ عمل اْن میں موجود ایک جین کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے۔ ارتقائی عمل کی وجہ سے ہمارے جسم میں یہ جین موجود تو ہے لیکن یہ فعال نہیں۔

C: کان کے زائد عضلات
ہم جانتے ہیں کہ گھوڑے کے کان چاروں طرف گھومتے ہیں۔ یہی حال کتے اور بلی کا بھی ہے۔ کانوں کی یہ حرکت کانوں کے ساتھ خاص ترتیب سے جڑے عضلات کی وجہ سے ممکن ہوتی ہے۔ ہمارے کانوں کے ساتھ بھی اتنی تعداد اور ترکیب میں عضلات موجود ہیں جتنے گھوڑے، بلی اور کتے میں ہوتے ہیں۔ البتہ ارتقائی عمل میں یہ عضلات اتنے چھوٹے رہ گئے ہیں کہ اب ہم اپنے کانوں کو گھما نہیں سکتے۔

D: عقل داڑھ
ہمارے گھاس خور آباواجدادپودے زیادہ کھاتے تھے۔ بڑا جبڑا کم وقت میں زیادہ سے زیادہ خوراک کو چبانے میں فائدہ مند تھا۔ یہ بڑا جبڑا عقل داڑھ کی وجہ سے ممکن تھا۔ وقت کے ساتھ ہماری خوراک تبدیل ہوئی اور ساتھ ہی جبڑے کی جسامت بھی کم ہوتی گئی۔ آج کچھ انسانی آبادی ایسی بھی ہے جن میں عقل داڑھ نکلنی بند ہو گئی ہے۔

E: آنکھ کی جھلی
اگر بلی کو آنکھ بند کرتے دیکھیں تو پہلے ایک سفید جھلی نظر آئے گی، جو آنکھ کو ڈھکے گی اور اس کے بعد باہر والے دو پپوٹے بند ہوں گے۔ موجودہ انسان میں بھی اس سفید جھلی کی باقیات موجود ہیں جو آنکھ کے اندرونی طرف نظر آتی ہے۔ قدیم انسانوں کی صرف ایک نسل Calabar Angwantibo میں یہ جھلی فعال تھی۔

F: دم کی ہڈی
کسی جانور کی دم کا اگر معائنہ کیا جائے تو ہمیں دم میں ہڈی محسوس ہو گی۔ ہمارے آباؤاجداد میں بھی دم موجود تھی جو درختوں پر لٹکنے کے کام آتی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ارتقا کے عمل میں معروضی حالات کے نتیجہ میں یہ دُم چھوٹی ہوتی گئی اور اب موجوہ انسان میں کوئی دم نظر نہیں آتی۔ لیکن دُم کی ہڈی اور اس کے ساتھ عضلات اب بھی موجود ہیں۔ ہم میں دم کے مہرے اندر کی طرف مڑ گئے ہیں جو X-Ray میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

G: اپینڈکس
ہمارے آباؤاجداد سبزی خور تھے۔ ان میں اپینڈکس گھاس اور سبزی کو ہضم کرنے کے لئے رطوبت فراہم کرتا تھا۔ وقت کے ساتھ ہماری خوراک تبدیل ہوتی گئی اور اپینڈکس بھی غیر فعال ہوتا گیا۔ اب ہمارے جسم میں اپینڈکس کا کوئی کردار نہیں ہے۔ موجودہ گھاس خور جانوروں میں یہ اب بھی فعال ہے۔
ہم نے اس تحریر میں ارتقا، نظریہ ارتقا، اس پر اعتراضات، ان کے جواب اور ثبوت مختصراً فراہم کئے ہیں۔ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ارتقا ایک ایسی سچائی ہے جس کے خلاف تمام رجعت پرست مقتدر حلقے مسلسل پراپیگنڈا کر رہے ہیں اور عوام کو اصل حقیقت سے دور رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان میں ہم دیکھتے ہیں کہ سرکاری اور نجی سکولوں اور کالجوں میں اساتذہ ارتقا کا باب شروع ہونے سے پہلے ہی بتا دیتے ہیں کہ ارتقا ایک غلط اور جھوٹا نظریہ ہے اور اسے ماننا خلاف مذہب ہے، البتہ امتحان پاس کرنے کے لئے اسے رٹا مارنا ضروری ہے۔ یوں طلبا کی سائنسی سوچ پیدا ہونے سے پہلے ہی کچل دی جاتی ہے۔

ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ جن ایجادات سے ہم فائدہ اٹھاتے ہیں وہ ایک طویل سائنسی سوچ اور عمل کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ جو معاشرے اپنے آپ کو سائنسی خطوط پر استوار کرتے ہیں وہی ترقی کی منزلیں طے کر پاتے ہیں اور جو لوگ حقیقت کو سائنسی طور پر سمجھنے لگتے ہیں وہ اپنے اردگرد کی ہر چیز اور عمل کی جانب تنقیدی رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اسے تجربے، عقل اور دلیل کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔ اس سے انہیں معاشرے میں ہونے والے عوامل کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ غیر سائنسی سوچ کا مطلب کہ لوگ اپنے تجربے اور دانش پر بھروسہ کرنے کی بجائے صرف وہ مانیں جو ان کے حکمران ان کو ہمیشہ کا غلام رکھنے کے لئے ان سے کہتے ہیں۔
From-Evolution-to-Revolutionلیکن ہر عہدمیں انقلابی خیالات کے حامل لوگ فرسودہ نظریات کی مخالفت کرتے رہے ہیں، جو پرانے نظام کو تبدیل کر کے انقلابات کے ذریعے معاشرے کو ایک بلند تر منزل تک لے گئے ہیں۔ ان کے برعکس رجعت پرست لوگ ماضی کی طرف جانے کی باتیں سوچتے ہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ موجودہ نظام اپنے دن پورے کر چکا ہے اور کسی بھی طرح مفید نہیں ہے۔ سائنسی بنیاد نہ ہونے کی وجہ سے صورت حال کے متعلق ان کے نظریات غلط ہوتے ہیں لیکن ان کے غلط نظریات کی تشہیر میں بھی حکمران طبقے کا مفاد چھپا ہوتا ہے۔ اس لئے رجعت پرست نظریات پھیلانے والوں کو ہمیشہ ہی سے ہر ریاست کی مدد حاصل رہی ہے اور انقلاب پسند لوگوں کوریاست کی مخالفت کا سامنا رہا ہے۔ رجعت پرستوں کا اصل مقصد عوام کو یہ باور کروانا ہوتا ہے کہ موجودہ نظام نا قابلِ تغیر ہے۔ اس میں تبدیلی پیدا کرنے کی ہر کوشش بے کار ہے۔ جب کہ اس کے برعکس انقلابی طبقات کواس بات سے دلچسپی ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک سچائی کو پہنچائیں اور ان کو اپنے ساتھ جوڑتے ہوئے تبدیلی کے عمل کو ممکن بنائیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کو سچائی تک لے کر جانا اور ان کو ایسی تبدیلی کے لئے یکجا کرتے ہوئے جدوجہد میں شامل کرنا ہر با شعور اور نیک نیت فرد کی ذمہ داری ہے۔ ایسی تبدیلی کے لئے جس میں محنت کش کی فلاح موجود ہو۔ لیکن جب تک عوام فرسودہ نظریات پر یقین رکھیں گے تب تک موجودہ نظام کے خلاف انہیں بیدار کرنا مشکل ہے۔ سچائی جاننے کے بعد ہی وہ پرانے نظام اور فرسودہ نظریات سے جان چھڑا کر انقلاب کے ذریعے اس معاشرے کو تبدیل کریں گے۔

جیئند بلوچ اور علی حیدر بلوچ کا انقلابی قافلہ

تحریر : حکیم واڈیلہ

beauragh_ali-haider_-jehand_-baloch

28 اکتوبر 2013 سے قبل ہم میں سے اکثر لوگ ایک ایسے نام سے ناواقف تھے جو آج ایک آئڈیل کے طورپر جاناجاتاہے. ہم ایک ایسے کردار سے بےخبر تھے جو اپنی عمر، طاقت اور عقل سے بہت زیادہ سوچتا، سمجھتا اور عمل کرتاہے. ہم اس کردار سے ناواقف تھے جس نے کوئٹہ سے کراچی تک کے پیدل سفر کے دوران ناتو اپنے ہاتھ سے اپنے ٹھیلے کو گرنے دیا اور ناہی کبھی یہ شکایت کی کہ میں تھک چکا ہوں اب میں اور نہیں چل سکتا. لیکن وہ کردار جسے آج دنیا علی حیدر کے نام سے جانتی ہے اس نے اپنے ایک انٹرویو کے دوران کہاتھاکہ ہم اپنا احتجاج اپنے پیاروں کی بازیابی تک جاری رکھیں گے یہ تکلیف، مشقت، لمبا سفر اور ہمارے پیروں کا درد ان کربناک اذیتوں سے زیادہ نہیں جو ہمارے پیاروں کو ریاست پاکستان کی جانب سے جبری طور پر گمشدہ کرکے ہمیں دیےگئے ہیں.

علی حیدر اور دیگر لاپتہ بلوچوں کے لواحقین نے جب کوئٹہ سے کراچی کی جانب لانگ مارچ کا آغازکیا تو روزاول سے وہ لوگوں کو اپنا درد سمجھاتے اپنے دکھوں سے آگاہی دیتے اور انہیں یہ بھی بتاتے کہ ہم (بلوچوں) پر کیونکر یہ ظلم اور بربریت جاری ؤ ساری ہے. علی حیدر اپنے قافلے کا سب سے چھوٹا مگر بہادر باہمت اور با عزم سپاہی کے طور پہچانا جانے لگا. یوں تو علی حیدر کی باتوں کا اثر ہر ایک انسان دوست کے دلوں کو چھونے لگا. لیکن شاید سب سے زیادہ اس کا اثر جیئند بلوچ اور اس جیسے دوسرے علی حیدر کے ہم عمروں پر گہرا ہواہوگا. علی حیدر کا قافلہ جب کراچی پہنچا وہاں کچھ دن قیام پزیر ہوا پھر علی حیدر کا کراچی پریس کلب میں سیمینار میں خطاب کرنا اپنے درد کو دنیا کے سامنے بیان کرکے ان سے مدد کی اپیل کرنا. علی حیدر کے یہ تمام انقلابی اور تاریخی عمل جیئند کو علی حیدر کے سوچ کے اور بھی قریب لے گئی.

جب ۱۳ دسمبر کو لاپتہ بلوچوں کے خاندان کا قافلہ انصاف اور سچ کی تلاش کے دوسرے مرحلے میں کراچی سے اسلام آباد کی جانب بڑھنے لگا تب تک علی حیدر بہت سے لوگوں کا آئڈیل بن چکا تھا. علی حیدر (لاپتہ رمضان بلوچ کے فرزند) کو بلوچستان سمیت بیرون ممالک میں بلوچ، دیگر انسان دوست اقوام سمیت پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا  بھی جاننے پہچاننے لگی. لیکن کس کو خبر تھی علی کی جدوجہد سے جیئند اتنا متاثر ہوچکاہے کہ وہ کراچی سے اسلام آباد تک کے پیدل لانگ مارچ کا حصہ بن کر خاموشی سے علی حیدر سمیت تمام لواحقین کے درد کو اپنا مان کر ان کے ساتھ قدم بہ قدم چل پڑےگا.
پہلے کچھ دنوں تک تو لانگ مارچ کے شرکاءکو بلوچ اور سندھی علاقوں سے کافی محبت اور عزت ملی اور لوگوں کی بڑی تعداد لانگ مارچ کے شانہ بشانہ مارچ کرتےرہے. لیکن ان لوگوں کے چہرے ہمیشہ بدلتےرہے لوگ آتے اظہار یکجہتی کرتے اور چلے جاتےتھے. لیکن ان تمام لوگوں میں ایک چہرہ ہمیشہ نمایا ہوتاگیا اور وہ چہرہ تھا علی حیدر کے نظریاتی دوست جیئند کا جس کی لانگ مارچ میں شرکت صرف اظہار یکجہتی تک ہی نہیں تھی بلکہ وہ خود اس قافلے کا حصہ بن چکاتھا.

دوران لانگ مارچ جب جیئند کے دوست علی حیدر کو بیماری کی وجہ سے لانگ مارچ چھوڑکر علاج کےلیے جانا پڑا اُس وقت جیئند کو افسوس تو ضرور ہوا ہوگاکہ اس کا دوست کچھ دنوں تک اس سے دور رہےگا. لیکن شاہد اس جدائی کی وجہ سے جیئند میں سستی یا پھر لانگ مارچ بیزاری کے تاثرات دیکھنے کو نہیں ملے. جیئند کا ایسے موقع پر لانگ مارچ میں شرکت کرنا جب ریاست ایک ۱۰ سالہ طالبعلم چاکر کو صرف اس بنیاد پر اغواء کرکے قتل کرکے لاش کو مسخ کردیتی ہے کیونکہ چاکر کے گھرکا ایک فرد آزاد بلوچستان کا حامی ہوتاہے. ایسے حالات میں علی حیدر اور جیئند کا یہ انقلابی سفر بذات خود ریاستی فورسزکی ناکامی اور شکست کا منہ بولتا ثبوت ہے.

تحفظِ پاکستان آرڈیننس: بلوچ نسل کُشی کا قانون

تحریر: شہداد بلوچ

tahafuz

’’تحفظِ پاکستان آرڈیننس‘‘ یا دوسرے لفظوں میں اِسے انسانی حقوق کے بنیادی قوانین کی خلاف ورزی کا قانون کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اِس نئے قانون کے تحت فوج اور خفیہ اداروں کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی شخص کو محض شک کی بنیاد پر اُٹھا کر نوے دن تک اپنی تحویل میں رکھ سکیں گے اور حراست کا دورانیہ درخواست کرنے پر بڑھایا بھی جاسکتا ہے جو مہینوں سے سالوں تک کابھی ہوسکتا ہے۔ ’’تحفظِ پاکستان‘‘ نامی یہ آرڈیننس اہلِ پنجاب کے لئیے شاید کوئی نئی چیز ہو، مگر بلوچستان میں گذشستہ ایک دہائی سے اِس پرتیزی سے عمل درآمد ہورہا ہے اور کچھ عرصے سے ریاستی اداروں کی یہ جابرانہ کاروائیاں بلوچستان کی سرحدوں سے نکل کر سندھ تک پہنچ چُکی ہیں۔ جبری طور پر گمشدہ کئیے جانے والے افرادکی بازیابی کے لئیے سرگرم تنظیم ’’ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘‘ کے اعداد وشُمار کیمطابق پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے پندرہ ہزار سے زائد بلوچوں کوجبری طور پر لاپتہ کیا ہے، اور لگ بھگ تیرہ سو آزادی پسند بلوچ سیاسی رہنماؤں،کارکنوں،طالبعلوں،صحافیوں، شاعروں کودورانِحراست بدترین تشدد کے بعد قتل کرکے اُنکی لاشوں کی بے حُرمتی کرکے کراچی اور بلوچستان بھر میں پھینک دی گئی ہیں اور یہ سلسلہ تاحال تیزی سے جاری ہے۔

اگر دنیا اِس آرڈیننس پر اعتراض کرتی ہے تو کرنے دو، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگتا ہے تو لگتارہے۔

لیفٹینٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ

انسانی حقوق کوسلب کرنے وا لے اِ س نئے قانون کے تحت خفیہ ادارے کسی معصوم شخص کو محض شک کی بنیاد پر نوے دن تک اپنی حراست میں رکھے سکتے ہیں جبکہ بلوچستان میں پاکستانی خفیہ اداروں نے علی اصغر بنگلزئی کو گزشتہ دس سالوں سے قید کررکھا ہے اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے رہنما ذاکر مجیدکو چار سال پہلے خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے اُٹھایا ہے جو تاحال لاپتہ ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔ بلوچستان بھر میں ایسی ہزاروں مثالیں بغیر ڈھونڈے ملیں گی، بشرطیکہ آپ میں انسانیت زندہ ہوتو!

پاکستانی ریاستی اور سرحدی اُمور کے وفاقی وزیر لیفٹینٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے’ بی بی سی‘ پر حالیہ نشر ہونے والے پروگرام میں یہاں تک کہہ دیا کہ ’’اگر دنیا اِس آرڈیننس پر اعتراض کرتی ہے تو کرنے دو، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگتا ہے تو لگتارہے‘‘۔

وفاقی وزیر کا یہ بیان اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کو واضح پیغام ہے کہ عالمی مسلمہ قوانین مملکتِ خداداد پاکستان پر لاگو نہیں ہوتے ہیں۔ اور وہ انسانی حقوق کی خاطر اُٹھنے والی آوازوں کو نظر انداز کرتے ہوئے بلوچستان میں جاری تحریکِ آزادی کو کاؤنٹر کرنے کے لئیے جبری گمشدگیوں اور مسخ شُدہ لاشیں پھینکنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

کچھ ہوشیار حضرات تو ’’تحفظِ پاکستان آرڈیننس‘‘ کا موازنہ مغربی ممالک میں رائج قوانین سے کررہے ہیں ، مگر عقل کے اندھوں کو کوئی یہ بتائے کہ امریکہ میں قانون نافذ کرنے والے ادارے اگر لوگوں کو اُٹھاتے ہیں تو اُنکی مسخ شُدہ لاشیں نیویارک یا واشنگٹن کی گلیوں سے نہیں ملتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اور نہ ہی اُنکے جسموں کو تیز آلوں سے کاٹ کر ’’امریکہ زندہ باد‘‘ لکھا جاتاہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور نہ ہی کرسمس کے مذہبی تہوار پر تشدد زدہ مسخ لاشوں کو پھینک کر اُنہیں ’شکاگو ‘ کے عوام کے لئیے کرسمس کا تحفہ کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور نہ ہی اہلخانہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے اُٹھنے والی آوازوں کو دبانے کے لئیے ڈیتھ اسکواڈ بناتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور نہ امریکی فوج کا کوئی جنرل اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ کرکے اُٹھائے جانے والے افراد کے لواحقین کو خوف زدہ کرنے کے لئیے کُھلے عام ’دشمن‘ قرار دیتے ہیں۔

مگر بلوچ اِتنے خوش نصیب نہیں ہیں ، پاکستانی فوج اور ریاستی اداروں کی مہربانی سے بلوچستان کے حالات امریکہ سے بلکل مختلف ہیں۔ تحفظ پاکستان آرڈیننس کا مقصد فوج اور خفیہ ادارے بلوچستان میں ظلم و بربریت کو جاری رکھنا اپنا قانونی حق سمجھیں۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ اس آرڈیننس کے منظوری کے بعد ’بلوچ نسل کُشی‘ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قانون کا باقاعدہ حصہ بن جائیگا۔